اردو نعت کی شعری روایت۔ایک جائزہ ۔ ڈاکٹر محمد اشرف کمال

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Ashraf Kamal.jpg

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

مضمون نگار : ڈاکٹر محمد اشرف کمال۔بھکر

’’اردو نعت کی شعری روایت‘‘۔ ایک جائزہ[ترمیم]

ABSTRACT: The book 'URDU NAAT KI SHAIRY RIWAYAT ', compiled by Sabih Rehmani has been reviewed in this article. Salient points have been highlighted to show the matters discussed by different scholars. Each article contains some intellectual light on the topics of Definition of Naat, History of Naat, Trends of Naat and Pre-requisites of the genre of Naat. This write up is a brief introduction of the book under review.

اردو اصناف ادب میں نعت گوئی ہمیشہ سے مقبول ومعروف رہی۔تقریباً ہر دیوان اور مجموعہ کلام میں نعتیہ اشعار مل جاتے ہیں، شاعری کے علاوہ نثری کتابوں کے آغاز میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد نعتیہ اشعار بھی مل جاتے ہیں۔پھر کچھ شعراء نے اپنے آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمدو ثنا کے لیے مخصوص کرلیا اور انھوں نے نعت کے علاوہ دوسری اصناف میں شاعری ترک کردی۔

اس نعتیہ روایت کو اس وقت زیادہ تقویت ملی جب نعت کے حوالے سے مختلف رسائل کا اجرا عمل میں آیا۔صبیح رحمانی کا نعت رنگ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جنھوں نے نعت رنگ کے ذریعے اردو نعت کی ترویج وفروغ میں عملی اقدامات اٹھائے۔

[[اردو نعت کی شعری روایت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں مرتب ڈاکٹر صبیح رحمانی [1] نے نعت کے حوالے سے مختلف مضامین کو یک جا کرکے نعت پر تحقیقی وتنقیدی کام کا ایک ذخیرہ جمع کردیا ہے۔ اس کتاب میں نعت کی تعریف، تاریخ، رجحانات،اور تقاضوں کے حوالے سے جو مضامین و مقالات شامل کیے گئے ہیں وہ علمی و معلوماتی تو ہی ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ان کے نعتیہ ادب میں اس لیے بھی زیادہ وقعت اور قدروقیمت ہے کہ یہ آنے والے محققین کو نعت کے حوالے سے وہ مواد پیش کرتے ہیں جو آگے جاکر اس موضوع کے بارے میں سنگ میل اور اساسی ماخذثابت ہوگا ۔

اس کتاب کے حرف آغاز میں صبیح رحمانی نے سیرت ِرسول سے ذہنی وقلبی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔اور ایک خود آگاہ تہذیب کے لیے عصری شعور کے ساتھ ساتھ پس منظری اساس کو بھی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ اس حرف آغاز میں انھوں نے اُردو میں نعت کی روایت کو سمیٹتے ہوئے نعت کے حوالے سے بہت مفید معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ نعت کے حوالے سے پہلے تحقیقی مقالے کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’۱۹۵۵ء میں ناگ پور یونیورسٹی (بھارت) سے ڈاکٹر رفیع الدین اشفاق نے ’’اردو میں نعتیہ شاعری‘‘پر پہلا تحقیقی کام مکمل کیا ۔یہ تحقیقی مقالہ ۱۹۷۶ ء میں اردو اکیڈمی سندھ ، کراچی نے شائع کیا۔ ‘‘۱؎

صبیح رحمانی یہ کتاب مرتب کرکے جہاں نعت کے حوالے سے عقیدت وخدمت کا اظہار کیا ہے وہاں اس کتاب کو معلوماتی ، تحقیقی و دستاویزی بنانے کی بھی پوری کوشش کی ہے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی لکھتے ہیں:


’’صبیح رحمانی کی تدوین کردہ اس کتاب میں نعت کی تعریف، تاریخ، اور نعتیہ کلام سے متعلق رجحانات پر نمائندہ اور معیاری مضامین اشاعت پذیر ہوکر قارئین کی ضیافتِ طبع کے ساتھ نعت رسول پاک کی قدروقیمت میں اضافہ کا سبب بنتے جارہے ہیں۔‘‘ ۲؎

اس کتاب میں بلا شک وشبہ نعت اور نعت گوئی کے مسائل کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ نعت کی صنف میں نئے امکانات اور جدید رجحانات خود بخود سامنے آتے چلے جائیں گے اور جن سے صنف نعت کے فروغ کو ضرور فائدہ پہنچے گا۔

