کلامِ محسنؔ کاکوروی ایک تنقیدی مطالعہ ۔ سلیم شہزاد

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

22552547 1414849971926102 6847160094441319601 n.jpg

مضمون نگار: سلیم شہزاد

مطبوعہ : نعت رنگ ۔ شمارہ نمبر 27


ABSTRACT[ترمیم]

The article placed hereunder deals with critical study of a long Natia Qasida of Mohsin Kakorvi. Lakhnavi stylistic tradition was adopted by Mohsin Kakorvi which created ambiguity and departure from religious norms in most of the couplets. Following Lakhnavi tradition and placing sub-continental religious atmosphere in poetry had had criticized by contemporaries of Mohsin Kakorvi. Renowned critic Hasan Askari applauded creative skill of Mohsin with some reservations but could not justify appreciation of amalgamation of Hindu and Islamic expressions, besides Lakhnavi tradition which, for him, was negative and positive at a time.

کلامِ محسن کاکوروی ایک تنقیدی مطالعہ[ترمیم]

بادل کوکاشی کی سمت سے متھرا کی طرف چلا کر محسن کاکوروی(۱۸۲۶ء تا۱۹۰۵ء) نے بڑی عزت و شہرت حاصل کرلی تھی۔نعتیہ قصیدے میں خالص ہندوستانی ثقافتی حوالے نظم کرنے کی وجہ سے ان کے لامیہ قصیدے سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل پر بعض شعرا و علما کی طرف سے اعتراضات بھی کیے گئے تھے کہ اس کی شعری لفظیات گنگا جل؍گھر میں اشنان کریں؍ گوپیوں کا دل بیکل ؍جو گیا بھیس؍ بھبھوت؍ بیراگی؍ پربت پہ بچھائے کمبل ؍ملار چھیڑنا؍برج میں شری کشن، کنھیا ؍گوکل؍ متھرا بنارس/راجا اندر وغیرہ وغیرہ تخلیق میں محل نظر ہے۔ مگر محسن کی تقدیسی شاعری میں مثلاً اس قصیدے کے علاوہ ’’صبح تجلی‘‘ اور ’’ چراغ کعبہ‘‘ نامی ان کی مثنویوں میں، لات وہبل، زہرہ و مشتری، مریخ و زحل جیسے اسطوری کرداروں کے حوالے آئے ہیں۔ ان کے ساتھ یونان کے مشرک فلاسفہ اورایران کے مشرک بادشاہوں اور دیوتاؤں کو بھی اردو فارسی شاعری میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شعری اظہار کا حصہ بنا یا گیا ملتا ہے۔ اس لحاظ سے گنگا جمنا، رام، کرشن وغیرہ ہندوصنمیات کے حوالوں کو یکسر تیاگ کر اپنے فنی اظہار کو کم مایہ کرنا مستحسن نہیں۔ محسن کاکوروی پر اپنے مقالے میں محمد حسن عسکری نے اس تعلق سے دو رخی اپنائی ہے کہ وہ مذکورہ ثقافتی عوامل کی لامیہ قصیدے میں موجودگی کی حمایت تو نہیں کرتے لیکن محسن کی تقدیسی شاعری میں غیر اسلامی ( اگرچہ اسلامی روایات میں مقبول) متعدد تصورات کی مخالفت بھی نہیں کرتے۔ عسکری کی دورخی ذیل کی سطروں میں ملاحظہ کیجیے۔ کہتے ہیں:

نعت رسول میں مناسبات کفر کا استعمال غیر مشروع ہے مگر محسن کا قصور معاف ہوگیا بلکہ عیب ہنر ٹھہرا۔

عسکری نعت میں مناسبات کفر کے استعمال کو غیر مشروع سمجھتے ہیں۔ محسن نے یہ اقدام کیا تھا اور تنگ نظروں نے اس کی مخالفت بھی کی تھی لیکن عقائد کے غلو نے جو محسن کے ساتھ ساتھ ان کے قارئین کی فکر میں بھی رچا بسا تھا، انھیں معاف کر دیا، عسکری کہتے ہیں کہ محسن کے عیب(نعت میں مناسبات کفر کے استعمال کو) ہنر تسلیم کر لیا گیا۔ عسکری نے ان کے کلام کی خوبیاں گنائی تو ہیں مگر انھیں ایسے شرعی عیب بھی قرار دیا ہے جو بقول نقادخلوص پرست لوگوں کے خیال میں غزل کو نیم وحشی صنف سخن بنادیتے ہیں۔ محسن ایسا عاشق صادق ہے جو ہر بات بناوٹی کرتا ہے۔

یہ آخری جملہ بظاہر محسن کے معترضین کے حوالے سے کہا گیا ہے مگر یہی عسکری کے بھی من کی بات ہے۔کیوں کہ محسن لکھنویت کا اسیر ہے اس لیے اس کی ہر بات بناوٹی ہے۔ اس تعلق سے نقاد پھر کہتا ہے کہ محسن متاثر بھی ہوئے تو کس سے؟’’ مثنوی گلزار نسیمؔ ‘‘ سے جو آج کل اردو تنقید میں تصنع اور مہمل گوئی کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ ’’ چراغ کعبہ‘‘ اور ’’ صبح تجلی‘‘ کی بحر تک وہی ہے جو’’ گلزار نسیم‘‘ ؔ کی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ نسیمؔ کی مثنوی لفظی صنعتوں بلکہ زیادہ تر لفاظی، ایہام، اشکال، پیچیدہ لسانی تعملات اور تراکیب سے پُر ہے۔ محسن کی مذکورہ مثنویوں کا حال بھی نسیمؔ سے مختلف نہیں۔ بقول عسکری یہاں ہر وہ چیز موجود ہے جسے معیوب سمجھنے کی تلقین سو سال سے ہو رہی ہے۔ مگر صنائع بدائع کی شعریات کو بری چیز سمجھنے کے باوجود عسکری ،محسن کے کلام میں اسے روا گردانتے ہیں اور یہی ان کی تنقیدی دو رخی کی مثال ہے۔ لکھنو کی بہت سی شاعری کی خرابی یہ ہے کہ وہاں خیال آرائی، مناسبت لفظی، رعایت، ایہام گوئی وغیرہ بجاے خود مقصد بن گئی ہے۔ عسکری کی دو رخی یہاں بھی ظاہر ہوتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ محسن کے یہاں یہ چیز مقصد نہیں، وسیلہ ہے۔اگر محسن ،نسیم کی لکھنویت کے گرویدہ تھے اور اپنے کلام میں لکھنویت کے سارے عوامل برتتے بھی تھے تو اسے اب وسیلہ نہیں، مقصد ہی مانا جائے گا۔ ’’صنائع بدائع کی بھرمار‘‘ والی مثنوی نے اگر محسن کو متاثر کیا تھا تو ان کے کلام میں لکھنویت؍ناسخیت کو محض مقصد سمجھنا محل نظر نہیں۔

