"زمرہ:اعظم چشتی" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(پاکستان سے محبت)
(پاکستان سے محبت)
لکیر 76: لکیر 76:
 
===== پاکستان سے محبت =====
 
===== پاکستان سے محبت =====
  
بہتر کرنا ہے  
+
نہ صرف مسلمانانِ ہند بلکہ تمام عالم اسلام کی لیے پاکستان ایک خاص عطیہء خداوندی ہے ۔ اسے حاصل کرنے کی تگ و دو میں جہاں قائد اعظم جیسے رہنما اور اقبال جیسے مفکر کے ساتھ ساتھ  دیگر موقر سیاستدانوں، علماء، طلباء  اور شعراء کا بھی کردار ہے ۔ شعراء نے بھی قومی محبت سے سرشاری نظمیں لکھ اور پڑھ کر عوام الناس کے دلوں کو گرمائے رکھا ۔ اعظم چشتی کو کئی جلوسوں میں قائد اعظم کی رفاقت کا شرف رہا ۔  قائد اعظم بھی آپ سے محبت فرماتے تھے  ۔ اعظم چشتی نے نعتیں پڑھ کر آزادیِ پاکستان کی تحریک کو  عشقِ مصطفیٰﷺ کی شمع سے خوب روشن کیا۔  چونکہ آپ شاعر بھی تھے تو آپ کا کردار ایک عام نعت خواں سے بڑھ کر رہا ۔  آپ نے قومی ترانے اور قائد اعظم محمد علی جناح  کی عظمت کے اقرار میں نظمیں بھی لکھیں ۔
  
آزادی ِ پاکستان کے جلسے جلوسوں  میں اعظم چشتی نے بھر پور کردار ادا کیا ۔ قائد اعظم بھی آپ سے محبت فرماتے تھے  ۔ اعظم چشتی نے نعتیں پڑھ کر آزادیِ پاکستان کی تحریک کو  عشقِ مصطفیٰﷺ کی شمع سے خوب روشن کیا۔  ۔ آپ نے جہاں نعت گوئی و نعت خوانی کی، وہاں ضرورت پڑنے پر  ملک کی محبت میں ملی نغمے و ترانے بھی لکھے اور پڑھے جس سے پاکستان سے آپ کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا  ہے۔
+
اٹھ شیرا پاکستان دیا ہن جاگ تے ہو ہشیار اڑیا
  
نعت ِ پاکستان کے ایک بہت معروف نعت خواں "اختر حسین قریشی" ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ  1993ء میں کوثر نیازی کی قیادت میں مَیں اور اعظم چشتی صاحب "رحمت اللعالمینﷺ کانفرنس "میں شرکت کے لیے نئی دہلی گئے۔ جب واپسی ہوئی تو جہاز سے اترتے وقت اعظم چشتی صاحب جب آخری سیڑھی پر پہنچے تو کچھ کلمات پڑھنے لگے میں بڑے غور سے اُنہیں دیکھ رہا تھا اور کچھ دیر بعد سجدہ میں گر گئے اور زمیں کو چوم لیا۔
+
تینوں خلقت طعنے ماردی اے ، چھڈ نیندر ہو بیدار اڑیا
 +
 
 +
۔۔۔۔۔۔۔
 +
 
 +
ایسے نعرہء جاھدو نال اعظم
 +
تو ستیاں ہویاں نے جگاندا چلا جا 
 +
 
 +
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 +
 
 +
ملت کے نگہباں ترا اللہ مدد گار ۔ اے حق کے پرستار
 +
 
 +
تو دشمن ایماں کے لیے زہر کا اک جام
 +
 
 +
تو امن پرستوں کے لیے صلح کا پیغام
 +
 
 +
تو برق جہاں سوز تو ابر گہر بار ۔ اے حق کے پرستار
 +
 
 +
 
 +
اور قائد ِ اعظم کی وفات کے بعد ان کی یاد میں یوں پکار اٹھے
 +
 
 +
اوہ قائد اعظم زندہ اے
 +
 
 +
او قائدِ اعظم زندہ اے
 +
 
 +
جنھے سانوں وطن دوایا ہے ۔ ساڈا دین اسلام بچایا اے
 +
 
 +
اوہ قائد اعظم زندہ اے
 +
 
 +
او قائد اعظم زندہ اے
 +
 
 +
 
 +
اعظم چشتی کے مصرعے " ساڈا دین اسلام بچایا اے " سے ان کی نظر میں پاکستان کی اہمیت و محبت کا چمک دیکھی جا سکتی ہے ۔
 +
 
 +
 
 +
پاکستان کے ایک بہت معروف نعت خواں "اختر حسین قریشی" ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ  1993ء میں کوثر نیازی کی قیادت میں مَیں اور اعظم چشتی صاحب "رحمت اللعالمینﷺ کانفرنس "میں شرکت کے لیے نئی دہلی گئے۔ جب واپسی ہوئی تو جہاز سے اترتے وقت اعظم چشتی صاحب جب آخری سیڑھی پر پہنچے تو کچھ کلمات پڑھنے لگے میں بڑے غور سے اُنہیں دیکھ رہا تھا اور کچھ دیر بعد سجدہ میں گر گئے اور زمیں کو چوم لیا۔
  
 
=====گھریلو زندگی =====
 
=====گھریلو زندگی =====

تـجدید بـمطابق 13:33, 20 نومبر 2017


فہرست

اعظم چشتی

شخصیت و فن

حسان پاکستان کے لقب سے پکارے جانے والے پاکستان کے خوش لحن و خوش نوا، مستند ومعتبر، نعت گو و نعت خواں محمد اعظم چشتی عشق رسالت مآب کی ایسی آبشار تھے کہ اس کے چھینٹے جہاں گرے ، نعت کے چشمے پھوٹے اور یہ آبشار اپنی دریا میں ملنے سے پہلے خطہ ہند کو نعت سے سیراب کر گئی ۔ قائد اعظم سے لے کر ضیاء الحق تک کے ایوان صدارت و وزارت کے پسندیدہ نعت خواں رہے۔ علماء مشائخ ، نعت خوانان، نعت گو شعراء، رامش گران اور سامعین الغرض ہر شخص نے ان کی نعت خوانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ۔ ہر دل ِ گداز آپ کی خوش الحانی و مقناطیست کا اسیر ہوا۔

محمد اعظم چشتی ایک درویش صفت صوفی و عالم دین مولوی محمد دین چشتی کے گھر 15 مارچ 1921ء کو فیصل آباد کے گاؤں چک جھمرہ بُرج 102 میں پیدا ہوئے۔ان کے والدِ گرامی جو عربی اور فارسی کے ماہر تھے کے بار ے مشہور ہے کہ وہ مثنوی روم کے حافظ بھی تھے ۔ گھر میں عربی اور فارسی ایسے سمجھی جاتی تھی جیسے مادری زبان ہو ۔ والدہ بھی عالمہ فاضلہ، قاریہ اور حافظہ تھیں۔ یہی فیضان تھا جس نے اعظم چشتی کو 13 سال کی عمر میں "گلستان" "بوستان" کا حافظ بنا دیا ۔ آپ کے والد 1932ء میں لاہور تشریف لے آئے اور بقیہ زندگی داتا کے قدموں میں بسر کردی۔

انہوں نے میٹرک کے بعد درسِ نظامی،اُردو فاضل ،دورہ حدیث،تفسیر قرآن کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اعظم چشتی کو علم ِقُرآن، علمِ حدیث، فقہ، منطق ،فلسفہ جیسے علوم کے ساتھ ساتھ پنجابی، اردو ، عربی ا ور فارسی پر دسترس حاصل تھی۔ والد صاحب کے آستانے سلسلہ چشتیہ نظامی چکوڑی شریف ضلع گجرات میں اس وقت کے گدی نشین حضرت پیر سید غلام سرور شاہ چکوڑوی جو پیر مہر علی شاہ صاحب کے خلیفہ تھے کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ آپ کو اپنے آستاں سے بے پناہ محبت کیوجہ سے باقاعدگی کے ساتھ چکوڑی شریف حاضری دیتے اور شیخ کی فیوض و برکات سے مُستفید ہوتے۔انہیں اپنی مرشد کی طرف سے خلافت بھی عطا ہوئی لیکن کبھی کوئی مرید نہ کیا

نعت خوانی کا سفر  :

منظور الکونین صاحب نے ٹی وی پروگرام نعت کائنات میں ایک بار فرمایا کہ عشق ِ رسول جس کے مقدر میں ہو وہ پالنے ہی میں نظر آجاتا ہے ۔ اعظم چشتی حادثاتی طور پر نعت خواں محمد اعظم چشتی نہ بنے انہیں گود ہی میں ایسا اکرام ملا تھا ۔ محمد اعظم چشتی کے بارے سید منظور الکونین کا یہ دعوی حقیقت پر مبنی ہے ۔ محمد اعظم چشتی نے چار سال کی عمر میں پہلی نعت مبارکہ پڑھی ۔

[اس کے بعد نعت خوانی کا مزید سفر بھی لکھنا ہوگا ]

اعظم چشتی کا دور نعت خوانی

محمد اعظم چشتی کا دور نعت خوانی چھ دہائیوں پر مشتمل ہے ۔ نعمت ِ پاکستان سے پہلے انہوں نے امرتسر کی فضاوں کو اپنے درودی نغمات سے مہکایا ۔ معروف شاعر و ادیب شہزاد احمد، لاہور فرماتے ہیں کہ ہم امرتسر میں رہتے تھے جہاں نعت کی سرگرمیاں عروج پر اور مساجد پر رونق تھیں۔ امرتسرمیں جان محمد کی بہت شہرت تھی ۔ وہ لاہور بھی آیا کرتے تھے ۔ لیکن لوگ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ محمد اعظم چشتی نام کا ایک اس سے بھی اچھا نعت خواں موجود ہے ۔ پھر ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان بننے کے بعد ہمیں جو سعادتیں نصیب ہوئیں ان میں ایک سعادت یہ بھی تھی کہ ہم نے اعظم چشتی کو سنا [حوالہ: QTV, نعت کائنات میں اعظم چشتی کے بارے پروگرام ]

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان میں اعظم چشتی نے اپنی وفات 1993 تک نعت خوانی کی ۔ یہ 46 سال کا ایک طویل دورانیہ بنتا ہے ۔ جب اعظم چشتی گلشن نعت میں نمودار ہوئے تو جان محمد امرتسری کے ساتھ ساتھ یہ دور بابا محمد علی شکر گڑھی المعروف ٹربئی والے ، آغا سرفراز، مستری علی محمد جالندھری، جان محمد جانی، جان محمد امرتسری ، بابا غلام محمد، بابا محمد علی ملتانی، غلام محی الدین ، محمدیونس اور کچھ اور بزرگ نعت خوانوں کا دور آخر تھا [حواشی : ان تمام نعت خوانوں کے حالات زندگی پر بھی کام تقریبا مکمل ہو چکا ہے ۔ اگر آپ ان کے بارے کچھ معلومات رکھتے ہوں تو نعت ورثہ سے ضرور رابطہ کریں ] ۔ پھر نعت خوانی کے منظر نامے پر اعظم چشتی ایک لمبے عرصے کے لیے آئیکون کی حیثیت سے جلوہ افروز رہے اور پاکستان کا گوشہ گوشہ ان کی نعت خوانی سے مستفیض ہوا۔ ابتدائی دور ریڈیو کا دور تھا ۔پاکستان بھر کے عشاقان نعت کی آنکھیں محمد اعظم چشتی کے چہرے سے نا شناسا تھیں لیکن ان کی سماعتیں برقیاتی لہروں پر سفر کرتی ہوئی محمد اعظم چشتی کی کیف آفریں آواز سے سیراب ہوتیں رہیں ۔ کراچی کے سعید ہاشمی ہوں یا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نعت خوانوں کے نام اور شہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب ان کی نعت کے اسیر ہوئے اور اسی آواز کے حلقہ بگوش ہو کر دنیائے نعت میں نعت خواں کی حیثیت سے وارد ہوئے ۔


اعظم چشتی اور معاصرین

معتبر و بزرگ نعت خوانوں اور پاکستان میں نعت خوانی کی روایت و تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا بجا کہ فن ِ نعت خوانی میں اعظم چشتی کی مثال اس چمکتے ہوئے سورج جیسی ہے کہ جس کی مستعار روشنی سے کئی چاند روشن ہوئے اور خطہ نعت کا ہر گل و شجر کسی نہ کسی طرح ان سے مستفید ہوا ۔ اعظم چشتی ایک اسلوب کے بانی تھے اور کئی نعت خوانوں نے ان کی پیروی کی ۔ مگر آنے والوں میں وقتوں میں کچھ ایسے نعت خواں بھی اس منظر نامے میں نظر میں کچھ ایسے نعت خوان بھی رہے کہ جنہیں کلاسیک میں شامل کیا جا نا کہ انہوں نے نعت خوانوں نے اعظم چشتی کی عظمت اقرار کرتے ہوئے بھی اپنی علیحدہ شناخت بنائی ۔

اعظم چشتی اور نذیر حسین نظامی

نذیر حسین نظامی ایک درویش صفت انسان نعت خواں تھے ۔ رموز موسیقی کے لیے "نیاز حسین شامی" کے شاگرد ہوئے اور ایسے سریلے کہ بس کیا کہا جائے ۔ ان کے والدین امرتسر کے رہائشی تھے اور امرتسر کی فضا نعت خوانی کے لیے بہت پر بہار تھی تو ان کا بھی امرتسر آنا جانا رہتا تھا ۔ نذیر حسین نظامی اپنے گھر لاہور میں بھی محافل کا انعقاد کرتے ۔ اعظم چشتی ان کی سالانہ محفلوں میں بھی تشریف لاتے اور کبھی یہ دونوں بزرگ امرتسر کی محفلوں میں بھی اکٹھے ہی جاتے ۔

اعظم چشتی اور سید منظور الکونین
اعظم چشتی اور محمد علی ظہوری
اعظم چشتی اور سعید ہاشمی
اعظم چشتی اور خورشیداحمد

محمد علی ظہوری وہ ذی شعور نع

کاروباری زندگی

لاہور منتقل ہونے کے بعد کاچھو پورہ کے ایک پیر بھائی اور دوست امین چشتی کے ساتھ باہمی شراکت داری کی بنیاد پر برانڈرتھ روڈ پر سٹیل کا کاروبار شروع کیا جس میں امین چشتی ہی زیادہ متحرک رہے ۔ یہ کاروبار 1952 تک چلا بعد ازاں مزاج و طبیعت کی بنا پر علیحدگی اختیار کرلی -1952 میں"لاہور کارپٹ" کے نام سے عثمان گنج اور فاروق گنج میں اپنا کاروبار شروع کیا اور ایک منیجر فروز صاحب کو بھی ملازمت پر رکھا ۔ کاروبار پھلتا پھولتا رہا ۔ ساٹھ کی دہائی میں آپ کا قالینوں کا کاروبار اپنے عروج پر تھا۔ اور اس فیکٹری کے بنے ہوئے قالین اپنی نفاست اور خوبصورتی کے باعث افغانستان اور ایران تک جاتے تھے۔ اتنے پھیلے ہوئے کاروبار کے دور میں سبھی بچے ابھی نابالغ اور کم سَن تھے جو کاروبار سنبھالنے کے قابل نہیں تھے ۔ معاونت کے لیے فیروز نامی ایک صاحب کو مینجر بھی رکھا ہوا تھا لیکن کاروباری مصروفیات کی وجہ محافل نعت سے دوری آن پڑی ۔ اِکا دُکا محفل میں نعت سرائی کے لیے جاتے۔ یہ صورتحال ان کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی کہ کاروبار کرتے ہیں تو سرکار کی مدح سرائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اور اگر محافل میں تسلسل سے جاتے ہیں تو کاروبار متاثر ہوتا ہے داتا دربار کی حاضری میں بھی وقفہ پڑ گیا ۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن جب داتا دربار حاضری کے لیے گئے تو وہاں ایک مجذوب نے آپکو بلایا اور مخاطب ہوا کہ "اعظم آجکل کتھے ہوناں ایں" [ اعظم آج کل کدھر ہوتے ہو ]۔ آپ نے اپنی کاروباری مصروفیات کا ذکر کیا تو مجذوب نے کہا "اعظم تیرے لئی بارہ گاہ ِ رسالت مآب تو پیغام اے کہ تیرا کم صرف نعت خوانی کرنا اے ۔ ہور کج نئیں[ اعظم تمہارے لیے بارگاہ رسالت سے پیغام ہے کہ تمہارا کام صرف نعت خوانی کرنا ہے ۔ اور کچھ نہیں ]۔آپ نے بڑے ادب سے کہاں جی انشاء اللہ یہ کاروبار 1965 تک چلتا رہا ۔ پھر مکمل خدمت ِ نعت میں مکمل یکسوئی کے لیے لاہور کارپٹ اپنے ایک قریبی دوست شیخ احمد حسن کے ہاتھ فروخت کردی ۔ وہ فیکٹری لاہور ش شیخ احمد حسن تو انتقال کرچکے ہیں لیکن وہ اپنی اولاد کے لیے کروڑوں نہیں اربوں کا بزنس اور جائیدادیں چھوڑ کر گئے ہیں ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ پیر حضرت محبوب عالم ہر سال پنے والد گرامی کے عرس مبارکہ پراعظم چشتی کو مدعو کیا کرتے ایک دو بار آپ نہ جا سکے توپیر صاحب نے مریدین کو پیغام دیا کہ اعظم چشتی کو ہر صورت لاو۔ آپ جب وہاں پہنچے تو حضرت محبوب عالم نے مخاطب ہو کر کہا اعظم چشتی آپکے لیے میرے پاس پیغام آیا ہے کہ اعظم چشتی سے کہوں کہ خود کو نعت خوانی کے لیے وقف کرے - [حوالہ : جمشید اعظم چشتی سے نعت ورثہ کی گفتگو ]

دونوں روائیتوں میں سے ممکن ہے کوئی ایک درست ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں درست ہوں ۔ لیکن خلاصہ یہ ہے کہ کاروبار سے بے رغبتی کسی اشارے پر تھی ۔

مجلسی شخصیت :

آپ انتہائی شفیق، حلیم، ملنسار اور ، خوش طبع و خوش اخلاق نعت خواں تھے ۔ان کی جاذب و پر کشش شخصیت میں سحر تھا اور ہر دل ِ گداز ان کا اسیر ہوا۔ منظور الکونین فرماتے ہیں "اگر کوئی ان کی محفل میں بیٹھ جاتا تو اٹھنے کا دل نہ کرتا اور جو ایک بار مل لیتا وہ بار بار ملتا"

خوش ذوقی و نفاست

خوش ذوقی و نفاست ، خوش نوا و خوش مزاج محمد اعظم چشتی کی پہچان رہی ہے ۔ خوش پوشاکی کے چرچے تو ہر زبان پر رہے ۔ شاید ہی کوئی شخص ہو جو آپ کی خوش لباسی سے متاثر نہ ہوا ہو ۔ کشمیری سرخ و سپید رنگت ، عمدگی سے تراشیدہ ریش مبارک، چوڑے چکلے شانے ، اونچا لمبا قد، جسم پر سجتا ہوا پر وقار لباس، نفیس جوتے ، بہترین خوشبو، وجود ِ طرحدار کی شان بڑھاتی ہوئی جناح کیپ اور عاجزی لیے ہوئے پر اعتماد چال ۔ پنڈال میں آنے کا کیا منظر ہوگا؟ ایک نعت خواں کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ دیکھنے والی آنکھ پکار اٹھے کہ اس ہستی پر انوار مدینہ برستے ہیں ۔اسی پیکر کو زیبا تھا کہ نعت کا ایسا لافانی مطلع کہے

خود کو دیکھا تو ترا جود و کرم یاد آیا

تجھ کو دیکھا تو مصور کا قلم یاد آیا

ان کے ایک شاگرد منیر ہاشمی دلچسپ اظہار خیال کرتے ہیں کہ میرے استاد محترم کی شخصیت پر ویسے تو باب باندھے جا سکتے ہیں لیکن ایک مصرع بھی کافی ہے ۔

