بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ ۔ امیر مینائی

"نعت کائنات" سے
نظرثانی بتاریخ 17:36, 4 ستمبر 2017 از Admin (تبادلۂ خیال | شراکت)$7

(فرق) ←پرانی تدوین | Approved revision (فرق) | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ

زنجیر اسی در کی ہے گیسوئے محمدﷺ


قوسین ہیں تفسیر دو ابروئے محمدﷺ

کونین تہ ظل دو گیسوئے محمدﷺ


منظور نظر اس کیے ہے سیر گلستاں

شاید کہ کسی پھول میں ہو بوئے محمدﷺ


امت میں جو مشہور ہے منشور شفاعت

گیسوئے محمدﷺ ہے وہ گیسوئے محمدﷺ


کس طرح زبردست نہ ہو دست ید محمدﷺ

بازو میں جو ہو قوت بازوئے محمدﷺ


سبطین محمدﷺ تھے اگر مصحف ناطق

قرآن کی تھی رحل دو زانوئے محمدﷺ


حاصل یہ کبھی عرش کو ہوتی نہ بلندی

ہوتا نہ اگر تکیہ پہلوئے محمدﷺ


چار آنکھیں کرے شیر فلک مجھ سے ہے کیا جا

سب جانتے ہیں میں ہوں سگ کوئے محمدﷺ


صحبت کو ہے تاثیر امیر اس میں نہیں شک

اصحاب میں کس طرح نہ ہو خوئے محمدﷺ

مزید دیکھیے[ترمیم]

امیر مینائی