"امیر مینائی" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(حواشی و حوالہ جات)
(نمونہ کلام)
(13 intermediate revisions by 3 users not shown)
لکیر 1: لکیر 1:
[[ملف:Naat Kainaat Ameer Meenai.jpg|x300px|link=امیر مینائی]]
 
 
 
{{بسم اللہ }}
 
{{بسم اللہ }}
 
+
[[ملف:Naat Kainaat Ameer Meenai.jpg|200px]]
  
 
امیر مینائی اردو ادب کے نامور استاد شاعر اور نعت گو تھے ۔
 
امیر مینائی اردو ادب کے نامور استاد شاعر اور نعت گو تھے ۔
لکیر 32: لکیر 30:
 
بہار ہند | گوہر انتخاب | سرمۂ بصیرت | صنم خانہ عشق </ref> لاھور،مطبع کریمی، 1353 ھ ،358 ص </ref>  | جوہر انتخاب | مرأۃ الغیب <ref> دیوان اول ،کراچی،ایوانِ امیر مینائی،2005ء ،431 ص </ref>  | مجموعۂ واسوخت | نور تجلی | ابر کرم <ref> (س ن - 53 صفحات) </ref> | مثنوی  <ref> فہرست صدیق بُک ڈپو.لکھنؤ </ref> | لیلتہ القدر | غیرت بہارستان | ہدایت السلطان | ارشاد السلطان
 
بہار ہند | گوہر انتخاب | سرمۂ بصیرت | صنم خانہ عشق </ref> لاھور،مطبع کریمی، 1353 ھ ،358 ص </ref>  | جوہر انتخاب | مرأۃ الغیب <ref> دیوان اول ،کراچی،ایوانِ امیر مینائی،2005ء ،431 ص </ref>  | مجموعۂ واسوخت | نور تجلی | ابر کرم <ref> (س ن - 53 صفحات) </ref> | مثنوی  <ref> فہرست صدیق بُک ڈپو.لکھنؤ </ref> | لیلتہ القدر | غیرت بہارستان | ہدایت السلطان | ارشاد السلطان
  
===نعت گوئی ===
+
===نمونہ کلام===
 
+
==== چند مشہور کلام ====
+
  
 
*  [[حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے ۔ امیر مینائی | حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے ]]
 
*  [[حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے ۔ امیر مینائی | حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے ]]
لکیر 44: لکیر 40:
 
*[[آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں ۔ امیر مینائی | آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں]]
 
*[[آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں ۔ امیر مینائی | آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں]]
  
*[[اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول ۔ امیر مینائی | اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول]]
 
  
*[[بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی ۔ امیر مینائی | بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی]]
 
  
*[[بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ ۔ امیر مینائی | بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ]]
+
====اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول====
  
*[[تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ ۔ امیر مینائی | تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ]]
 
  
*[[جکمراں وہ ہے جو ہے بندہ انﷺ کا ۔ امیر مینائی | جکمراں وہ ہے جو ہے بندہ انﷺ کا]]
+
اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول
  
*[[دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے ۔ امیر مینائی | دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے]]
+
حربا ہوں رنگ بدلیں ابھی بار بار پھول
  
==== عربی کلام ====
 
  
* [[ حصل الشفا بخیالہ - امیرمینائی |  حصل الشفا بخیالہ ]]
+
دامن میں ہیں لیے ہوے بہر نثار شاہ
 +
 