اک سوہنا اک منہ دا مٹھا اُتوں قاتل نین نشیلے

[ ایک تو وہ خوبصورت و شیریں مقال ہے اس پر ا س کی نشیلی قاتل آنکھیں ]

منظور الکونین فرماتے ہیں ۔

"وہ بہت حسین، بہت خوش نوا، بہت خوش گلو ، بہت خوش لباس اور مجلسی زندگی میں بہت خوش گفتار ہستی تھی "

طب و حکمت سے محبت

پاکستان کے معروف شاعر و ادیب شہزاد احمد ایک ٹی وی پروگرام میں فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی جتنی بھی بڑی شخصیات ہیں وہ بہت سے علوم کی ماہر ہوا کرتی تھی ۔ بہت سی نامور شخصیات ایک ہی وقت میں عالم ،شاعر، موسیقار، حکیم، فلسفی ، جغرافیہ دان، ریاضی دان وغیرہ رہی ہیں ۔ ہمارے دور میں اعظم چشتی بھی انہیں ہستیوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ وہ کثرتِ علم و فنون سے لبریز تھے ۔ جس فن کی طرف بڑھتے ، اس میں ڈوب ڈوب جاتے ۔ ان کے کچھ پہلو تو ان کے چاہنے والوں کے سامنے آئے اور کچھ نہ آسکے ۔ مثلا ان کی شخصیت کا ایک پہلو ان کی طب و حکمت سے محبت ہے ۔ آپ ایک زیرک و مشاق حکیم تھے ۔ دوائیاں تک خود بناتے تھے اور ضرورت مندوں کا مفت علاج ان کا شیوہ تھا

پاکستان سے محبت

نہ صرف مسلمانانِ ہند بلکہ تمام عالم اسلام کی لیے پاکستان ایک خاص عطیہء خداوندی ہے ۔ اسے حاصل کرنے کی تگ و دو میں جہاں قائد اعظم جیسے رہنما اور اقبال جیسے مفکر کے ساتھ ساتھ دیگر موقر سیاستدانوں، علماء، طلباء اور شعراء کا بھی کردار ہے ۔ شعراء نے بھی قومی محبت سے سرشاری نظمیں لکھ اور پڑھ کر عوام الناس کے دلوں کو گرمائے رکھا ۔ اعظم چشتی کو کئی جلوسوں میں قائد اعظم کی رفاقت کا شرف رہا ۔ قائد اعظم بھی آپ سے محبت فرماتے تھے ۔ اعظم چشتی نے نعتیں پڑھ کر آزادیِ پاکستان کی تحریک کو عشقِ مصطفیٰﷺ کی شمع سے خوب روشن کیا۔ چونکہ آپ شاعر بھی تھے تو آپ کا کردار ایک عام نعت خواں سے بڑھ کر رہا ۔ آپ نے قومی ترانے اور قائد اعظم محمد علی جناح کی عظمت کے اقرار میں نظمیں بھی لکھیں ۔

اٹھ شیرا پاکستان دیا ہن جاگ تے ہو ہشیار اڑیا

تینوں خلقت طعنے ماردی اے ، چھڈ نیندر ہو بیدار اڑیا

۔۔۔۔۔۔۔

ایسے نعرہء جاھدو نال اعظم تو ستیاں ہویاں نے جگاندا چلا جا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملت کے نگہباں ترا اللہ مدد گار ۔ اے حق کے پرستار

تو دشمن ایماں کے لیے زہر کا اک جام

تو امن پرستوں کے لیے صلح کا پیغام

تو برق جہاں سوز تو ابر گہر بار ۔ اے حق کے پرستار


اور قائد ِ اعظم کی وفات کے بعد ان کی یاد میں یوں پکار اٹھے

اوہ قائد اعظم زندہ اے

او قائدِ اعظم زندہ اے

جنھے سانوں وطن دوایا ہے ۔ ساڈا دین اسلام بچایا اے

اوہ قائد اعظم زندہ اے

او قائد اعظم زندہ اے


اعظم چشتی کے مصرعے " ساڈا دین اسلام بچایا اے " سے ان کی نظر میں پاکستان کی اہمیت و محبت کا چمک دیکھی جا سکتی ہے ۔


پاکستان کے ایک بہت معروف نعت خواں "اختر حسین قریشی" ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ 1993ء میں کوثر نیازی کی قیادت میں مَیں اور اعظم چشتی صاحب "رحمت اللعالمینﷺ کانفرنس "میں شرکت کے لیے نئی دہلی گئے۔ جب واپسی ہوئی تو جہاز سے اترتے وقت اعظم چشتی صاحب جب آخری سیڑھی پر پہنچے تو کچھ کلمات پڑھنے لگے میں بڑے غور سے اُنہیں دیکھ رہا تھا اور کچھ دیر بعد سجدہ میں گر گئے اور زمیں کو چوم لیا۔

گھریلو زندگی

کسی انسان کی عظمت و خوش قسمتی کی اس سے بڑی دلیل کیا ہو کہ وہ اپنے فن کی بنیاد پر دنیا میں اپنا نام بنائے ، اخلاق حسنہ سے دوستوں کے دل جیتے اور اطوار و محبت سے گھر میں مسیحا کی حیثیت سے جانا جاتا ہوں ۔ محمد اعظم چشتی ایسی ہی گونا گوں صلاحیتوں سے عطا یاب تھے ۔ وہ ایک معروف نعت گو، ایک بے مثال نعت خواں، ایک زندہ دلی مجلسی شخصیت کے ساتھ ساتھ ایک محبت کرنے والے شوہر اور اولاد کے بہترین تربیت کرنے والے کامیاب باپ ثابت ہوئے ۔ کسی اولا دکا اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنا اس باپ کے تربیت و شخصیت کی کامرانی کی علامت ہے ۔ ان کے خانوادے میں اکثر بیٹے اور بیٹیاں نعت گوئی اور نعت خوانی سے منسلک ہیں ۔ یہ فیض صرف ایک نسل تک ہی نہ رہا اب تو آپ کے پوتے پوتیاں بھی گلشن نعت میں اپنے حصے کے پھول کھلا رہے ہیں ۔ اللہ رب الکریم نے آپ کو چار بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا

  • دو بڑی بیٹیاں بشرِی اعظم ، عطیہ اعظم ہیں ۔
  • وجاہت حسین چشتی طب سے منسلک ہیں اور اپنے والد صاحب کی ایک سنت حکمت نبھا رہے ہیں ۔
  • ارشاد اعظم چشتی اپنے والد کے رنگ کے معروف کلاسیکل نعت خواں ہیں ۔ان کی ایک بیٹی زاہرہ ارشاد اعظم ایک بہت ہنر مند نعت خواں ہیں
  • یاسمین اعظم ایک گھریلو خاتون ہیں
  • جمشید چشتی نعت گو نعت خواں شاعر ہیں۔ شعبہ تعلیم سے منسلک جمشید چشتی گورنمنٹ سول لائینز کالج میں ہیڈ آف فارسی ڈیپارٹمنٹ ہیں ۔ فارسی نعت کے یہ محقق ایم فل کے بعد فارسی نعت گوئی پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر فرما رہے ہیں
  • اسرار حسین چشتی نعت خوانی و نعت گوئی کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی فنون لطیفہ سے محبت کے امین ہیں ۔ آپ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس سے میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔
رحلت و وصیت:

مسافر وہی اچھا جو مسافر خانے میں قیام تو کرے لیکن دھیان منزل کی طرف رکھے ۔ اعظم چشتی نے نہ صرف نعت گوئی و نعت خوانی سےاپنی آخرت کا ساماں کیا بلکہ اپنی آنے والوں نسلوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم بھی دیا کہ وہ اس کار ِ خیر سے منسلک رہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی ہی میں زاہد ٹاون، کوٹ عبدالمالک میں ایک 11 کنالہ قطعہ اراضی خرید کر نعت اکیڈمی و لائبریری، مدرسے مسجد اور ہسپتال کے لیے وقف کر دیا ۔ اپنی زندگی کے بعد بھی اس منصوبے پر عمل درآمد کو ممکن بنانے کے لیے اولاد کو وصیت فرما دی کہ میری تربت بھی یہیں بنائی جائے ۔

گلشن نعت کا یہ چھتنار شجر 31 جولائی 1993ء بروز پیر وقت صبح 7:45 پر آغوش ِ زمین میں محو استراحت ہوا۔ آپ کا جنازہ داتا دربار کے امام علامہ مقصود احمد قادری نے قبرستان میانی صاحب میں پڑھایا اور دعا حضرت پیر کبیر علی شاہ نے کروائی۔ وصیت کی تعمیل کرتے ہوئے آپ کو زاہد ٹاون ہی میں سپرد خاک کیا گیا ۔

آج کل یہاں جامعہ حسّان، اعظم چشتی ہسپتال، اعظم نعت اکیڈمی و لائبریری و مدرسہ پر کام جاری ہے ۔ ۔ آپ کے خانوادہ میں بشریٰ اعظم، عطیہ اعظم، وجاہت حسین چشتی، ارشاد اعظم چشتی، یاسمین اعظم، جمشید اعظم چشتی، اسرار حسین چشتی شامل ہیں۔ مجموعہ ہائے کلام: غذائے روح (1944ء) نعتیں نیر اعظم (1970ء) نعتیں رنگ و بو (1953ء) نعتیں ا نیندرے، پنجابی نعتیں اور آخری مجموعہ "'معراج" اُردو نعتیں جو آپ کے وصال کے بعد آپ کے بیٹے جمشید اعظم چشتی نے مکمل کیا۔

محمد اعظم چشتی اور علم موسیقی

علم موسیقی کے بارے "سید منظور الکونین " فرماتے ہیں

"علم موسیقی ایک قلز م ِ ذخار ہے جس کے کنارے کی گیلی ریت پر بھی ابھی رسائی ممکن نہیں ہوسکی ۔ ہنوز خشک ریت اور ساحلی پتھروں پر حیرت اور استعجاب میں ڈوبے ہوئے یہی سوچ رہے ہیں کہ وہ کون لوگ تھے جو اس بحر بے کراں کے شناور اور غواص تھے " [ منظور الکونین، نعت اور موسیقت، کتابی سلسلہ نعت نیوز ، شمارہ نمبر 4، ص 20 ]

جو نسبت نعت گوئی کو فنون لطیفہ کی شاخ شاعری سے ہے درحقیت وہی تعلق نعت خوانی اور موسیقی کا بھی ہے ۔ جس طرح ایک نعت گو شاعر نعت کہتے ہوئے غزل کو مسلمان کرتا ہے ویسے ہی نعت خواں فن ِ گائیکی کو مشرف بہ عقیدت کرکے نعت خوانی میں ڈھالتا ہے ۔یاد رہے کہ ممانعت آلات ِ موسیقی کے استعمال پر ہے ۔ فقط گائیکی یا نغمہ سرائی کی نہیں ۔ نغمہ سرائی اس وقت غلط ہو گی جب اشعار کا موضوع نا مناسب ہوگا ۔ صالح مضامین والے اشعار کی خوش الحانی اور تقدیسی نغمہ سرائی پر روک نہیں ۔ وگرنہ تو نعت خوانی ہی کی ممانعت قرار پا جائے ۔ اب اگر تقدیسی نغمہ سرائی یا نعت خوانی کا تعلق کسی فن سے قائم ہوتا ہےتو اس فن کو دائرہ ءِ شریعت میں رہتے ہوئے سیکھنا کیسے غلط ہو سکتا ہے ؟ آگے چل کے منظور الکونین فرماتے ہیں

" نعت خواں کے لیے ضروری ہے کہ خوش الحان ہونے ساتھ ساتھ وہ موسیقی سے اس حد تک واقف ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام اپنی طبعزاز طرزوں میں پڑھ سکے نہ کہ فلمی گانوں کی طرزوں پر۔ اور طبعزاد پڑھنے کے لیے کلاسیکی موسیقی اس طرح آنی چاہیے کہ کم از کم دس راگ اور زیادہ سے زیادہ پچاس راگوں پر عبور حاصل ہو کیونکہ نعت خوانی باقاعدہ ایک تسلیم شدہ فن ہے "

نعت خوانی کے لیےفن ِ موسیقی سے کس قدر شناسائی ضروری ہے ؟ یہ بحث تو جاری رہے گی ۔ "سید منظور الکونین" کی رائے سے اک حد تک اختلاف ممکن ہے مگر فن گائیکی کے مبادیات اور رموز و فن سے شناسائی نعت خوانی کے لیے اس درجہ ضروری نہیں تو نہ سہی لیکن نعت خوانی میں ان کی اہمیت سے کلی انکار حسن ِ نعت خوانی کے فہم و ادراک سے لا علمی کے سوا کچھ نہیں ۔ اس میں کیا شک کہ حسن توازن میں چھپا بیٹھا ہے ۔ اگر نعت خوانی کو صرف فن سمجھ لیا جائے تو نعت خوانی کی روح متاثر ہوتی ہے اور اگر نعت خوانی سے فن ِ گائیکی کو نکال دیا جائے تو اس کے صوتی آہنگ میں ایسی کجی رہ جائے گی جو اہل فن اور لطیف حسِ جمال رکھنے والے سامعین کی سمع خراشی کا سبب بنے گی ۔

محمد اعظم چشتی کی آواز نے فقط صبائے نعت کے دوش پر سفر کیا ۔ وہ فن گائیکی کے تمام نشیب و فراز اور باریکیوں کے شناسا و تربیت یافتہ ہونے کے باوجود وہ روایتی و بازاری نغمہ سرائی سے دور رہے ۔ ملک پاکستان کے کئی مشہور گویوں سے ان کی سنگت اور دوستانہ رہا اور آ پ نے اہل فن سے کسب فیض کیا ۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ محمد اعظم چشتی وہ پہلے نعت خواں ہیں جنہوں نے نعت خوانی کو ایک فن کی حیثیت سے روشناس کرایا ۔ سید منظور الکونین جیسے بلند قامت نعت خواں کی گواہی اعظم چشتی کے اس پہلو کو خوب اجاگر کرتی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں ۔

"میرے نعت خوانی کے ابتدائی دور میں نعت کے حوالے سے جو بڑے بڑے نام تھے ان میں محمد اعظم چشتی مرحوم سرخیل نعت خوانان تھے ۔ علم و ادب کے میدان میں بھی یکتا تھے اور انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی ہوئی تھی اور ان کے انداز کا باقاعدہ ایک School of Thought بن گیا تھا ۔ "

یہ اعظم چشتی کا امتیاز ہے کہ انہوں نے ایک بازاری و درباری فن کو اتنا پاکیزہ بنا دیا کہ وہ نعت خوانی کی صورت میں وسیلہ بخشش ہوگیا ۔ فن ِ گائیکی میں ان کےباقاعدہ اُستاد بڑے غلام علی خان ہوئے جو پاکستان چھوڑ کر انڈیا واپس چلے گئے،اُس کے بعدانہوں نے اُستاد برکت علی خاں سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔ چونکہ وہ نعت خوان کے حوالے سے جانے جاتے تھے تو عوامی محافل میں یہ بتانا کہ وہ گویوں سے سیکھے ِ ہوئے ہیں ایسا قابل قبول نہ ہوتا اور یہ کہناکہ میری طبع ہی میری اُستاد ہےتکبر کی نشانی سمجھا جاتا اس لیے نعت سے منسلک ایک بزرگ حکیم فضل الٰہی کی صحبت بھی اختیار کی۔[ حوالہ : نعت ورثہ کی ارشاد اعظم چشتی سے ایک گفتگو ] حکیم فضل الٰہی کا شمار پاکستان کے عظیم استاد نعت خوانوں میں ہوتا ہے جو لاہور ہی میں پیدا ہوئے ۔

یہ عطیہ خداوندی تھا کہ محمد اعظم چشتی نے کبھی گلوکاری نہ کی لیکن اس اس شعبے کے نابغہ روزگار شخصیات بھی آپ کے فن کی مداح رہیں ۔آپ کے حلقہ احباب میں فریدہ خانم و نور جہاں اکثر محافل و مجالس میں آپکو مدعو کرتیں- مہدی حسن خاں صاحب جب لاہور منتقل ہوئے تو گاہے بگاہے آپکو ملنے گھر آتے ۔ شام چوراسی گھرانہ [حوالہ : سید منظور الکونین بھی اسی گھرانے کے نیاز حسین شامی کے شاگرد تھے ] سے آپکے بہت گہرے تعلقات تھے استاد سلامت علی خاں استاد برکت علی خاں اور حسین بخش گلو آپکی خوش الحانی و فن کے قدر دان تھے ۔ -پٹیالہ گھرانہ سے استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں آپکو گھر اکثر مدعو کرتے اور ماہ محرم و ربیع الول میں نعت مبارکہ سنتے۔ استاد نصرت فتح علی خاں ہمیشہ اپنے والد فتح علی خان و چچا استاد مبارک علی خاں کی برسی کے موقع پر آپکوو مدعو کرتے-غزل خواں غلام علی ،عالم لوہار ،شوکت علی سے غزلیں سنی اور انہیں اپنی نعت سے ان کی سماعتوں کو فیض یاب کیا ۔

فن و عقیدت کا یہ میل جول نعت خوانی کے لیے اس لحاظ سے خوش آئند رہا کہ جہاں اعظم چشتی فن ِ موسیقی کی اہم شخصیات سے رابطے میں رہ کر اپنے ہنر کے لیے مہمیز لیتے رہیے وہیں ان گلوکاروں کو نعت سے بھی روشناس کراتے رہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نور جہاں اور سعید ہاشمی صاحب نے مل کر نعتیں پڑھیں ۔ فریدہ خانم اور سعید ہاشمی کے ایک آڈیوکیسٹ کی ریکارڈنگ کی بھی شنید تھی لیکن وہ ریلیز نہ ہو سکا ۔

یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اعظم چشتی اپنے فن کی وجہ سے ان مغنیات میں زیادہ مقبول تھے تو نور جہاں یا فریدہ خانم کے ساتھ نعت خوانی کے لیے ان کا نام کیوں نہ آیا ؟۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ نور جہاں کے البم میں آلات ِ موسیقی کا استعمال ہونا تھا ۔ اعظم چشتی نے علم موسیقی سیکھا تو ضرور لیکن نعت خوانی میں آلات موسیقی یا بازاری آہنگ کے قائل نہ تھے ۔ ان کی نعت کے آہنگ میں کبھی بازاری موسیقی کا سایہ تک نہ پڑا ۔ اعظم چشتی کی پڑھی ہوئی نعتیں سر، لے اور راگوں سے سجی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکیزگی و تقدس سے بھی آراستہ رہیں ۔ ان کی کسی بھی نعت کو سن کر کوئی بازاری نغمہ یا گانا ذہن میں نہیں آتا ۔

گلوکاروں کی آراء

مہدی حسن "میں غزل کا مہدی حسن ہوں ،اعظم چشتی نعت خوانی کے مہدی حسن ہیں۔"

[غلام علی ]

"اعظم چشتی ایک درویش صفت انسان تھے۔ ان کی سریلی آواز دلوں میں اتر جاتی تھی۔ وہ سر کا بہت گہرا شعور رکھتے تھے۔ عشق رسول ﷺ ان کے دل میں تھا جس کے باعث ان کی آواز میں بہت سوز و گداز تھا ۔ میں جب بھی ان کی نعت سنتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں"

اُستاد حسین بخش گلو ( شام چوراسی گھرانہ ) لاہور: "اعظم صاحب ایسے سریلے نعت خواں تھے کہ موسیقی کی دنیا کے سارے فنکار ایک ہی نعت خواں کو سننا پسند کرتے ہیں اور وہ ہیں اعظم چشتی صاحب ۔ اگر آپ کلاسیکل گائیک ہوتے تو بھی پوری دنیا میں ان کا نام ہوتا۔ آپ سرکار دو عالمﷺ کے سچے عاشق تھے ۔ اُن جیسا سریلا نعت خواں نہ ان سے پہلے کوئی تھا اور نہ ان کے بعد ہوگا "