نعت کے لغوی معنی تعریف وتوصیف کرنا کے ہیں اور اصطلاحی معنی شعری اصناف میں حضرت محمد ؐ کی تعریف وتوصیف کرنا ہیں۔اردو میں مختلف اصناف سخن اور مختلف ہئیتوں میں نعت لکھی جارہی ہے۔مثلاً: قصائد، مسدس، مخمس، مثنوی، قطعات، رباعیات، مثلث، نظم اور ہائیکوکی صورت میں۔۳؎

اس کتاب میں بہت سی ایسی بنیادی باتیں اور مباحث شامل کیے گئے ہیں جو کہ نہ صرف محققین بلکہ عام قارئین کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے اور ان کے جنرل نالج میں اضافے کا باعث بنیں گے۔مثلاًنعت کا لفظ سب سے پہلے حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکی ثنا کے کے لیے کس نے استعمال کیا، اس حوالے سے ڈاکٹر سید رفیع الدین اشفاق رقم طراز ہیں:


’’نعت کا لفظ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمکے وصف کے لیے حضرت علی ؓ سے منقول ہے ، غالباً اسلامی ا دب میں اس معنی میں پہلی دفعہ کیا گیا ہے ۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ا وصاف بیان کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے اپنے لیے بجائے واصف کے ناعت کا استعمال کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

من راہ بداھتہ ھابہ۔ومن خالطہ معرفتہ احیّہ یقول ناعتہ لمراء قلبہ ولا بعدہ مثلہ صلی اللہ علیہ وسلم(شمائل ترمذی،ص۵۶۷)

’’آپ پر یکایک جس کی نظر پڑجاتی ہے، ہیبت کھا جاتا ہے۔ جو آپ سے تعلقات بڑھاتا ہے، محبت کرتا ہے۔ آپ کا وصف کرنے والا یہی کہتا ہے کہ آپ سے پہلے نہ آپ کے جیسادیکھا اور نہ آپ کے بعد آپ کے جیسا دیکھا۔‘‘۴؎

نعت کا آغا زمکہ سے ہوا ۔ابو طالب کے قصیدہ میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت کے اشعار موجود ہیں۔ جن کو ہم سب سے پہلی نعت قرار دے سکتے ہیں۔ان کے بعد بچیوں کے وہ گیت متاثر کن ہیں جو انھوں نے تاجدار حرم کی شان میں آپ کے مدینہ تشریف لانے پر استقبال کے موقع پر گائے۔ ایک نام اعمش کا بھی ہے جس نے حضور کی شان میں قصیدہ لکھا مگر وہ ایمان کی دولت سے محروم رہا۔۵؎


حضرت حسان بن ثابتؓ وہ جلیل القدرنعت گو ہیں جن کے لیے مسجد نبوی میں ایک منبر مخصوص کردیا گیا تھا جس پہ کھڑے ہوکر وہ شان نبوی میں اپنے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ حضرت کعب بن زہیرؓ، حضرت عبداللہ بن وائلؓ، حضرت عائشہ ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ، حضرت سفیان بن حارثؓ نے بھی نعتیہ کلام لکھا۔


ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کا مضمون ’’اردو میں نعت گوئی کا ارتقا‘‘ اردو نعت کی روایت پر روشنی ڈالتا ہے۔ قدیم دکنی شاعری سے لے کر عہد حاضر کی شاعری تک نعت لکھنے کے رجحان اور نعت کے شعری نمونوں کو سامنے لایا گیا ہے۔اس مضمون میں بتایا گیا کہ نعت کی ایک روایت محسن کاکوری پہ ختم ہوتی ہے اور دور جدید کی نعت کا آغا ۱۸۵۷ء کے بعد کی شاعری سے ہوتا ہے۔جس میں حالی، شبلی، نظم طباطبائی، ظفر علی خان اور علامہ اقبال کے نام نظر آتے ہیں۔

’’ علامہ اقبال نے نعت کے حوالے سے جو مضامین پیش کیے اس سے نعت گوئی کے نئے افق روشن ہوئے۔‘‘ ۶ ؎

حالی کی مسدس مدوجزر اسلام یا عرض حال بجناب سرور کائنات نے اس دور میں مقبولیت کی سند حاصل کی۔اس کے بعد احمد رضا بریلوی نے نعد گوئی میں کمال حاصل کیا۔ مضمون نگار کی تحقیق کے مطابق دورجدید کا دوسرا دور ۱۹۴۷ء سے پہلے کا دور ہے۔اس کے آغاز کے بارے میں انھوں نے کوئی اشارہ نہیں دیا ۔ شاید یہ اقبال کے بعد کا دور ہے۔