اور اب ملاحظہ کیجیے عسکری تنقید کی وہ تصویر جس میں وہ اپنی ہی منقودہ تخلیقات کو امتیازی درجے کی چیزیں قرار دیتے ہوئے ہچکچاتے بھی نہیں۔ ان کے مطابق محسن کے مجموعۂ کلام میں تین چار چیزیں ایسی موجود ہیں جو نہ صرف نعتیہ شاعری میں بلکہ پوری اردو شاعری میں ایک امتیازی درجے کی مستحق ہیں مثلاً دو مثنویاں’’ چراغ کعبہ‘‘ اور ’’ صبح تجلی‘‘، ایک ’’ سراپا ے رسول V‘‘ اور وہ لمبی غزل جس کا مطلع ہے مٹانا لوحِ دل سے نقشِ ناموس اب وجد کا دبستان محبت میں سبق تھا مجھ کو ابجد کامولانا حالیؔ کے مفلر کا بے وجہ مذاق اڑانے والے عسکری کی تنقیدی محویت کا یہ عالم ہے کہ ایک سو ایک اشعار کے قصیدے کو وہ’’ لمبی غزل‘‘ کہتے ہیں، شاید اس لیے کہ اس کے ابتدائی اشعار پر لگائے گئے عنوان’’ غزل تشبیب‘‘ نے انھیں فریب دیا ہو۔ یہاں عسکری کے مطابق اسی ’’ لمبی غزل‘‘ کا جائزہ مقصود ہے۔

یہ تخلیق غزل نہیں، روایتی شناخت کا حامل ایک قصیدہ ہے یعنی اس میں تشبیب،گریز، مدح، دعا وغیرہ کے عوامل برتے گئے ہیں بلکہ قصیدے کی ساخت میں شامل تشبیب کے علاوہ اس میں گیارہ اشعار کی ایک غزل بھی پائی جاتی ہے اور صنفی تقاضے کے مطابق قصیدے میں تین چار مطلعے رکھے گئے ہیں۔ لکھنویت ؍نا سخیت کے سارے رنگوں میں اس قصیدے کے اشعار شرابور ہیں اس لیے شعری اظہار میں ہنر مندی کے مظاہرے کا مقصد اس کے لیے واقعی عیب بن گیا ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ ’’ گلزار نسیمؔ کی بحر(مفعول مفاعلن فعولن؍مفاعیل: بحر ہزج مسدس اخرب اشتر محذوف؍ مقصور) اور اس کا اسلوب برتنے ہی پر اشعار میں معمگی، ایہام، اشکال وغیرہ کے جراثم پیدا ہوں۔ آتشؔ و ناسخؔ کے زمانے میں صرف مذکورہ بحر کا رواج نہیں تھا، شعرا اور بھی بحروں میں شعری اظہار کرتے تھے سو محسن نے زیر نظر قصیدے کے لیے جس کا عنوان’’ ابیات نعت‘‘ ہے، بحر تو بحر ہزج ہی اختیار کی ہے مگر اس کے سالم ارکان کے ساتھ یعنی مفاعیلن چار مرتبہ لیکن ’’ گلزار نسیمؔ ‘‘ یا اپنی مثنویوں ’’ صبح تجلی؍ چراغ کعبہ‘‘ کی طرح اس وزن کے قصیدے میں بھی صنائع بدائع کی بھر مار کو شاعرکا مقصد بنا کر رکھ دیا ہے اس لیے قصیدے کا ہر شعر بقول شاعر طور کی چوٹی میں موباف زری کی طرح پڑا ہوا ہے۔ چوٹی اور موباف کی شاعری کا انجام یہی ہوتا ہے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کچھ اور ہوجاتا ہے کچھ۔ ایک سو ایک اشعار میں کسی شعر کا صنعت سے خالی نہ ہونا شعری اظہار کا کمال تو ہو سکتا ہے لیکن ایسے قصیدے، غزل، نظم وغیرہ کو پڑھتے ہوئے قاری لفظی کھینچ تان میں الجھ کر رہ جاتا اور اس کا مفہوم تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ دس بیس اشعار سے قطع نظر یہاں محسن کے ’’ ابیات‘‘ کی صناعی کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

