"اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول ۔ امیر مینائی" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(نعت رسول اللہ صل اعلی علیہ و سلم)
(نیا صفحہ: {{بسم اللہ}} ==== نعت رسول اللہ صل اعلی علیہ و سلم ==== اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول حربا ہوں رنگ ب...)
لکیر 1: لکیر 1:
 
{{بسم اللہ}}
 
{{بسم اللہ}}
  
==== {{نعت}} ====
+
==== نعت رسول اللہ صل اعلی علیہ و سلم ====
  
  
لکیر 77: لکیر 77:
  
 
خنداں ہو دوست جیسے کہ روز بہار پھول
 
خنداں ہو دوست جیسے کہ روز بہار پھول
 +
  
 
=== مزید دیکھیے ===
 
=== مزید دیکھیے ===
  
 
[[امیر مینائی]]
 
[[امیر مینائی]]

تـجدید بـمطابق 11:47, 20 جون 2017

نعت رسول اللہ صل اعلی علیہ و سلم

اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھول

حربا ہوں رنگ بدلیں ابھی بار بار پھول


دامن میں ہیں لیے ہوے بہر نثار شاہ

شبنم سے سینکروں گہر آبدار پھول


صیقل گر چمن ہو جو اس کی ہوائے لطف

پھر بلبلوں سے دل میں نہ رکھیں غبار پھول


اللہ ری لطافت تن جس سے مانگ کر

پہنے ہوئے ہیں پیرہن مستعار پھول


دستار پر اگر وہ گل کفش طرہ ہو

خورشید آسمان پہ کریں افتخار پھول


اللہ نے دیا ہے یہ اس کو جمال پاک

سنبل فدا ہے زلف پہ رخ پر نثار پھول


اللہ کیا دہن ہے کہ باتیں ہیں معجزہ

ہوتے ہیں ایک غنچہ سے پیدا ہزار پھول


وہ چہرہ وہ دہن کہ فدا جن پہ کیجئے

ستر ہزار غنچے بہتر زار پھول


امت کا بوجھ پشت پہ اپنے اٹھا لیا

طاقت کی بات ہے کہ بنا کو ہسا ر پھول


یہ فیض تھا اسی کا کہ حق میں خلیل کے

اخگر ہوئے تمام دم اضطرار پھول


ادنی یہ معجزہ تھا کہ اک چوب خشک میں

پتے لگے ہزار پھل آئے ہزار پھول


یا شاہ دیں ہیں تیری عنایت سے فیضیاب

جتنے ہیں رونق چمن روزگار پھول


امت پہ وقف باغ شفاعت ہے آپ کا

مجھ کو بھی اس چمن سے عنایت ہوں چار پھول


وقت دعا ہے ہاتھ دعا کو اٹھا امیر

جب تک کھلیں چمن میں سر شاخسار پھول


غنچے کی طرح آپکے دشمن گرفتہ دل

خنداں ہو دوست جیسے کہ روز بہار پھول


مزید دیکھیے

امیر مینائی