اردو نعت میں وسیع تر امکانات کی صورت قیام پاکستان کے بعد سامنے آئی۔مضامین نعت کے ماخذات میں قرآن سب سے اہم ماخذ ہے یہاں نعت سے مضامین میں عبدیت، رحمتہ للعالمین، نورِ محمدی، محبوبیت، عطائے الٰہی، بنی نوع انسان سے آپ کی رافت ورحمت، فضیلت رسولِ کریم جیسے مضامین ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ حدیث سے بھی نعت رسول مقبول کے اہم مضامین ملتے ہیں۔

ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی کے مضمون ’’محرکات نعت‘‘ کے حوالے سے نعت سنتِ خداوندی، عشقِ رسول ، اظہارِ عقیدت، اطاعتِ رول کا جذبہ، نعت: تبلیغِ دین کا وسیلہ، ذکرِ رسول کو عام کرنے کی خواہش، نعت وسیلۂ برکت ،روضۂ رسول پر حاضری کی خواہش، صوفیائے کرام اور فروغ نعت، دینی مجلسیں اور فروغ نعت محفلِ میلاد، سیرت کے جلسے ، عرس اور قوالی ذرائع ابلاغ اور فروغ نعت نعتیہ مشاعرے، اخبارات ورسائل، گراموفون ریکارڈ، فلمیں اور کیسٹ ، ریڈیو اور ٹی وی یہ سب وہ ذریعے یا وسیلے ہیں جن سے نعت کو فروغ ملا۔اس کتاب کے بارے میں احمد جاوید لکھتے ہیں:

’’اردو نعت کی شعری روایت دراصل فروغ اور تفہیم نعت کے نئے زاویے پیدا کرنے والی کتاب ہے جو ہمارے فکرونظر کی گرد اتارنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔‘‘(۷)

ڈاکٹر یحییٰ نشیط کا مضمون اردو نعت گوئی کے موضوعات اپنے اندر موضوعاتی تنوع لیے ہوئے ہے۔ نعتِ خالص کے بارے میں یحییٰ نشیط لکھتے ہیں:

’’نعتِ خالص سے مراد وہ نعتیہ کلام ہے جس میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صرف اوصاف کا بیان ہو ،جو محامد ومحاسن اور تعریف کی حد تک ہی محدود ہو۔ اردو کے ایسے نعتیہ ذخیرے پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور کئی کتابیں بھی اس ضمن میں موجود ہیں ، لیکن واقعات رسول کو نعت کے جن موجوعات کے ذیل میں قلم بند کیا گیا ہے یہاں اسی کا تذکرہ مقصود ہے ۔ اس ضمن میں ولادتِ رسول کو موضوع بناکر لکھی گئیں نعتیں میلاد نامہ کے ذیل میں شمار کی جاسکتی ہیں۔‘‘۸؎

اس مضمون میں اردو میں میلاد ناموں کی تاریخ بھی شامل کی گئی ہے۔اس کے علاوہ نور نامے، معراج نامے، وفات نامے، اسرائیلیات، اور صنیات کے حوالے سے مواد اکٹھا کیا گیا ہے۔

ظہیر غازی پوری کا مضمون نعتیہ شاعری کے لوازمات فکری نوعیت کا ہے جس میں نعتیہ اشعار میں لغزش ، غلو اور جارحانہ طرز اختیار کرنے کے حوالے سے سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔مجید امجد بھی اس حوالے سے اپنے مضمون صنف نعت میں لکھتے ہیں:

’’جناب رسالت مآب کی تعریف میں ذرا سی لغزش نعت گو کو حدود کفر میں داخل کرسکتی ہے۔۔۔۔۔ذرا سی کوتاہی مدح کو قدح میں بدل سکتی ہے۔ ذرا سا غلو ضلالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔ذرا سا عجز اہانت کا باعث بن سکتا ہے فنِ شعر کے لحاظ سے اس کام کے لیے کمالِ سخن وری اور نفسِ مضمون کے لحاظ سے اس کے لیے کمالِ آگہی درکار ہے اور پھر ان دونوں چیزوں کو جلا جس چیز سے ملتی ہے وہ عشق کا سرمدی جذبہ ہے۔جو لفظوں کو تجلیات سے بھر دیتا ہے۔‘‘۹؎

