"تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا ۔ طاہر القادری" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(ایک متوسط نظرثانیایک ہی صارف کی جانب سے نہیں دکھائی گئی)
لکیر 9: لکیر 9:
  
  
تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
 
  
 +
تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
 
پھر کبھی تو تجھے ملا ہوتا
 
پھر کبھی تو تجھے ملا ہوتا
  
  
 
کاش میں سنگِ در تیرا ہوتا
 
کاش میں سنگِ در تیرا ہوتا
 
 
تیرے قدموں کو چوُمتا ہوتا
 
تیرے قدموں کو چوُمتا ہوتا
  
  
تو چلا کرتا مری پلکوں پر
+
تو چلا کرتا میری پلکوں پر
 
+
 
کاش میں تیرا راستہ ہوتا
 
کاش میں تیرا راستہ ہوتا
  
  
ذَرّہ ہوتا جو میری راہوں کا
+
ذَرّہ ہوتا میں تیری راہوں کا
 
+
 
تیرے تلووؔں کو چھو لیا ہوتا
 
تیرے تلووؔں کو چھو لیا ہوتا
  
 +
تیرے مسکن کے گرد شام وسحر
 +
بن کے منگتا میں پھر رہا ہوتا
  
لڑتا پھرتا تیرے عدووؔں سے
+
تو کبھی تو میری خبر لیتا
 +
تیرے کوچے میں گھر لیا ہوتا
  
تیری خاطر میں مرگیا ہوتا
+
تو جو آتا میرے جنازے پر
 +
تیرے ہوتے میں مر گیا ہوتا
  
 +
چھوڑ کر جنتیں پلٹ آتا
 +
تو میری قبر پر کھڑا ہوتا
  
تیرے مسکن کے گرد شام وسحر
+
لڑتا پھرتا تیرے اعداء سے
 +
تیری خاطر مر گیا ہوتا
 +
 
 +
ہوتا طاہر تیرے فقیروں میں
 +
تیری دہلیز پر کھڑا ہوتا

تـجدید بـمطابق 17:54, 10 نومبر 2019

شاعر: طاہر القادری


نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا پھر کبھی تو تجھے ملا ہوتا


کاش میں سنگِ در تیرا ہوتا تیرے قدموں کو چوُمتا ہوتا


تو چلا کرتا میری پلکوں پر کاش میں تیرا راستہ ہوتا


ذَرّہ ہوتا میں تیری راہوں کا تیرے تلووؔں کو چھو لیا ہوتا

تیرے مسکن کے گرد شام وسحر بن کے منگتا میں پھر رہا ہوتا

تو کبھی تو میری خبر لیتا تیرے کوچے میں گھر لیا ہوتا

تو جو آتا میرے جنازے پر تیرے ہوتے میں مر گیا ہوتا

چھوڑ کر جنتیں پلٹ آتا تو میری قبر پر کھڑا ہوتا

لڑتا پھرتا تیرے اعداء سے تیری خاطر مر گیا ہوتا

ہوتا طاہر تیرے فقیروں میں تیری دہلیز پر کھڑا ہوتا