احمد رضا خان بریلوی

"نعت کائنات" سے
(امام احمد رضا خان بریلوی سے پلٹایا گیا)

This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Dargah ala hazrat ahmad raza by sambhali turki-d41h2at.jpg

احمد رضا خان بریلوی
آپ پر مضامین
حدائق بخشش

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ عظیم المرتبت مفسر،جلیل القدر محدث اور بلند پایہ فقیہ تھے،آپ کی نابغۂ روزگار شخصیت نے تنہا وہ کام انجام دئے جو ایک انجمن اور تحریک انجام نہيں دے سکتی۔آپ نے اپنی ساری زندگی اسلام کی نشر واشاعت اور دفاع اہل سنت کے لئے وقف کردی تھی۔ امام احمد رضا خان بریلوی نامور محدث، فقیہہ اور عالم با عمل تھے ۔ قدرت نے انہیں دوسری علمی و روحانی صفات کے ساتھ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی دولت بے بہا سے بھی نواز رکھا تھا ۔ یہی عشق رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم طبع موزوں کی بدولت صفت و ثنائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نغمات میں ڈھلتا رہا ۔ آپ تمام اصناف سخن پر یک گونہ مہارت رکھتے تھے ۔ نعت کہتے ہوئے علوم شریعت میں اپنی دسترس کی وجہ سے جوش عشق و عقیدت کے با وجود بھی کمال کی احتیاط برتی ۔ آپ نے قرآن حکیم کو نعت گوئی کا منبع نہ صرف قرار دیا بلکہ اپنی شاعری میں اس کا عملی اظہار بھی کیا ۔

حالات زندگی[ترمیم]

آپ کی ولادت مبارکہ 10 شوال المکرم 1272ھ م 14 جون 1856 ء،بروز اتوار ، ہندوستان کےمشہور شہر بریلی کے محلہ”جسولی“میں ہوئی [1] ۔ آپ کے جدا مجد حضرت مولانا رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کا نام”احمد رضا“رکھاجبکہ آپ کا پیدائشی نام "محمد"تھا،اور تاریخی نام " المختار "ہے- آپ کا لقب مبارک "اعلی حضرت"زبان زد خاص وعام ہے- آپ "رضا"بطور تخلص استعمال فرماتے تھے،آپ نے اپنےاسم گرامی کے ساتھ"عبد المصطفی "کا اضافہ بھی فرمایا،چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

خوف نہ رکھ رضا ذرا تو 'تو ہے عبد مصطفی

تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے

آپ کے والد محترم کا اسم گرامی حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے جد امجد کا نام مبارک حضرت مولانارضا علی خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھا- یہ دونوں حضرات اپنے وقت کے جلیل القدر علماءِ کرام میں شمار کئے جاتے تھے۔

آپ کی تربیت ایک علمی گھرانہ میں ہوئی جس کے نتیجہ میں آپ نے صرف چار ، پانچ برس کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ ختم کرلیا تھا اور اپنی بے پنا ہ خداداد صلاحیتوں اور حیرت انگیز قوت حافظہ کی بناء پر صرف تیرہ سال اور دس ماہ کی عمر میں علم تفسیر، حدیث، فقہ و اصول فقہ، منطق و فلسفہ علم کلام اور مروجہ علوم دینیہ کی تکمیل کرلی۔آپ علم وفضل کے اتنے بلندترین مقام پر فائز تھے کہ عرب و عجم کے علماء کرام نے شاندارالفاظ میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا اورعظیم الشان القاب سےنوازا۔

احمد رضا خان بریلوی کی نعت گوئی[ترمیم]

شاعری میں ان کے پیشِ نظر مداح رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) سیدنا حسان بن ثابت رضی ا لله تعالیٰ عنہ کی ذات گرامی مشعلِ راہ تھی۔اپنے دور کے شعرا میں مولانا کفایت علی کافی کی نعت گوئی سے متاثر تھے۔ اکابرکے ہاں جس قدر ادب و احتیاط کا غلبہ تھا ویسا ہی منظر وہ ہر دور کے نعت گو شعراء کے ہاں دیکھنا چاہتے تھے۔ [2]

نعت گوئی کے بارے آپ کا عقیدہ ان الفاظ سے عیاں ہوتا ہے

" ”حقیقتاً نعت شریف کہنا بڑا مشکل کام ہے جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ہے اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں صاف راستہ ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غرض حمد میں اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب حد بندی ہے۔“[3]

دیوان[ترمیم]

آپ کے دیوان حدائق بخشش کے نام سے شائع ہوا

مشہور کلام[ترمیم]

نعتیہ کلاموں کی مقبولیت کے حوالے جو پذیرائی احمد رضا خان بریلوی کی نعتوں کو ملی ہے وہ بے مثال ہے ۔ ہر قابل ذکر نعت خواں نے آپ کے کلاموں سے اپنی آوازوں کو مزین کیا ۔ تاہم رسم پوری کرنے کے لیے کچھ نعتوں کا ذکر کیا جارہا ہے ۔ بقیہ کے لیے دیوان ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔

