تحدیث نعمت ۔ ریاض حسین چودھری

"نعت کائنات" سے
This is the latest revision of this page; it has no approved revision.
نظرثانی بتاریخ 10:29, 28 اکتوبر 2019 از 72.255.7.133 (تبادلۂ خیال)

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ریاض حسین چودھری کا مجموعہ کلام ’’تحدیثِ نعمت‘‘ ( 12؍ ربیع الاوّل 1437ء مطابق 24؍ دسمبر 2015ء) ’’مرادِ رسول (ﷺ) سیّدنا حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے نام‘‘ سے منسوب ہے۔ اس کتاب پر صرف ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کی رائے ’’مدحت نگارِ رسول کا ارمغانِ عجزو نیاز‘‘ کے عنوان سے موجود ہے جب کہ گزشتہ احباب کی مختصر آراء بھی فلیپ کی زینت ہیں۔ ڈاکٹر تنولی لکھتے ہیں: ’’ریاض حسین چودھری کی زندگی میں جہاں عشقِ رسول کی تپش ہے وہاں بارگاہِ رسالت کے ادب نے عجز کا رنگ بھی پیدا کردیا ہے۔ اطاعتِ نبوی کے جذبے نے شاعر کو جو اُجالا دیا وہ اس کے چہرے کا نور بن گیا۔‘‘ ایک خوبصورت شعر دینے کی روایت بھی اس کتاب میں موجود ہے۔ شاعرِ خوش نوا کا ہر لمحہ سرکارِ دو عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت سے مہکتا نظر آتا ہے۔امنِ عالم کے لیے جو حقیقی نصاب کی تلمیح آخری خطبہ سے منسوب کی ہے اس کا تو جواب ہی نہیں ہے۔ مجھ سے پوچھا تھا کسی نے امنِ عالم کا نصاب آخری خطبہ قلم سے خود بخود لکھا گیا شاعری کے نقطۂ آغاز سے پہلے ریاض حسین چودھری کا یہ شعر بھی دلوں کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ شاعر نے نعت کی قدامت کو عالمِ ارواح سے پیوست کیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک زندہ حقیقت ہے جس سے سرِمو انکار ممکن نہیں۔ یہاں قلم کا رقص مزہ دوبالا کر رہا ہے۔ عالمِ ارواح میں بھی رقص کرتا تھا قلم یہ وفورِ نعت میری روح کے اندر کا ہے۔ [1]

ریاض چوہدری کے مزید حمدیہ و نعتیہ مجموعے

حوالہ جات

  1. تحدیث نعمت (2015)