محسن کا مطلع پھر پڑھیے ؂

مٹانا لوحِ دل سے نقشِ ناموس اب وجد کا

دبستان محبت میں سبق تھا مجھ کو ابجد کا

اس شعر میں عطفی ترکیب ’’ اب و جد‘‘ اور حرفی ترکیب ’’ابجد‘‘ میں تجنیس مرکب ہے پہلی ترکیب سے ’’ اب‘‘ اور ’’ جد‘‘ کا جب کہ دوسری ترکیب سے عبرانی حروف تہجی ’’ اب ج د‘‘ کا مرکب بنتا ہے۔ ’’اب ‘‘بمعنی ’’باپ‘‘ اور ’’جد‘‘ بمعنی ’’ دادا‘‘ شعر میں کچھ معنی نہیں رکھتے۔ ’’ اب وجد‘‘ اور ’’ ناموس‘‘ میں رشتہ ضرور ہے مگر’’ دبستا ن محبت‘‘ میں اس ناموس کے نقش کو مٹانا میرے (یعنی شاعرکے)لیے بالکل ابتدائی سبق کیسے بن گیا تھا؟پھر شاعر ناموس اب وجد کے نقش کو مٹانا کیوں چاہتا ہے؟(جب کہ یہ باپ دادا کا نام ڈبونے کے مترادف ہے) یہ بھید نہیں کھلتا ۔ بے ربط لفظی ترکیبوں نے شعر کو بے معنی کردیا ہے۔

الٰہی، کس کے غم میں نکلے آنسو چشم فتا ّ ں سے

کہ عطر فتنہ میں ڈوبا ہے رومال اُس سہی قد کا

اس کی یعنی معشوق کی فتنہ خیز آنکھوں سے کس کے غم میں آنسو نکل رہے ہیں۔(جب کہ معاملہ عشق میں الٹا ہوا کرتا ہے، رونا تو عاشق کا نصیب ہے ۔ شعر میں’’ اسے‘‘ معشوق فرض کرنا مجبوری ہے) مگر یہ آنسو کہاں ہیں، یہ تو عطر فتنہ ہے جسے صاف کرتے کرتے سہی قد(معشوق) کا رومال تر ہوگیا ہے۔ متن کے حاشیے میں وضاحت ملتی ہے کہ

ع اشکِ جسم فتاّں با عطر فتنہ لفظاً مناسبت دارد

مگر کسی نعتیہ خیال سے اس شعر کو قطعاً مناسبت نہیں(’’عطر کے آنسو رونا‘‘ بھی بڑا عجیب خیال ہے)

کہا ں ہے آتشِ یاقوتِ لب میں وہ بھڑک باقی کہ خطِ سبز نے چھینٹا دیا آبِ زمرد کا معشوق (یہاں بھی معشوق کی موجودگی فرض کرنا لازمی ہے)کے یاقوتی لب کی آتش میں اب شعلگی (بھڑک ) باقی نہیں رہ گئی ہے کیونکہ سبزۂخط کے بڑھ آنے سے معشوق کے لب و رخسار کی رونقیں جاتی رہی ہیں۔’’ خطِ سبز ‘‘ اور ’’ آبِ زمرد‘‘میں رنگ کی مناسبت ہے۔’’ یا قوت‘‘ اور ’’ زمرد‘‘ بھی رنگوں کا وصف رکھتے ہیں مگر معلوم نہیں ہوتا کہ نعت میں ایسے بے رونق معشوق کا تذکرہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

کنا رے پر بٹھا لے مجھ کو ظالم ، اپنی محفل میں

گناہِ شوقِ بے حد سے جو میں ہوں مستحق حد کا

’’ کنارے ‘‘ اور ’’ حد‘‘ میں مناسبت ہے ۔لفظ ’’ حد‘‘ گناہ کی ’’ سزا‘‘ کے معنی میں بھی آگیا ہے اور ’’ بے حد ‘‘ سے تضاد کا ربط رکھتا ہے۔ ’’ ظالم ‘‘ (یعنی وہی معشوق)سے خطاب بتا رہا ہے کہ یہ شعر نعت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔

بنایا خامۂ مو کو ہمارے دستِ لا غر سے

کھنچا لیکن نہ دامن،اے مصور،اس سہی قد کا

’’ دست ، دامن ،کھنچا‘‘ میں پہلی اور ’’ مصور‘‘ اور ’’ کھنچا‘‘ (یعنی مصور کا نقش کھینچنا )میں دوسری رعایت ہے ۔ ’’ مو‘‘ اور ’’ لاغر‘‘ لکھنوی شاعری کے ایسے معنوی ساختیے ہیں جن کا قواعدی ربط (موصوف ؍ صفت ) شعری اظہار کی روایت کا درجہ رکھتا ہے ،یہاں نعتیہ تخلیق میں جس کا محل نہیں۔

اڑیں گے چٹکیوں میں تیر ترکش سے جدا ہوکر

ہمارے بعد ہے اللہ تیرے ظلم بے حد کا

تیر کشی اور چٹکی کے ربط میں مناسبت ؍ رعایت ہے لیکن ’’ چٹکیوں میں اڑیں گے ‘‘ (یا اڑائے جائیں گے ) کہنے سے تیروں کی بے وقعتی کا اظہار بھی مقصود ہے یعنی تیروں کی کثرت ہوگی ،تیرا (معشوق کا) ظلم مزید بڑھے گا ۔ شعر کے کسی لفظ سے نعت کا رشتہ نظر نہیں آتا۔اگلے شعروں میں معشوق کے لیے ضمیر ’’ وہ ؍ اسے ‘‘ لائے تھے، اب اسے ’’ تیرے ‘‘ سے خطاب کیا جا رہا ہے، شعر کا یہ عیب شتر گربہ کہلاتا ہے۔

