ہم زمانے میں پھرے ، دل کو حرم میں رکھا ۔ نورین طلعت عروبہ

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

شاعر: نورین طلعت عروبہ

نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم[ترمیم]

ہم زمانے میں پھرے ، دل کو حرم میں رکھا

حرمِ پاک کو اِس دیدۂ نم میں رکھا


جوبھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے

اسمِ احمدؐ نے یہ اعجاز قلم میں رکھا


دل کو دُنیا کے جھمیلوں میں اُلجھنے نہ دِیا

اِس کوبس جستجوئے باغِ ارم میں رکھا


دوش پرلے کے صبا مُجھ کومدینے پہنچی

جذبۂ شوق کوہر ایک قدم میں رکھا


خاکِ طیبہ کونگاہوں سے نہ اوجھل جانا

اِس تصّور کوعرب اور عجم میں رکھا


روزِ محشر بھی عنایت کی نظر ہو،جیسے

عمر بھر سایۂ دامانِ کرم میں رکھا


رسائل و جرائد جن میں یہ کلام شائع ہوا[ترمیم]

نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25