صنعات ِ شعر کا استعمال[ترمیم]

علامہ عبدالستار ہمدانی مصروف نے امام احمد رضا خان بریلوی پر لکھی ہوئی کتاب فن شاعری حسان الہند میں حدائق بخشش کی دوسری بہت سی خوبیوں کے ساتھ اس میں استعمال کی ہوئی قریبا 31 صنعات ِ شعر کا ذکر کیا ہے ۔ ان میں ایسی بہت سی صنعتیں بھی ہیں جن کی مثال اردو کے استاد شعرا حتی کے مرزا غالب کی شاعری میں بھی نہیں ملتی ۔ اس موضوع کے لئے علحدہ صفحہ تشکیل دیا گیا ہے : امام احمد رضا بریلوی کی شاعری میں صنعات کا استعمال

اہل فن کی آرا[ترمیم]

کوثر نیازی[ترمیم]

”بریلی شریف میں ایک شخص پیدا ہوا جو نعت گوئی کا امام تھا اور احمد رضا خاں جس کا نام تھا۔ ان سے ممکن ہے بعض پہلووٴں میں لوگوں کو اختلاف ہو۔ عقیدوں میں اختلاف ہو لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عشقِ رسول ان کی نعتوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔“ [4]

مولانا محمد علی جوہر[ترمیم]

" احمد رضا خاں بریلوی اس دور کے سب بڑے محقق، ادیب ، شاعر ، مدقق اور مرد حق ہیں ۔ بلاشبہ ایسی ہستیوں کا وجود ہمارے لئے مرہون منت ہے [5]

عابد نظامی[ترمیم]

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلّم

جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھا دیے ہیں

پر آپ فرماتے ہیں

جناب عابدؔ نظامی صاحب لکھتے ہیں : ’’یہ کوئی شاعرانہ تعلّی نہیں، بلکہ عینِ حقیقت ہے ،ان کے اشعار پڑھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے فصاحت وبلاغت ،حلاوت وملاحت ،لطافت ونزاکت یہ سب ان کے ہاں کی لونڈیاں ہیں ‘‘ [6]


ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی[ترمیم]

”نعت کے مشتملات و شمائل کا ذکر ہر نعت گو کے ہاں مرغوب رہاہے۔ اس لیے کہ ان کا شمار ہی عظمت کا احساس دلاتا ہے۔ فاضلِ بریلوی کے ہاں خصائص میں وجہِ تخلیق ہونا، سراپا نور ہونا، قاسمِ عطایا ہونا، سب سے افضل ہونا، سرتابقدم شانِ حق ہونا، جانِ ایمان ہونا، کائنات ہست و بود کی رونق و جلا ہونا اور مرکزِ عقیدت و محبت ہونا بہت نمایا ں ہیں۔ یہ خصائص ان کے ایمان کا حصّہ ہیں اسی لیے ردیف اور قافیہ کے تنَّوع کے باوجود تذکرہ انہیں کا ہوتا رہا۔“ [7]

شان الحق حقی[ترمیم]

”میرے نزدیک مولانا کا نعتیہ کلام ادبی تنقید سے مبرا ہے۔ اس پر کسی ادبی تنقید کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی مقبولیت اور دلپذیری ہی اس کا سب سے بڑا ادبی کمال اور مولانا کے مرتبے پر دال ہے۔“[8]

مشہور واقعات[ترمیم]

محسن کاکوروی کا قصیدہ نہ سنانا[ترمیم]

قصیدہٴ معراجیہ“ میں نبی کریم علیہ اصلوٰة والسلام کے سفیر معراج کے حوالے سے آپ کی عظمت و فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ قصیدہ بذاتِ خود فکر و فن کا شہکار اور کاروانِ مدحت نعت کا افتخار ہے۔ طویل بحرمیں لکھا گیا یہ قصیدہ تشبیہات، استعارات اور برجستہ تراکیب کے حوالے سے اردو ادب کے لیے سرمایہٴ اعزاز ہے۔ یہ قصیدہآپ کی جَوْدَت وحِدَّتِ طبع کا آئینہ دار ہے۔ روانی و تسلسل اور زبان کی لطافت و پاکیزگی کے اعتبار سے معاصرین کے معراجیہ قصائد میں سب سے بلند ہے۔ اعلیٰ حضرت کے ہم عصر مشہور نعت گو شاعر محسن کاکوروی نے انہیں دنوں معراج پر قصیدہ ” سمت کاشی سے چلا جانبِ متھرابادل“ لکھا تھا۔