 +
شبنم سے سینکروں گہر آبدار پھول
 +
 
 +
 
 +
صیقل گر چمن ہو جو اس کی ہوائے لطف
 +
 
 +
پھر بلبلوں سے دل میں نہ رکھیں غبار پھول
 +
 
 +
 
 +
اللہ ری لطافت تن جس سے مانگ کر
 +
 
 +
پہنے ہوئے ہیں پیرہن مستعار پھول
 +
 
 +
 
 +
دستار پر اگر وہ گل کفش طرہ ہو
 +
 
 +
خورشید آسمان پہ کریں افتخار پھول
 +
 
 +
 
 +
اللہ نے دیا ہے یہ اس کو جمال پاک
 +
 
 +
سنبل فدا ہے زلف پہ رخ پر نثار پھول
 +
 
 +
 
 +
اللہ کیا دہن ہے کہ باتیں ہیں معجزہ
 +
 
 +
ہوتے ہیں ایک غنچہ سے پیدا ہزار پھول
 +
 
 +
 
 +
وہ چہرہ وہ دہن کہ فدا جن پہ کیجئے
 +
 
 +
ستر ہزار غنچے بہتر زار پھول
 +
 
 +
 
 +
امت کا بوجھ پشت پہ اپنے اٹھا لیا
 +
 
 +
طاقت کی بات ہے کہ بنا کو ہسا ر پھول
 +
 
 +
 
 +
یہ فیض تھا اسی کا کہ حق میں خلیل کے
 +
 
 +
اخگر ہوئے تمام دم اضطرار پھول
 +
 
 +
 
 +
ادنی یہ معجزہ تھا کہ اک چوب خشک میں
 +
 
 +
پتے لگے ہزار پھل آئے ہزار پھول
 +
 
 +
 
 +
یا شاہ دیں ہیں تیری عنایت سے فیضیاب
 +
 
 +
جتنے ہیں رونق چمن روزگار پھول
 +
 
 +
 
 +
امت پہ وقف باغ شفاعت ہے آپ کا
 +
 
 +
مجھ کو بھی اس چمن سے عنایت ہوں چار پھول
 +
 
 +
 
 +
وقت دعا ہے ہاتھ دعا کو اٹھا امیر
 +
 
 +
جب تک کھلیں چمن میں سر شاخسار پھول
 +
 
 +
 
 +
غنچے کی طرح آپکے دشمن گرفتہ دل
 +
 
 +
خنداں ہو دوست جیسے کہ روز بہار پھول
 +
 
 +
 
 +
====بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی====
 +
 
 +
 
 +
بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی
 +
 
 +
کہ فرد داخل دفتر ہوئی گناہوں کی
 +
 
 +
 
 +
ترے فقیر دکھائیں جو مرتبہ اپنا
 +
 
 +
نظر سے اترے چڑھی بارگاہ شاہوں کی
 +
 
 +
 
 +
ذرا بھی چشم کرم ہو تو لے اڑیں حوریں
 +
 
 +
سمجھ کے سرمہ سیاہی مرے گناہوں کی
 +
 
 +
 
 +
خوشا نصیب جو تیری گلی میں دفن ہوئے
 +
 
 +
جناں میں روحیں ہیں ان مغفرت پناہوں کی
 +
 
 +
 
 +
فرشتے کرتے ہیں دامان زلف حور سے صاف
 +
 
 +
جو گرد پڑتی ہے اس روضے پر نگاہوں کی
 +
 
 +
 
 +
رکے گی آ کے شفاعت تری خریداری
 +
 
 +
کھلیں گی حشر میں جب گٹھڑیاں گناہوں کی
 +
 
 +
 
 +
میں ناتواں ہوں پہنچوں گا آپ تک کیونکر
 +
 
 +
کہ بھیڑ ہوگی قیامت میں عذر خواہوں کی
 +
 
 +
 
 +
نگاہ لطف ہے لازم کہ دور ہو یہ مرض
 +
 
 +
دبا رہی ہے سیاہی مجھے گناہوں کی
 +
 
 +
 
 +
خدا کریم محمد{{ص}} شفیع روز جزا
 +
 
 +
امیر کیا ہے حقیقت میرے گناہوں کی
 +
 
 +
 
 +
====بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمد{{ص}}====
 +
 
 +
 
 +
بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
زنجیر اسی در کی ہے گیسوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
قوسین ہیں تفسیر دوا بروئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
کونین تہ ظل دو گیسوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
منظور نظر اس کیے ہے سیر گلستاں
 +
 
 +
شاید کہ کسی پھول میں ہو بوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
امت میں جو مشہور ہے منشور شفاعت
 +
 
 +
گیسوئے محمد{{ص}} ہے وہ گیسوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
کس طرح زبردست نہ ہو دست ید محمد{{ص}}
 +
 
 +
بازو میں جو ہو قوت بازوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
سبطین محمد{{ص}} تھے اگر مصحف ناطق
 +
 
 +
قرآن کی تھی رحل دو زانوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
حاصل یہ کبھی عرش کو ہوتی نہ بلندی
 +
 
 +
ہوتا نہ اگر تکیہ پہلوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
چار آنکھیں کرے شیر فلک مجھ سے ہے کیا جا
 +
 
 +
سب جانتے ہیں میں ہوں سگ کوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
صحبت کو ہے تاثیر امیر اس میں نہیں شک
 +
 
 +
اصحاب میں کس طرح نہ ہو خوئے محمد{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
====تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول{{ص}}====
 +
 
