"اللہ" لفظ کا عروضی وزن

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

لفظ " اللہ " ل پر تشدید کی وجہ سے چار پانچ حروفی آواز ال لا ہ دیتا ہے ۔ اور عروض کے مطابق یہ "مفعول" کے وزن پر ہے ۔ تاہم بعض شعراء ضرورت ِ شعری کے تحت اسے فعلن اور بعض اوقات صرف فعل [ بسکون ع ] بھی باندھ لیتے ہیں ۔

مفعول کے وزن پر مثالیں[ترمیم]

اللہ نے پہنچایا سرکارﷺ کے قدموں میں

کیا کیا نہ سکوں پایا سرکارﷺ کے قدموں میں

حفیظ تائب


اللہ کے احساس کا احساں کوئی کم ہے

سارا ہی کرم اس در ِ والا کا کرم ہے

محمد اشفاق چغتائی

فعلن کے وزن پر مثالیں[ترمیم]

اللہ اللہ ، آقا ؐ آقاؐ کیسی منزل ، کیسا رستہ

اللہ اللہ ، آقاؐ آقا واحد منزل ، تنہا رستہ

جلیل عالی

فعل کے وزن پر مثالیں[ترمیم]

اللہ اللہ شہ کونین جلالت تیری

فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری

حسن رضا بریلوی


وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ

کہاں میں کہاں یہ مقام، اللہ اللہ

صوفی تبسم

تخفیف کی مخالفت میں آراء[ترمیم]

ڈاکٹر عزیز احسن[ترمیم]

"مجھے بھی اس بات پر اصرار کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام کو مخفف نہیں کرنا چاہیے، چاہے شعری ضرورت کچھ ہی کیوں نہ ہو، اس فعلِ قبیح سے بچنا لازمی ہے ۔ اللہ کا لفظ پانچ حرفی ہے(بروزن مفعول) اور اس کا ہر لفظ پورا پڑھا جاتا ہے۔اس لیے اسے کسی طور چار حرفی (بر وزن فعلن) بنا کر نہیں لکھنا چاہیے" [1]

تخفیف کے حق میں دلائل[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. نعتیہ ادب کی تخلیق، تنقید اور تحقیق کے تلازمے ،- ڈاکٹرعزیز احسن ، نعت رنگ ۔ شمارہ 25