بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ ۔ امیر مینائی

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 11:53، 20 جون 2017ء از 39.55.22.243 (تبادلۂ خیال) (نیا صفحہ: {{بسم اللہ}} ==== نعت رسول اللہ صل اعلی علیہ و سلم ==== بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ زنجیر اسی در ک...)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search


نعت رسول اللہ صل اعلی علیہ و سلم

بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ

زنجیر اسی در کی ہے گیسوئے محمدﷺ


قوسین ہیں تفسیر دوا بروئے محمدﷺ

کونین تہ ظل دو گیسوئے محمدﷺ


منظور نظر اس کیے ہے سیر گلستاں

شاید کہ کسی پھول میں ہو بوئے محمدﷺ


امت میں جو مشہور ہے منشور شفاعت

گیسوئے محمدﷺ ہے وہ گیسوئے محمدﷺ


کس طرح زبردست نہ ہو دست ید محمدﷺ

بازو میں جو ہو قوت بازوئے محمدﷺ


سبطین محمدﷺ تھے اگر مصحف ناطق

قرآن کی تھی رحل دو زانوئے محمدﷺ


حاصل یہ کبھی عرش کو ہوتی نہ بلندی

ہوتا نہ اگر تکیہ پہلوئے محمدﷺ


چار آنکھیں کرے شیر فلک مجھ سے ہے کیا جا

سب جانتے ہیں میں ہوں سگ کوئے محمدﷺ


صحبت کو ہے تاثیر امیر اس میں نہیں شک

اصحاب میں کس طرح نہ ہو خوئے محمدﷺ

مزید دیکھیے

امیر مینائی