ظہیر غازی پوری نے مختلف شعروں کی مثال دے کر ان اشعار کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے جن میں غلو سے کام لیا گیا ہے۔

زباں پہ بار خدا یا یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے

دیگر مباحث کے ساتھ ساتھ ظہیر غازی پوری نے غالب کے درج با شعر کو زیر بحث لاتے ہوئے لکھا ہے :

’’ جناب ناوک حمزہ پورینے لکھا ہے کہ’’اے کاش غالب نے یہ شعر بہ ارادۂ نعت کہہ کر اپنی عاقبت سنوار لی ہوتی۔ حال یہ ہے کہ غالب نے یہ شعر تجمل حسین خاں کے لیے چند ٹکے کی امید میں کہا تھا۔‘‘۱۰؎

ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی اردو میں نعت گوئی کا ارتقا کے عنوان سے اردو نعت کی تاریخ پر قلم اٹھاتے ہوئے مختلف حوالوں سے تین شعراء کرام کو اردو نعت کا شعر لکھنے والا پہلا شاعر قرار دیا ہے۔ مولوی عبدالحق کی کتاب اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ‘‘ کے مطابق خواجہ بندہ نواز گیسو (م ۸۲۵ ھ) کے اشعار کو اردو نعت کا پہلا نمونہ قرار دیا۔وہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتبہ کتاب مثنوی کدم راؤ پدم راؤ (جسے ۸۲۵ھ تا ۸۳۸ھ کی تصنیف تسلیم کیا جاتا ہے) میں نعتیہ اشعار کو پہلا نمونہ قراردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد اسمٰعیل آزاد فتح پوری کی کتاب اردو شاعری میں نعت کا حوالہ دیتے ہوئے ملا داؤدی کی مثنوی چندائن کو اردو زبان کا اولین لسانی وادبی نمونہ اور اس میں شامل نعت کو اردو کی پہلی نعت قرار دیتے ہیں ملا داؤد نے چندائن کو ۷۸۱ھ میں فیروز شاہ تغلق کے عہد میں تصنیف کیا تھا۔۱۱؎


ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی اردو نعت کو مستقل حیثیت دینے کے حوالے سے گیارہویں صدی ہجری میں پہلے صاحب دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ(۱۰۲۰ھ) کا نام لیتے ہیں جنھیں رسالت مآب سے والہانہ عقیدت تھی۔

ڈاکٹر انور سدید اردو میں نعت نگاری ایک جائزہ ۱۹۷۵ء تک میں قلی قطب شاہ سے لے کر ولی، مومن، ظفر، غالب، میر حسن، حالی، امیر مینائی، ،محسن کاکوروی، اکبر الہ آبادی، سرور جہاں آبادی، امجد حیدرآبادی، محمد علی جوہر، حسرت موہانی، ظفر علی خاں، اقبال، حفیظ جالندھری، اصغر گونڈوی، بہزاد لکھنوی، احسان دانش، ماہر القادری،اسد ملتانی، راجہ محمد عبداللہ نیاز، شورش کاشمیری، اثر صہبائی، نعیم صدیقی، عبدالکریم ثمر، عبدالعزیزخالد، حفیظ تائب، ،حافظ لدھیانوی، اخگر سرحدی، ،جعفر طاہر، شیر افضل جعفری، گویا جہان آبادی، محشر رسول نگری، یوسف ظفر، منیر نیازی، شہزاد احمد، انجم رومانی، مظفر وارثی، اطہر نفیس، انجم نیازی، عبداللہ خاور جیسے نعت گو شعراء کا تذکرہ اور ان کے کلام کا محاکمہ پیش کیا ہے۔

عارف عبدالمتین نے اپنے مضمون ’’جدید اردو نعت‘‘ میں عربی میں نعت کے آغاز کے بعد اردو نعت لکھنے والے جدید شعراء کا ذکر کیا ہے۔ ممتاز حسن نے نعت کے فکری زاویے اجاگر کیے۔جس میں اردو شعرا کے ساتھ ساتھ فارسی شعرا کے کلام کو بھی پیش کیا۔ جن میں فیضی، جامی، قدسی، گرامی، کے نام قابل ذکر ہیں۔

جمال پانی پتی نے نعت گوئی کا تصورِ انسان کے حوالے سے اس مضمون میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نوری یا بشری صفات کو سامنے رکھا ہے اور اس حوالے سے حالی کی نظم مسدس مدو جزر اسلام پر بات کی ہے۔