اعظم چشتی ایک درویش اور نبی اکرم ﷺ کے سچے عاشق تھے۔ اُن کی آواز کا سوز اس عشق کی وجہ سے دلوں کو حرم بنا دیتا تھا ۔ میں اکثر ان سےاپنے لیے دعا کرنے کی درخواست کیا کرتا تھا۔ اُن کے چہرے پر بھی عشق رسول ﷺ کا نور چمکتا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی پتہ چل جاتا کہ یہ منبر بہت مقدس و کریم ہے۔ بہت گانے والے انہیں اپنا مرشد مانتے تھے۔

استاد عبدالستار خاں تاری طبلہ نواز لاہور: اعظم چشتی کا شمار برصغیر کے ان پانچ سریلے ترین لوگوں میں ہوتا ہے جو پہلے سُر سے ہی بغیر کسی سہارے کے گاتے اور پڑھتے ہیں اور وہ مکمل اور پورا لگتا ہے جس کی کوئی مثال ہی نہیں اس کی ترتیب یوں ہے؛ کلاسیکل : استاد سلامت علی خاں غزل: مہدی حسن فوک: طفیل نیازی پلے بیک سنگر: لتا منگیشکر نعت خواں : محمد اعظم چشتی یہ پانچوں لوگ بلاشبہ برصغیر کے سُریلے ترین لوگ ہیں ۔

شفقت امانت علی (پٹیالہ گھرانہ) لاہور: اعظم چشتی صاحب جب عروج پر تھے میں اس وقت بہت چووٹا تھا بس اتنا یاد ہے کہ میرے والد صاحب استاد امانت علی خاں صبح ریڈیو لگا کر بیٹھ جاتے کہ اعظم چشتی کی نعت نشر ہو گی۔ وہ اعظم چشتی صاحب کی نعتیں بڑے شوق سے اور باقاعدہ سنا کرتے تھے اور کہتے کہ نعت خوانوں میں ایک ہی نعت خواں سننے والا ہے اور وہ اعظم چشتی ہے۔ پھر میں بڑا ہوا تو میں نے اعظم چشتی صاحب کو سنا واقعی ان کی آواز ِ پُر سوز کانوں سے سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔

شیر علی، مہر علی قوال: نعت خوانی میں جو اسلوب اعظم چشتی نے متعارف کروائے وہ نعت خوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ نعت خوانی میں مثلِ اعظم چشتی نہ کوئی آپ سے پہلے تھا، نہ ہے، نہ ہوگا۔

شفقت سلامت علی خاں (شام چوراسی گھرانہ) لاہور: اعظم چشتی صاحب میرے والد استاد سلامت علی خاں کے بہت قریبی دوست تھے۔ والد صاحب کے ساتھ ان کی بہت بے تکلفی تھی۔ میں نے اپنے والد کو اکثر دیکھا کہ وہ اعظم چشتی صاحب کے گھر جایا کرتے تھے۔ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ اعظم چشتی جیسا سریلا اور پختہ نعت خواں میں نے نہیں دیکھا۔ انہیں علمِ موسیقی پر بھی عبور حاصل تھا ۔ لے تال اور سُر کا ایسا گیان کسی اور نعت خواں کو نصیب نہیں ہوا جیسا اعظم چشتی صاحب کو ہے۔ خصوصی طور پر اعظم چشتی صاحب کو آواز کی مختلف خصوصیات اور بہاریوں کا گہرا شعور تھا سن کر بتا دیتے تھے کہ فلاں پڑھنے والے، گانے والے کی آواز میں کیا خوبی اور کیا خامی ہے۔ اعظم چشتی صاحب کی آواز تانپورہ کے تاروں پر ایسے رچ جاتی کہ ساز اور آواز ایک ہو جاتے۔

فروغ نعت میں کردار

محمد اعظم چشتی ایک حیران کن شخصیت تھے ۔ اگرچہ نعت گوئی، نعت خوانی، نغمہ سراوں سے صحبتیں، مطالعہ، حکمت، مجلسی زندگی اور گھریلو زندگی کے بعد شاید ہی کسی اور سرگرمی کے لیے وقت نکالا جا سکتا ہو لیکن جب ان کی پر اثر شخصیت کو دیکھتے ہوئے صاحبان ِ نظر نے انہوں فروغ ِ نعت کی سرگرمیوں کی دعوت دی تو انہیں مستعد و رضا مند پایا ۔ محمد عظم چشتی نے 1952 سے لے کر اپنی وفات تک پہلے " بزم حسان" اور پھر "کل پاکستان جمیعت ِ حسان" کی صدارت کی ذمہ داریاں نبھائیں ۔

بزم ِ حسان کی بنیاد

1952ء میں علامہ ریاض الدین سہروردی [امرتسری] جو عالم و شیخ ِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ نعت خوان و نعت گوبھی ہیں کہ تحریک پر لاہور کے محبان ِ نعت نے "بزم حسان" کی بنیاد رکھی ۔ محمد علی ظہوری بھی اس تحریک کا حصہ تھا ۔ عہدہ ءِصدارت کے لیے سب کی نظر اعظم چشتی پر ٹھہری ۔ انہوں نے بھی احتراما و عقیدتا یہ عہدہ قبول کر لیا ۔ نائب صدر کا عہدہ جان محمد امرتسری اور محمد علی ظہوری کو سونپا گیا۔[بحوالہ : جمشید چشتی سے نعت ورثہ کی ایک گفتگو حواشی : اعظم چشتی پر ایک ٹی وی پروگرام میں معروف ٹی وی اینکر تسلیم صابری نے اس تنظیم کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر کے لیے صرف محمد علی ظہوری کا ذکر کیا ہے ] علامہ ریاض الدین سہروردی اس کے بزم کے "جنرل سیکریٹری" ٹھہرے ۔ [ حوالہ : ڈاکٹر شہزاد احمد کراچی ، آئینہ ریاض سہروری ، ص 9] [ حواشی : ڈاکٹر شہزاد احمد نے 1952 میں بنائی جانے والی تنظیم کا نام "مرکزی جمعیت حسان " لکھا ہے ] ۔ اعظم چشتی کی صدارت میں ملک کے ہر شہر میں بزمِ حسّان کے تحت یومِ حسّان اور محافلِ نعت کا اٹوٹ سلسلہ شروع ہوگیا ۔پہلا یوم حسان غالبا "جامع مسجد مائی لاڈو، لاہور" میں منعقد ہوا ۔ حوالہ : ڈاکٹر شہزاد احمد کراچی ، آئینہ ریاض سہروری ، ص 9]۔ 1955 میں علامہ ریاض الدین سہروردی کے کراچی چلے جانے کے بعد ؟؟؟ تک فروغ نعت کے لیے یہ پاکستان کی واحد تنظیم رہی ۔

پاکستان جمعیت حسان

14 ستمبر 1970 میں جناب اعظم چشتی نے "کل پاکستان جمعیت حسّان" کی بنیاد رکھی۔ آپ ہی اس کے پہلے صدر اور محمد علی ظہوری اس کے نائب صدر کے عہدے پر سرفراز ہوئے ۔ جمعیت حسان کی سرپرستی میں آج بھی ملک کے تقریباً ہر شہر اور قصبہ میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔ بلکہ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور امریکہ میں بھی اعظم چشتی کے شاگردوں نے جمعیت حسّان کی شاخیں کھول رکھی ہیں۔ اور محافلِ نعت کا سلسلہ جاری وساری ہے۔

احباب کی آراء

قاری محمد یونس قادری لاہور، کمپئیر و نقیب : "نعت سنتِ الٰہی ہے۔ نعت سعادت دا رین ہے۔ نعت درِ حبیب پر پلکوں سے دستک دینے کا عمل ہے۔ نعت کے لیے صرف جسم کی پاکیزگی ضروری نہیں بلکہ روح کی طہارت بھی ضروری ہے۔ ذکرِ مصطفےٰ کے لیے جذبہ باوضو اور حرفِ تقدس کی ردا اوڑھے نہ ہوں تو نعت ہونی ہی نہیں چاہیے ۔ جانِ پاکستان الحاج محمد اعظم چشتی حرفِ تقدس، طہارت اور نفاست کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ ان کے لباس میں نفاست، کردار میں طہارت اور کلام میں لطافت تھی۔ آپ نے نعت خوانوں کو ایک معیار عطا کیا اور نعت خوانی کے ایسے اسلوب دیے جو کہ نعت خوانی کی بنیاد ہیں"

اختر حسین قریشی لاہور، نعت خواں

میں نے شاگردی کے لیے محمد علی ظہوری صاحب کے دست مبارک پر بیعت کی لیکن میرا دل ہمیشہ اعظم چشتی  کا مداح رہا ،میں ایک کم علم و کم فہم انسان، اعظم چشتی کے فن نعت اور نعت خوانی پر کیا بات کروں  وہ ایک نعت خوانی کی عظیم درسگاہ تھے۔ ایک دفعہ میں ریڈیو پاکستان  لاہور سنٹر کے سٹوڈیو میں موجود تھا جہاں اعظم چشتی بھی ساتھ تھے تو کوئی نعت خواں نعت مبارکہ کی ریکارڈنگ کے لیے آیا تو یہ کلام پڑھنا شروع کیا؛ "ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے " تو پروڈیوسر و نعت خواں عبدالشکور بیدل نے اُسے پکڑا اور سٹوڈیو میں لے آئے اور کہا کہ جب تک اعظم چشتی ہے ہمیں اور کوئی نعت خواں  اُن جیسا یا کم تر نہیں چاہیے ہاں اگر کوئی اُن سے اچھا ہو  تو آئے۔ یہ بات سن کر مجھے اعظم چشتی صاحب کے مقام کا پتہ چلا۔  عبدالشکور بیدل  ماتورِنعت خوانی میں بہت سخت رویہ رکھتے اور فقط ایسے مستند نعت خواں کو نعت مبارکہ پڑھنے کی اجازت دیتے جو معیارِ نعت سے آشنا ہوتا ۔

محمد علی ظہوری، لاہور، نعت خواں : نعت گوئی سے زیادہ ان کی نعت خوانی کے انداز میں ایک انفرادیت ہے۔ بیاج کے بغیر تاویر نعت خوانی اور کسی مصرعہ پر گرہ لگانے میں ان کی ادائیگی کے جوہر زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ خوش روئی، خوش گوئی اور خوش پوشاکی کی ان تینوں صفات کا کسی ایک شخص میں جمع ہونا غیر معمولی بات ہے۔

منیر ہاشمی ملتان: ایسی مقناطیسی شخصیت کے مالک کہ جو بھی آپ کے حلقہ اثر میں آ گیا وہ نایاب و بیش قیمت ہوا ۔ خوش الاکن،خوش فہم، خوش اخلاق ،خوش گو اور طبیعت میں ایسا مزاح کہ صوفیانہ محافل میں بھی محفل باغ و بہار ہو جاتی۔ پاکستان و دُنیا میں نعت خوانی کو جو تصویر آج نظر آ رہی ہے اس کے نقش و نگار قبلہ اعظم چشتی نے ہی بنائے۔ دُنیائے نعت میں ایسا نعت خواں آپ سے پہلے کبھی نہ آیا ہوگا ۔ ایسی گرہ بندی کہ ایک شعر پر چار پانچ گھنٹے لگ جاتے یہ منظر مجھے دیکھنے کے بار ہا مواقع ملے۔ گرہ بندی کے لیے آپ جانتے ہیں علم اور حافظہ خوب چاہیے جو اللہ تعالی نے آپ کو عطا کیا ہوا تھا۔ آپ کی شخصیت و فن میرے فہم و فراست سے بالا ہے، کیا بیان کروں۔ سید منظور الکونین راولپنڈی: جب میں نے نعت کے ماحول میں آنکھ کھولی تو تمام دوسرے اساتذہ کے علاوہ چشتی صاحب شروع ہی سے میری سماعتوں کے ذوق کی آبیاری کرتے رہے اور میرا معیارِ نعت خوانی ان سے قریب تر تھا۔

اختر بزمی راولپنڈی : میرے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ آپ کی شخصیت پر کوئی رائے دوں ، نعت خوانی ہو یا شخصیت اپنی مثال آپ ہی تھے کوئی دوسرا مثل اعظم چشتی نہ تھا نہ ہوگا ۔ ملک عبدالمصطفیٰ سعیدی بہاولپور: نعت خوانی پر کیا تبصرہ کروں یہ کافی ہے کہ نعت خوان کیا ہوتا ہے اگر دیکھنا ہو تو اعظم چشتی صاحب کو دیکھ لیں، پُر وقار شخصیت ،خوش الحان،خوش لباس ،خوش طبع، خوش اخلاق انسان ہیں۔ وہ اُستاد کیسا ہوگا جس کے شاگرد بدرالدین بدر ، تاج الدین اوکاڑوی،منیر ہاشمی،ثناء اللہ بٹ ، الطاف الرحمان پاشا جیسے ہوں گے۔

لیاقت حسین گیلانی بوریوالہ: نعت گوئی ہو یا نعت خوانی ، فنِ نعت میں آپ بے مثل ہیں سابقہ اور آنے والوں میں ہمیشہ ممتاز رہیں گے۔ آپ کی شخصیت میں ایسا جادو ہے جو ہر ملنے والے پر یکساں اثر کرتا ہے۔

سعید ہاشمی کراچی: جب میں نو عمر تھا تو ریڈیو پاکستان پر آپ کی نعت مبارکہ سنتا اور اُنہیں پڑھنے کی کوشش کرتا ۔ آپ کا شمار اساتذہ میں ہوتا ہے بلا شبہ آپ پاکستان کے عظیم نعت خواں ہیں۔

ارباب ظفر اللہ پشاور: کلام یوں پڑھتے کہ محسوس ہوتا کہ الفاظ کو تاثیر مل رہی ہو، آپ نے نعت خوانی کی جو بنیاد رکھی آج بھی اُ س پر پاکستان کے طول عرض پر خوبصورت عمارات تعمیر ہو رہی ہیں۔ نعت خوانی میں آپ کا نام ہمیشہ تابندہ و روشن رہے گا ۔ محمد اسماعیل تبسم مظفر آباد آزاد کشمیر : جو بھی نعت خواں ہے کیسے ممکن ہو کہ آپ سے متاثر نہ ہو ا ہو اور کیسے ممکن ہے کہ آپ کے فنِ نعت خوانی سے مستفید نہ ہوا ہو ۔

غلام مصطفیٰ مستانہ کوٹلی آزاد کشمیر : حسّانِ پاکستان کا نعت خوانی میں کوئی ثانی نہیں ، آپ ایک سچے پکے عاشقِ رسول ﷺ ہیں۔ میری عمر کم وبیش 75 سال ہے جب میں چھوٹا سا تھا تو قبلہ اعظم چشتی کا کلام ریڈیو پر سنتا تھا اور اُسے اُسی طرح پڑھنے کی کوشش کرتا ۔ اعظم چشتی میرے روحانی اُستاد ہیں۔ صابر سردار فیصل آباد : اگر نعت خوانی کے اسلوب اور اس کی کوئی بہترین تعریف بیان کرنا ہو تو اعظم چشتی کی نعت خوانی بہترین نمونہ ہوگی ۔ بلاشبہ نعت گوئی، نعت خوانی اور فنِ نعت میں آپ بے مثل ہیں۔

صدیق اسماعیل کراچی: آپ کےمتعلق میری رائے گویا سورج کو چرا غ دکھانے کے مترادف ہوگی۔

افضل نوشاہی لاہور: آپ نے نعت خوانی کو ایک باقاعدہ انداز دیا، اس کے خد و خال بنائے اور جو شکل آپ نے تخلیق کی نعت خوانی ہر دور میں اُس کی مرہون منت رہے گی۔

مرغوب ہمدانی لاہور: اپنے نام کی نسبت سے اعظم تھے، ہیں اور رہیں گے۔ کیا اخلاص کیا عقیدت تھی، کیا شخصیت۔ بس بحیثیت نعت گو، نعت خواں آپ واقعی اعظم ہیں۔ والد گرامی حکیم منظور ہمدانی گھر میں اکثر محافل کرواتے ایک دفعہ گھر میں محفل کا انعقاد تھا، شدید بارش تھی، آپ نہ آئے، فون کرنے پر بتایا بارش ہے تو والد صاحب نے مجھے لینے کے لیے بھیجا۔ جب میں آپ کے گھر پہنچا تو آپ انتظار کر رہے تھے اور مجھے یہ سعادت ملی کہ آپ کو گھر لایا۔ اتنا بڑا نعت خواں کوئی بات نہ کی اور ساتھ چل پڑے، کیا اخلاص تھا!

ثناء اللہ بٹ لاہور: "اعظم چشتی ، برکت علی خان مرحوم کی گائیکی سے بہت متاثر تھے۔ کئی برس شب و روز نزاکت علی خان مرحوم اور سلامت علی خان کے رفیق سفر رہے۔ صوفی غلام تبسم مرحوم کے علم و فضل کے بھی معترف تھے۔ ان کے بیشتر شاگرد ان کا انداز اپنائے ہوئے ہیں جب کہ یہ بات کسی بھی اور اُستاد کے شاگردوں کے حصے میں نہیں آتی۔ جتنا بہتر اور معیاری کلام تقلید استاد میں ان کے شاگرد محافل میں پڑھتے ہیں اور کسی حلقہ کے نعت خواں نہیں پڑھتے۔ یہ بھی اعظم چشتی مرحوم کے حلقہ تلامذہ کا طرہّ امتیاز ہے کہ تمام کلام زبانی یاد ہے، کتاب استعمال نہیں کرتے۔

شہزاد ناگی لاہور: اعظم چشتی اپنے نام کی مناسبت سے نعت خوانی میں پاکستان کے اعظم ہیں ۔ نہ مثل ہے نہ آپ کی کوئی مثال۔ ایک مرتبہ کسی محفل میں مجھے سنا تو اشرف چشتی اور ثناء اللہ بٹ سے کہا کہ "ایہہ چڑی کتھے سنبھال کے رکھی اے!" جب کبھی مجھے محفل میں دیکھتے تو بہت حوصلہ افزائی کرتے۔ ایک مرتبہ ریڈیو لاہور سنٹر سے آپ کی قیادت میں نعت خواں ایوان صدر گئے تو وہاں اُس وقت کے صدر جناب ضیاء الحق نے اُنہیں محفل میں اپنے سے آگے بٹھایا۔ یہ دیکھ کر مجھے ضیاء الحق کی عقیدت اور اعظم چشتی کی عظمت کا احساس ہوا۔

صادق رحمانی کراچی: بلاشبہ آپ پاکستان کے سب سے بہترین نعت خواں ہیں ،ان سے بہت ملاقاتیں رہیں ہمیشہ بہت عزت و حوصلہ افزائی کرتے ۔

سید الطاف حسین کاظمی: اعظم چشتی کی نعت گوئی اور نعت خوانی میں آپ کی تعلیم و تربیت اور ماحول کی بہت اہمیت ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے نعت گوئی میں عمدہ کلام لکھے تو نعت خوانی میں بھی کمال نعتیں پڑھیں۔ عوام الناس میں نعت سننے کا رجحان جناب اعظم چشتی کے منفرد انداز و آواز کا مرہون منت ہے جو عوام و خاص میں یکساں مقبول ہوا۔ آپ کو بیشمار زبانوں میں یکساں مہارت حاصل تھی ۔ آپ کی نعت خوانی میں سب سے بڑا وصف آپ کی گرہ بندی تھا۔ ایسی گرہ بندی کرتے کہ آج تک ایسا معیار کبھی دیکھنے کو نہ ملا ۔


