"تبادلۂ خیال:مناقب حسین بن علی" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
لکیر 111: لکیر 111:
 
اک طرف فسق یزیدی اک طرف صبر حسین
 
اک طرف فسق یزیدی اک طرف صبر حسین
 
دونوں اطرافی مثال انتہا تک آ گئے
 
دونوں اطرافی مثال انتہا تک آ گئے
 +
 +
 +
 +
منقبت در شانِ حضور سید الشہداء ،  راکبِ دوشِ مصطفىٰ امام عالی مقام امام حسین  رضی اللہ عنہ
 +
 +
سرکار کی ہیں جان جگر گوشہء بتول
 +
مولیٰ علی کی شان جگر گوشہء بتول
 +
 +
 +
رحمت کے سائبان جگر گوشہء بتول
 +
ہیں سب پہ مہربان جگر گوشہ ء بتول
 +
 +
 +
اسلام کے اساس کو قربانی سے تری
 +
حاصل ہے عز و شان  جگر گوشہء بتول
 +
 +
 +
میدان کربلا سے یہی آتی ہے صدا
 +
حق کے ہیں پاسبان جگر گوشہء بتول
 +
 +
 +
خونِ جگر کی تیرے سنچائی سے دین کا
 +
تازہ ہے بوستان جگر گوشہء بتول
 +
 +
 +
آل ِ نبی کے غم میں سناتی ہے چشم تر
 +
کربل کی داستان جگر گوشہء بتول
 +
 +
 +
خم  کرکے خود کو ہوتے ہیں سب سرخرو جہاں
 +
عظمت کا وہ نشان جگر گوشۂ بتول
 +
 +
 +
ناموس دين كے ليے قربان آج بهى
 +
ہے تیرا خاندان جگر گوشہء بتول
 +
 +
 +
"فردوس" کو سلیقہ ملے تیری مدح کا
 +
اے رب کے مدح خوان جگر  گوشہء بتول
 +
 +
از۔  فردوس فاطمہ اشرفی بھاگلپوری الہند

تـجدید بـمطابق 06:24, 9 ستمبر 2019

اوپر ترمیم کا بٹن دبائیں اور اپنا نام، شہر اور کلام سب سے نیچے پیش کر کے ڈاکومنٹ کو محفوظ کر دیں درج ذیل باتوں کا خیال رکھیے

  • ہر دو مصرعوں میں ایک بار انٹر دبا کر فاصلہ دیں
  • ہر شعر کے بعد دو بار انٹر دبا کر دگنا فاصلہ دیں

اپنا کلام اس سطر کے نیچے پیش کریں


صفدر جعفری، لاہور

سرورِ قلبِ پَیمبر حسینؑ زندہ باد

"خدا کے دین کا محور حسینؑ زندہ باد"