چھپے تم مجھ سے کیوں ، سب ہنستے ہیں، شاخیں نکلتی ہیں

تمھارے پردے میں عالم ہے ذوالقرنین کی سد کا

’’ شاخیں نکلتی ہیں‘‘ یعنی بات ؍ عمل پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کہ تم مجھ سے کیوں چھپ گئے ۔ تمھارے اس طرح چھپنے پر سب ہنستے بھی ہیں۔دوسرا مصرع تشبیہی ہے کہ تمھارا چھپنا ذوالقرنین کی سد کے چھپنے کی مصداق ہے۔’’ شاخیں‘‘ اور ’’ قرنین ‘‘ میں معمولی رعایت ضرور ہے مگر اس تشبیہ میں وجہ شبہ موجود نہیں (معشوق کے چھپنے اور سد سکندری کے چھپے ہونے میں کوئی فطری ؍ فنی ربط نہیں پایا جاتا) اس لیے تشبیہ بے معنی ہو گئی ہے۔نعتیہ ربط بھی مفقود ہے۔

موٗا میں ناتواں ،سن کر صداے پاے دل بر کو

مجھے کھٹکا تھا مثلِ ہمزۂ وصل اس کی آمد کا

مؤلف نے حاشیے میں یہ وضاحت کی ہے : قاعدہ عربی زبان کا ہے کہ ہمزۂ وصل بحالت وصل کلام کے تلفظ میں نہیں آتا(مطلب) میری ناتوانی کا یہ حال ہے کہ یار کے آنے کی خوشی بھی برداشت نہیں کر سکتا ہوں کہ صداے پاے دل بر سنی اور میرا وصل ہوا۔

یہاں ’’ ہمزۂ وصل ‘‘ کی مزید وضاحت ضروری ہے کہ ہمزہ یہاں حرف الف کے مترادف ہے یعنی ذکر ہو رہا ہے ’’ الفِ وصل ‘‘کا جو گفتگو یا شعر میں بعض مرتبہ اپنے سے پہلے آنے والے حرف صحیح میں ضم ہو کر ادا کیا جاتا ہے مثلاً اسی شعر کے دوسرے مصرع میں فقرہ ’’ وصل اس کی ‘‘ کا تلفظ ’’وَ ص لُس کی‘‘ کیا جارہا ہے یعنی لفظ ’’ اس ‘‘ کا الف’’ وصل‘‘ کے لام میں شامل ہو رہا ہے۔شعر میں وہی عاشق کی بے انتہا لاغری کا مضمون نظم کیا گیا ہے جیسا کہ اقتباس سے بھی واضح ہے لیکن اس میں مزید لکھنویت پائی جاتی ہے:الف کانٹے کی طرح ہوتا ہے اور شعر میں لفظ ’’ کھٹکا‘‘ اسی رعایت سے لایا گیا ہے ۔یہ دراصل ہمزہ یا الفِ وصل نہیں بلکہ ایک کانٹا ہے جس نے مجھ جیسے لاغر میں کھب کر مجھے مار ہی ڈالا۔

لکھے رو رو کے مضموں بے کسی کے ، دشتِ غربت میں

زمینِ شعر پر عالم ہوا دریا بر آمد کا

رونے سے دشتِ غربت میں دریا بہنے چاہیے تھے مگر دریا بر آمد ہو رہا ہے زمینِ شعر پر۔’’ دشت/ زمین‘‘ میں معمولی مناسبت کے سوا شعر میں کچھ نہیں۔

تری ،بازار میں ، ایماں فروشی رکنِ طاعت ہے

دمِ سودا بنا سنگِ ترازو سنگ اسود کا

معشوق بازار میں ایماں فروشی کو اپنی عبادت سمجھتا اور ( کسی سے ایمان کا ) سودا کرتے ہوئے وہ سنگ اسود کو ترازو کے باٹ کی جگہ استعمال کرتا ہے۔ ’’ بازار، فروشی ، سودا، ترازو، سنگ‘‘ کے لفظوں میں مناسبت ہے اگرچہ ان سے کوئی شعری مضمون نہیں بن سکا ہے۔’’ سودا؍ اسود ‘‘ میں رنگ(سیاہ) کی رعایت ؍ ایہام ضرور ہے لیکن شعریت سے خالی بھی ہے۔سنگ اسود کو سنگ ترازو سے مما ثلت دینے میں کوئی تُک ، کوئی شعری مناسبت ، کوئی وجہ شبہ نہیں پائی جاتی۔

تری کیا بات ہے ،اے شاہد پاکِ سخن، واللہ

عجب انداز ہے ناز و ادا کا ، چال کا، قد کا

معشوقِ سخن کو جب پاک کہہ دیا تو اس کی تعریف میں اب دوسرے مصرع جیسا مصرع کہنا فضول تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معشوقِ بازاری کے لیے کہا گیا ہے۔آگے نو اشعار اسی معشوق کے نا ز و ادا ،رفتار موزوں، زلف رسا، چشم اسود، قد و قامت، ابروے کشیدہ، گیسوے مسلسل، موٗے معقد، دہانِ تنگ وغیرہ کی مد ح میں لکھے گئے ہیں۔ان میں صنائع لفظی کو خوب برتا ہے مگر یہ شعریت سے عاری ہیں مثلاً حرف آنا، مصرعِ قد کا سیدھا ہونا، زلف رسا یعنی شعر کا لٹکا، غزل :چشم اسود کا کرشمہ، سویدا( یعنی مسودہ) لکھنے والے کو خال خال قد یار کا تصور آنا ، بعینہ ؍ سورۂ صاد میں عین اور صاد چشم کی مشابہت ، گھنگھر یالے گیسوؤں میں چیستاں ؍ معمے کی سی کیفیت ،دہانِ تنگ کا صفر؍ مشکوک ؍ ندارد ہونا وغیرہ ساری لفظیات آتش ؔ و ناسخؔ وغیرہ کی لکھنوی شعریات کا حصہ ہوگئی ہے۔