 +
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے
 +
 
 +
جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے
 +
 
 +
لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے
 +
 
 +
میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے
 +
 
 +
عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام
 +
 
 +
اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول{{ص}}
 +
 
 +
 
 +
====حکمراں وہ ہے جو ہے بندہ فرماں ان{{ص}} کا====
 +
 
 +
جکمراں وہ ہے جو ہے بندہ ان{{ص}} کا
 +
 
 +
کون آزاد نہیں بندہ احسان ان{{ص}} کا
 +
 
 +
 
 +
لے چلے بخشش امت کا خدا سے اقرار
 +
 
 +
عرصئہ حشر ہے مارا ہوا میداں ان{{ص}} کا
 +
 
 +
 
 +
کس طرح گر کے کنوئیں سے نکل آتے یوسف
 +
 
 +
ہاتھ آتا نہ اگر گوشئہ داماں ان{{ص}} کا
 +
 
 +
 
 +
کس کی طاقت ہے کہ مدحت میں زباں کھول سکے
 +
 
 +
جب خدا خود ہی ہو قرآں میں ثنا خواں ان{{ص}} کا
 +
 
 +
 
 +
بادشاہوں کو کیا فقیر میں مغلوب امیر
 +
 
 +
وجہ یہ ہے کہ خدا خود تھا نگہباں ان{{ص}} کا
 +
 
 +
 
 +
====دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے====
 +
 
 +
دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے
 +
 
 +
آنکھوں سے سر ہے قرباں آنکھیں ہیں سر سے صدقے
 +
 
 +
 
 +
کہتے ہیں گرد عارض باہم یہ دونوں گیسو
 +
 
 +
میں ہوں ادھر سے صدقے تو بھی ادھر سے صدقے
 +
 
 +
 
 +
کہتا ہے مہر و مہ سے رخ دیکھ کر نبی کا
 +
 
 +
تو شام سے ہے قرباں میں ہوں سحر سے صدقے
 +
 
 +
 
 +
ناف زمیں ہے شہ کا مانند کعبہ روضہ
 +
 
 +
شرقی ادھر سے قرباں غربی ادھر سے صدقے
 +
 
 +
 
 +
بولے ملک جو آدم نازاں ہوئے ولا پر
 +
 
 +
تم آج ہو فدائی ہم پیشتر سے صدقے
 +
 
 +
 
 +
جو مال امیر کا ہے مالک ہیں آپ اس کے
 +
 
 +
دل آپ{{ص}} پر سے صدقے جاں آپ{{ص}} پر سے صدقے
  
 
=== وفات ===
 
=== وفات ===
لکیر 67: لکیر 318:
  
 
[[صارف:تیمورصدیقی]] | [[صارف:ابو المیزاب اویس ]]
 
[[صارف:تیمورصدیقی]] | [[صارف:ابو المیزاب اویس ]]
 
=== مزید دیکھیے ===
 
 
{{ٹکر 1 }}
 
{{باکس شخصیات }}
 
{{ٹکر 2 }}
 
{{باکس 1 }}
 
  
 
=== حواشی و حوالہ جات ===
 
=== حواشی و حوالہ جات ===

تـجدید بـمطابق 11:44, 20 جون 2017

Naat Kainaat Ameer Meenai.jpg

امیر مینائی اردو ادب کے نامور استاد شاعر اور نعت گو تھے ۔


امیر احمد المعروف امیر مینائی لکھنو میں 21 فروری 1828ء کو مولوی کرم محمد کے گھر پیدا ہوئے ۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے ۔

امیر مینائی اپنی متنوع حیثیت کے سبب اپنا ایک ہمہ جہت مقام علم و ادب کی تاریخ میں رکھتے ہیں۔وہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی شاعر بھی ہیں، لغت نویس اور زبان داں بھی ہیں، عالم بھی ہیں، موسیقی کے ماہر بھی ہیں،اور دیگر کئی علوم کے شناور بھی ہیں۔ [1]

غزل سے نعت کا سفر

امیر مینائی اپنے استاد اسیر کی طرح شاعری میں عامیانہ جذبات تک اتر آئے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ محسن کاکوروی نے جب اپنا مشہور قصیدہ سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل امیر مینائی کو دکھایا تو انہیں خود پر بہت افسوس ہوا کہ وہ کیا لکھتے آرہے ہیں ۔ اس کے بعد نعت کی طرف توجہ کی اور ایک نعتیہ دیوان ترتیب دیا ۔ [2]