ڈاکٹر ابوالخیر کشفی نے اپنے مضمون نعت اور گنجینۂ معنی کا طلسم میں شعری گورکھ دھندوں اور لفظوں کی ذومعنویت پر بات کی ہے۔لکھتے ہیں:


’’لفظوں کی دنیا عجب طلسمات ہے۔ الفاظ کی معنوی سطحیں، درجے اور رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ بازاری زبان کے بعض الفاظ وقت گزرنے کے ساتھ مستند زبان کا حصہ بن جاتے ہیں۔‘‘۱۲؎


عام بول چال میں الفاظ کے معانی کا تعین اور طرح سے ہوتا ہے جب کہ ادبی یا شعری زبان میں معانی کا تعین دوسری طرح کیاجاتا ہے یہاں الفاظ کے اصطلاحی اور علامتی معانی بھی عبارت میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔شعر میں زیادہ تر بات سیدھے سادے انداز میں نہیں کی جاتی بلکہ شعری اظہار بعض اوقات ابہام میں ملفوظ ہوتا ہے۔نئے علوم میں خصوصاً علم المعانی نے لفظ اور شے کے جو نئے رشتے دریافت کیے ہیں ان کے پیش نظر شاعری اور ادب میں معانی کی حیثیت بدل گئی ہے۔۱۳؎ اسی طرح مزید زبان اور الفاظ کی شعبدہ بازیوں کے حوالے سے ڈاکٹر ابوالخیر کشفی لکھتے ہیں:

’’الفاظ کے معانی کا تعین ایک مشکل مسئلہ ہے ۔ہم صنف کے الفاظ میں اپنے تجربات کا عکس بھی تلاش کرتے ہیں پھر پڑھنے والوں کا ایک ایسا گروہ بھی ہوتا ہے جو ادبی تحریروں کو اپنی غلط تاویلات سے مسخ کردیتا ہے۔‘‘۱۴؎


اچھی خاصی طویل بحث کے بعد وہ نعت کے موضوع کی طرف آتے ہیں جس میں الفاظ اور اس کے معنوی تعلق کو بیان کرتے ہیں۔مختلف شعراء کے نعتیہ کالم کی مثالیں پیش کرتے ہوئے نعت میں استعمال ہونے والے الفاظ کی معنوی ساخت کو زیر بحث لاتے ہیں۔

احمد ہمدانی نے جدید اردو نعت اور علامت نگاریہ کو موضوع بنایا ہے۔ اور اس حوالے سے قیام خوشبو، نام خوشبو، روشنیوں کے کھیت، صورت اور چراغ،درد کا پھول، صحرا کی شال، ہاتھوں میں کرنوں کا پھول، دھند میں لپٹے باغ،ریگِ تشنہ ،افقِ تیرہ،دھندلکوں کا فسوں کرنوں کی کمند،سوکھے پیڑ کی ٹوٹی شاخ جیسی علامتوں کو بیان کرکے ان کی وضاحت کی ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر نثار ترابی کا مضمون بھی اہمیت کا حامل ہے۔ڈاکٹر عزیز احسن نے شاعری میں متنی رشتوں کی تلاش کا کام کیا ہے ۔اور متن کثیر المعنویت جہت کا ذکر کیا ہے۔کاشف عرفان نے ’’اردو نعت پر مابعد جدیدیت کے اثرات‘‘ کا جائزہ لیا ہے۔اور جدیدیت سے مابعد جدیدیت تک کے سفر کو بھی بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

مابعد جدیدیت ایک ایسے ذہنی رویے اور ادبی مزاج کا نام ہے جس میں تاریخی وثقافتی صورت حال کو اہمیت دی جاتی ہے ۔مابعد جدیدیت تخلیق پر بٹھائے جانے والے پہروں کی کسی بھی شکل کو تسلیم نہیں کرتی۔۱۵؎


پروفیسر محمد فیروز شاہ کا مضمون نعت میں جدید طرزِ احساس ان کے اپنے مخصوص انداز میںلکھا ہوا مضمون ہے اس مضمون میں جدت تشبیہات واستعارات، ندرت فکرو خیال، ہم عصر فضا کی صدا، والہانہ وابستگی کا اظہار جذبہ واحساس کا ترفع، جمالِ محبوب کے تذکار حسنِ سیرت کی ضو، ،فریاد کی لے، لج پال نسبتوں کا تفاخر، احیائے تہذیب اسلام کی خوش بو، کے حوالے سے نعتیہ اشعار دیے ہیں اور ان پر فکری حوالے سے قلم اٹھایا ہے۔