ملا ہے لب کو جس کے وصف سے گنجینۂ معنی

زباں نے رتبہ پایا ہے کلید قفل ابجد کا

اس شعر میں ’’ لب؍ گنجینہ ‘‘ کے استعارے میں وجہ جامع نامعلوم ہے ۔زبان کو ’’ گنجینۂ معنی‘‘ کہتے تو صحیح ہوتا مگر زبان کو کلید کہہ دیا گیا ہے اور وہ بھی ایسے تالے کی جس کے لیے الگ سے کلید کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگلے شعر

بچھا کر فرشِ اطلس کو ، جما کر عرش و کرسی کو

ازل سے انتظار اللہ کو تھا اس کی آمد کا

کا دوسرا مصرع عقیدے اور عقیدت دونوں کے رو سے بے حد محل نظر ہے ۔ ’’ ازل‘‘ زمانے کی ایک حد کا تصور ہے۔جسے شاعر نے اللہ تعالیٰ سے ہمرشتہ فرض کرکے اللہ کے لیے ’’ ازل‘‘ کی پابندی متعین کردی ہے گویا مخلوقات کی طرح اللہ بھی ازل ( اور ابد) کی حدود میں قید ہے( معاذ اللہ)اور کسی عاشق کی طرح اپنے معشوق کی آمد کے انتظار میں ہے ۔جب کسی کا انتظار کیا جاتا ہے تو منتظرکے لیے ایک ایسے مقام کا تعین یقینی فرض کرلیا جاتا ہے جو انتظار کرنے والے کے مقام سے الگ ؍ دور ؍ کہیں اور واقع ہے۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب ’’ اس کا ‘‘ (یعنی معشوق ؍ رسول کا) انتظار کر رہا تھا تو ’’ وہ ‘‘ کہاں تھا؟

قدم آنے سے جس کے مصرشہرستانِ امکاں میں

ہوا ہے یوسف کنعاں لقب حسن مقید کا

ترکیب[ترمیم]

مصر شہرستانِ امکاں‘‘ میں یا لفظ مصرزائد ہے یا لفظ شہرستان( واضح رہے کہ مصر کے معنی خود شہر ؍ شہرستان کے ہیں) پھر ’’ یوسف کنعاں‘‘ کا مصر امکاں سے کیا رشتہ؟وہ تو مصر حقیقی سے تعلق رکھتے تھے یعنی پہلے سے ایک شہر کی حدود میں مقید تھے ۔’’ امکاں ‘‘ سے ان کا رشتہ جوڑ کر انھیں بلا وجہ ’’ غیر محدود‘‘ بنادیا ہے ، ’ ’ یوسف؍ مقید‘‘ میں بھلے ہی رعایت پائی جاتی ہو۔

ہمارا خواب غفلت تکیہ گاہِ مغفرت ٹھہرا

بروز حشر بن کر خواب مخمل جس کی مسند کا

’’ اپنے‘‘ خواب غفلت کو حشر کے دن ’’ تکیہ گاہِ مغفرت ‘‘ کہنا ، خواب غفلت کی منفیت کو مثبت ثابت کرنے کے مترادف ہے۔پھر یہ غفلت ’’ اس کی ‘‘ یعنی رسول اکرم V کی مسند پر چڑھا ہوا مخملی غلاف بھی ہو تو آپ ؐ کے مرتبے کے علو پر سوالیہ نشان لگتا نظر آتا ہے۔ مستزاد یہ بھی کہ شعر کے الفاظ اپنی مکمل نحوی ساخت نہیں بناتے۔نثر کرنے پر شعر سے ادھورا جملہ ہاتھ آتا ہے یعنی اس طرح :

بروزِ حشر ہمارا خوابِ غفلت خواب مخمل بن کر جس کی مسند کا تکیہ گاہ مغفرت ٹھہرا۔

یہاں ضمیر موصولہ’’ جس ‘‘ کی بجاے ضمیر’’ اس ‘‘ لانا چاہیے تھا جس سے رسول اکرم V کی طرف اشارہ ہو جاتا۔

بیاضِ عارضِ صورت ، سوادِ گیسوے معنی

جواہر سرمہ چشمِ گردشِ چرخ زبر جد کا

شاعر نے ’’ چشمِ گردشِ چرخِ زبر جد‘‘ کا سرمۂ جواہر( شعر میں جواہر سرمہ: مقلوبی ترکیب)دو رنگوں کو بتایا ہے جو پہلے مصرع کی دونوں ترکیبوں میںآئے ہیںیعنی بیاض( سفیدی) اور سواد( سیاہی) لیکن دوسرے مصرع کی ترکیب میں لفظ ’’ گردش‘‘ حشو محض ہے کیوں کہ سرمہ چشم کے لیے ہوتا ہے ، گردش کے لیے نہیں۔پہلے مصرع کی ترکیبوں میں بیاض ؍ سواد اور صورت ؍ معنی کے تضاد کی صنعت ضرور برتی گئی ہے لیکن ان میں بھی ’’ صورت ‘‘ اور ’’ معنی‘‘ کے الفاظ بھر تی کے ہے۔ صورت میں عارض شامل ہے:’’ عارض صورت ‘‘ کہنا لغو ہے کیوں کہ ’’ عارض دست‘‘ وغیرہ نہیں پائے جاتے ۔ اسی طرح ’’ سواد گیسو‘‘ تو بر محل ہے لیکن ترکیب میں ’’ معنی‘‘ کو شامل کرکے انھیں ’’ سواد‘‘ یعنی سیاہی سے ہمر شتہ کرنا معنی کو منفی کردینے کے مترادف ہوگا۔

جِلاے کن فکاں ، روشن گر آئینۂ عالم

سعادت ہے ، شرف ہے نیّر نورِ مجرد کا

’’ نیر نور مجرد‘‘ رسول اکرمV کی طرف اشارہ ہے جن کی دو صفات ’’ جلاے کن فکاں‘‘ اور ’’ روشن گر آئین�ۂ عالم‘‘ ہونا بیان کی گئی ہیں۔ ’’جِلا‘‘ آئینے سے مخصوص ہے اس لیے یہاں ’’ جلاے آئینۂ عالم‘‘ کہنا صحیح ہوتا ۔ اسی طرح اسم فاعل ؍ صفت ’’ روشن گر‘‘ کو فقرے ’’ کن فکاں‘‘ سے مربوط کرتے جو زبان کے استعما ل کا تقاضا تھا۔