تصانیف

متعدد کتابوں کے مصنف تھے ۔ایک نعتیہ دیوان محمد خاتم النبین ہے۔ دو مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔ ذکرشاہ انبیا بصورت مسدس مولود شریف ہے۔ صبح ازل آنحضرت کی ولادت اور شام ابد وفات کے بیان میں ہے۔ بہار ہند ایک مختصر نعت ہے۔ سب سے بڑا کارنامہ امیر اللغات ہے اس کی دو جلدیں الف ممدودہ و الف مقصورہ تک تیار ہو کر طبع ہوئی تھیں کہ انتقال ہوگیا۔

  • تاجِ سخن [3]
  • دبدبہ امیری ، [4]
  • ذکرِ شاہِ انبیا [5]
  • محامد خاتم النبین [6]

مزید کتابیں یہ ہیں

بہار ہند | گوہر انتخاب | سرمۂ بصیرت | صنم خانہ عشق </ref> لاھور،مطبع کریمی، 1353 ھ ،358 ص </ref> | جوہر انتخاب | مرأۃ الغیب [7] | مجموعۂ واسوخت | نور تجلی | ابر کرم [8] | مثنوی [9] | لیلتہ القدر | غیرت بہارستان | ہدایت السلطان | ارشاد السلطان

نمونہ کلام


اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول

اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول

حربا ہوں رنگ بدلیں ابھی بار بار پھول


دامن میں ہیں لیے ہوے بہر نثار شاہ

شبنم سے سینکروں گہر آبدار پھول


صیقل گر چمن ہو جو اس کی ہوائے لطف

پھر بلبلوں سے دل میں نہ رکھیں غبار پھول


اللہ ری لطافت تن جس سے مانگ کر

پہنے ہوئے ہیں پیرہن مستعار پھول


دستار پر اگر وہ گل کفش طرہ ہو

خورشید آسمان پہ کریں افتخار پھول


اللہ نے دیا ہے یہ اس کو جمال پاک

سنبل فدا ہے زلف پہ رخ پر نثار پھول


اللہ کیا دہن ہے کہ باتیں ہیں معجزہ

ہوتے ہیں ایک غنچہ سے پیدا ہزار پھول


وہ چہرہ وہ دہن کہ فدا جن پہ کیجئے

ستر ہزار غنچے بہتر زار پھول


امت کا بوجھ پشت پہ اپنے اٹھا لیا

طاقت کی بات ہے کہ بنا کو ہسا ر پھول


یہ فیض تھا اسی کا کہ حق میں خلیل کے

اخگر ہوئے تمام دم اضطرار پھول


ادنی یہ معجزہ تھا کہ اک چوب خشک میں

پتے لگے ہزار پھل آئے ہزار پھول


یا شاہ دیں ہیں تیری عنایت سے فیضیاب

جتنے ہیں رونق چمن روزگار پھول


امت پہ وقف باغ شفاعت ہے آپ کا

مجھ کو بھی اس چمن سے عنایت ہوں چار پھول


وقت دعا ہے ہاتھ دعا کو اٹھا امیر

جب تک کھلیں چمن میں سر شاخسار پھول


غنچے کی طرح آپکے دشمن گرفتہ دل

خنداں ہو دوست جیسے کہ روز بہار پھول


بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی

بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی

کہ فرد داخل دفتر ہوئی گناہوں کی


ترے فقیر دکھائیں جو مرتبہ اپنا

نظر سے اترے چڑھی بارگاہ شاہوں کی


ذرا بھی چشم کرم ہو تو لے اڑیں حوریں

سمجھ کے سرمہ سیاہی مرے گناہوں کی


خوشا نصیب جو تیری گلی میں دفن ہوئے

جناں میں روحیں ہیں ان مغفرت پناہوں کی


فرشتے کرتے ہیں دامان زلف حور سے صاف

جو گرد پڑتی ہے اس روضے پر نگاہوں کی


رکے گی آ کے شفاعت تری خریداری

کھلیں گی حشر میں جب گٹھڑیاں گناہوں کی


میں ناتواں ہوں پہنچوں گا آپ تک کیونکر

کہ بھیڑ ہوگی قیامت میں عذر خواہوں کی


نگاہ لطف ہے لازم کہ دور ہو یہ مرض

دبا رہی ہے سیاہی مجھے گناہوں کی


خدا کریم محمدﷺ شفیع روز جزا

امیر کیا ہے حقیقت میرے گناہوں کی


بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ

بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ

زنجیر اسی در کی ہے گیسوئے محمدﷺ


قوسین ہیں تفسیر دوا بروئے محمدﷺ

کونین تہ ظل دو گیسوئے محمدﷺ


منظور نظر اس کیے ہے سیر گلستاں

شاید کہ کسی پھول میں ہو بوئے محمدﷺ


امت میں جو مشہور ہے منشور شفاعت

