"زمرہ:2017 کی نعت" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(قیصر ابدالی حسن)
(قیصر ابدالی حسن (2))
لکیر 269: لکیر 269:
  
 
=== کیٹگری 2 ===
 
=== کیٹگری 2 ===
 
==== قیصر ابدالی حسن (2) ====
 
 
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا
 
 
ناشکیبا کو شکیبا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
میں گنہگار ہوں لاریب مگر محشر میں
 
 
میرا آقا مجھے رسوا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
میرا اللہ فقط کام بنائے گا مرا
 
 
مجھ کو ناکامِ تمنا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
جل رہا ہے یہاں تہذیب کا مصطفوٰی چراغ
 
 
جو زمانے میں اندھیرا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
میں ہوں دیوانہِ محبوبِ خدا دیدہ ورد
 
 
یہ جنوں اور کسی کا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
ایک قطرے کو ہے معلوم حقیقت اپنی
 
 
ظرف اس کا اسے دریا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
ابرِرحمت ہے جو ہر سمت برستا جائے
 
 
باغِ ہستی کو وہ صحرا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
رات دن صّلِ علیٰ میری زباں پر جاری
 
 
ذکر اس کا مجھے تنہا نہیں ہونے دے گا
 
 
 
اس کا فیضان کرم مجھ پہ ہے بے حد قیصر
 
 
اب وہ محتاج کسی کا نہیں ہونے دے گا
 
 
  
 
==== سائل نظامی، گوجر خاں ====
 
==== سائل نظامی، گوجر خاں ====

تـجدید بـمطابق 08:57, 23 دسمبر 2017


ان کیٹگرائزڈ

مداحی رسول رسولاں کے عطر سے

مَدّاحی رَسُولؐ رَسُولاںؑ کے عِطّر سے

مہکا ہوا اِحاطہ ہے دارُالسّلام کا


سرکارؐ کی وِداد کا ہے محور ومآل

واللہ! صَدر آدمی وگُرگ ودام کا


عالم کے واسطے ہے ولائے رَسُولؐ سِرّ

آگاہی وعُلُوم کی عُمرِ دوام کا


اَطہر ورودِ مالِکِؐ لولاک سے ملا

ہر مرد وکس کو درس حلال وحرام کا


درد و سَلاسِلِ اَلَمِ رُوح کاہ کا

درماں ہے اِسمِ سعد رُسُلؑ کے اِمامؐ کا


لوٹا درِ رَسُولؐ سے معمورِ مُدّعا

کاسہ مُساوی اہلِ کُلاہ وعوام کا


ہم دم! ہے سلسلہ گروِ حُکُمِ احمدیؐ

دَلو مہ و اَسَد کے مدارِ مُدام کا


ہے عکس لا مَحالہ ہر اِک وَحیِ کردگار

محمودِؐ کردگار کے کلمہ کلام کا


راہ وصِراط سائد عالم کی رہ روی

در دہر گر ہے وَصل وحصولِ مرام کا


اوبام وصاد ومَردمِ عالم سے ہے ورا

اِکرام کا کمال، کئے کل کرام کا


ہوں راہوار وراحلہ مدح کا سوار

دل سے محال ارادہ ہے دادِ لگام کا


کِلک ومدادِ مہر محمدؐ سے لکھا ہے

رائے! ہر اِک کلام مرصع کلام کا

نعتِ رسولِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خود کو جو حق کی محبت میں مٹا دیتا ہے