شہزاد مجددی لاہور: آپ کا شمار پاکستان کے صف اوّل کے نعت خوانوں میں ہوتا ہے جن سے ملک کے معروف نعت خوان فیضیاب ہوئے، وسیع حلقہ تلامذہ رکھتے تھے۔ نعت گوئی کا بہت اعلیٰ ذوق تھا نعت گو شاعر بھی تھے۔ یہ بات بہت قابل تحسین ہے کہ وہ ہمیشہ علمائے اکرام سے بہت عقیدت و محبت کا رشتہ رکھتے، اپنا لکھا ہوا کلام پہلے اساتذہ و علمائے اکرام کو دکھاتے، شرعی و شعری دونوں طرح کی اصلاح کے بعد مجموعہ عوام میں پڑھا کرتے تھے۔ یہ بات آج کے ثناء خوانوں کے لیے بہت بڑا درس ہے۔ اللہ آپ کے درجات کو بلند کرے۔ میرا کریم بھی کتنا کریم ہے اعظمؔ کہ میرا عیب بھی جس کو ہنر نظر آئے بدر السلام بدر، نقیب ، اسلام آباد: میں لاہور کی ایک محفلِ نعت میں شرکت کے لیا گیا تو وہاں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بھی تھے۔ بات چلی تو کہنے لگے کہ ہم اپنے گھر جب بھی محفل کرواتے ہیں ہمیشہ اعظم چشتی کو ہی مدعو کرتے ہیں۔ آپ نعت خوانی میں اتنے سریلے ہیں کہ ہم داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے کیسا انسان ہے کہ خوبصور ت آواز و انداز اور سُر لَے سے خوب شناسائی ہوتے ہوئے انہوں نے نعت خوانی کو زندگی کا حصول بنایا۔

نعت ویو؛ اعظم چشتی کی مشہور نعتیں سنیں: اعظم چشتی روایتی اور کلاسیکل رنگ کے بے مثال نعت خواں تھے۔ ان کی نعت خوانی کا سحر آج تک نہیں ٹوٹا۔ پاکستان کے اولین نعت خوانوں میں سے ہونے کی وجہ سے پاکستان کے ہر خطے کے عاشقان ِ مصطفیٰ ﷺ ان کی آواز سے شناسا ہیں۔ اعظم چشتی سُر اور لَے کو سمجھنے والے نعت خوانوں میں سے تھے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کی تربیت ہی سُر اور لَے میں ہوئی۔ استاد بڑے غلام علی خاں اور استاد برکت علی خان سے گہرے مراسم تھے اور ان سے کسب ِ فیض حاصل کیا ۔

اعزازات

بے شمار اہلِ نعت، علماء و مشائخ، نعت گو و نعت خواں نے آپ کو بابائے نعت اور حسّانِ پاکستان کالقب دیا مگر سید منظور الکونین کا آپ کو حسّانِ پاکستان کہنا یقناً ایک سند ہے کیونکہ آپ نعت گوئی و نعت خوانی کے جس سمندر میں غوطہ زن ہوئے اُس کی گہرائی تک پہنچنا کم نعت خوانوں کو نصیب ہوا اور آپ نے یہ لقب کسی نسبت یا تعلق کی بنا پر نہیں دیا بلکہ شخصیت و فن ِنعت خوانی سے متاثر ہو کر دیا۔ اہلِ نعت جانتے ہیں کہ نعت خوانی میں کلام کا منتخب کر نا ہو یا ادب یا اشعار کا چناؤ سید منظور الکونین اپنا مقام جُدا رکھتے ہیں۔ آپ نے کبھی کسی کی خوشامد نہ کی اور حق بات کہی جو کسی کو اچھی لگی یا بُری کبھی پروا نہیں کی۔ اعظم چشتی کو حسّان ِ پاکستان کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سُر و فکر دونوں سے ودیعت کیے گئے۔ نعت خوانی کی تو صفِ اول کے نعت خواں ٹھہرے اور نعت گوئی کی تو بہت سے شعرا نے ان پر رشک کیا۔ نعت خوانی کی تربیت کے لیے اُستاد بڑے غلام علی خاں اور شاعری میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی صحبت اور تربیت حاصل رہی۔ احمد ندیم قاسمی سے بھی قرب رہا۔

خصوصی اعزاز،،،،پہلے نعت خواں: =

جنہیں پرائڈ آف پرفارمنس ملا، جنہیں روضہ رسول ﷺ کے اندر درود و سلام پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جنہیں آزادیِ پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے پہلی نعتِ مبارکہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا، جنہیں پی ٹی وی کی نشریات کے آغاز پر پہلی نعتِ مبارکہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، پرائم منسٹر اور ایوانِ صدر میں نعت پڑھنے کا اعزا حاصل ہوا ، پہلےنعت خواں جنہیں بیرونِ ملک نعت خوانی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پہلے نعت خواں جنہیں کل پاکستان مقابلہ نعت جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پہلے نعت خواں جنہیں جج بننے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ پہلے نعت خواں جن کی برسی کے موقعہ پر ریڈیو پاکستان نے ایک محفلِ نعت کا انعقاد کیا۔ پہلے نعت خواں جن کے دو بیٹوں کو بھی پاکستان بھر میں نعت خوانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ پہلے نعت خواں جنہیں جی ایچ کیو کی تقریبات میں نعت خوانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ پہلے نعت خواں جنہیں پاکستان براڈ کاسٹنگ کی طرف سے ایکسیلنس ایوارڈ ملا!

سنہری یادیں

روضہ ء رسول میں حاضری

1975ء میں وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی ایک وفد کی صورت میں حج و عمرہ کی سعادت کے لئے گئے جس میں معروف سیاسی، سماجی، مذہبی اور ادبی شخصیات شامل تھیں۔ اس موقعہ پر حج کی سعادت حاصل کی اور روضۂ رسول ﷺ میں اندر جانے کی خوش نصیبی بھی میسر آئی ۔ یہ وہ خوش قسمت گھڑیاں تھیں جب اعظم چشتی کو روضۂ رسولﷺ کے اندر جاکر درد و سلام کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ ناظر کیا بتائے اور راوی کیا لکھے ؟۔ انہوں نے اس سعادت کو زندگی بھر چھپائے رکھا ، آپ پہلے نعت خواں تھے جن کو یہ اعزا زحاصل ہوا ۔ اس کے بعد نعت خوانوں میں منصور تابش، محمد علی ظہوری اور وحید ظفر قاسمی کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوا۔ جو لوگ آپ سرکار ﷺ کی زیارت ہونے پر عوام و خاص میں اظہار کریں وہ بھی معتبر ہیں جو نہ کریں وہ بھی کہ تحدیث نعمت کے طور اعلان بھی باعث برکت ہے اور تکبر کے خدشے سے خاموشی میں بھی رحمت ۔ اعظم چشتی نے روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کو ہر عام و خاص سے پنہاں رکھا یہ اُن کی محبت کا اپنا انداز ہے۔ [ بحوالہ : ارشاد اعظم چشتی کی نعت ورثہ سے گفتگو ]

جناح کیپ :

سندھ کے ایک دورے پر قائداعظم اور عبداللہ ہارون کے ساتھ ایک دورے پر تھے۔ دورانِ سفر قائد اعظم نے فرمایا کہ اعظم جناح کیپ پہنا کرو۔ اعظم چشتی بتاتے ہیں کہ میں نے اُسی دن بندر روڈ کراچی جا کر جناح کیپ خریدی، اُس کے بعد زندگی بھر جناح کیپ پہنی، اس سے پہلے آپ ترکی ٹوپی پہنتے تھے۔[ حوالہ : ارشاد اعظم چشتی سے نعت ورثہ کی گفتگو ]

الحاج خورشید احمد کو دعا

ارشاد اعظم چشتی اپنی ایک گفتگو میں فرماتے ہیں کہ خورشید احمد کہا کرتے تھے

"مجھے کوئی نہیں جانتا تھا۔ میں جو کچھ بھی ہوں حضرت کی دعا ہے ۔ میں بچپن میں اعظم صاحب کو سنا کرتا تھا اور ان سے بہت متاثر تھا ۔ ملنے کی بہت حسرت تھی۔ وہ موقع اس طرح ہوا کہ حیدر آباد میں ایک زمیندار کے گھر ایک سالانہ محفل ہوا کرتی تھی اور وہ تین لوگوں کو بلایا کرتے تھے۔ مہدی حسن، فریدہ خانم اور اعظم چشتی۔ آغاز اعظم چشتی کیا کرتے تھے اور پھر محفل موسیقی شروع ہو جاتی تھی ۔ کسی نہ کسی طرح مجھے اعظم چشتی کے سامنے دو اشعار پڑھنے کا موقع مل گیا ۔ بہت کم عمر اور کم ہنر تھا ، میں نے کیا سنایا ہوگا؟ جب محفل کا اختتام ہوا تو میں اعظم چشتی کی دست بوسی کے لیے انہیں ڈھونڈتا ہوا اُن کے قریب پہنچ گیا، تو انہوں نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ بیٹا نعت خوانی میں جیسی عزت اللہ نے مجھے دی ہے ویسی ہی عزت تمہیں بھی دے گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا!"


سید منظور الکونین کے بارے پیشین گوئی

اعظم چشتی کے بارے پروگرام "نعت کائنات" میں سید منظور الکونین نے اظہار کرتے ہوئے فرمایا

"اعظم چشتی کا سحر محبت رسول کا ایک ایسا چھینٹا ہے کہ کائنات میں جہاں کہیں بھی جاو اس کی پھوار محسوس ہوتی ہے ۔ کوئی بھی اس سے نہ بچ سکا ۔1950 کی بات ہے کہ نور مسجد کے سامنے ایک محفل نعت میں میرے چچا جان مجھے سٹیج پر لے گئے ۔ میری ملاقات اعظم چشتی صاحب سے کرائی ۔ میری بغل میں ان کی کتاب "غذائے روح" تھی ۔ میں نے تلاوت کے بعد اپنی توتلی زبان میں " کدی ساڈے وال پھیرا پا کملی والے" پڑھی ۔ اس کے بعد جب اعظم چشتی صاحب تشریف لائے تو نعت مبارکہ پڑھنے سے پہلے میرے بارے فرمایا کہ میں یہ بتانا چاہوں گا کہ صاحبزادہ صاحب کا یہ جو بھتیجا ہے یہ بہت بڑا نعت خواں بنے گا ۔"

نعت مبارکہ پڑھے بغیر سلام

سید منظور الکونین ایک بیان کرتے ہیں کہ میں ایک محفل میں شرکت کے لیے گجرات اپنے ننھیال ماموں جان صاحبزادہ مبارک محی الدین کے ہاں پہنچا۔ وہاں سے مجھے گاڑی جلال پور جٹاں قاضی صاحب کے ہاں لے گئی ۔ جب میری باری آئی تو میں اللہ کا نام لے کر حضور کو یاد کر کے اسٹیج پر آیا اور درود شریف کے بعد بہزاد لکھنوی کی مشہور نعت جو اعظم چشتی نے ہی ریڈیو پاکستان سے پڑھی ہوئی تھی؛ "غیروں کی جفا یاد نہ اپنوں کی وفا یاد، اب کچھ بھی نہیں مجھ کو مدینے کے سوا یاد" نہایت حضوری کیفیت میں پڑھی۔ کوئی آنکھ نم آلود ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ ہر ہر شعر میں سامعین کی داد اور حالت دیدنی تھی۔ خود محمد اعظم چشتی صاحب میرے ساتھ آواز ملا کر شامل ہو کر پڑھ رہے تھے۔ مقطع کے ساتھ نعت کا اختتام ہوا اور منتظمین ِ عرس میرے واری صدقے جارہے تھے۔ میرے بعد محمد اعظم چشتی صاحب کا اعلان ہوا۔ حسّانِ پاکستان نے کھڑے ہو کر اچانک یوں کہا؛ "دوستوں نعت تو منظور الکونین نے پڑھ دی ہے اب میرا خیال ہے کہ صلوٰۃ و سلام پڑھ لیں اور انہوں نے "یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک" سے سلام کا واقعی آغاز کر دیا اور نعت نہ پڑھی؛ یہ ان کی میرے لیے محبت تھی اور ان کی عظمت کہ میں ان کے تلامذہ میں شامل نہ تھا اور بہت جونیئر تھا لیکن انہوں نے صدقِ دل سے میری پذیرائی کی اور حوصلہ افزائی فرمائی؛ اللہ حضور کے طفیل انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ! بحوالہ حضور و سرور

4 گھنٹے کی پر کیف حاضری

محبان نعت کو اپنی دلفریب نقابت سے گرمانے والے نقیب "یونس قادری" ایک واقعہ پیش کرتے ہیں کہ

"یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے حسّانِ پاکستان الحاج محمد اعظم چشتی کی زندگی کے آخری سالوں کی محافل میں آپ کی صحبت میسر رہی خاص طور پر ایک محفل آپ کے ساتھ یاددگار ہوئی جب حکیم محمد آصف نقشبندی نے مغلپورہ، لال پل پر ایک محفل سجائی جس میں نعت خوانوں کی بڑی معتبر شخصیات تھیں۔ وہاں مجھے نقابت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اعظم چشتی صاحب محفل کے شروع ہونے سے پہلے ہی موجود تھے ۔ میں نے آپ کی دست بوسی کی تو آپ کا جسم بہت گرم تھا حفیظ تائب کے حوالے سے ہونے والی اس محفل ِ نعت میں حضرت اعظم چشتی صاحب کو آخر میں نعت پڑھنے کے لیے بلایا جانا تھا لیکن بانی محفل کو اور مجھے فرمانے لگے کہ مجھے آج بخار ہے تلاوت کے بعد مجھے پڑھوا دیں تا کہ میں گھر جا کر آرام کر سکوں۔ ۔ محفل شروع ہوئی تو میں نے تلاوت کے بعد آپ کا اعلان کردیا۔ دوران نعت آپ کی ایسی کیفیت بن گئی کہ آنکھوں سے اشک جاری تھے۔ آپ چار پانچ گھنٹے مسلسل نعت پڑھتے رہے یہ مکین گنبد ِ خضراء سے عشق کی وابستگی کی لگن تھی جو اب محافل میں کم نظر آتی ہے۔"


رسم تاج پوشی

زبیر مجددی، نعت خواں نے QTV کے ایک پروگرام "نعت کائنات" میں اعظم چشتی کے روحانی فیض کا ایک واقعہ بیان کیا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے ۔

"یہ 1993 کی بات ہے کہ جب جناح ہال، لاہور میں آپ کی تاجپوشی کی گئی ۔ یہ میری حضرت سے پہلی اور آخری ملاقات تھی ۔میری نا سمجھی کی عمر کی تھی ۔ میں نہ سمجھ پایا کہ وہ نعت سناتے ہوئے اور لوگ ان سے نعت سنتے ہوئے کیوں رو رہے ہیں ۔ پھر کچھ سالوں بعد اپنے پیر صاحب کی موجودگی میں اعظم چشتی صاحب کے آہنگ میں ایک نعت مبارکہ سنائی تو پیر صاحب نے فرمایا اعظم چشتی تو بس ایک ہی تھا ۔ ان کی بات سن کر اعظم چشتی صاحب سے اکتساب فیض کا قصد کیا اور دو دوستوں کے ساتھ ان کے دربار شریف پر حاضری دی ۔ حاضری کے بعد میں نے دوستوں کو اپنی کیفیت بتائی کہ ہم اتنے شوق سے سیالکوٹ سے آئے ہیں ۔ جمعتہ المبارک کا با برکت دن ہے لیکن جس روحانی کیف کی توقع تھی وہ مفقود ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ صاحب مزار ، مزار میں موجود نہیں ۔

اس رات جب میں سویا تو خواب میں قبلہ حضرت اعظم چشتی تشریف لائے ۔ میں نے خواب میں بھی انہیں مزار شریف پر اپنی حاضری کی بے کیفی کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ خاموش رہو۔ میں انہیں کے پاس ہوتا ہوں جن کی نعتیں پڑھا کرتا تھا "

مشہور شاگرد

ثناء اللہ بٹ لاہور،عبدالجبار قادری، محمد اشرف چشتی لاہور، بدرالدین بدر گوجرہ، قاری سید صداقت علی لاہور، قاری خوشی محمداسلام آباد، سید الطاف الرحمٰن پاشا لاہور، محمد رفیق چشتی لاہور، کرم الٰہی نقشبندی لاہور، محمد یوسف چشتی گجرات، محمد یوسف چشتی فیصل آباد، محمد یونس چشتی گوجرہ، میاں غلام محمد لاہور، شیخ محمد بشیر لاہور، اصغر علی چشتی کنجاہ گجرات، اصغر علی چشتی لالہ موسیٰ، صفدر علی چشتی لاہور، لیاقت حسین گیلانی بوریوالہ، ارشاد چشتی پسر لاہور، جمشید چشتی پسر لاہور، شبیر گوندل لاہور، قاری محبوب سلیم گوجرانوالہ، تاج الدین اوکاڑوی، عبد الوحید چشتی، عبدالرشید ساننوالہ، شیخ غلام نبی، محمد سعید صابر، محمد الیاس زاہد، غلام محی الدین اور عبدالشکور قادری یہ وہ نام ہیں جنہوں نے پاکستان میں خوب شہر پائی۔ اس کے علاوہ سینکڑوں شاگرد پاکستان کے طول و عرض میں ہیں جو آپ کے فنِ نعت خوانی سے مُستفید ہوئے۔

اور بے شمار ایسے نعت خواں ہیں جنہوں نے ریڈیو پاکستان سے آپ کی نعتیں سُنیں اور اُسی انداز میں پڑھ پڑھ کر سیکھا اور نعت خوانی میں خوب مقام بنایا مثلاً حاجی دلدار علی جماعتی جھنگ، اسماعیل تبسم مظفر آباد، غلام مصطفیٰ تبسم مستانہ کوٹلی آزاد کشمیر نے دورانِ انٹرویو اس بات کا اظہار کیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ہر نعت خواں شعوری و لاشعوری طور پر اعظم چشتی کے فن نعت سے ضرور مستفید ہوا ۔

اعظم چشتی بہ طور نعت گو شاعر

صوفی غلام مصطفی تبسم

"نیر اعظم" کا تعارف ۔ صوفی غلام مصطفی تبسم "