مےِ انگوریِ الفقرُفخری کی حلال اس نے

لڑا ہے جامِ جم سے سنگِ مقصود اس کے مقصد کا

’’ مے، انگور،جام‘‘ میں مناسبت ہے لیکن ’’ انگوری ؍ فخری‘‘ کی رعایت رسول اللہ کے قول ’’ الفقرفخری ‘‘ کی عظمت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔ (نعوذباللہ) ’’ فخری‘‘ انگور کی ایک قسم ہے، یہ جاننے کے بعد حدیث کے لفظ ’’ فخری‘‘ کی رعایت میں اسے دیکھیں تو لکھنوی لفاظی قابل مذمت ٹھہرتی ہے ۔

سریر جاہ پر فخر اس کو دیہیم توکل سے

حریم ناز میں تکیہ خدا پر، اس کی مسند کا

’’ اللہ پر بھروسا‘‘ جیسے آسان خیال کو ’’ سریر، دیہیم؍توکل، تکیہ، حریم، جاہ‘‘ کے بھاری پتھروں تلے رکھ دیا ہے۔

کھنچی ہے رحمت یزداں کی گویا شکل مستقبل

تعالیٰ اللہ رنگ عارض اس نور مجرد کا

سر تاکید منظور خدا ہے لامِ کاکل سے

ہوا اظہار دو ابرو سے ، اک نونِ مشدد کا

حاشیے میں کہا گیا ہے کہ لفظ ’’ مستقبل ‘‘ ( ب مفتوح) پوری تصویر کو کہتے ہیں( پوٹریٹ) علاوہ شاعرانہ مضمون کی خوبیوں کے ، ان دو اشعار سے بہ قاعدۂ علم معما ، لفظ ’’یرحمنّ‘‘ ظاہر ہوتا ہے(لفظی معنی:ضرور رحم کرے گا) پہلے شعر میں ’’ رحمت‘‘ سے مستقبل ( مضارع) کا صیغہ ’’ یر حم‘‘ ہوتا ہے۔ دوسرے شعر میں لام ’’ یر حم‘‘ کے اول میں اضافہ کرکے نون مشدد ( تاکیدی)آخر میں بڑھایا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ عارض انور لیرحمنّ ظاہر ہوتا ہے۔ (مضارع کے علاوہ دوسرے قوسین مبصر نے لگائے ہیں)

پہلے شعر میں ضمیر’’ اس ‘‘ سے اشارہ رسول اکرم V کی طرف ہے جن کے رنگ عارض کو رحمت یزداں کی تصویر قرار دیا ہے۔ یہ بات محض ایک شاعرانہ خیال ہے اور محل نظر ہے کیوں کہ صرف آپ کے عارض کا رنگ رحمت نہیں بلکہ آپ کا وجود عالی سر تا سر رحمت تسلیم کیا جاتا ہے۔ وضاحت میں رحمت ؍ یرحم ؍ لیر حمنّ کا معما بھی سلجھا یا گیا ہے لیکن ’’ رحمت ‘‘ سے مستقبل ( مضارع ) کا صیغہ ’’ یرحم‘‘ ہوتا ہے، یہ بات شعر میں کہیں نظر نہیں آتی۔ ’’ لام کاکل ‘‘سے اللہ کی تاکید کیسے ظاہر ہو رہی ہے، یہ معما لا ینحل ہے ۔ لام اور نون مشدد عربی میں حروف تاکید ضرور ہے مگر لفظ ’’ کاکل ‘‘ کے لام کو سر تاکید رکھ کر یہ معنی کیسے پیدا ہو سکتے ہیں؟’’ دو ابرو‘‘ کو نون مشدد کہنا بھی محل نظر ہے کیوں کہ ابرو نون کی طرح نہیں ہوتے۔

تصور کرنے والے آپ کے بے شبہ ناجی ہیں

بھروسا ہے ہمیں اللہ کے قول مؤکد کا

اللہ کا ایساکوئی قول کسی قرآنی آیت یا حدیث میں نہیں ملتا۔اس شعر میں رسول اکرم V کو اب ’’آپ‘‘ سے مخاطب کیا ہے ( جو یقیناًضمیر غائب بھی ہے) مگر ایک ہی شخصیت کے لیے بار بار ضمیر بدلنا( جب کہ یہ تقاضا بھی نہیں) شتر گربہ ہے۔

ہدف ہو ہوگیا زور کماں دار نبوت سے

مقام قاب قوسین اکثر ادنیٰ تیر مقصد کا

یہ شعر جھوٹ محض ہے۔ رسول اللہ کی تیراندازی نے کبھی قاب قوسین کو ہدف نہیں بنایا ۔ایسا کوئی واقعہ ؍ معجزہ؍ حادثہ آپ کی سیرت میں کہیں ملتا نہیں۔صرف ’’قاب قوسین ‘‘ اور ’’ ادنیٰ‘‘ کی رعایت کے لیے شعر کہہ دیا گیا ہے۔

کشش جب قادر انداز ازل کا زور دکھلائے

کمان حاسے چلہ کیوں نہ اترے میم احمد کا

یہاں بھی شاعر نے رسول اکرم V کی قادر اندازی کا مضمون باندھا اور بلا وجہ میم احمد کا چلہ اتاردیا ہے۔حاشیے کی وضاحت کہتی ہے کہ لفظ ’’ احمد‘‘ سے میم کے چالیس عدد ( چلہ) نکال دیں تو ’’ احد‘‘ رہتا ہے۔