سحر انصاری کا مضمون نقدِ نعت۔تناظر اور تقاضے کے عنوان سے اردو نعت کا منظر نامہ تذکرے سے جدید نعت تک کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔

تحقیقِ نعت :صورتِ حال اور تقاضے کے عنوان سے ڈاکٹر معین الدین عقیل نے جامعات میں ہونے والے اردو نعت کے حوالے سے تحقیقی کام پر بات کی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’اب تک دوسو سے زیادہ مقالات، پی ایچ ڈی، اور ایم فل دونوں سطح پر ، ادبی شخصیات کے احوال وآثار پر لکھے جاچکے ہیں۔‘‘۱۶؎


اس مضمون میں انھوں نے مختلف نعت گو شعرا کا احوال بیان کیا ہے جو کہ تحقیقی مقالے کا موضوع بنائے گئے ہیں۔ان کے خیال میں نعت گوئی پر تحقیق ومطالعہ کے لیے شخصیات کے بجائے کسی ایک دور، علاقے یا کسی عصری یا معاشرتی حوالے سے موضوعات کو لیا جائے تو اس طرح نعت گوئی کا اجتماعی مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے اور تقابلی مطالعہ بھی۔

نعت کے حوالے سے ایک اور اہم نام ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی کا ہے جنھوں نے نعت اور نقدِ نعت۔چند گزارشات کے عنوان سے لکھا ہے۔ اور موجودہ صدی کو نعت کی صدی قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ریاض مجید، ناصر عباس نئیر، مبین مرزا، شمیم احمد، ڈاکٹر محمد اقبال جاوید،ڈاکٹر فرمان فتح پوری،پروفیسر سمیع اللہ قریشی کے مضامین بھی فکری حوالے سے اردو نعت کے شعبہ میں اہمیت کے حامل ہیں۔

حوالہ جات


۱۔صبیح رحمانی،ص۱۵

۲۔فلیپ از ڈاکٹرابوالکلام قاسمی، مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت مرتبہ صبیح رحمانی، کراچی، اکادمی بازیات ۲۰۱۶ء

۳۔محمد اشرف کمال،ڈاکٹر،تاریخ اصناف نظم ونثر،کراچی، رنگ ادب، ۲۰۱۵ء، ص۲۴

۴۔رفیع الدین اشفاق،سید،نعت کی تعریف،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت ،ص۲۴

۵۔گوہر ملسیانی،عصر حاضر کے نعت گو، صادق آباد، گوہر ادب پبلیکیشنز، ۱۹۸۳ء،ص۳۳۔۳۴

۶۔محمد اقبال نجمی:نعت رسول مقبول اور کلام اقبال، مشمولہ مفیض ، نعت تبصرہ نمبر ۲، شمارہ ۸۸ ،۲۰۱۲ء،ص۲۷

۷۔فلیپ از احمد جاویدمشمولہ اردو نعت کی شعری روایت

۸۔یحییٰ نش،ڈاکٹر، اردو نعت گوئی کے موضوعات ،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت ،ص۷۷

۹۔مجید امجد، صنف نعت،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت ،ص۳۰۲

۱۰۔ظہیر غازی پوری،نعتیہ شاعری کے لوازمات،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت،ص۱۲۲

۱۱۔شاہ رشاد عثمانی،ڈاکٹر،اردو میں نعت گوئی کا ارتقا،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت ،ص۱۴۶

۱۲۔ ابوالخیر کشفی،ڈاکٹر، نعت اور گنجینۂ معنی کا طلسم ،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت، ص ۳۷۹،۳۸۰

۱۳۔محمد اشرف کمال،ڈاکٹر،لسانیات اور زبان کی تشکیل، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۱۵ء، ص۱۷

۱۴۔ ابوالخیر کشفی،ڈاکٹر، نعت اور گنجینۂ معنی کا طلسم ،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت، ص۳۸۰

۱۵۔محمد اشرف کمال،تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۱۶ء، ص۹۳

۱۶۔ معین الدین عقیل،ڈاکٹر، تحقیقِ نعت۔صورت حال اور تقاضے،مشمولہ اردو نعت کی شعری روایت، ص۵۶۴

حواشی از نعت کائنات[ترمیم]

  1. یہاں مضمون نگار غلطی سے صبیح رحمانی کے ساتھ ڈاکٹر لکھ گئے ہیں