یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی ۔ صائم چشتی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

شاعر: صائم چشتی

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی

آتیوں سے ملاتا رہا آیتیں پھر جو دیکھا تو نعتِ نبی بن گئی


کون ہے جو طلبگار جنت نہیں یہ بھی تسلیم جنت ہے باغِ حسین

حسنِ جنت کو جب سمیٹا گیا مصطفیٰ کے نگر کی گلی بن گئی


جب کیا تذکرہ حسن سرکار کا والضحیٰ پڑھ لیا والقمر کہہ دیا

آتیوں کی تلاوت بھی ہوتی رہی نعت بھی بن گئی بات بھی بن گئی


جب بھی آنسوں گرے مرے سرکار کے سب کے سب ابرِ رحمت کے چھینٹے بنے

ہوگئی رات جب زلف لہراگئی جب تبسم کیا چاندنی ہوگئی


سب سے صائم زمانے میں مجبور تھا سب سے بے کس تھا بے بس تھا مجبور تھا

میری حالت پہ ان کو رحم آگیا میری عظمت میری بے بسی بن گئی [1]
  1. مصرع میں ٹائپو ہے