بچپن میں نعت اعظم کے لبوں سے ابھری تھی۔ اس کی میٹھی آواز سننے والوں کو مسحور کر تی تھی۔ لیکن اس وقت بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ اس آواز میں اس کے لبوں کی حرکت ہی نہیں اس کے قلب کا ارتعاش بھی شامل ہے۔ اعظم کی نعت خوانی محض خوش بیانی و خوش الحانی نہیں تھی محبت کا جوش اور عقیدت کی فراوانی تھی۔ اعظم کو خوش نصیبی سے ایک خوشگوار گھریلو ماحول میسر آیا۔ اس کے والد مرحوم ایک عالم اور نیک نسب بزرگ تھے۔ انھوں نے بڑی شفقت سے بچے کی تربیت کی۔ مطالعہ کا شوق دلایا اور اس طرح سے اعظمؔ کی طبعی استعدادین بروئے کار آئیں۔ بزرگوں کی صحبت نے اس کے فطری جوہر کو اور بھی چمکایا اور اعظم ایک اچھا نعت نگار شاعر بن کر لوگوں کے سامنے آیا۔ شعر کے فنی پہلو کچھ بھی ہوں اس کی بنیاد جذبے پر ہوتی ہے۔ شعر محبت کی بات ہے اور جب اس محبت کی بات میں فکر کی رسائی بھی شامل ہو جائے تو ایک خوبصورت شعر جنم لیتا ہے۔ اعظم نے ایک حساس دل کے ساتھ، ذہن رسا بھی پایا ہے شعور کی پختگی نے ان دونوں صلاحیتوں کو جلا دی ہے اور اس کے کلام میں اثر انگیزی پیدا کی ہے۔ انسان بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن محبت جوان رہتی ہے۔ پھر ایسی ذات والا صفات کی محبت جس کی یاد دلوں کو تازگی بخشتی ہے۔ اعظم کو سرورِ کائنات کے ساتھ انتہائی عقیدت اور محبت ہے اور اسی جذبے سے اس کی نعت ابھرتی ہے۔ رسولِ پاکؐ کی یاد انسان کے دل میں پاکیزہ اشعار ابھرتے ہیں اور ہ ایک نازک اور کٹھن مرحلہ ہے۔ یہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر جذبات میں کھو جانا اور پھر حترام کے دامن کو تھامے رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے احترام کے ساتھ جذبات کی روک تھام ہی سے اچھی نعت وجود میں آتی ہے۔ اعظم کو قدرت نے یہی جوہر عطا کیا ہے۔ ان شعروں کو دیکھیے؛ سمجھا نہیں ہنوز مرا عشق بے ثبات تو کائنات حسن ہے یا حسن کائنات جو ذکر زندگی کے فسانے کی جان ہے وہ تیرا ذکر پاک ہے اے زینتِ حیات بزم حدوث میں ہے مقدم ترا وجود خالق کے بعد کیوں نہ مکرم ہو تیری ذات اب تک سجی ہوئی ہے ستاروں کی انجمن اس انتظار میں کہ پھر آئیں وہ ایک رات ارشادِ مارمیت سے ظاہر ہوا یہ راز ہے کبریا کا ہاتھ رسولِؐ خدا کا ہاتھ اعظمؔ میں ذکر شاہ زمن کیسے چھوڑ دوں میرے لیے تو ہے یہی سرمایہ حیات اعظم فارسی میں بھی شعر کہتا ہے۔ یہ فارسی کلام نعتیہ کلام تک محدود ہے اس میں اس نے زیادہ تر فارسی اساتذہ کا تتبع کیا ہے جن کا نعتیہ کلام فارسی ادب میں خاص مقام رکھتا ہے۔ مثلاً خواجہ فرید الدین عطار، خسرو اور جامی۔ فارسی زبان اتنی قریب ہونے کے باوجود ہمارے لیے ایک غیر زبان ہے۔ اس میں شعر کہنے کے لیے بڑی محنت اور دقتِ نظر درکار ہے۔ اعظم کے کلام میں صحتِ زبان اور حسنِ بیان دونوں پہلو پائے جاتے ہیں جو بڑی بات ہے۔ علاوہ برایں اعظم پنجابی میں بھی شعر کہتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ پنجابی اس کی اپنی زبان ہے بلکہ اس لیے کہ وہ پنجابی کے جلیل القدر شعرا کے کلام سے بے حد متاثر ہے۔ اب جس طرح فارسی اشعار میں اعظم کے کلام میں فارسیت کا رنگ ابھر آتا ہے اسی طرح پنجابی شعر کہتے وقت اس کا پنجابی مزاج نکھر آتا ہے۔ جب شاعر کا مزاج اور زبان دونوں ہم آہنگ ہوتے ہیں تو نتیجہ حسنِ شعر میں نمودار ہوتا ہے۔ پنجابی کا بیشتر حصہ نعت پر مشتمل ہے لیکن اعمے نے پنجابی گیت اور دوہے بھی کہے ہیں اور بڑے رکھ رکھاؤ سے کہے ہیں۔ یہ رکھ رکھاؤ صرف زبان و بیان ہی کا نہیں بلکہ سبھاؤ کا بھی ہے جو ہمیں نعت، گیت اور دوہے کے الگ الگ روپ میں بھی یکساں نظر آتا ہے۔ اعظم کا کلام قارئین کے سامنے ہے وہ خود اس بات کا اندازہ کر لیں گے کہ وہ کلام کیسا ہے۔ میں نے یہ چند الفاظ تنقید یا تحسین کی غرض سے نہیں کہے مجھے اس کے کلام کے ساتھ ساتھ اس کی ذات اور اس کی دوستی بھی عزیز ہے۔ مجھے اس سے پیار ہے اور مشفقانہ لگاؤ ہے۔ اسی پیار اور شفقت کا اثر ہے کہ شاعر کے عقیدت مند خود اعظم بھی مجھے اس بے تکلفی کے لیے معاف فرمائیں گے۔ اخیر میں میری یہ دعا ہے کہ اللہ اسے عمرِ دراز عطا فرمائے کہ اس کارِ صواب و ثواب کو جاری رکھے اور عشقِ رسولﷺ کا جذبہ عام کرتا رہے۔ مارچ 1970ء

مولانا کوثر نیازی

پیش گفت نیر اعظم نعت گو شاعر و مذہبی سکالر مولانا کوثر نیازی: نعت خواں اعظم،نعت خوانِ اعظم ہے،اتنا تو مجھے معلوم تھا مگر خبر نہ تھی کہ اس کی شخصیت بیک وقت ایک نعت گو شاعر،ادبیات ، ایک ممتاز عالم، ایک سچے مسلمان اور ایک اچھے انسان کے کمالات اور محاسن کی بھی جامع ہے۔ غالباً 1961ء کی بات ہے رنگ محل لاہور میں ایک جلسہ میلاد کا اہتمام تھا میری تقریر تھی اور اعظم چشتی کو نعت پڑھنی تھی۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ جس آواز پر میں برسوں سے سَر دُھن رہا تھا وہ میرے سامنے ایک سوزِ مجسم کے سینہ بے تاب سے نکل کر اہل محفل کے دل گرما رہی تھی۔ ایک خوش گلو،خوش خو اور خوش رُو انسان قیامت ڈھا گیا۔ میرے دل نے کہا کہ یہ شخص عام نعت خوانوں سے کتنا مختلف ہے، پیشہ ورانہ تو اسے چھو تک نہیں گیا۔جو بول اپنے منہ سے نکالتا ہے اس کے معنی و مطلب سے آگاہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اشعار اس کے حلق سے نہیں دل سے اُبل رہے ہیں۔ نعت پڑھتا ہے تو خود اس کا وجود اس کے کیف میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ اعظم چشتی سے یہ میری پہلی اور مختصر ملاقات تھی مگر اس نے دل پر ان مٹ نقوش ثبت کر دیے۔ جی چاہا کاش اسے بار بار سننے اور دیکھنے کے مواقع ملتے رہیں،خُدا کا شکر ہے کہ اس نے میری دعا سن لی ۔اس کے بعد اعظم کو بیسیوں مرتبہ سنا۔ سفر و حضر میں قریب سے دیکھا اور مجھے یہ کہتے ہوئے مسرت محسوس ہوتی ہےکہ اس کی عظمت کا احساس ہر بار پہلے سے گہرا ہوتا چلا گیا۔ اعظم چشتی کو مبدا فیاض سے نہایت اعلیٰ اور متنوع صلاحیتیں ہوئی ہیں۔ شرقیہ کا فاضل، مذہبیات کا عالم، موسیقی کا ماہر اور وسیع مطالعہ رکھنے والا ادیب اور شاعر ہے۔ وہ چاہے تو کسی بھی میدان میں اپنی عمتم کے پرچم گاڑ دیتا لیکن 'یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا' کے مصداق یہ اس کی سعادت بھی ہے اور قربانی بھی کہ اس نے اس مادیت کے دور میں اپنے لیے نعت گوئی کا میدان منتخب کیا اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اسی مقصد عزیز کے لیے وقف کر دیں۔ جس کا ثبوت اس کے ایک شعر سے یوں ہے کہ ؛ یوں تو ہر صنف سخن ہے ہوں شناسا لیکن نعتِ احمدؐ ہی مری زیست کا ساماں نکلا دنیا والے تو ہر بات کو نفع نقصان اور سود و زیاں کی ترازو میں تولنے کے عادی ہیں وہ تو اسے گھاٹے کا سودا ہی قرار دیں گے لیکن اعظم کو کبھی ایک لمحے کے لیے بھی اپنی خوش نبیو پہ شک نہیں ہوا۔ اسے اپنے مقدر پہ ناز ہے وہ پورے یقین اور اطمینان کےساتھ اعلان کرتا ہے کہ؛ اے خوشا بختِ او کہ ہست اعظمؔ از غلامانِ کم ترینِ حبیبؐ

اسے الٹا ان اہلِ قلم پہ ترس آتا ہے جو علم کا ذوق اور اس کی طلب رکھتے ہوئے بھی اس علم مجسمﷺ سے دور ہیں۔ کہتے ہیں؛

اعظمؔ مرے ہم عصر خدایانِ قلم میں کوئی نہ محمدؐ کا شناسا نظر آیا لوگ اسے دنیا داری کا فن سکھاتے زر اندوزی کے نسخے بتاتے، شہرت و قبولیت حاصل کرنے کے لیے روشِ عام پر چلنے کی نصیحت کرتے ہیں لیکن وہ پلٹ کر انھیں ایک ہی جواب دیتا ہے؛ اعظم میں ذکرِ شاہِ زمن کیسے چھوڑ دوں میرے لیے تو ہے یہی سرمایہ حیات اعظم چشتی کا یہ انتخاب بلا شبہ حسنِ انتخاب ہے اس نے جوا راہ اختیار کی ہے وہ انبیا و اصفیا اور صلحا و اولیا کی ہے۔ انسانیت کے اس بہترین قافلہ کی گرد بھی مل جائے تو دولتِ کونین سے بڑھ کر ہے لیکن اہلِ علم جانتے ہیں کہ یہ راہ جتنی حسین ہے اتنی ہی دشوار و نازک بھی ہے۔ دو چار نہیں اس میں کتنے ہی سخت مقام آتے ہیں۔ پل صراط کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے اس کا مشاہدہ تو آخرت میں جا کر ہو گا۔ نعت گوئی دنیا ہی میں اس کا نقشہ دکھا دیتی ہے۔ یوں تو جتنی بھی اصنافِ سخن ہیں سب اپنی جگہ مشکل اور اہم ہیں مگر جو نزاکت نعت گوئی میں ہے وہ کسی اور صنفِ شعر میں نہیں پائی جاتی۔ یہاں ایک طرف محبت کےتقاضے ہیں تو دوسری طرف شریعت کی حدود۔ جذبہ ایک طرف کھینچتا ہے تو علم دوسری جانب۔ عام محبوبوں کا معاملہ ہو تو قلم آزاد ہے جس طرح چاہے وارداتِ قلبی کا نقشہ کھینچ دے۔ مگر یہاں جس محبوب کی بات ہوتی ہے وہ محبوبِ خدا ہے۔ ایک ایک لفظ میزان میں تُل کے نکلنا چاہیے کہ کہیں سوء ادب نہ ہو جائے۔ لینے کےدینے نہ پڑ جائیں۔ جو بات ہو افراط و تفریط سے بچ کر ہو۔ ایک طرف یہ پابندیاں ہیں اور دوسری طرف شعریت کا مزاج اتنا حساس ہے کہ وہ ان حدوود و قیود سے فوراً آورد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اب محض علم کے بل بوتے پہ نعت کہو تو جذبے کی روح سے خالی ہو گی اور محض جذبے کی بنا پر شعر کہو تو اس پر نعت کا اطلاق نہ ہو گا۔ گویا نعت کیا ہے کار گہِ شیشہ گری ہے۔ ذرا سی ٹھیس لگی اورآبگینہ ٹوٹ گیا۔ آب و آتش کو یک جا کرنا پھر آسان سے مگر جذبہ اور علم کی آمیزش سے تز ل کے کامل شعور کو برقرار رکھتے ہوئے نعت کہنا کارے دارد۔ یوں کہنے کو ہر دور میں بے شمار لوگ اس سلسلہ میں طبع آزمائی بلکہ قسمت آزمائی کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں مگر ایسی ہستیاں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں جنھیں شاید قدرت نے روزِ ازل ہی سے اس سعادت کے لیے نامزد کر رکھا تھا اور میں پورے وثوق اور شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اعظم چشتی کا نام بھی انہی خوش نصیبوں کی فہرست میں شامل ہے۔ اعظم چشتی کی نعتوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں عشق بھی نظر آئے گا اور علم بھی، جذبےکی گہرائی بھی ہوگی اور فن کی گیرائی بھی۔ وہ اپنی نعتوں میں بے تکلف قرآنی آیات، دینی اصلارحات اور تصوف کے اشارات و کنایات استعمال کر جاتا ہے اور اس کے باوجود شعریت کی روح برقرار رہتی ہے ۔ وہ نعت کے لیے غزل کا پیرایہ استعمال کرتا ہے مگر شریعت کا مزاج برہم نہیں ہوتا۔ میں مثال کے طور پر یہاں صرف چند اشعار پیش کروں گا؛ انبیا جملہ عیمہ اندو محمدؐ اعظم ہمیں دین و ہمیں دنیا سودا ہمیں ایماں دارم جذبہ حسرتِ دیدار جو تڑپاتا ہے اپنی کوتاہ نگاہی کا خیال آتا ہے سمجھا نہیں ہنوز مرا عشقِ بے ثبات تو کائناتِ حسن ہے یا حسنِ کائنات مجموعہ کلام میں کچھ منقبتیں بھی ہیں کچھ مشہور فارسی نعتوں کا منظوم پنجابی ترجمہ بھی، حمد بھی ہے اور شاعر کا فارسی کلام بھی۔ اور یہ ساری چیزیں بجائے خود اس قابل ہیں کہ ان پر تفصیلی تبصرہ کیا جائے مگر میں یہ کام نقادانِ سخن پر چھوڑتا ہوں۔ یہ نہ میرا منصب ہے نہ مقام۔ میں تو صرف اس صاحبِ کمال کی پیش خوانی کا شرف حاصل کرنا چاہتا تھا جسے بارگاہِ مصطفیٰ ؐ حسّانِ پاکستان کا لقب ارزانی ہوا ہے۔ یکم ربیع الاول، 1389ء

احمد ندیم قاسمی

پیش کلام معراج نعت گو شاعر احمد ندیم قاسمی لاہور: میں نے اعظم چشتی کے اندازِ نعت خوانی سے محبت کی ہے۔ اس لیے ان کے انتقال کے بعد بھی مجھے مسجدیں اور سیرت کانفرنسیں ان کی خوبصورت آواز سے گونجتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ جب بھی کوئی نعت خواں ان کے لحن میں اور ان کے عقیدے بھرے لہجے میں نعت پڑھنے لگتا ہے، میرے تصور میں اس کا وجود کھل سا جاتا ہے اور اس کی جگہ اعظم چشتی نعت سرا ہوجاتے ہیں۔ میں اس کیفیت کو ان کے منفرد اسلوب ِنعت خوانی کا اعجاز سمجھتا ہوں اور میرے خیال میں میری طرح کے ہزاروں لاکھوں لوگ یہی محسوس کرتے ہوں گے۔ نعت خوانی کی طرح نعت گوئی پر بھی اعظم چشتی کو پوری دسترس حاصل تھی۔ وہ ایک وسیع المطالعہ شخص تھے اور فن کی باریکیوں پر حاوی تھے۔ وہ دراصل موسیقی اور شاعری کے سے فنون لطیفہ کی تجسیم تھے۔ انتہا درجے کے شعر شناس تھے۔ شعر کا کوئی نکتہ، کوئی رمز، کوئی اشارہ ان کی نظروں سے پوشیدہ نہ تھا۔ فارسی، اردو اور پنجابی کے اساتذہ فن کے اشعار کی تشریح اتنے عالمانہ انداز میں اور ساتھ ہی اتنے ذوق و شوق سے کرتے تھے کہ جی چاہتا تھا وہ بولتے چلے جائیں اور ہم سنتے چلے جائیں۔ ان کی نعت میں کلاسیکل غزل کی سی کیفیت ہے، ظاہر ہے ان کا مرکزِ محبت وعقیدت حضورِ سرورﷺ ہیں اس لیے غزل کی کیفیات میں جب ساتھ ہی عقیدت اور پرستش کے جذبات گھل جاتے ہیں تو ان کے ہاں دل پذیر معیار کا نعتیہ شعر تخلیق ہوتا ہے۔ خود ان کا ارشاد ہے: زبانِ نرت کو مل جائے گر نوائے غزل تو جوئے آب میں موجِ شرر نظر آئے جو سوز و گداز ان کی نعت خوانی میں تھا اور نعت خوانی کے دوران ان کے پورے وجود پر جو سپردگی اور سرخوشی چھا جاتی تھی وہی کیفیت ان کی نعت گوئی میں بھی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے انتقال کے بعد شائع ہونے والے مجموعہ نعت "معراج" کے صرف یہی اشعار دیکھ لیجیے؛ ترے ذکر و فکر میں دن ڈھلا، تری گفتگو میں سحر ہوئی بڑی باغ باغ گزر گئی، بڑی آبرو سے بسر ہوئی صبح پھوٹی تو ترے رخ کی ضیا یاد آئی چاند نکلا تو ترا نقشِ قدم یاد آیا کچھ انوکھے ہیں زمانے کے جہاں بانوں سے تیری شفقت کے محبت کے مروت کے اصول اور صرف ایک مصر عے میں اولادِ حضرت آدمؑ پر حضورؐ کی تعلیمات پاک اور اسوہ حسنہ کے ہمہ گیر اثرات کو اعظمؔ مرحوم نے کس سلیقے سے سمیٹا ہے؛ ہزاروں صدیوں کے بعد انسانیت کو آسودگی ملی ہے عشق و محبت کی بے انتہائی کےعالم میں اعظم کا سا حساس نعت گو بھی عالم اسلام کی مجموعی زبوں حالی کو دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ حضورﷺ کے ارشادات سے رُو گردانی کر کے خاص طور سے مسلمانوں اور عام طور سے انسانوں کو آج کس بھیانک صورت حال کا سامنا ہے۔ جس کی سرشت میں مہر و وفا ہو جس کے دل میں خوفِ خدا ہو میرے آقاؐ آج وہ انسان صرف کتابوں میں ملتا ہے نعت گوئی میں اعظم چشتی مرحوم کے کمالِ فن کی ایک مثال وہ قصیدہ ہے جس کا آغاز و انجام ان اشعار پر ہوتا ہے؛ میں سراپا خطا و فسق و فجور معصیت کوشیوں کے نشے میں چور عرصہ حشر ہو کہ باغِ ارم آپؐ کی مدح پر رہوں مامور یہ قصیدہ شاعر کی قادر الکلامی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ ہر سچے نعت گو کی طرح اعظم مرحوم کو بھی احساس ہے کہ حضور گرامیﷺ کی خدمتِ پاک میں اسے جس معیار کا نذرانہ عقیدت پیش کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کر سکا۔ جو کچھ کہا حضورؐ کے شایانِ شاں نہیں یہ عاجزانہ اعتراف ہر نعت گو کو سجتا ہے کہ پیغمبر عالی مقامؐ کی مدحت کما حقہ کون ادا کر سکا ہے اور کون کر سکے گا۔ نعت گو کا اصل سرمایہ تو اس کا عشق و عقیدت ہے، اس کا ایمان و ایقان اور سلیقہ مندانہ اظہار پر اس کی قدرت ہے اور ان امور کی کسوٹی پر اعظم چشتی مرحوم کی نعتیں کھری اترتی ہیں۔ ستمبر 1994ء