پہلے مصرع سے ظاہر ہے کہ رسول اکرم V آپ زورلگاکر میم کا چلہ اتار رہے ہیں( معاذ اللہ)

احد کو کیجیے یا احمد بے میم کو سجدہ

عجب مشکل ہے مضموں میرے مقصود مردد کا

اگر احد یعنی اللہ تعالیٰ اور احمد بے میم بھی’’ احد‘‘ ہے تو دوئی کہاں ختم ہوئی ( دوئی تو یہاں پائی ہی نہیں جاتی) جب کہ شاعر کہناچاہتا ہے کہ احد ( احمد بے میم ) کو سجدہ کروں یا احمد ( احد با میم) کو، فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ ویسے سجدہ تو احد یعنی احمد بے میم ہی کو روا ؍جائز ہے( احد با میم کو نہیں)

دوئی بھی عین وحدت ہے ، محمد نصِ ناطق ہے

مفسر ہے یہ جملہ آیۂ میم مشدد کا

حاشیہ ملاحظہ کیجیے : دوئی کے عین وحدت ہونے کی دلیل خود لفظ محمد ہے کہ میم در حقیقت ایک حرف ہے لیکن بہ وجہ تشدید کے دو بار پڑھا جاتا ہے۔ گویا میم مشدد کی تفسیر یہ ہے کہ دوئی بھی عین وحدت ہے۔

املا کے نکتے سے ’’ احد‘‘ اور ’’ احمد بے میم‘‘ میں تو یقیناًدوئی نہیں پائی جاتی مگر لفظ ’’ محمد ‘‘ کے میم سے دوئی میں وحدت کو ثابت کرنا استخراجی منطق کی بری مثال اور بلا وجہ کا تکلف ہے۔

ملا نونِ نبوت سب کو میم عمر کھونے پر

یہاں گھٹ جانے میں اس کے احد ہوتا ہے احمد کا

حاشیہ: انبیا علیہم السلام کو بعد چالیس برس کی عمر سے مرتبۂ نبوت ملا۔

شعر میں آتا ہے کہ نبوت کا صرف نون ملا یعنی پوری نبوت نہیں ملی۔ یہ شعری اظہار نہیں، مذاق ہے۔ پھر یہ بات کس تاریخ میں لکھی ہے کہ تمام انبیا کو عمر چالیس برس گزرجانے پر نبوت ملی؟ حضرت یحییٰ اور عیسیٰ ؑ تو اس عمر سے پہلے دنیا چھوڑ چکے تھے۔

ہُوا رتبے میں افزوں قافِ قلت کافِ کثرت سے

معما پاگئی چشم تامل صاد سے صد کا

’’قلت ؍کثرت‘‘ کے تضاد سے قطع نظر اگر علم الاعداد میں حرف قاف کی قیمت حرف کاف سے کم ہے تو اس کا کوئی تعلق مشیت؍ اتفاق؍ علو ؍ پستی وغیرہ سے نہیں ہے۔ ایسا ہے، بس ہے ۔اسی طرح’صاد‘ سے الف نکال کر اسے’’ صد‘‘ بنانے میں کوئی معما نہیں حل کرنا پڑتا ۔

چڑھا قافِ قدم تک اور اترا کانِ امکاں میں

ہے شور اس قلزم معجز نما کے جزر کا ، مد کا

’’ کان؍ امکاں ‘‘ میں تجنیس زائد اور’’ چڑھا؍ اترا ، جزر؍ مد‘‘ میں صنعت تضاد پائی جاتی ہے۔’’ شور؍ قلزم؍ جزر ؍ مد‘‘ میں مناسبت بھی ہے لیکن ’’ قدم؍ امکاں ‘‘ جنھیں حاشیے میں’’ دریاے حقیقت محمدی‘‘ کے جزرو مد بتایا گیا ہے، حقیقت الٰہی اور حقیقت رسول کو فلسفے کی سطحوں تک لے جاتے ہیں، اسلام جن کا متحمل نہیں’’ابیات‘‘ کے بعض اشعار میں محسن حروف تہجی ابجد، قاف، کاف، لام ، میم، نون وغیرہ کو شعری لفظیات کے طور پر برتا ہے۔ روایتی شاعری میں ایک صنعت ہے: صنعتِ افراد یعنی فرد فرد کرنا یا مفرد حروف کو شعرمیں اس طرح استعمال کرنا کہ ان کے ملنے سے کوئی بامعنی لفظ بن جائے جیسے ز و ل و ف(زے؍ لام؍ فے یعنی ’’ زلف‘‘) لیکن محسن کے شعروں میں آنے والے حروف سے بامعنی الفاظ نہیں بنتے( مثالیں گزر چکی ہیں) کیوں کہ وہ شعر کے کسی لفظ کو اس کے پہلے حرف کے ساتھ نظم کرتے ہیں مثلاً قافِ قدم، میم عمر، نون نبوت وغیرہ۔

ہوئی شام،آفتاب بت پرستی پر زوال آیا

مہِ نو خوب چمکا بد ر میں تیغِ محمد کا

’’ مہ نو؍ بدر‘‘ کی مناسبت سے قطع نظر ’’ تیغ‘‘ کو اگر غزوۂ بدر میں شامل اصحابؓ کے اسلحے کی نمائندہ فرض کریں تو اس وقوعے کے وقت حضرات اصحابؓ اسلحے کی قلت کے شکار تھے۔ شعر میں محض ’’ آفتاب؍ مہ نو؍ بدر‘‘ کے تلازمات نظم کر دیے گئے ہیں۔ ’’ مہ نو‘‘ کی شکل ’’ تیغ ‘‘سے مشابہت رکھتی ہے لیکن اس سے شعریت میں اضافہ نہیں ہوتا۔