اس کے ہاتھوں میں خدا ارض وسما دیتا ہے


شرک کی آگ جو سینے سے بجھا دیتا ہے

اس کا دل ظلمتِ شب میں بھی ضیا دیتا ہے


میں کہ اس خالقِ کونین کے در کا ہوں فقیر

جو فقیروں کو شہنشاہ بنا دیتا ہے


اس کی اس نعمتِ عظمیٰ کو بیاں کیسے کروں

سانس لینے کو جو ہر وقت ہوا دیتا ہے


جو بھی سہتا ہے علامت کو شکیبائی سے

ایسے بیما کو اللہ شفا دیتا ہے


یہ تو ہم کہ جو جاتے ہی نہیں اس کے قریب

وہ تو ہر وقت ہی بخشش کی صدا دیتا ہے


جو بھی ہو جاتا ہے اس ذات کا، اللہ اسے

اپنے دیدار کی صورت میں صلہ دیتا ہے


شکر میں اس کا تفاخر نہ کروں کیسے ادا

مجھ کو عزّت جو محافل جدا دیتا ہے

کیٹگری 1

شاہد کوثری، اسلام آباد

منم برگِ خزاں دیدہ و تُو ابرِ بہار من

کہ در آشوبِ عصیاں، تُو گلستانِ قرارِ من


بفیضِ نعت در دل کثرتِ روئیدگی بینم

ہزاراں گل شگفتہ از کرم بر شاخسارِ من


نگاہِ لطف بکشا ، رحم کن بر حالِ مسکینم

مَنم دل ریش و خستہ تن، کرم اے غمگسارِ من


بشو از لطف و رحمت ، اے طبیبِ جملہ علّت ہا

تنم آلودہ ءِ عصیاں، ہمہ دل داغدارِ من


شکستہ پا شدم ، آثارِ منزل را نمی دیدم

بیا من رہ گزیدہ ام ، مدد اے شہسوارِ من


مکن محروم ازشانِ کریمی ، داورِ محشر!

مَنم یک بندہ ءِ بے چارہ ام ، پروردگارِ من


بہ درگاہِ تُو مولا ! کوثری ایں التجا کردم

بہ پیشِ مصطفےٰ رسوا مکن ، اے کردگارِ من !


شاہد کوثری، اسلام آباد (2)

مجھے اس جان سے پیارا مدینہ اور مکّہ ہے

یہ ارض طیبہ وبطحا تقدس کی علامت ہے

یہ دونوں شہر میری آرزؤں اور تمناؤں کے مرکز ہیں

اپنی خاک سر ہے مری بے نور آنکھوں کا

یہ وہ دھرتی ہے جس پر میرے آقا کے قدم آئے

جہاں وہ اور سب اصحاب مل کر بارگاہِ ایزدی میں سر جھکاتے تھے

جہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نورِ ایمانی کی کرنیں پھوٹ کر انسانِ عالم کو منّور کرگئی تھیں

اور جہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بافل کے کرّ وفَر کو نوکِ نیزہ شمشیر پر رکھا گیا تھا

اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدائے لم یزل کا آخری پیغام مہِ اکملیت آشنا ہو کر ہمیشہ کے لیے سب نسلِ انسان کی خاطر

ضابطہٰ آخری سمجھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور

وہ بیت اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ

جس کی سطوت و طہیت سے سب اجسام خاکی دم بخود رہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمارت کب کوئی کعبے کی عظمت کے مقابل تھی؟

کہ زائر کعبتہ اللہ دیکھتے تھے اور خدا کے خوف سے ان کے بدن بھی تھر تھراتے تھے

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ اب چاروں جانب آسماں سے باتیں کرتی بلڈنگیں ہیں

اور ان میں مکّہ ٹاور خوف ودہشت کی علامت ہے کہ جس سیڑھیاں، زینے حرم میں آکے کھلتے ہیں

اگر اس کی بلندی سے ذرا جھانکو تو بیت اللہ فقط بالشت بھر معلوم ہوتا ہے

میرے پیشِ نطر پھر وہ حدیث سرور کونینؐ آتی ہے کہ جس میں آپ کا فرمان ہے،قربِ قیامت کی

یہ سب سے آخری حتمیٰ نشانی ہے، عرب کے ننگے پاؤں چلنے والے گلہ بان اونچی سے اونچی بلنڈنگیں تعمیر کرلیں گے۔

یہی صورت مدینے میں ہے جس کی سمت آنے والے خفیہ راستوں پر پھر یہودی اور نصراتی نطر رکھے ہوئے۔

اب یہ یہونی ونصرائی چکانا چاہتے ہیں خیبردیرموک کا بدلہ۔

یہ میرا سبز گنبد،

متبر وحواب سب حیرت زدہ ہیں،

اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب مینارِ مسجد گنبدِ خضرا کی جانب جھک کے کہتے ہیں۔

کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آقا!

