حفیظ تائب

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Naat kainaat hafeez taib.jpg

مرکزی صفحہ
اردو شاعری
احباب کی نظر میں

حفیظ تائب ایک عہدساز نعت گو تھے ۔آپ کا اصل نام عبدالحفیظ ہے اور تائؔب تخلص فرمایا کرتے تھے۔ 14 فروری 1931 کو اپنے ننھیال پشاور چھاونی میں آپ کی ولادت ہوئی ۔ احمد نگر ضلع گوجرانوالہ آپ کا آبائی شہر ہے ۔ آپ کے والد کا نام حاجی چراغ دین منہاس قادری ایک مشہور معلم اور امام و خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادیب بھی تھے ابتدائی تعلیم دلاور نگر [سکھیکی] میں ہوئی مڈل کی تعلیم احمد نگر کے سکول اور میٹرک زمیندار ہائی سکول گجرات سے کیا ۔ زمیندار کالج ، گجرات میں ایف ایس نان میڈیکل کے طالب علم ہوئے لیکن ریاضی میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اس خیر آباد کہا اور اپنے ذوق کے مطابق اردو اور پنجابی زبان کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے ایف اے اور بی اے کے امتحانات پرائیویٹ پاس کئے ۔ 1949 میں واپڈا میں سرکاری نوکری پر بھرتی ہوگئے ۔ اور دوارن ملازمت 1974 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم-اے پنجابی کیا اور 1976 سے 2003 تک مختلف اطوار سے شعبہ ِ پنجابی میں تدریسی فرائض سرانجام دئیے۔

آپ کی شاعری نے نعتیہ شاعری پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ پچپن ہی سے آپ کو نعت سے خصوصی لگاؤ تھا۔ آپ کے والد مسجد میں امام کے فرائض سر انجام دیتے تھے ۔ کبھی کبھار جمعہ کی نماز سے پہلے حفیظ تائب نعت سنایا کرتے تھے، اور کبھی ایسا ہوتا کہ وقت کی کمی کے باعث آپ کے والد آپ کو نعت پڑھنے نہ دیتے ۔ جب سب گھر لوٹتے تو حفیظ صاحب کی والدہ اپنے شوہر سے دریافت فرماتیں کہ کیا آپ نے آج حفیظ کو نعت نہ پڑھنے دی؟ تو والد مسکرا کر پوچھتے کہ کیا اس نے تم سے گلہ کیا؟ تو والدہ جواب دیتیں کہ اس نے تو گلہ نہیں کیا، لیکن جس روز وہ نعت پڑھ کر آتا ہے، اس روز اس کے چہر ے کا رنگ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔

شاعری کی ابتدا[ترمیم]

پی ٹی وی کو ایک انٹرویو[1] دیتے ہوئے حفیظ تائب نے فرمایا کہ وہ لڑکپن ہی میں علامہ اقبال کی شاعری سے بہت متاثر تھے ۔ اسی محبت میں انہوں نے 18 سال کی عمر میں جو پہلی نعتیہ رباعی [2] کہی وہ علامہ اقبال کی مرد مومن کے بارے کہی ہوئی ایک رباعی کی زمین میں تھی ۔ علامہ اقبال کی رباعی یہ ہے ۔

ترا جوہر ہے نوری پاک ہے تو

فروغ دیدۂ افلاک ہے تو

ترے صید زبوں افرشتہ و حور

کہ شاہین شہ لولاک ہے تو


حفیظ تائب نے مزید فرمایا کہ اس کے بعد بھی انہوں نے علامہ اقبال کی زمین میں جو بھی کلام کہا وہ اتفاق سے نعتیہ ہوا اور اس کے بعد علامہ اقبال کی غزلوں کی زمینوں میں نعتیں کہنے کی شعوری کوشش کی ۔


نعت گوئی میں کردار[ترمیم]

حفیظ تائب نے اپنے نعتیہ سفر کو ایک نعتیہ تحریک کی شکل دی اور بہت سے شعراء کو نعت گوئی کی طرف راغب کیا ۔ ان کی دعوت پر نعت کہنے والے بہت سے شعراء نے اپنے نعتیہ مجموعے بھی مکمل کئے جن میں احمد ندیم قاسمی کا نام سر فہرست رکھا جاتا ہے ۔


حفیظ تائب کی شاعری[ترمیم]

حفیظ تائب کے شاعری کے لئے نیا صفحہ تشکیل دیا گیا ہے

حفیظ تائب کی شاعری

کچھ اہم واقعات[ترمیم]