ہمارے ذکر کا محتاج تو نہیں ہے حسین

کہ خود نبی کے ہے لب پر حسین زندہ باد


کسی یزید کا ڈر ہے نہ خوف مرنے کا

مرا ازل سے ہے رہبر حسینؑ زندہ باد


صدا یہ آج بھی آتی ہے صحنِ مقتل سے

مرا نہیں ہوں میں مر کر حسینؑ زندہ باد


بڑے فخر سے ملائک بھی جس کے در پہ جھکیں

اسی کا میں بھی ہوں نوکر حسینؑ زندہ باد


مرے خمیر میں شامل ہے خاک مقتل کی

مرے لہو کے ہے اندر حسینؑ زندہ باد


علیؑ کے جیسا ہو جیون تو موت شبیرؑی

دعا ہے بس یہی صفدرؔ حسینؑ زندہ باد


صفدر جعفری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


محمد خالد ، بشکریہ انحراف

راہ جو بھی لیں ہمیں وہ کربلا لے جائے گی اپنی منزل پر مدینے کی ہوا لے جائے گی یہ تری دریا دلی ہے موجۂ حُسنِ عطا جو مرے دل کی پریشانی بہا لے جائے گی دُھوپ میں سایہ بنے گی، تا سرِ محشر ہمیں چادرِ زینبؑ، سکینہؑ کی ردا لے جائے گی گو دئیے کی لو بجھا ڈالی ہے میرے شاہؑ نے پر غلاموں کو کہاں در سے وفا لے جائے گی ہم کہ وابستہ رہے ہیں جاودانی نور سے موت ہے کیا اور کیا ہم سے بھلا لے جائے گی ! ساکنانِ خلد کو حسرت رہے گی تا ابد کیا شرف یہ سر زمینِ نینوا لے جائے گی ! کیوں بنا انسان کا دل سجدہ گاہِ عرشیاں ؟ بات چل نکلی تو سُوئے کربلا لے جائے گی ! دشت کو مہکار کر ڈالا ہے کس گل رنگ نے بھر کے دامن میں جسے بادِ صبا لے جائے گی بر سرِ منبر نہیں ہے وہ سرِ نیزہ بھی ہے کائناتِ عشق میں جس کی نوا لے جائے گی اے مرے شاہِ شہیداںؑ، اے اماموں کے امامؑ دین تیرے گھر کی ہے ، خلق ِ خدا لے جائے گی ! کچھ نہیں پلّے مرے تیری حضوری کے لئے بس یہی حمد و ثنا آہِ رسا لے جائے گی !



Sanwerj Hashmi Sanwerj Hashmi نم آنکھوں سے ظاہر محبت حقیقتت محبت سے بڑھ کر مئو د ت حقیقت وہ شب اور وہ کا رو اں ز ند گی کا و ہ د ھو کا د ہی اور وہ جرآت حقیقتت ر سو ل۔خدا کے گھر ا نے سے ملتی ر سو ل ۔ خد ا کی ا طا عت حقیقت و ہ آل۔ محمد (ص) کی قر با نیا ں تھیں برا ہیم (علیہ السلام) کے خو ا ب و سنت حقیقت ز ر و مال کیا!جا ن دی راہ۔ حق میں شہا د ت حقیقت اما مت حقیقت یقین ا ہے گا حشر میں مو منو ں کو یقیناً یقیں کی ہے د و لت حقیقت خد ا ان کے سائے میں ہم سب کو رکھے و ہ ساعت بنے جب شفا عت حقیقت



Farhat Zehra سلام بحضور امام عالی مقام نفس کے مختار تھے راہ خدا تک آ گئے حق کو جو پہچان پاۓ کربلا تک آ گئے آسمان رویا زمیں تڑپی ہوا رکنے لگی شمر تیرے ہاتھ آل مصطفی تک آ گئے استغاثے کی صدا نے کر دیا بے چین تو خیمہء اقدس سے اصغر حرملہ تک آ گئے منزلیں دشوار تھیں پر قافلہ بنتا گیا راہ حق کے سب مسافر راہ نما تک آ گئے شور تھا کہ لوٹ لو آل عبا کی چادریں اشقیاء کے حوصلے دیکھو کہاں تک آ گئے اک طرف فسق یزیدی اک طرف صبر حسین دونوں اطرافی مثال انتہا تک آ گئے


منقبت در شانِ حضور سید الشہداء ، راکبِ دوشِ مصطفىٰ امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ

سرکار کی ہیں جان جگر گوشہء بتول مولیٰ علی کی شان جگر گوشہء بتول


رحمت کے سائبان جگر گوشہء بتول ہیں سب پہ مہربان جگر گوشہ ء بتول


اسلام کے اساس کو قربانی سے تری حاصل ہے عز و شان جگر گوشہء بتول


میدان کربلا سے یہی آتی ہے صدا حق کے ہیں پاسبان جگر گوشہء بتول


خونِ جگر کی تیرے سنچائی سے دین کا تازہ ہے بوستان جگر گوشہء بتول


آل ِ نبی کے غم میں سناتی ہے چشم تر کربل کی داستان جگر گوشہء بتول


خم کرکے خود کو ہوتے ہیں سب سرخرو جہاں عظمت کا وہ نشان جگر گوشۂ بتول


ناموس دين كے ليے قربان آج بهى ہے تیرا خاندان جگر گوشہء بتول


"فردوس" کو سلیقہ ملے تیری مدح کا اے رب کے مدح خوان جگر گوشہء بتول

از۔ فردوس فاطمہ اشرفی بھاگلپوری الہند