بم دھماکے کرنے والے شرپسند اب تو ہمارے سر پہ آپہنچے

مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روضے سے لا تَحزَن کی آوازیں نہیں آتیں،

اُدر سے پھر لَتا عتریٰ ولا عتریٰ لَکُم کے نعرے لگتے ہیں۔

جواباً پھر لَنا مولا ولا مولا لکم کوئی نہیں کہتا۔

بدل جائیں جو ترجیحات تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

نظر مرکوز رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں کی ٹوپیوں پڑ تسبیوں پر، آبِ زمزم اور مدینہ پاک کی عجوہ کھجوریں کے فوائد پر۔

میں پاکستان سے جا کر وہاں محسوس کرتا تھا۔

نبیؐ کے شہر دونوں

اب نئے فتؤں کی زہ میں پھر صلاح الدین ونور الدین زنگی کو بلاتے ہیں۔

کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دجال کے بیٹے

ہماری عزت وتوقیر کے در پہ ہوئے ہیں۔ اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عرب کے کوہساروں سے وہ اپنا سر اٹھاتے ہیں۔

شمالی اور جنوبی سمت سے باغی قبائل دیکھیے۔

صنعأ سے لے کرتا حضر موت اپنے ہی اہداف کی تکمیل میں رُو بہ عمل ہیں۔

اور اب ارضِ فلسطین پر نہتے بوڑھے، بچوں کا لہو آواز دیتا ہے۔


اے پاکستانیو!

اے عالمِ اسلام کی واحد نظریاتی ریاست اور پہلی ایٹمی طاقت کے لوگو۔

آؤ عشقِ سیّد الابرارؐ کی خاطر، زرومال وجواہر کیا؟

یہ اپنی جان بھی قربان کرڈالیں

چلے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدؐ سے عقیدت کا نیا معیار اپنا لیں۔

اے میرے شاعرو!

اب نعت کو جذبات میں ڈوبے ہوئے خوش رنگ/ لفظوں کی بجائے ایک پیغام آفریں صنفِ نحن کے طور لکھو۔

محمدؐ رسول اللہ کے فرمان کو مقصد بناکر نوٹوں کے انباروں پہ بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعت خوانو!

تم بھی اُٹھو اور رَجَز کے شعرا پڑھنے کے لیے تیار ہوجاؤ وگرنہ امتِ موحوم کا نوحہ تمہارا منتظر ہوگا۔

اے میرے واعظو! شعلہ بیانو!

وقت آپہنچا ہے اب خاشاکِ غیر اللہ کو اپنی خطا بہت سے جلا کر راکھ کر ڈالو۔

خدا کے آخری پیغام کو لوگوں کے دل میں اور رگ وپے میں اتارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور

اے میرے زاہد و! شب زندہ دارو ! خانقاہوں میں پڑے گوشہ نشیں لوگو!