حفیظ تائب

پیشوائی معراج نعت گو شاعر حفیظ تائب لاہور: محمد اعظم چشتی نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک لحن وسخن کا جادو جگاتے رہے اور انہیں خواص وعوام کی محبوبیت کا شرف حاصل رہا۔ انہوں نے نعت خوانی ونعت گوئی پر بڑے گہرے اثرات مرتب کئے۔ چنانچہ اس وقت جتنے بڑے نعت خواں موجود ہیں انہوں نے یا تو براہِ راست محمد اعظیم چشتی سے استفادہ کیا ہے یا پھر بالواسطہ اور غیر شعوری طور پر ان تک حضرت اعظم چشتی کا فیض پہنچا ہے۔ نعت خوانی میں انھیں وہ عروج نصیب ہوا کہ ن کی نعت نگاری کی طرف اہل ادب نے کم کم دھیان دیا حالانکہ وہ اس میدان میں بھی رہنمایانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں محمد اعظم چشتی مزاجاً ذہنِ جدید کی نمائندگی کرتے رہے۔ حالانکہ مختلف علوم و فنون والسنہ میں دسترس حاصل کرنے کے اعتبار سے ان کا ذوق اسلاف سے ملتا تھا۔ 1937ء میں جب محمد اعظمؔ سید ہجوری ؒ کے قطب البلاد لاہور میں پہنچے تو ابھی جوانی کی سرحد میں داخل ہو ہی رہے تھے۔ وہ خوش طبع و خوش گلو بھی تھے اور خوب رُو بھی۔ چنانچہ آواز کا جادو جگاتے ہوئے جلد ہی زندہ دلان کی نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ جمعرات کی شب وہ داتا حضورؒکے دربارِ فیض بار میں نعت خوانی کرتے تو جمعۃ المبارک کے وقت مسجد وزیر خان میں نمازیوں کو جذب وشوق کا سامان مہیا کرتے۔ لاہور میں نعت خوانی کے لیے حکیم فضل الٰہی کے حلقہ تلمذ میں شامل ہوئے۔ لیکن اصل استاد ان کی طبیعت ثابت ہوئی اور جلد ہی وہ لاہور سے باہر دور دور تک نعت خوانی کے لیے جانے لگے۔ بعد ازاں وہ دوسرے بزرگوں کی اردو، پنجابی نعتوں کے ساتھ ساتھ اپنی کہی ہوئی اردو نعتیں بھی پڑھنے لگے۔ مشغلہ نعت گوئی و نعت خوانی کے ساتھ دینی و طبی علوم حاصل کرنے کا جذبہ بھی دل میں موجزن تھا۔ چنانچہ ابو الحسنات مولانا سید محمد احمد قادریؒ کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور درسِ نظامی اور طبِ اسلامی میں خاصی استعداد پیدا کر لی۔ اس سے قبل وہ اپنے والد بزرگوار سے فارسی ادبیات کی کئی اہم کتابیں پڑھ چکے تھے اور فارسی میں شعر بھی کہنے لگے تھے۔ وہ علم موسیقی سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے استاد برکت علی خاں سے بھی استفادہ کرتے رہے۔ ان کی اپنی کہی ہوئی نعتیں جلد ہی مقبول ہونے لگیں تو حافظ برکت علی قادریؒ نے مختصر سا مجموعہ بھی چھپوا دیا۔ "کلامِ اعظم" کے نام سے یہ مجموعہ کئی بار چھپا اور 1937ء ہی میں ان کے پیر خانے چکوڑی شریف کے خدام کی طرف سے بھی چھپوایا گیا۔ اسی اثنا میں انھوں نے فن کتابت میں بھی پوری طرح مہارت حاصل کر لی۔ 1940ء میں جب تحریک پاکستان چلی تو محمد اعظم چشتی، علما کرام، مشائخ عظام اور ملم1 لیگی لیڈروں کے ہمراہ ملک بھر کے دوروں میں شریک ہو کر شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ مسلمانوں کے دل نغماتِ نعت سے گرماتے رہے اور یوں انھوں نے قریہ عشق محمدﷺ پاکستان کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1944ء میں مجموعہ شاعری "غذائے روح" پہلی بار شائع ہوئی جس میں نعتوں کے علاوہ غزلیں بھی شامل تھیں۔ قیام پاکستان کے وقت ان کی بہت سی نعتیں شہروں اور دیہات میں یکساں گونج رہی تھیں۔ محمد اعظم چشتی کی طبیعت کا ایک خاص وصف یہ رہا کہ وہ عوامی مقبولیت سے کبھی مطمئن نہ ہوئے کیونکہ اردو، فارسی کلاسیکی شاعری کے مطالعے کی بدولت ان کا ذہن بلند سے بلند تر ہو رہا تھا۔ لہٰذا بہتر سے بہتر کہنے کی لگن بھی وقت کےساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ چنانچہ ان کے دوسرے مجموعہ شاعری "رنگ و بو" (جو پہلی بار 1953ء میں چاپ ) میں ایسے بہت سے اشعار موجود ہیں جو ادبی معیارات پر فائز تھے۔ اس دور کی ایک نعت سے ایک نمونہ؛ تمھارے آنے سے پہلے کیا تھی ہمارے صبح و مسا کی صورت نہ کوئی مونس نہ کوئی ساتھی پڑے تھے بس نقشِ پا کی صورت ان کے مخاطب عوام، عوام کی پسند، ان کا دامن کھینچتی رہی مگر وہ اپنی دھن میں آگے ہی آگے بڑھتے رہے۔ صوفی تبسم مرحوم اور فیض صاحب کی خصوصی صحبتوں اور حضرت احمد ندیم قاسمی کی محبتوں، شہزاد احمد اور دوسرے معاصر شعرا کی رفاقتوں نے انھیں اچھی ادبی فضا مہیا کی اور شعری معارف و جمالیات کی بھرپور آگاہی حاصل کر کےاپنے کلام کو مسلسل نکھارتے چلے گئے۔ یہ عاجز بھی ان کا شریکِ سفر رہا اور صوفی و فیض سے ان کے مراسم سے پہلے ہم لوگ سید عابد علی عابد، علامہ لطیف، انور اور قتیل شفائی سے بھی ملاقاتیں کرتے رہے۔ 1970ء میں "نیر اعظم"کی اشاعت تک ایک نہایت خوشگوار تبدیلی ان کے کلام میں رونما ہو چکی تھی۔ اور انفرادیت کے سفر میں آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ اس تبدیلی کا احساس ایک شعر میں یوں ظاہر ہوا ہے؛ نعت کا رنگ جو بدلا تو میں سمجھا اعظمؔ پہلے میں کہتا تھا اب کوئی کہلواتا ہے اس دور میں غزل کے ساتھ ساتھ انھوں نے قصیدہ کی روایت سے بھی بھرپور استفادہ کر کے نعت کو مزید آگے بڑھایا اور قرآن و سیرت کے مضامین کو نہایت خوبی سے نعتیہ قصائد میں سمویا۔ سینہء آئینہ الم نشرح دل خدا کی امانتوں کا مقام تھا یہ انشرح صدر کا راز اس سے لینا تھا آئینے کا کام ہاتھ مشکل کشائیوں کی کلید جس سے کھل جائے ہر درِ انعام ہیں ید اللہ فوق ایدیہم انھی ہاتھوں میں دو جہاں کی زمام خاک نعلینِ پاک وہ جس سے عرش کے بھی چمک اٹھیں در و بام اسی زمانے میں محمد اعظم چشتی نے پنجابی نعت کے سرمائے میں اضافے کی غرض سے مولانا جامیؒ کی کچھ فارسی نعتوں کو نہایت کامیابی سے پنجابی جامہ پہنایا۔ ساتھ ہی ساتھ پنجابی نعت کی متصوفانہ روایت کو دوہے لکھ کر آگے بڑھایا اور کتاب "اُنیندرے" 1974ء میں چھپ کر سامنے آئی۔ فنِ نعت میں ان کے عہد آفریں حےی کا قومی سطح پر اعتراف کیا گیا اور انھیں 1979ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دیا گیا۔ ان کی بے پناہ تخلیقی قوتوں اور صلاحیتوں کو اب بھی قرار نہ آیا بلکہ لگن اور تڑپ میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ گزشتہ تین دہائیوں میں بتدریج نعت گوئی کی نہایت سازگار فضا میسر آئی ہے اور اب کوئی شاعر ایسا نہیں جو نعت کہنے کی سعادت سے محروم ہو۔ بہت سے شعرا کرام مستقلاً نعت کی طرف توجہ مبذول رکھتے ہیں۔ تمام شعرا کی فکری کاوشوں اور تمام تر شعری تجربوں کے شمول سے نعت گوئی کے بہت سے نئے امکانات بھی سامنے آئے ہیں۔ نعت اب پوری زندگی کا احاطہ کرنے لگی ہے تخلیقی سطح پر ورفعنا لک ذکرک کی تصدیق ہو رہی ہے اور نعت نگاری کے اس ارتقائی عمل میں محمد اعظم چشتی بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ شامل رہے ہیں۔ 1970ء تک وہ نعت کے ساتھ ساتھ غزل بھی کہتے رہے لہٰذا ان کی ربع صدی کی غزل گوئی بھی ناقدین فن کی توجہ کی حقدار ہے۔ "نیر اعظم" کی اشاعت کے بعد انھوں نے تمام تر توجہ نعت نگاری ہی پر مرکوز کر دی اور اسی لیے وہ اس صنف کے جدید تر تقاضوں کا ساتھ دیتے ہوئے فن نعت گوئی میں رفیع و دقیع اضافے کرنے کے قابل ہوئے چنانچہ ان کا خالص مجموعہ نعت "معراج" حقیقتاً ان کے فن نعت نگاری کی معراج ہے۔ صوفیانہ و فلسفیانہ مضامین نے ان کی نعت کو ایک خاص قسم کی طرح داری عطا کی ہے؛ آنکھوں میں ڈھل جا دل میں اتر جا خالی پڑا ہے کب سے یہ منبر لاہوت کیا ہے جبروت کیا ہے ان کی گزر گاہ کا ایک منظر یہ آسماں کیا یہ لا مکاں کیا کیا کچھ نہیں ہے سینے کے اندر ایک قصیدے میں شاعری کے تمام تر امکانات سامنے لے آئے ہیں۔ اس قصیدے میں اعتراف عجزِ والا حصہ بہت فکر انگیز اور دل افروز ہے؛ میں کہ اک سازِ نے نفیر حیات ابرِ بے آب و سعی نا مشکور نہ کسی باغ کا گلِ خوش رنگ نہ کسی انجمن کی آنکھ کا نور بے عمل، بے شعور، ناکارہ بے کمالی میں دور تک مشہور میں کہ نا واقفِ سلوکِ ادب میں کہ بے گانہِ شرابِ شعور نہ رہ و رسمِ شاعری معلوم نہ زبان و ادب پہ مجھ کو عبور ان کے دل میں مسلسل پرورش پانے والی سید عالمؐ کی محبت وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہی گہری ہوتی گئی اور ان کا اعتبارِ فن بنتی گئی۔ حج و زیارت کی تمنا تمام عمر اُن کے سینے میں موجزن رہی لیکن پےی یہ کہہ کر دل کو تسلی دیتے رہے؛ کتنا محبوب ہے اعظمؔ انھیں رونا میرا ساری دنیا کو بلایا، نہ بلایا مجھ کو پھر جب حاضری، زیارت اور حضوری کا شرف پانے لگے تو ان کی کیفیات کو موضوع نعت بناتے ہوئے نہایت منفرد و ممتاز انداز اختیار کیا؛ کعبہ دیکھا تو تری بت شکنی یاد آئی خلد دیکھی تو ترا حسنِ حرم یاد آیا نعت کے رنگِ جدید کی نمائندگی کرتے ہوئے انھوں نے آشوبِ ذات، ، آشوبِ عصر اور آشوبِ کائنات کو بھی نعت میں جگہ دی ہے اور طلبِ رحمت بھی کی ہے۔ پھر اپنے وطنِ عزیز کے لیے دعاؤں سے بھی نعت کو مزین کیا ہے؛ ہیں مشرق و مغرب بھی تجسس میں سکوں کے درکار ہے سب کو ترے دامن کا سہارا تپتے ہوئے ماحول سے گھبرا کے یہ دنیا اب ڈھونڈ رہی ہے تری دیوار کا سایا بخشا ہے تو اب اس کی نگہداشت بھی فرما محبوب ہے ہر ذرہ مجھے اپنے وطن کا اعظم چشتی کو اپنے ممدوح کریمؐ پر ہمیشہ ناز رہا اور اسی ناز نے ان سے آخری دور میں کہلوایا؛ مرا کریم بھی کیا کریم ہے اعظمؔ کہ میرا عیب بھی جس کو ہنر نظر آئے مگر انھیں یہ بھی گہرا احساس رہا کہ حضور اکرمﷺ کی محبت کا اصل تقاضا آپؐ کا کامل اتباع ہے۔ چنانچہ وہ کس درد سے پکارتے ہیں؛ تجھ سے الفت بھی ہے احساسِ ندامت بھی ہے اپنا حق مجھ سے کوئی مانگ رہا ہو جیسے یہ احساس بہت غنیمت بلکہ مبارک بھی ہے اور گنہگاروں پر سعادتوں اور رحمتوں کے دروازے کھولتا ہے۔ دوسری طرف نعت اور اس پر ممدوح کریم کی رحمتِ بیکراں نعت کو آسودگی کی وہ فضا مہیا کرتی ہے جس کے بارے میں محمد اعظم چشتی نے کہا؛ اعظمؔ گزر رہی ہے کس آسودگی کے ساتھ سایہ ہے ان کا سر پہ مرے آسماں نہیں نومبر 1995ء

سال بہ سال

1932ء میں پہلی مرتبہ ختم پاک جو ہر جمعرات کو مزار گنج بخش پر منعقدہوتا تھا آپ کو اس موقعہ ایک بڑے کثیر التعداد سامعین کے روبرو نعت مبارکہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا تو سامعین نے خوب داد دی اور صدقے و واری گئے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب فیض ہجویری نے آپ کو ایک عظیم نعت خواں کی سند دی۔ یوں اعظم چشتی پاکستان کے طول و عرض میں مشہور و مقبول ہوئے۔ 1936ء آل انڈیا ریڈیو ، لاہور میں پہلی نعت پڑھی جس کے پروڈیوسر صابر بھٹی تھے۔ 1938ء میں میٹرک پاس کیا 1941ء کو آپ رشتۂ ازواج میں منسلک ہوئے، آپ کی شادی چچا زاد سے ہوئی۔ 1944ء پہلا نعتیہ مجموعہ "غذائے روح" شائع ہوا۔ 1947ء پاکستان کے قیام کے موقع پر ریڈیو پاکستان لاہور سنٹر پاکستانی کی تاریخ نعت خوانی کا آغاز ہوا اور پہلی نعت مبارکہ پڑھنے کا اعزاز آپ کو حاصل ہوا 1952ء میں بزم حسان کی بنیاد رکھی 1953ء میں نعتوں کا مجموعہ "رنگ و بو" شائع ہوا ۔ 1957ء سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کی طرف سے شاہ ایران رضا پہلوی کی دعوت پر ایک وفد کی صورت میں ایران گئے جہاں اپنے فارسی کلام سے اہل ایران کو خوب متاثر کیا۔ 1958ء سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کی طرف سے ایک وفد کی صورت میں اُس وقت کے بادشاہ ظاہرشاہ کی دعوت پر جشن کابل کے موقعہ پر افغانستان گئے ۔ اس وفد میں سیاسی و سماجی اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ۔ 1964ء پی ٹی وی کی پہلی نشریات کے موقعہ پر پہلی نعت مبارکہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1966ء بزم فروغ نعت و مناقب اور نیشنل بنک آف پاکستان کے تحت ہونے والے مقابلے میں اول انعام 1968ء کل پاکستان مقابلہ حسن نعت زیر اہتمام نیشنل بنک آف پاکستان پہلا انعام گولڈ ٹرافی حاصل کی جس پر خانہ کعبہ و گنبدِ خضرا کندہ تھا، اس محفل کی صدارت نیشنل بینک کے صدر سید دربار علی شاہ نے کی۔ 1970ء "نیر اعظم" نعتوں کا مجموعہ شائع ہوا۔ 1970ء پاکستان براڈ کاسٹنگ ادارہ نے آپ کو آپ کی بیش قیمت خدمات کے عوض آؤٹ سٹینڈنگ کیٹگری دی اور ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا۔ آپ پہلے نعت خواں تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ 1970ء کل پاکستان مقابلہ حسن نعت زیر اہتمام پاکستان نعت کونسل جس کے بانی و سرپرست جناب ادیب رائے پوری تھے، مقابلہ میں آپ کو اوّل پوزیشن حاصل کرنے پر گولڈ میڈل دیا گیا۔ 1970ء رحمت گرامو فون ہاوس نے آپ کی پہلی آڈیو کیسٹ ریلیز کی ۔ 1971ء وزیر اوقاف مولانا کوثر نیازی نے پرائم منسٹر ہاؤس اسلام آباد میں پہلی محفل نعت منعقد کروائی جس میں آپ نے اُس وقت کے وزیر اعظم اور دیگر مذہبی، علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے روبرو نعت مبارکہ پیش کی تو سب اعلیٰ شخصیات کو کہا کہ اب سب با ادب کھڑے ہو جائیں تاکہ بارگاہ رسالت مآبﷺ میں سلام پیش کیا جاسکے۔ 1974ء حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ کل دو حج اور بیشمار عمروں کی سعادت حاصل ہوئی۔ 1975ء حج و عمرہ اور روضہ رسول ﷺ کے اندر حاضری اور سلام پیش کرنے کا موقعہ ملا۔ آپ پہلے نعت خواں تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ 1979ء پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ملا۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے نعت خواں تھے جنہیں نعت خوانی پہ پرائڈ آف پرفارمنس ملا ۔ یوں نعت خوانوں کے لیے اس اعزاز کا اجراء ہوا۔ 1980 ء میں اُس وقت کے صدر نے ایک قافلہ بنایا جو سعودی عرب عمرہ کی سعادت کے لیے گیا تو اُس میں آپ کو بھی دعوت ملی، تو وہاں عمرے کے بعد بے شمار محافل میں شرکت کی۔ 1983ء میں پیر منور حسین جماعتی کے ہمراہ ایک وفد کے ساتھ پورے یورپ کے دورہ پر گئے جہاں محافل سجائیں اور فروغِ نعت و دین کا کام کیا۔ 1984ء نعت گوئی کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس میں شاعری پر بہت توجہ مرکوز کی، نعت گوئی کی کتاب "معراج " جو زیرِ طبع تھی کو مکمل کیا۔ 1984ء بیٹے جمشیدکے علاج کے لیے یو کے گئے، یہ ربیع الاوّل کا مہینہ تھا۔ نعت خوانی سے محبت تو دیکھیے کہ بیٹے کے علاج کے دوران ماہِ ربیع الاوّل کی محافل میں شرکت کرتے رہے اور یہاں تک کہ ربیع الاوّل کے جلوس کی قیادت بھی کی۔ کم وبیش 3 ماہ یو کے رہے بعد ازاں اللہ تعالیٰ کے کرم و فضل اور آپ سرکارﷺ کی نگاہِ رحمت کے تصدق آپ کا بیٹا جمشید صحت یاب ہوا۔ 1987ء جامعۂ حسّان کی بنیاد رکھی۔ شیخوپورہ روڈ، زاہد ٹاؤن پر رفاہِ عامہ کے لیے بابا نوری بوری کے قریب 11 کنال جگہ خریدی اور وہاں مدفون ہونے کی وصیت کی۔ 1993ء رحمت اللعالمینﷺ کانفرنس میں شرکت کے لیے انڈیا گئے ۔ 1993ء مارچ میں آخری عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی، شدید بیمار تھے سب اہل خانہ کے منع کرنے کے باوجود اصرار کرتے رہے کہ میری ایک حاضری باقی ہے۔ لاہور سے براہ راست مدینہ منورہ پہنچے تو بیٹے ارشاد چشتی نے استقبال کیا، حالت بہت خراب تھی سیدھا ہسپتال چلے گئے۔ 15 دن کا ویزا تھا سب اہل نعت یوں کہتے کہ دیکھیں، اعظم چشتی مدینہ آیا بھی اور حاضری نہ ہوئی، آخری رات بیٹے ارشاد چشتی سے کہا کہ مجھے روضۂ رسولﷺ پر لے چلو۔ ویل چیئر پر پہنچے تو دروازے بند تھے، بہت تکرار کے بعد ارشاد چشتی نے کہا کہ ابا کوتوال دروازہ نہیں کھولتا۔ آپ نے فرمایا کہ بیٹا اُسے میرےپاس بلاؤ۔ بہت منت سماجت کی تو وہ آ گیا۔ جب اعظم چشتی نے کہا میری طرف دیکھو میں اندر حاضری دینا چاہتا ہوں، کوتوال نے آپ کی طرف دیکھا؛ اللہ جانے کیا بات دل پر اثر کر گئی اور کہا کہ صرف ایک آپ ہی اندر جا سکتے ہیں۔ ارشاد چشتی کہتے ہیں؛ یہ سارا منظر دیکھ کر میں حیران ہوا کہ ایسا کیا کہا کہ آپ کو دیکھا اور اجازت مل گئی کیونکہ میں کئی سالوں سے مدینہ میں مقیم ہوں، کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ بہرحال ابا جی اندر گئے اور کئی گھنٹے حاضری دینے کے بعد واپس آ گئے۔ اس عمرہ کی سعادت کے بعد آپ نے مکمل گوشہ نشینی اختیار کر لی اور کچھ ماہ بعد وصل محبوب حق ہو گئے۔ 2012ء اعظم چشتی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گئی جس میں جامعہ حسّان، اعظم چشتی ہسپتال، اعظم نعت اکیڈمی و لائبریری اور ایک مدرسے پر کام ہو رہا ہے۔ جامعہ حسّان تقریباً تعمیر ہو چکی ہے۔ اس میں قریباً 150 بچے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اعظم چشتی کے کلاموں کی بازگشت