گیسوئے محمدﷺ ہے وہ گیسوئے محمدﷺ


کس طرح زبردست نہ ہو دست ید محمدﷺ

بازو میں جو ہو قوت بازوئے محمدﷺ


سبطین محمدﷺ تھے اگر مصحف ناطق

قرآن کی تھی رحل دو زانوئے محمدﷺ


حاصل یہ کبھی عرش کو ہوتی نہ بلندی

ہوتا نہ اگر تکیہ پہلوئے محمدﷺ


چار آنکھیں کرے شیر فلک مجھ سے ہے کیا جا

سب جانتے ہیں میں ہوں سگ کوئے محمدﷺ


صحبت کو ہے تاثیر امیر اس میں نہیں شک

اصحاب میں کس طرح نہ ہو خوئے محمدﷺ


تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ

تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ

بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسولﷺ


کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسولﷺ

رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسولﷺ


کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے

جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسولﷺ


دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے

لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسولﷺ


اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے

میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسولﷺ


کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے

عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسولﷺ


مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام

اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسولﷺ


حکمراں وہ ہے جو ہے بندہ فرماں انﷺ کا

جکمراں وہ ہے جو ہے بندہ انﷺ کا

کون آزاد نہیں بندہ احسان انﷺ کا


لے چلے بخشش امت کا خدا سے اقرار

عرصئہ حشر ہے مارا ہوا میداں انﷺ کا


کس طرح گر کے کنوئیں سے نکل آتے یوسف

ہاتھ آتا نہ اگر گوشئہ داماں انﷺ کا


کس کی طاقت ہے کہ مدحت میں زباں کھول سکے

جب خدا خود ہی ہو قرآں میں ثنا خواں انﷺ کا


بادشاہوں کو کیا فقیر میں مغلوب امیر

وجہ یہ ہے کہ خدا خود تھا نگہباں انﷺ کا


دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

آنکھوں سے سر ہے قرباں آنکھیں ہیں سر سے صدقے


کہتے ہیں گرد عارض باہم یہ دونوں گیسو

میں ہوں ادھر سے صدقے تو بھی ادھر سے صدقے


کہتا ہے مہر و مہ سے رخ دیکھ کر نبی کا

تو شام سے ہے قرباں میں ہوں سحر سے صدقے


ناف زمیں ہے شہ کا مانند کعبہ روضہ

شرقی ادھر سے قرباں غربی ادھر سے صدقے


بولے ملک جو آدم نازاں ہوئے ولا پر

تم آج ہو فدائی ہم پیشتر سے صدقے


جو مال امیر کا ہے مالک ہیں آپ اس کے

دل آپﷺ پر سے صدقے جاں آپﷺ پر سے صدقے

وفات

آپ کی وفات 13 اکتوبر 1900ء کو ہوئی ۔

شراکتیں

صارف:تیمورصدیقی | صارف:ابو المیزاب اویس

حواشی و حوالہ جات

  1. تحقیقِ نعت۔ صورت حال اور تقاضے ،- ڈاکٹر معین الدین عقیل , نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25
  2. http://urdu.adnanmasood.com/2012/02/%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%D8%B5%DB%81/
  3. لکھنؤ،نظامی پریس،1350 ھ ، 50+318 ص (شاعری)
  4. دہلی،برقی پریس، (شرح)
  5. وفات نامہ (1303 ھ - )قلمی خیابانِ آفرینش ،آگرہ،مفید عام پریس،1308ھ ، 80 ص ،لکھنؤ،الناظر،
  6. لکھنؤ،نولکشور،1886ء، 142 ص
  7. دیوان اول ،کراچی،ایوانِ امیر مینائی،2005ء ،431 ص
  8. (س ن - 53 صفحات)
  9. فہرست صدیق بُک ڈپو.لکھنؤ
  10. ڈاکڑ شہزاد احمد، انوار عقیدت، انٹرنینشل حمد و نعت فاونڈیشن کراچی ۔ جون 2000