اٹھو تم بھی

مصلّے بیچو، تلواریں خریدو

کیٹگری 2

سائل نظامی، گوجر خاں

جمالِ نورِ خدا سے مجھے نوازتے ہیں

حضور اپنی دَیا سے مجھے نوازتے ہیں


وہ بھوک سہہ نہیں سکتے ہیں اپنے ناعت کی

حضو رزقِ ثنا سے مجھے نوازتے ہیں


حد و کنار کہاں ہے عطائے سرور کی

وہ توڑ کر مرے کاسے مجھے نوازتے ہیں


مآل و مال سے ، شعرو سخن سے ، نعتوں سے

وہ کیسی کیسی ادا سے مجھے نوازتے ہیں


وہ لے کے چادرِ تطہیر میں نواسوں کو

وِلائے آلِ عباء سے مجھے نوازتے ہیں


حسن حسین بھی غوثِ جلی بھی، خواجہ بھی

مِرے نبی کے نواسے مجھے نوازتے ہیں


آصف قادری، واہ کینٹ

کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے

پاتے ہیں سبھی شاہ وگدا آپ کے در سے


یوں بٹتی ہے سوغاتِ سخا آپ کے در سے

کوئی نہیں محرومِ عطا آپ کے در سے


خورشید وقمر اور چمکتے ہوئے تارے

روشن ہوئے سب لے کے ضیا آپ کے در سے


صد شکر کہ میں بھی ہوں گدا آپ کے در کا

صد فخر کہ جو کچھ بھی ملا آپ کے در سے


آجاو لیے جاو مری آل کا صدقہ

آتی ہے یہ ہر وقت صدا آپ کے در سے


امت کو کئے جاتی ہے سیراب برابر

رحمت کی چلی ایسی گھٹا آپ کے در سے


پھر اور کسی در کی نہ حاجت رہی اس کو

آصف جو بھی وابستہ ہوا آپ کے در سے

عبدالباسط عادی

مسجد نبویﷺ کے پاس بیٹھ کر لکھا گیا کلام

بیٹھا مسجدِ نبی میں.

کر رہا تھا دید میں.

معجزہِ نور کی

منبرِ رسول کی.

پڑھ رہا تھا ساتھ میں

درود بھی سلام بھی.

آنکھیں نم تھیں آنسؤوں سے.

دھرکنیں بھی تیز تھیں.

زباں لرز رہی تھی اور.

طاری کپکپی بھی تھی.

نظر جھکی ہوئی تھی اور.

دل غمیں غمیں سا تھا.

جو دیکھا اک نظر اٹھا کے.

ممبر رسول کو.

تو دل مرا تڑپ اٹھا.

کہ لگ رہا تھا اس طرح.

منار ہے یہ نور کا.

یا جلوہ کوہِ طور کا.

تو یونہی آیا اک خیال

کیوں نہ چل کہ دیکھ لوں


کہ صفہ کے چبوترے پے

بیٹھے ہوں کہیں حضور.

ساتھ میں ابو بکر

عمر،غنی،علی بھی ہوں.

خالد ،ابنِ عوف اور

طلحہ و زبیر بھی.

معاویہ بھی ہوں سراپا

عاجزی بنے ہوئے.

اک سپاہی پاس ہی کھڑا ہو گو کہ اس طرح

محفلِ حضور بھی سجی ہو گو کہ اس طرح

ارد گرد ساتھیوں کی بھیڑ بھیڑ بھیڑ ہو

اور ان کے درمیان آپ ہوں براجمان

ایک ایک کر کے پوچھیں آپ سے وہ مسئلے

آپ بھی بتا رہے ہوں مسئلوں کا حل انہیں

میں بھی جا کے بیٹھ جاؤں مجلس حضور میں.

آنسو بہہ رہے ہوں میرے وجد میں سرور میں.

کانپ جائے پھر بدن جو آئے کانوں میں اواز.

عشق عشق کر رہا ہے پاس میرے آ زرا.

شعر وعر کہہ رہا ہے نعت اک سنا زرا.

بیٹھ کر ادب سے پھر نعت اک سناؤں گا.

ایسا ہو گیا اگر

میں تو مر ہی جاؤں گا.

صاحبزادہ احمد محمود الزمان

جو گاہے دل سے سکوں وقرار اٹھتا ہے

تو دل اَعشِنِی اَعشِنِی پکار اٹھتا ہے


جو یاد آتے ہیں طیبہ کے کوچہ وبازار

تو جان سے دوری وہجراں کا بار اٹھتا ہے


فراقِ شہر مدینہ میں حاضرین کرام

شگافِ قلب سے نالہ ہزار اٹھتا ہے


مدد اے جانِ مسیحا، مدد غیاثِ اُمم

پئے وداع کوئی دل فگار اٹھتا ہے


دوردِ پاک کی کثرت سے ہی دلوں سے ندیم

جما ہوا غم و وہم کا غبار اٹھتا ہے


ہُوا جہہَ میں مودت سے جو بھی چایئے

پہن کے ان کی شفاعت کا ہار اٹھتا ہے


مشاہدہ ہے ہمارا نہال ہو کر ہی

درِ نبیؐ سے غریب الدیار اٹھتا ہے


پئے شہادت کبریٰ زمینِ کربل سے

جہانِ عشق کا پروردگار اٹھتا ہے


عجیب فضلِ فرمانِ حق ہے احمد پر

کہ نعت لکھتے ہوئے کامگا اٹھتا ہے

کیٹگری 3

‘‘اِس زمرہ میں ابھی کوئی صفحات یا وسیط موجود نہیں.’’