کلام اعظم کی بازگشت

سانوں کول بلا کے پج وے

یہ کلام بھی اعظم چشتی کے مجموعے "غذائے روح" میں شائع ہوا ۔ یعنی پاکستان بننے سے بھی قبل ۔ لیکن کسی معروف نعت خوان نے اسے نہ پڑھا ۔ اور صرف کچھ سال قبل مشہور نعت خواں "عبدالروف روفی" نے یہ کلام تو نہ پڑھا لیکن اسی کا آہنگ لیے ہوئے ایک اور کلام " سانوں کوجی ویکھ نہ چھڈ وے تساں بھلیا دے ہتھ لج وے " پڑھ کر خوب داد سمیٹی ۔

دونوں کلاموں کے شروع کا آہنگ ایک سا ہے ۔

سانوں کول بلا کے پج وے

سانوں کوجی ویکھ نہ چھڈ وے

اور پڑھی گئی نعت مبارکہ کا ٹیپ کا مصرع

تساں بھلیاں دے ہتھ لج وے

بھی اعظم چشتی کی نعت مبارکہ کے مصرعے "جہدے ہتھ اساڈی لج وے " ہی سے مستعار محسوس ہوتا ہے ۔ مجموعی موازنہ پیش خدمت ہے

سانوں کول بلا کے پج وے ۔۔۔۔۔۔ سانوں کوجی ویکھ نہ چھڈ وے

جہدے ہتھ اساڈی لج وے ۔۔۔۔۔ تساں بھلیاں دے ہتھ لج وے

تیری دید غریباں دا حج وے ۔۔۔۔ تیری دید اساڈا حج وے

تینوں دیکھ لواں رج رج وے ۔۔۔ تہاڈی دید کراں رج رج وے


فقط ایک دو الفاظ کی تبدیلی کی ساتھ تمام قافیے ایک ہی انداز میں برتے گئے ہیں ۔ کاش کے کہ روفی صاحب کسی طرح اصل نعت ہی کو پڑھتے تو ایک عظیم نعت گو کو خراج عقیدت پیش ہو جاتا ۔ دیکھیے ۔ یہ کار خیر کون کرتا ہے ۔

نئی نسل اور سوشل میڈیا پر آپ کی مقبولیت

زمانے کے ادوار بدل رہے ہیں ۔ کبھی آواز صرف رو برو ہی سنی جا سکتی تھی، دور دراز سے رابطے کا ذریعہ صرف خط تھا اور کتابیں کاغذ پر لکھی جاتی تھیں ۔ دنیا ترقی کرتی گئی اور ذرائع مواصلات ترقی کرتے ہوئے آج اس قدر جدید ہو چکے ہیں کہ ہر فرد کے کمپیوٹر اور موبائل میں آوازوں، تصویروں اور حرکی مناظر کی کئی دنیائیں آباد ہیں ۔ خط و کتابت ، ای میل اور ٹیکسٹ میسجز میں ،روبرو گفتگو ٹیلی فون کالزمیں اور ملاقات وڈیو کال میں بدل چکی ہے ۔ پہلے گاوں میں ایک چوپال ہوتی تھی جہاں بچے کھیلتے اور بڑے گپ شپ کیا کرتے تھے ۔ آج گلوبلائیزیشن کے اس دور میں اس چوپال کی جگہ فیس بک نے لے لی ہے ۔ محققین حوالہ جات کے لیے کتابوں اور مکاتب کا رخ کرتے تھے آج اس ضرورت کے لیے آن لائن ویب سائٹس، وکیپیڈیا اور یو ٹیوب جیسی سروسز سے رجوع کیا جاتا ہے ۔ تو اگر ہمیں اپنے "نعت ورثے" کو بچانا ہے اور اسے اگلی نسلوں تک منتقل کرنا ہے تو ان جدید چوپالوں، لائیبریوں اور انسائکلوپیڈیاز میں نعتیہ مواد کا اضافہ ناگزیر ہے ۔

ہم اس سیکشن میں اس حقیقت کا جائزہ لیں گے کہ سوشل میڈیا پر "محمد اعظم چشتی " کے بارے کتنی جانکاری موجود ہے ۔

فیس بک

نعت ورثہ ، اعظم چشتی کے ایک چاہنے والے "جبران" کا شکر گذار ہے کہ انہوں نے فیس بک پر اس عظیم نعت گو و نعت خواں کا ایک "صفحہ " تشکیل دے رکھا ۔ جبران ہی سے یہ معلوم ہوا کہ اعظم چشتی کی نئی نسل یعنی ان کے پوتے پوتیاں بھی ان کے اس "صفحے " کو بامقصد اور فعال رکھنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔ اعظم چشتی کا یہ فیس بک صفحہ ان کی یاد گار تصاویر اور چنیدہ اشعار کے خوبصورت ڈیزائنز کے ساتھ مزین کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ فعالیت کچھ زیادہ نہیں لیکن اس فیس بک پر اس صفحے کا ہونا بھی غنیمت ہے ۔

محمد اعظم چشتی کے اس صفحے کو 700 سے زیادہ احباب نے پسند کیا ہے ۔ 2013 سے لیکر اب تک قریبا 4 سالوں میں پسندیدگی کی یہ شرح کچھ بہت زیادہ نہیں ۔ اس کی ممکنہ وجہ نئی نسل کی اپنی روایتی نعت خوانی اور بزرگ نعت خوانوں سے ناشناسی بھی ہو سکتا ہے ۔


700 سے زیادہ لائیکس

https://www.facebook.com/MAzamChishti/

نعت خوانی میں مشہور کلام

اے موت ٹھہر جا میں مدینے

رنگ و بو

غیروں کی جفا یاد نہ اپنوں کی وفا یاد

یہ عشق ِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لبریز شاعر بہزاد لکھنوی کا کلام ہے۔ محمد اعظم چشتی نے اس کلام کو اپنی آواز کا پیرہن عطا کیا ۔ کلام ِ بہزاد ، آواز اعظم تو رنگ تو جمنا تھا ۔ سننے والوں نے سراہا ۔ اس سے بھی دل آویز پہلو یہ ہے کہ یہی کلام ایک محفل میں سید منظور الکونین نے محمد اعظم چشتی کی موجودگی میں پڑھا اور ایسا پڑھا کہ سماں بندھ گیا ۔ محمد اعظم چشتی بھی سید منظور الکونین کے ساتھ مل کر پڑھنے لگے اور کلام کے ختم ہونے پر اپنی باری پر محفل کے ختم ہونے کا اعلان کر کے سلام پڑھنا شروع کر دیا کہ منظور الکونین کی پر کیف حاضری کے بعد مزید نعت پڑھنا بے ذوقی ہوگی ۔ اللہ اللہ ۔ کیا شان ہے "ظرف ِ اعظم" کی ۔

عشق تیرا نہ اگر میرا مسیحا ہوتا

معراج

مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے

معراج

طیبہ سے منگائی جاتی ہے

غذائے روح

اج میرا ماہی عرشاں تے

حالیہ سالوں میں اس نعت مبارکہ کے "انترے" سے آہنگ لے کر ایک نعت مبارکہ میں ٹیپ کا جملہ "بس میرا ماہی صلی علی " بنایا گیا ۔ یہ نعت مبارکہ " شہباز قمر فریدی نے پڑھی جو بہت مقبول ہوئی


کتنا بڑا ہے مجھ پہ یہ احسان مصطفی

رنگ و بو




اج سک متراں دی ودھیری اے، کیوں دِلڑی اداس گھنیری اے

اج سک متراں دی ودھیری اے، کیوں دِلڑی اداس گھنیری اے لوں لوں وچ شوق چنگیری اے، اج نیناں لایاں کیوں جھڑیاں

اس صورت نوں میں جان آکھاں، جاناں کہ جان جہان آکھاں سچ آکھاں تے رب دی شان آکھاں، جس شان تو شاناں سب بنیاں

ایہہ صورت ہے بے صورت تھیں، بے صورت ظاہر صورت تھیں بے رنگ دسے اس مورت تھیں، وچ وحدت پھٹیاں جد گھڑیاں

دسے صورت راہ بے صورت دا، توبہ راہ کی عین حقیقت دا پر کم نہیں بے سوجھت دا، کوئی ورلیاں موتی لے تریاں

ایہا صورت شالا پیش نظر، رہے وقت نزع تے روز حشر وچ قبر تے پل تھیں جد ہوسی گذر، سب کھوٹیاں تھیں سن تد کھریاں


یعطیک ربک داس تساں، فترضی تھیں پوری آس اساں لج پال کریسی پاس اساں، واشفع تشفع صحیح پڑھیاں

لاہو مکھ تو مخطط برد یمن، من بھانوری جھلک دکھلاو سجن اوہا مٹھیاں گالیں الاو مٹھن، جو حمرا وادی سن کریاں

حجرے توں مسجد آو ڈھولن، نوری جھات دے کارن سارے سکن دو جگ اکھیاں راہ دا فرش کرن، سب انس و ملک حوراں پریاں

انہاں سکدیاں تے کرلاندیاں تے، لکھ واری صدقے جاندیاں تے انہاں بردیاں مفت وکاندیاں تے، شالا آون وت وی اوھ گھڑیاں

سبحان اللہ ما اجملک، ما احسنک ما اکملک کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا، گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں

                                              حضرت پیر مہر علی شاہؒ
خود کو دیکھا تو ترا جود و کرم یاد آیا

معراج

تجھ کو دیکھا تو مصور کا قلم یاد آیا صبح پھوٹی تو ترے رخ کی ضیاء یاد آئی چاند نکلا تو ترا نقشِ قدم یاد آیا کعبہ دیکھا تو تری بت شکنی یاد آئی خلد دیکھی تو ترا صحنِ حرم یاد آیا ہم نے اعدا کے مظالم کا گلہ چھوڑ دیا ذات پر تیری جو اپنوں کا ستم یاد آیا جب کبھی آنکھ اٹھی جانبِ خوبانِ جہاں مجھ کو بے ساختہ وہ حسنِ اتم یاد آیا دیکھ کر جھوٹے خداؤں کی سخا کا دستور مجھ کو سرکار کا اندازِ کرم یاد آیا روشنی پھیل گئی حدِ نظر تک اعظمؔ جب بھی وہ ماہِ عرب، مہرِ عجم یاد آیا

                     محمد اعظمؔ چشتی
ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے

ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے مِلتا نہیں کیا کیا دو جہاں کو ترے در سے اک لفظ نہیں ہے کہ ترے لب پہ نہیں ہے ہیں تیرے ہوا خواہوں میں مُرسل بھی نبی بھی کونین ترے زیرِ اثر، زیرِ نگیں ہے تو چاہے تو ہر شب ہو مثالِ شبِ اسرا تیرے لیے دو چار قدم عرشِ بریں ہے ہر اک کو میسّر کہاں اُس در کی غُلامی اُس درکا تو دربان بھی جبریلِ امیں ہے رُکتے ہیں یہیں آکے قدم اہلِ نظر کے اِس کُوچے سے آگے نہ زماں ہے نہ زمیں ہے اے شاہِ زمن اب تو زیارت کا شرف دے بے چین ہَیں آنکھیں مری بیتاب جبیں ہے دِل گریہ کُناں اور نظر سُوئے مدینہ اعظمؔ ترا اندازِ طلب کتنا حسیں ہے

                                 محمد اعظمؔ چشتی
سارے جگ توں نرالیاں دسدیاں نے عربی سرکار دیاں گلیاں

سارے جگ توں نرالیاں دسدیاں نے عربی سرکار دیاں گلیاں کوہ طُور تائیں شرمندہ کرن خالق دے یار دیاں گلیاں

اوہدے جلوے خاک نوں نور کرن ذرے ذرے نوں بھر پُور کرن بھلا جنت کد منظور کرن جنھاں ڈِٹھیاں یار دیاں گلیاں

پُچھ جبرائیل امین کولوں پُچھ مالکِ یوم الدین کولوں چنگیاں نے عرش بریں کولوں مدنی دلدار دیاں گلیاں

میری آس پُجا دے یا مولا سُتے لیکھ جگا دے یا مولا اک وار دکھا دے یا مولا سوہنی سرکار دیاں گلیاں

اعظمؔ کیہ سانوں دسنائیں، کیوں دل پیا ساڈا کھناںئیں سانوں کیہڑا کعبہ وسنائیں ساڈا کعبہ یار دیاں گلیاں محمد اعظمؔ چشتی




مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے

معراج

مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے یوں ادا کرتے ہیں عشاق محبت کی نماز سجدہ کعبے میں ہو اور دھیان مدینے میں رہے اللہ اللہ سر افروزئ صحرائے حجاز ساری مخلوق کا سلطان مدینے میں رہے ان کی شفقت غمِ کونین بھلا دیتی ہے جتنے دن آپ کا مہمان مدینے میں رہے یاد آتی ہے مجھے اہلِ مدینہ کی وہ بات زندہ رہنا ہے تو انسان مدینے میں رہے دُور رہ کر بھی اٹھاتا ہوں حضوری کے مزے میں یہاں اور مری جان مدینے میں رہے چھوڑ آیا ہوں دل و جان یہ کہہ کر اعظمؔ آ رہا ہوں مرا سامان مدینے میں رہے محمد اعظمؔ چشتی



دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو مجھ پُر خطا کی لاج تمہارے ہی ہاتھ ہے مجھ ننگِ دو جہاں کا وسیلہ تمہی تو ہو جو دستگیر ہے وہ تمہارا ہی ہاتھ ہے جو ڈوبنے نہ دے وہ سہارا تمہی تو ہو دنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو پھوٹا جو سینہء شبِ تارِ الست سے اس نورِ اولیں کا اجالا تمہی تو ہو جلتے ہیں جبرئیل کے پر جس مقام پر اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا سب غایتوں کی غایتِ اُولیٰ تمہی تو ہو

                                         محمد اعظمؔ چشتی


ابنِ یعقوبؑ کو اللہ نے صورت بخشی

ابنِ یعقوبؑ کو اللہ نے صورت بخشی یدِ بیضا کی کلیمؑ اللہ کو نعمت بخشی اور عیسیٰؑ کو مسیحائی کی دولت بخشی ہر نبیؑ کو کوئی عزت کوئی عظمت بخشی میری سرکارؐ کو بے پردہ زیارت بخشی اہلِ دنیا کو زر و مالِ سکندر بخشا اہل دیں کو درِ جنت، سرِ کوثر بخشا درد والوں کو خدا نے دلِ مضطر بخشا ہر طلب گار کو ہر قسم کا گوہر بخشا میرے آقاؐ کو دو عالم کی حکومت بخشی رونق اس باغ میں آئی تو انھیں کے دم سے بات آدمؑ کی بن آئی تو انھیں کے دم سے ہوئی یونسؑ کی رہائی تو انھیں کے دم سے اور اماں نوحؑ نے پائی تو انھیں کے دم سے حق نے سرکارِ دو عالمؐ کو وہ قدرت بخشی کوئی آ جائے طلب سے بھی سوا دیتے ہیں آئے بیمار تو ہر دکھ کی دوا دیتے ہیں گالیاں دیتا ہو کوئی تو دعا دیتے ہیں دشنی آ جائے تو چادر بھی بچھا دیتے ہیں اعظمؔ اللہ نے حضرتؐ کو وہ سیرت بخشی محمد اعظمؔ چشتی

کوئی تیں جیہا نظریں آوے تے ویکھاں

غذائے روح

کوئی تیں جیہا نظریں آوے تے ویکھاں کوئی دوسرا دل نوں بھاوے تے ویکھاں

کوئی سُورج اُلٹا پھراوے تے ویکھاں تے سڑیاں کھجوراں اُگاوے تے ویکھاں

جویں کول سرکار نوں ربّ بُلایا کسے ہور نوں وی بُلاوے تے ویکھاں

کوئی اوس لج پال سرکار وانگوں میں بدکار نوں سینے لاوے تے ویکھاں

یتیماں دا والی، غریباں دا حامی محمدؐ جیہا کوئی آوے تے ویکھاں

حسین ابنِ حیدر دے وانگوں جے اعظمؔ کوئی اپنے بچڑے کُہاوے تے ویکھاں

  محمد اعظمؔ چشتی
اے موت ٹھہر جائیں مدینے تے جا لَواں

رنگ و بو

اے موت ٹھہر جائیں مدینے تے جا لَواں سُتاّ ہوئیا نصیب تے اپنا جگا لَواں محبوب دا اوہ گُنبدِ خضرا تے دیکھ لاں سَرکار دی گلی دے نظارے تے پا لَواں لگےّ نے مصطفےٰ ؐ دے قدم جِس زمین تے اِک وار اوس خاک نوں سِینے تے لا لواں اک وار جا کے اوس دلاں دے طبیب نوں سینے دے سارے داغ تے اپنے دکھا لواں کہندے نے ہر غریب دی سُندا اے زاریاں میں وی تے اپنے غم دی کہانی سُنا لواں کِدھرے کوئی کریم نئیں اوھدے نال دا میں وی تے وچ گدانواں دے نانواں لکھا لواں جی بھر کے رو لواں درِ اقدس دے سامنے اکھّاں نوں گفتگو دا قرینہ سِکھا لواں میں وی تے چار موتی کراں اوس توں نثار پلکاں تے ہنجواں دے ستارے سجا لواں آوے جے فیر موت تے آوے ہزار وار اعظمؔ جے زندگی دی اے حسرت مِٹا لَواں

  محمد اعظمؔ چشتی
کدے ساڈے ول پھیرا پا کملی والے

یہ وہ نعت مبارکہ ہے جو سید منظور الکونین نے اپنے بچپن میں محمد اعظم چشتی کے سامنے پڑھ کر ان سے داد وصول کی تھی ۔ مکمل واقعہ "سنہری یادیں" میں درج ہے ۔

کدے ساڈے ول پھیرا پا کملی والے ۔ " کدے ساڈے ول پھیرا پا کملی والے غریباں دی قسمت جگا کملی والے! غریباں دی فریاد دکھیاں دے دکھڑے سنے کون تیرے سوا____ کملی والے ہوئی خشک آساں امیداں دی کھیتی وسا ابرِ رحمت____ وسا کملی والے دو عالم دے خالق تے مالک دی مرضی اوہو ہے جو تیری رضا___ کملی والے اساں پُر خطاواں نوں وی بخشوائیں تری مندا اے خدا______ کملی والے جیہڑا درد رومی تے جامی نوں ملیا اوہ سانوں وی کر دے عطا کملی والے