کینسر کی بیماری[ترمیم]

آفتاب اقبال اس واقعہ [3] کے راوی ہیں کہ جناب حفیظ تائب کو کینسر کا مرض لاحق ہوا تو وہ مختلف ڈاکٹروں سے علاج کراتے رہے پھر ڈاکٹروں نے انہیں کہا کہ فوری طور پر امریکہ جائیں اور وہاں سے آپریشن کروائیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے انہوں نے جو جمع پونجی ان کے ساتھ تھی اکٹھی کی اور تقریباً چھ لاکھ روپے لے کر امریکہ روانہ ہوگئے وہاں ڈاکٹروں نے ان کا مکمل معائنہ کیا اور بتایا کہ آپ کے آپریشن کی کامیابی اور ناکامی دونوں کے چانسز ہیں گویا آپریشن کے بعد آپ ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں اور خدانخواستہ آپ کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ جناب حفیظ تائب نے آفتاب اقبال کو بتایا کہ انہوں نے یہ سوچا کہ جتنی زندگی ہے وہ تو انشاءاللہ ضرور پوری کروں گا پھر میں جو جمع پونجی بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرسکتا ہوں اسے ایک ”بے مقصد آپریشن“ پر کیوں ضائع کردوں۔ انہوں نے آپریشن نہ کروانے کا فیصلہ کیا اور امریکہ سے سیدھے عمرے کے لیے سعودی عرب چلے گئے جہاں نمازوں کی پنجگانہ ادائیگی کے ساتھ ساتھ روضہء رسول کے پاس بیٹھ کر روتے رہنا ان کا معمول بن گیا۔ مسلسل دو تین دن کے عمل کے بعد ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا میں کئی روز سے آپ کو روضہء رسول کے پاس بیٹھے اور روتے ہوئے دیکھ رہا ہوں آپ رونے کے بجائے اپنا مدعا کیوں بیان نہیں کرتے۔ حفیظ تائب نے رونا بند کردیا اور اپنے پیارے رسول سے ”باتیں“ کرتے ہوئے اپنا مدعا بالکل ایسے انداز میں بیان کیا جیسے کسی انتہائی قریبی اور ہمدرد شخص کے سامنے بیان کیا جاتا ہے وہ باتیں کرتے ہوئے ایک اجنبی کیفیت میں کھو گئے اور جب انہیں ہوش آیا تو ان کے جسم اور کپڑے پسینے سے شرابور تھے اور وہ خود کو انتہائی تروتازہ محسوس کررہے تھے۔ وہ اٹھے اور اپنی رہائش گاہ چلے گئے اور اگلے روز کی فلائٹ سے وطن واپس پہنچ گئے یہاں انہوں نے اپنے ڈاکٹروں سے دوبارہ چیک اپ کروایا جنہوں نے تشخیص کی کہ آپ کے مرض میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے بلکہ اب صرف ایک نشان سا دکھائی دیتا ہے پھر ہم نے اور سب نے دیکھا کہ حفیظ تائب اس موذی مرض کے ساتھ بھی زندہ رہے اور خوشبوئے رسول نے ان کے دامن کو معطر کیے رکھا

مدینہ شریف میں نعت گوئی[ترمیم]

حفیط تائب عاشق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو تھے ہی تو مدینہ شریف حاضری رہتی تھِی ۔ قلب ِ گداز اور صحبت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نعت گوئی کو تحریک دی اور آپ نے وہاں بھی کچھ نعتیہ کلام کہے ۔ اور ادب کا یہ انداز اختیار کیا کہ ان نعتوں میں نہ کبھی مقطع کہا اور نہ کہیں تخلص استعمال کیا [4]

ماہ عرب کے آگے[ترمیم]

حفیظ تائب کی حافظ فقیر افضل سے گہری ارادت تھی ۔ ایک بار آپ نے ان کو اپنا کلام سنایا تو اس میں ان کا ایک مشہور شعر

ماہ عرب کے آگے تری بات کیا بنے

اے مہتاب روپ نے ہر شب بدل کے آ

بھی شامل تھا۔ حافظ فقیر افضل نے حفیظ تائب سے فرمایا کہ آپ محتاط شاعر ہیں تو شعر آپ کے مزاج کا نہیں لگتا ۔ اسے نکال دیں ۔ حفیظ تائب عموما حافظ فقیر افضل کی رائے قبول فرما لیتے تھے لیکن اس شعر پر آپ کا دل ان کی رائے سے مطمئن نہ ہوا ۔ اگلی دن صبح سویرے انہوں نے حافظ فقیر افضل کو اپنے دروازے پر پایا ۔ حافظ فقیر افضل نے حفیظ تائب سے کہا کہ نجانے میں نے رات اس شعر کے بارے آپ سے کیوں کہا کہ اسے نکال دیں ۔ رات بھر مجھے چین نہیں آیا کہ میں نے ایسا کیوں کہا ۔ وہ شعر قطعا نہ نکالیں ۔