محسن کاکوروی اپنا قصیدہ سنانے کے لیے بریلی میں امام احمد رضا خاں کے پاس گئے۔ ظہر کے وقت دو شعر سننے کے بعد طے ہوا کہ محسن کاکوروی کا پورا قصیدہ عصر کی نماز کے بعد سنا جائے۔ عصر کی نماز سے قبل مولانا نے خود یہ قصیدہ معراجیہ تصنیف فرمایا۔ نماز عصر کے بعد جب یہ دونوں بزرگ اکھٹے ہوئے تو مولانا نے محسن کاکوروی سے فرمایا کہ پہلے میرا قصیدہ معراجیہ سن لو۔ محسن کا کوروی نے جب مولانا کا قصیدہ سنا تو اپنا قصیدہ لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا اور کہا مولانا آپ کے قصیدے کے بعد میں اپنا قصیدہ نہیں سنا سکتا۔


محسن کاکوروی کے قصیدہ کے کچھ اشعار یہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں

تصانیف[ترمیم]

آپ نے شان رسالت ،فضائل ومناقب اور عقائد پر (62)کتا بیں تحریر فرمائیں،حدیث اور اصول حدیث پرتیرہ(13)کتابیں،علم کلام اور مناظرہ پر(35)فقہ اور اصول فقہ پر 159 کتابیں اور متفرق باطل فرقوں کے رد میں (400)سے زائد کتابیں لکھی- آپ کی تصانیف میں ایک شہرۂ آفاق کتاب"العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ "جو "فتاوی رضویہ"کے نام سے جانی جاتی ہے- آپ نے اردو زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ بھی فرمایا،جس کا نام "کنز الایمان"ہے-


فہرست اور ڈاونلوڈ ربط[ترمیم]

احمد رضا خان بریلوی تمام کتابوں کی فہرست اور پی ڈی ایف فائلز alahazratnetwork.org پر موجود ہیں ۔

احمد رضا خان بریلوی کی شاعری پر مضامین و مقالات[ترمیم]

احمد رضا بریلوی پر مزید مضامین[ترمیم]

مزید مضامین و مقالات اس ربط پر : ملاحظہ فرمائیں

احمد رضا خان بریلوی پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات[ترمیم]

امام احمدرضا خان کی عربی زبان و ادب میں خدمات ۔ از محمود حسین[ترمیم]

ڈاکٹر محمود حسین صدر شعبہء عربی، بریلی کالج بریلی روھیل کھنڈ یونیورسٹی ،

مقالۂ تحقیق جس پر ایم فل کی ڈگری تفویض ہوئی [9]

امام احمد رضا خان اور عشق مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم تحریر و تحقیق ۔ غلام مصطفی نجم القادری[ترمیم]

مولانا ڈاکٹر غلام مصطفےٰ نجم القادری

مقالہ ء تحقیق جس پر میسور یونیورسٹی نے فاضل مولف کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی[10]

وفات[ترمیم]

67؍ سال کچھ ماہ ( قمری مہینے کے اعتبار سے ) کی عمر پاکر ۲۵؍ صفرالمظفر۱۳۴۰ھ / 28 اکتوبر 1921ء کو اس دارفانی سے رخصت ہوئے ۔انتقال کے وقت تک پچاس سے زائد قدیم و جدید علوم و فنون پر مشتمل مختلف زبانوں (عربی ، اردو ، فارسی ) میں ایک ہزار کے قریب تصنیفات اور سوسے زائد تلامذہ و خلفا عجم و عرب میں چھوڑے

بیرونی روابط[ترمیم]

سلام ِ رضا - مصطفٰے جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام پر تضمین نگاری[ترمیم]

صاحبزادہ ابوالحسن واحؔد رضوی کی تضمین | مولانا اختر الحامدی کی تضمین | مولانا محمد عثمان اوج اعظمی کی تضمین | حافظ عبد الغفار حافظ کی تضمین | ڈاکٹر سید ہلال جعفری کی تضمین | محمد عبدالقیوم طارق سلطان پوری کی تضمین بعنوان ’بارانِ رحمت‘

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. مولانا مصطفی رضا ، ملفوظات اعلیحضرت ، لاہور، خزینہ علم و ادب ، 2013، ص 3
  2. مملکتِ نعت کے فرماں روا امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ، پروفیسر اکرم رضا
  3. مصطفیٰ رضا نوری بریلوی،علامہ:الملفوظ ،مطبوعہ کانپور، ص144/145
  4. شفیق بریلوی کی کتاب ارمغانِ نعت کے حوالے سے کراچی میں 1975ء میں منعقد ہونے والی تعارفی تقریب بحوالہ مملکتِ نعت کے فرماں رواامام احمد رضا بریلوی ۔ پروفیسر محمد اکرم رضا، گوجرانولہ
  5. روزنامہ خلافت ، بحوالہ طمانچہ ص 38
  6. ماہ نامہ ضیائے حرم لاہور جولائی ۱۹۷۲ص۵۴
  7. نعت رنگ 1
  8. خیابانِ رضا ۔ ص 66
  9. احمدرضا خان کی عربی زبان و ادب میں خدمات ۔ از محمود حسین
  10. احمد رضا خان اور عشق مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم تحریر و تحقیق ۔ غلام مصطفی نجم القادری