کملی والے میں قرباں تری شان پر ۔ صائم چشتی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

شاعر: صائم چشتی

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

کملی والے میں قرباں تری شان پر

ٹھوکریں کھا کے گرنا مرا کام تھا


ساقیا! جان قرباں ترے جام پر

چھوڑ دی میں نے کشتی ترے نام پر


ظلم جانوں پہ جب بے بہا کرلیے

تیرے مجرم ترے در پہ حاضر ہوئے


پوری سرکار سب کی تمنّا کرو

دور طیبہ سے روتے تڑپے ہیں جو


فیض جاری ترا تا قیامت رہے

تیری محبوب چوکھٹ سلامت رہے


تو نے قطروں کو دیکھا گُہر کر دیا

تو نے حبشی کو رشکِ قمر کر دیا


کس سے جا کر شہا دل کی حالت کہے

تیری نعتیں سنانا مرا کام ہے


سب کی بگڑی بنانا ترا کام ہے

ہر قدم پر اٹھانا ترا کام ہے


ہو نگاہِ کرم اپنے خُدّام پر

اب کنارے لگانا ترا کام ہے


جرم وعصیاں شہا حد سے جب بڑھ گئے

اب انھیں بخشوانا ترا کام ہے


ہر بھکاری کی داتا جی جھولی بھرو

اُن کو در پر بلانا ترا کام ہے


تیری نبیوں پہ قائم امامت رہے

کنزِ رحمت لٹانا ترا کام ہے


تو نے ذروں کو دیکھا تو زر کر دیا

الٹا سورج پھرانا ترا کام ہے


کس سے جا کر یہ فریاد صائم کرے

میرے غم کو مٹانا ترا کام ہے