قناعت پسندی کا ایک واقعہ[ترمیم]

حفیظ تائب کے بردار عزیز عبدالمجید منہاس فرماتے ہیں کہ ایک بار حفیظ تائب عمرے پر تشریف لا جارہے تھے ۔ ائیر پورٹ پر ان کو چھوڑنے گیا تو میری پاکٹ میں جتنے روپے تھے میں نے زاد راہ کے طور پر پیش کئے ۔ آپ جب عمرہ سے واپس آئے تو میری بیوی کو وہ ساری رقم اور ایک رقعہ دے گئے ۔ جس میں لکھا ہوا تھا کہ

"برادر عزیز ، آپ نے جس محبت سے یہ رقم مجھے دی تھی ۔ اس کا اجر آپ کو یقینا مل چکا ہوگا ۔ یہ رقم سفر سعادت میں میرے لئے باعثِ تقویت رہی لیکن خرچ نہ ہو سکی ۔ میں اپنے ایوارڈ کا کچھ حصہ بھی ساتھ لے گیا تھا ۔ لہذا نہایت خوشدلی سے یہ رقم واپس کر رہا ہوں ۔ اللہ کریم آپ کی توفیقات میں اضافہ کرے ۔ مجھے اگر کسی بھی وقت کوئی مالی دشواری پیش آئی تو آپ سے مالی امداد طلب کرنے میں ذرا بھر عار محسوس نہیں کروں گا۔ بہر حال آپ یہ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی مجھ پر ایسا وقت نہ لائے " [5]

حفیظ تائب پر لکھی گئی کتابیں[ترمیم]

حفیظ تائب پر مضامین[ترمیم]

تصانیف[ترمیم]

1۔ صلو علیہ و آلہ ۔۔ اردو مجموعہ نعت [آدم جی ادبی ایوارڈ ]

2۔ سک متراں دی ۔۔ پنجابی مجموعہ نعت [پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ ]

3۔وسلموا تسلیما پنجابی مجموعہ نعت [صدارتی ایوارد ]

4۔ وہی یسیں وہی طہ۔ 1998، اردو مجموعہ نعت ، وزیر اعظم ادبی ایوارڈ برائے نعت ، نیشنل لٹریری ایوارڈ

6۔ کوثریہ، 2003 اردو مجموعہ نعت،

7۔ اصحابی کالنجوم ، 2006

8۔ حاضریاں ، 2007، پنجابی سفر نامہ بمعہ تصاویر

9۔ حضوریاں ، 2007، حاضری کے نعتیہ کلام


اس کے علاوہ غزلیات اور تحقیق و تدوین پر چند کتابیں

ایوارڈز[ترمیم]

1۔ تمغہ حسن کارکردگی

2۔ نقوش ایوارڈ

3۔ آدم جی ایوارڈ

4۔ ہمدرد فاونڈیشن ایوارڈ

5۔ پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ

6۔ الحاج محد حسین گوہر ایوارڈ

7۔ اکیڈمی ایوارڈ برائے نعت گوئی

اور بے شمار دیگر ایوارڈ

وفات[ترمیم]

ممتاز نعت گو شاعر جناب حفیظ تائب 13 جون 2004ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے دنیا ایک سچے عاشق رسول سے محروم ہوگئی۔انہیں ان کے گھر کے قریب علامہ اقبال ٹاون کے قبرستان میں دفن کیا گیا اور نماز جنازہ میں بیشتر نامور ادیب شامل ہوئے ۔حفیظ تائب کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ رقت و محبت میں ڈوبی ہوئی ایک کیفیت کا نام تھا کہ جو لاکھوں کروڑوں کے ہجوم میں سے کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے ۔ [6]

سال بہ سال[ترمیم]

1931: پیدائش 14 فروری

1949: ملازمت محمکہ برقیات

1974: ایم اے پنجابی

1976: پارٹ ٹائم لیکچرار [پنجاب یونیورسٹی، اورئنٹیل کالج ]