                         محمد اعظمؔ چشتی

نعت گوئی میں مشہور کلام

ﷺ سمجھا نہیں ہنُوز مرا عشقِ بے ثبات تُو کائناتِ حُسن ہے یا حُسنِ کائنات جو ذِکر زندگی کے فسانے کی جان ہے وہ تیرا ذکرِ پاک ہے اے زینتِ حیات اک خالقِ جہاں ہے تو اک مالکِ جہاں اک جانِ کائنات ہے اک وجہِ کائنات بزمِ حدُوث میں ہے مُقدّم ترا وُجود خالق کے بعد کیوں نہ مکّرم ہو تیری ذات اب تک سجی ہُوئی ہے ستاروں کی انجمن اس انتظار میں کہ پھر آئیں وہ ایک رات ارشادِ ماَ زَمَیت سے ظاہر ہُوا یہ راز ہے کبریا کا ہاتھ رسولِ خدا کا ہات اعظمؔ مَیں ذکرِ شاہِ زَمَن کیسے چھوڑ دوں میرے لیے تو ہے یہی سرمایہء حیات

                               محمد اعظمؔ چشتی






ﷺ کیوں عمر شرحِ زلفِ بتاں میں گنوائی جائے کُوئے نبیﷺ میں کیوں نہ یہ دولت لُٹائی جائے

آؤ! کہ پھر بسائیں دِلوں کی یہ بستیاں گھر گھر نبیﷺ کے ذکر کی محفل سجائی جائے

ذہنوں کی تیرگی کا مداوا اِسی میں ہے ہر دل میں شمعِ عشقِ محمدﷺ جلائی جائے

ہے ایسا غم گسار کوئی دو جہان میں جس کے حضور غم کی کہانی سنائی جائے

اعظمؔ گدائے کُوئے رسالت مآبؐ ہوں تربت بھی میری کیوں نہ مدینے بنائی جائے

                                  محمد اعظمؔ چشتی





ﷺ منم ادنیٰ ثنا خوانِ محمدؐ غلامے از غلامانِ محمدؐ محمدؐ ہست مہمانِ خداوند دو عالم ہست مہمانِ محمدؐ دو عالم روز و شب در گفتگویش ہمہ قرآن در شانِ محمدؐ ہمہ عالم گدائے کوچہ او! سکندر از گدایانِ محمدؐ تمامی انبیا و اولیاہم نمک خوردند از خوانِ محمدؐ گنہگارم سیہ کارم ولیکن، بدستم ہست دامانِ محمدؐ نہ تنہا ہست اعظمؔ نعت خوانش خدائے ما ثنا خوانِ محمدؐ

                  محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ اس خالقِ کونین کی مرضی بھی اُدھر ہے اے سیدِ ابرارؐ رضا تیری جدھر ہے جنت کی ضرورت ہے نہ حوروں کی طلب ہے کونین کے دولھا کی طرف میری نظر ہے جس گھر میں قدم رکھتے تھے جبریل بھی ڈر کر اے جان دو عالم وہ تمھارا ہی تو گھر ہے وہ ربِّ دو عالم ہے تو تُو رحمتِ عالم محشر کا خطر ہے نہ جہنم ہی کا ڈر ہے جس در سے کوئی شاہ و گدا خالی نہ لوٹا اے صاحبِ لولاکؐ تمھارا ہی وہ در ہے آیا نہ جہاں میں کوئی ہم سر ترا بن کر پہنچا نہ وہاں کوئی جہاں تیرا گذر ہے اعظمؔ کو بھی بلوائیے اے ساقیِ کوثرؐ سجدے کو تڑپتا ترے دیوانے کا سر ہے محمد اعظمؔ چشتی




ﷺ روشن ہے جس سے عالمِ امکاں تمھیں تو ہو ظاہر ہے جس سے صورتِ یزداں تمھیں تو ہو تم ہی ہو راز ہائے حقیقت کے راز دار توحید کی کتاب کے عنواں تمھیں تو ہو تیرے ہی دم سے گلشنِ ہستی میں ہے بہار ہر چیز کی حیات کےساماں تمھیں تو ہو خالق نے جس کو ساری خدائی میں چن لیا اے جانِ کائنات وہ انساں تمھیں تو ہو یہ مرتبہ کسی کو میسر نہ آ سکا خالق ہے آپ جس کا ثنا خواں تمھیں تو ہو اعظمؔ کا بھی فسانہ درد و الم سنو! ہر دردِ کائنات کے درماں تمھیں تو ہو محمد اعظمؔ چشتی




ﷺ طیبہ سے منگائی جاتی ہے سینے میں چھپائی جاتی ہے توحید کی مے ساغر سے نہیں آنکھوں سے پلائی جاتی ہے مسجد میں نہیں، مندر میں نہیں، مکتب میں نہیں، معبد میں نہیں سنتے ہیں کتابِ عشق ترے کوچے میں پڑھائی جاتی ہے ہم دل میں بٹھا کر اس بت کی ہر روز پرستش کرتے ہیں اللہ رے تصویرِ جاناں کعبے میں سجائی جاتی ہے اللہ کرے اس چوکھٹ تک اپنی بھی رسائی ہو جائے جس چوکھٹ پر دیوانوں کی تقدیر بنائی جاتی ہے اس ہجر کے جینے سے اعظمؔ مرنا ہی گوارا ہے مجھ کو سنتے ہیں لحد میں حضرت کی تصویر دکھائی جاتی ہے محمد اعظمؔ چشتی




ﷺ زیست وقفِ غم و آلام تھی جن سے پہلے آدمیت پہ جفا عام تھی جن سے پہلے آشنا حسن سے کوئی نہ پرستارِ وفا عاشقی جرم تھی الزام تھی جن سے پہلے نہ کوئی درد سے آگاہ نہ غم سے واقف بے خودی گوہرِ گم نام تھی جن سے پہلے نشہِ بادہِ وحدت سے کوئی چُور نہ تھا بزم آرا مئے گلفام تھی جن سے پہلے دولتِ امن سے محروم تھا دامانِ حیات زندگی ایک تہی جام تھی جن سے پہلے عشق بے چارہ تھا بے بہرہِ تسلیم و رضا عقل آوارہ و بدنام تھی جن سے پہلے للہ الحمد کہ رحمت کا سراپا بن کر آ گئے آپ ہر اک غم کا مداوا بن کر اعظمؔ اب جھوم کے لو سیدِ کونینؐ کا نام خود خدا بھیجتا ہے جن پہ درور اور سلام محمد اعظمؔ چشتی


ﷺ آ گئے آج زمانے میں زمانے والے روحِ خوابیدہِ ہستی کو جگانے والے زیست کی راہ سے کانٹوں کو ہٹانے والے تلخیاں عہدِ گزشتہ کی مٹانے والے مے کشوں کو مئے عرفان پلانے والے سرکشوں کو درِ خالق پہ جھکانے والے سینہء دہر سے دھو کر حسد و غم کا غبار بستیاں عشق و محبت کی بسانے والے جس کا کوئی نہ ہو غم خوار زمانے بھر میں ایسے نادار کو سینے سے لگانے والے غم کے مارے ہوئے مایوس خطا کاروں کو اپنے دامانِ شفاعت میں چھا نے والے اعظمؔ اک آن میں بدلا مری تقدیر کا رنگ آئے فطرت کو جو آئینہ دکھانے والے محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ عرشِ اعظم پہ گئے شاہِ زمن آج کی رات قابلِ دید ہے فطرت کی پھبن آج کی رات لے کے جردیلِ امیں حسن کا پیغام آئے دیکھ کر عشق کا بے ساختہ پن آج کی رات آج برسے گا دو عالم پہ کرم کا بادل دُور ہو جائیں گے امت کے محن آج کی رات اب وہ رستہ نہیں گردش نہیں رفتار نہیں اک نئے دور میں ہے چرخِ کہن آج کی رات کوئی دیوار تری راہ میں حائل نہ ہوئی کوئی منزل نظر آئی نہ کٹھن آج کی رات دوستو تذکرہِ زلفِ بہاراں نہ کرو آج کی رات ہے موضوعِ سخن آج کی رات سیر کیا، کون سی معراج، کہاں کی رفعت ہے رواں سوئے وطن، جانِ وطن آج کی رات یہ بھی ہے صاحبِ معراج کی مدحت کا صلہ مجھ کو حاصل ہوئی معراجِ سخن آج کی رات چمنِ دہر کا پتّا نہ ہلے گا اعظمؔ جب تک آ جائے نہ وہ جانِ چمن آج کی رات محمد اعظمؔ چشتی


ﷺ کتنا بڑا ہے مجھ پہ یہ احسانِ مصطفیٰﷺ کہتے ہیں لوگ مجھ کو ثنا خوانِ مصطفیٰﷺ جبریل سے مجھے بھی ہے نسبت قریب کی وہ بھی ہے اور میں بھی ہوں دربانِ مصطفیٰﷺ بخشش نثار ہونے کو آئی ہزار بار دیکھا جو مجھ پہ سایہِ دامانِ مصطفیٰﷺ دوزخ میں جائے گا نہ کوئی امتی مرا اللہ سے ہوا ہے یہ پیمانِ مصطفیٰﷺ اک ایک کر کے بند ہوئے سارے میکدے اس شان سے کھلا ہے خمستانِ مصطفیٰﷺ یا رب مجھے بیا دیدہِ حسّان کر عطا حاصل ہو اس گدا کو بھی عرفانِ مصطفیٰﷺ اعظمؔ کبھی مجھے بھی تو بلوائیں گے حضورﷺ اک دن بنوں گا میں بھی تو مہمانِ مصطفیٰﷺ محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ کوئی عالم نہ کوئی صاحبِ عرفاں نکلا ایک امّی ہی مگر صاحبِ قرآں نکلا شاہِ افلاک ترے ذکرِ مقدس کے بغیر نا مکمل مرا افسانہِ ایماں نکلا ہر نبی محرمِ اسرارِ الٰہی تھا مگر کوئی تجھ سا نہ خود آگاہ و خداداں نکلا خلد اور اس قدر آسودگی، اللہ اللہ سایہِ خلد ترا سایہِ داماں نکلا رک گیا تھا جو کبھی آنکھ سے گرتے گرتے آج وہ اشک علاجِ غمِ عصیاں نکلا یوں تو ہر صنفِ سخن سے ہوں شناسا لیکن ذکرِ احمدؐ ہی مری زیست کا ساماں نکلا یہ جہاں اور ہے وہ اور جہاں ہے اعظمؔ جس جہاں سے وہ مرا مہرِ درخشاں نکلا محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ عکسِ حق ہے رخِ مبینِ حبیب لوحِ محفوظ ہے جبینِ حبیب ہر قدم پر تجلیوں کا ہجوم لا مکاں ہے کہ سر زمینِ حبیب سائے کا بوجھ بھی اٹھا نہ سکی دیکھیے طبعِ نازنینِ حبیب سایہِ خلد سے بھی ٹھنڈا ہے سایہِ زلفِ عنبرینِ حبیب یا الٰہی مرے لیے بھی کُھلیں لبِ اعجاز آفرینِ حبیب اے خوشا بختِ او کہ ہست اعظمؔ از غلامانِ کم ترینِ حبیب محمد اعظمؔ چشتی




ﷺ ہے مظہرِ انوارِ خدا روئے محمدﷺ ہے سجدہ گہِ اہلِ وفا کوئے محمدﷺ ہے قبلہِ عشاق جبینِ شہِ لولاک ہے کعبہِ ایماں خمِ ابروئے محمدﷺ ہر سر کے مقدر میں کہاں دولتِ سجدہ ہر سجدے کی قسمت میں کہاں کوئے محمدﷺ ہر آنکھ نے دیکھا ہے کہاں وہ رخِ زیبا ہر دل کہاں وابستہِ گیسوئے محمدﷺ اے عشق یہاں کفر ہے بے باک نگاہی اے دل ذرا ہشیار، ہے یہ کوئے محمدﷺ محشر میں پیمبرؑ بھی شفاعت طلبی کو دوڑے ہوئے آئیں گے سبھی سوئے محمدﷺ چل پڑتا ہوں اعظمؔ دلِ مشتاق کو لے کر آتی ہے جدھر سے مجھے خوش بوئے محمدﷺ محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ اللہ اللہ مدینہ ترا بطحا تیرا خلد کی سمت نہ دیکھے کبھی شیدا تیرا جلوہِ حسن مشیت رخِ زیبا تیرا سروِ بُستانِ حقیقت قدِ بالا تیرا لوگ سمجھے ہیں کہ ہے دیس مدینہ تیرا در حقیقت ہے من اللہ ٹھکانا تیرا تیرا ثانی تو کہاں دہر میں اے ختمِ رسلؐ ہم نے دیکھا نہیں اب تک کہیں سایا تیرا تیری طاعت ہے حقیقت میں خدا کی طاعت وہی بندا ہے خدا کا جو ہے بندا تیرا تُو جدھر رخ کو گھما دے وہی کعبہ بن جائے کتنا محبوب ہے اللہ کو منشا تیرا میں گنہگار ہوں لیکن ترا کہلاتا ہوں مجھ کو لے دے کے سہارا ہے شاہا تیرا لوگ اعظمؔ کو پکاریں ترا عاشق کہہ کر اس کرم کے ابھی لائق کہاں بندا تیرا محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ بختِ خوابیدہ جگایا ہے ہمارا حق نے کیا بنایا تجھے عالم کا سہارا حق نے کون دیتا ہے کسی کو کوئی محبوب اپنا جانے کس طرح کِیا ہے یہ گوارا حق نے کیوں نہ بے مثل ہو، بے عیب ہو، بے پایاں ہو اپنے محبوب کو ہاتھوں سے سنوارا حق نے روئے محبوب حقیقت میں وہ آئینہ ہے اپنی ہستی کا کِیا جس میں نظارا حق نے مقتدا بعد میں آتا ہے امامت کے لیے بعد میں رکھا ہے یوں نام تمھارا حق نے کہیں شاہدِ کہیں طٰہِٰ کہیں یٰسین کہا یا محمدؐ کبھی کہہ کر نہ پکارا حق نے بھیج کر رحمتِ عالم کا سراپا اعظمؔ کر دیا زندہ دو عالم کو دوبارا حق نے محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ تُو فردوسِ نظر آرامِ جاں ہے سرُورِ خاطرِ آزردگاں ہے ہوائے لذتِ دیدار کیسی ابھی ہستی کا پردہ درمیاں ہے تری صورت سے پہچانا خدا کو ترا جلوہ نشانِ بے نشاں ہے مہ و خورشید سے تشبیہہ کیا دوں تمھاری ذات میں گم آسماں ہے بنا جو غازہِ روئے حقیقت غبارِ کوئے ختم المرسلاں ہے چلو تم سر کے بل اعظمؔ یہاں پر یہ محبوبِ خدا کا آستاں ہے محمد اعظمؔ چشتی





ﷺ دل میں کیا رکھا ہے اب الفتِ حضرت کے سوا اڑ گئے رنگ سبھی رنگِ حقیقت کے سوا حق کو دیکھا ہے خدائی نے جس آئینے میں کوئی لائے گا کہاں سے تری صورت کے سوا آستانِ شہِ لولاک سے آگے جا کر کچھ نہ پایا دلِ مشتاق نے حیرت کے سوا تُو سما جائے ان آنکھوں میں تو آنکھوں کی قسم کوئی صورت بھی نہ دیکھوں تیری صورت کے سوا ہیچ ہے دولتِ کونین نگاہوں میں مری کوئی مقصود نہیں تیری محبت کے سوا اعظمؔ اس بارگہِ شاہ میں کیا لے کے چلوں میرے دامن میں ہے کیا اشکِ ندامت کے سوا محمد اعظمؔ چشتی





ﷺ محبوبِ خاص حضرتِ یزداں محمدؐ است تسکینِ اضطرابِ دل و جاں محمدؐ است پیغمبراں نہ کرد تماش جز حجاب آں کس کہ ہر حجاب درید آں محمدؐ است ہر گوشہِ خیال معطر زیادِ او بُستاں محمدؐ است و بہاراں محمدؐ است در بزمِ کائنات بایں شانِ دلبری مقصودِ دو جہاں شہِ خوباں محمدؐ است اے حق پرست صاحبِ ایماں شدی ولے آگہ نئی کہ حاصلِ ایماں محمدؐ است عکسِ جمالِ خویش کہ صورت گرِ ازل در خلوتِ دراز کشید آں محمدؐ است ہر خشک و تر کہ ملکِ الٰہی ملکِ اوست اعظمؔ بہ حیرتم کہ چہ انساں محمدؐ است محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ نہاں تا بود در پردہ خا بود چو ظاہر شد محمد مصطفیٰ بود دو عالم بود نے ارض و سما بود بہر سو نورِ محبوبِ خدا بود محمدؐ بود، احمدؐ بود، حق بود نہ الّا بود و نے ایں حرفِ لا بود محمدؐ اوّل و آخر محمدؐ محمدؐ انتہا ہست ابتدا بود ز پیمانِ وفا برگشت جبریل ز اسرارِ جنوں نا آشنا بود خر امیدی در آں جائے کہ آں جا جہت بود و زماں بود نہ جا بود بہ لوحِ مشہدم یاراں رقم کرد کہ اعظمؔ بندہِ خیر الوریٰ بود محمد اعظمؔ چشتی



ﷺ سلام آئینہ حق نما سلام علیک فروغِ انجمنِ دو سرا سلام علیک انیسِ خستہ دلاں شافعِ گنہ گاراں جہانِ رحمت و لطف و عطا ساوم علیک ز فرق تا بقدم نور آفرید خدا ترا کہ ہست رخت والضحیٰ سلام علیک خدائے پاک کہ واللیل گفتہ در قرآں عبارت ات ز زلفِ دو تا سلام علیک چوں دیدِ تاج شفاعت نہادہ در محشر بحیرت اند ہمہ انبیا سلام علیک چوں حرف راز شنیدی عَلِمَت فرمودی چہ رمز ہاست ترابا خدا سلام علیک نگاہ کن کہ ثنا خوانِ آلِ تو اعظمؔ بر آستانِ تو آمد شہا سلام علیک محمد اعظمؔ چشتی



اعلیٰ حضرت بریلویؒ کے ایک طویل واقعے کا اختصار: بندہ مٹ جائے نہ آقا پہ وہ بندہ کیا ہے بے خبر ہو جو غلاموں سے وہ آقا کیا ہے مجھ کو پکڑیں جو قیامت میں فرشتے تو کہیں تُو نے دنیا میں عمل نیک کِیا، کیا کیا ہے میں یہ رو رو کے پکاروں مرے آقا آنا ورنہ اس درد بھرے دل کا ٹھکانا کیا ہے میں سیہ کار جو چلّاؤں تو غوغا سن کر لوگ آ جائیں کہ دیکھیں یہ تماشا کیا ہے جمگھٹا دیکھ کے مخلوق کا آ جائیں حضورؐ آ کے فرمائیں فرشتوں کو یہ جھگڑا کیا ہے یوں کریں عرض فرشتے کہ گنہگار ہے ایک ہم یہ کہتے ہیں اسے اب ترا منشا کیا ہے میں جو سرکار کو دیکھوں تو پکاروں واللہ ایسی سرکار کے ہوتے مجھے خطرہ کیا ہے سن کے فرمائیں محمدؐ مرے دیوانے کو چھوڑ دو چھوڑ دو اب اس پہ تقاضا کیا ہے اعظم اس رحمتِ عالم کی محبت دیکھو! جس کی الفت ہو اگر دل میں تو کھٹکا کیا ہے محمد اعظمؔ چشتی

حواشی و حوالہ جات: آپ کے برخوردار؛ ارشاد اعظم چشتی، جمشید اعظم چشتی، شاگرد منیر حسین ہاشمی ملتان اور قاری یونس قادری لاہور۔ "کلیاتِ اعظمؔ " کتاب "نعت اوج نمبر 2" آفتاب نقوی کتاب "حضور سرور" (سید منظور الکونین)، صفحہ 322 تا 323 کتاب "ثنائے رسولﷺ" از محمد علی ظہوری، صفحہ 232


ایکسٹرا

" جن لوگوں نے رنگ تغزل کو مسلمان کیا ہے ان میں محمد اعظم چشتی سر ِ فہرست ہے " منظور الکونین

‘‘اِس زمرہ میں ابھی کوئی صفحات یا وسیط موجود نہیں.’’