بن کے خیر الوری آگئے مصطفی ہم گنہ گاروں کی بہتری کے لیے ۔ عبدالستار نیازی

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


شاعر: عبدالستار نیازی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

بن کے خیر الوریٰ آگئے مصطفیٰ ہم گنہ گاروں کی بہتری کے لیے

اک طرف بخششیں اک طرف جنتیں کیسے انعام ہیں امتی کے لیے


چار سو رحمتوں کی ہوائیں چلیں، ہوگئی جس سے ساری فضا دلنشیں

مسکراوؔ سبھی آگئے ہیں نبی، غم کے مارو تمہاری خوشی کے لیے


چاند دو ہوگیا جوں ہی انگلی اٹھی، سوئے سورج نے بھی آنکھ تھی کھول دی

کھوٹی قسمت میری وہ جو کردیں کھری کیا یہ مشکل ہے میرے نبی کے لیے


چین سے زندگانی گزر جائے گی بے کسی خود ہی موت اپنی مر جائے گی

اے شفیع امم اپنا دے دے جو غم ہے یہ کافی میری زندگی کے لیے


دل کا ٹوٹا ہوا آئینہ جوڑ دے غیر کی آشنائی سے منہ موڑ دے

اپنا سجدوں کا جو اک نشاں چھوڑ دے وہ جبیں چاہیے بندگی کے لیے


ہلکے ہلکے جو دل کو سرور آئے ہیں بزم میں کملی والے ضرور آئے ہیں

ہاتھ پھیلاوؔ کشکول لے کر سبھی بٹ رہے ہیں کرم ہر کسی کے لیے


سامنے ہوں وہ گنبد کی ہریالیاں دیکھ لوں آپ کے روضے کی جالیاں

اے میرے چارہ گر کردے مجھ پر نظر کب سے بے چین ہوں حاضری کے لیے


داتا ہجویری، لاثانی، مہر علی، خواجہ، ہند الولی، میرے غوث جلی!

کیسے کیسے دیے میرے محبوب نے یہ نگینے ہمیں روشنی کے لیے


جس کے لب رہا امتی امتی یاد اِن کی نہ بھولو نیازی کبھی

وہ کہیں امتی تو بھی کہہ یا نبی میں ہوں حاضر تیری چاکری کے لیے