1978: صلو علیہ و آلہ ۔۔ اردو مجموعہ نعت، سک متراں دی ۔۔ پنجابی مجموعہ نعت

1979: محکمہ برقیات سے ریٹائرمنٹ اور پنجابی لیکچرر شپ کا باقاعدہ آغاز

1988: کینسر کی بیماری کا شکار ہوئے

1990: وسلمموا تسلیما۔۔ پنجابی مجموعہ نعت

1991: حضرت حسان نعت ایوارڈ، نقوش ایوارڈ، لیکچرشپ سے ریٹائرمنٹ

1993: الحاج محمد حسین گوہر نعت ایوارڈ، جنگ ٹیلنٹ ایوارڈ برائے نعت گوئی

1994: اکیڈمی ایوارڈ برائے نعت گوئی، صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی، ہمدرد فاوئڈیشن ایوارڈ، نشان ِ حضرت حسان رضی اللہ تعالیِ عنہ

1995: نشان ِ امام بوصیری

1996: نشانِ مولانا جامی

1997: نشانِ احمد رضا

1998: نشان ِ اقبال ، وزیر اعظم ادبی ایوارڈ

1999: نشان ِ کعب

2000: نشان کفایت اللہ کافی

2001: نشان ِ یوسف بن اسماعیل نبہانی

2002: نشان ِ امیر مینائِ

2003: نشان ِ محسن کاکوروی ، کوثریہ اردو مجموعہ نعت

2004: وفات [13 جون ]

حفیظ تائب فاونڈیشن[ترمیم]

نومبر 2014 میں حفیظ تائب صاحب کے غیر مدون کلام کو ترتیب دینے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے محبان ِ حفیظ تائب نے حفیظ تائب فاونڈیشن کی بنیاد رکھی اور حفیظ تائب رحمتہ اللہ علیہ کے برادر عبدالحفیظ منہاس اس کے سرپرست اعلی ٹھہرے ۔ [7]


بیرونی روابط[ترمیم]

اے آر وائی ڈیجیٹل پر حفیظ تائب پر پروگرام :  :https://www.youtube.com/watch?v=a9fglqv2IuA


کلیات ِحفیظ تائب | | حفیظ تائب فاونڈیشن


مزید دیکھیے[ترمیم]

حفیظ تائب کی شاعری

امام احمد رضا خان بریلوی | حسن رضا خان بریلوی | کرامت علی شہیدی | مولانا الطاف حسین حالی | محسن کاکوروی | احمد ندیم قاسمی | صہبا اختر | مظفر وارثی | محشربدایونی | عرش صدیقی | نعیم صدیقی | ڈاکٹر وحید قریشی | شان الحق حقی | عبدالعزیز خالد | حفیظ تائب | حنیف اسعدی | حکیم سروسہانپوری | شبنم رومانی | اخترلکھنوی | شہزاد احمد | امجد اسلام امجد | خورشید رضوی| ثروت حسین | انورمسعود | ریاض مجید | ریاض حسین چودھری | ستیا پال آنند | پیرزادہ قاسم | احمد جاوید | افتخارعارف | خالد احمد | انور جمال | رشید قیصرانی | لالہ صحرائی | پرتوروھیلہ | نصیر ترابی | شوکت ہاشمی | گوھرملسیانی | سید انوار ظہوری | انجم نیازی | ملک زادہ جاوید | انورمحمود خالد | عزیز احسن | حنیف اخگرملیح آبادی | سلیم کوثر | سعود عثمانی | فراست رضوی | لیاقت علی عاصم | اظہر عنایتی | محمد فیروز شاہ | اشفاق انجم | صابر سنبھلی | رئیس احمد نعمانی | منیر سیفی | صفدر صدیق رضی | قمروارثی | نورین طلعت عروبہ | عقیل عباس جعفری | خورشید ربانی | اجمل سراج | عنبرین حسیب عنبر | عرش ہاشمی | شاکر القادری | آفتاب مضطر | کاشف عرفان | سرور حسین نقشبندی | سمعیہ ناز | صبیح رحمانی-

شراکتیں[ترمیم]

صارف: تیمورصدیقی | صارف: ارم نقوی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.hmongbuy.com/amdyanF2UjFVY3cz
  2. حفیظ تائب کی پہلی رباعی درکار ہے
  3. یوسف عالمگیری ، راولپنڈی بحوالہ اردو ویب
  4. http://www.hmongbuy.com/Q1EyaDdNbUFSbUkz
  5. عبدا لمجید منہاس ، برادر
  6. http://www.urduweb.org
  7. http://www.hafeeztaibfoundation.org