اتارا کاسۂ سر باڑھ کے ڈورے نے دم بھر میں

ہُوا چاک اس سے گر برگشتہ ہو کر قلب مرتد کا

صرف’’ ڈورے ؍ چاک‘‘ کی رعایت ؍ مناسبت؍ ضلع کے لیے شعر کہا ہے۔ ویسے دوسرا مصرع معنی سے خالی ہے۔ ’’ برگشتہ؍ مرتد‘‘ کی رعایت سے قطع نظر کا سۂ سر اتارنے میں قلب کا بر گشتہ ہوکر گرنا محل نظر ہے۔

عداوت، ہوگئی تاثیر خُلقِ عام سے الفت

سبب ہے شعلہ سیلِ آبِ شمشیر مہند کا

’’ سیلِ آبِ شمشیر‘‘ میں غلو تک پہنچا ہوا مبالغہ تو ہے جو’’ آب دینے‘‘ میں ’’ شعلے‘‘ سے متلازم بھی ہے مگر معنی دورازکار ہیں۔( شعلہ؍آب کے تضاد سے قطع نظر)

عجب کیا ہے جوخوابِ ناز میں سوتی رہے ناگن

نہ کھولے آنکھ گر چھینٹا نہ دیں آبِ زمرد کا

اس شعر میں بھی عداوت کے الفت ہوجانے یعنی تاثیر کے الٹ جانے کا مضمون باندھا ہے مگر’’ابیات نعت‘‘ میں یہ کون سی ناگن خوابِ ناز کے مزے لے رہی ہے؟

نہیں حیرت کے قابل ، گر کہوں میں ارّہ واصل ہے

بیاں ہے یہ لبِ تشدید سے حرفِ مشددکا

حاشیے میں کہا گیا ہے: ارّہ کا کام کاٹ کرجدا کرنے کا ہے۔تشدید( ّ )کی صورت ارّہ سے مشابہ ہے۔ تشدید کی وجہ سے ایک حرف دوسرے حرف سے مل جاتا ہے۔

محض تشدید کی صورت سے ارّے کا کام نکال لیا ہے، ویسے ارّے میں صرف ایک تشدید نہیں ہوتی ۔ پھر حاشیے کے مطابق تشدید کی وجہ سے ایک حرف دوسرے حرف سے ملنے کی بجائے تشدید سے حرف کی تکرار ہوتی ہے۔ ایک حرف سے دوسرا حرف نہیں ملتا۔ اس شعر میں بھی نعتیہ کیفیت صفر ہی ہے۔

وصالِ حق سے حاصل ہے بقاے دائمی اس کی

یہاں ہے واصل و باقی نتیجہ ایک ہی مد کا

’’بقاے دائمی‘‘ ترکیب میں صفت زائد ہے، یا’’ بقا اس کی‘‘ کہتے یا ’’دوام اس کا‘‘ کہتے۔’’بقا، باقی ،مد‘‘ میں آمدو خرچ کی رعایت ہے جسے لکھنویت کا اثر کہنا چاہیے۔

پڑا لرزہ زمیں میں، جسمِ اطہر جب اسے سونپا

سکوں کے واسطے نافع ہوا تعویذ مرقد کا

محسن کہتے ہیں کہ جب وفات کے بعد رسول اکرمV کے جسم اطہر کی تدفین کی جارہی تھی تو زمین (مارے غم کے) کانپنے لگی۔ اس کی لرزش کو سکون اس وقت ملا جب آپ کے مرقد پر تعویذ نصب کیا گیا(کہ اس پر آپ کا اسم مبارک تحریر تھا) یہ گھڑا ہوا قصہ ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو اسے تاریخ پر الزام سمجھنا چاہیے۔

عجب کیا ہے اگر کعبہ لباس ماتمی پہنے

کرے ہم چشمی یعقوب دیدہ سنگِ اسود کا

’’ ہم چشمی کرنا‘‘ محاورہ ہے بمعنی ’’ مقابل آنا‘‘ کے۔ بقول شاعر یہاں سنگ اسود کا دیدہ حضرت یعقوب ؑ کے مقابل آیا، کہنا محاورے کا بے محل استعمال ہے۔ پھر ’’ہم چشمی یعقوب‘‘ سے اگر آنجناب کی ’’ بے نور آنکھیں‘‘مراد لی جائیں تو سنگ اسود تو اپنی سیاہی کے سبب سے چشم بصارت کے مترادف ہوگا۔ غلاف کعبہ ، چشم اور سنگ اسود کی سیاہی میں مناسبت اس شعر کا خاصہ ہے۔ ویسے سیاہ غلاف کعبہ کی تاریخی عصریت اس شعر سے مناسبت نہیں رکھتی یعنی حضور اکرمV کے عہد مبارک میں یہ غلاف سیاہ نہیں ہوتا تھا(واللہ اعلم)

صریر خامہ سے اس غم میں گرہو مرثیہ خوانی

قلم کو بے گماں بازوملے اللہ کے مد کا

’’ اللہ کے مد‘‘ سے اسم اعظم کے تلفظ میں دوسرے الف کی تمدیدیعنی الف علت کی (خاصی) طوالت مراد ہے۔ اس طرح لفظ ’’ اللہ ‘‘کی ادایگی میں تلفظ کے اختتام پر ’’ آہ‘‘ کی آواز پیدا ہوتی ہے اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ رسول اکرم V کے لیے مرثیہ خوانی کی جائے توا للہ بھی مرثیہ خواں کے بازو کی طرح آواز میں آواز ملائے اور آہ وزاری کرے(نعوذ باللہِ من ذالک)

(حاشیہ: بازو اس شخص کو کہتے ہیں جو ہمراہ مرثیہ خواں کے آواز ملاتا ہے)

اگلے دس شعروں میں (جن میں ’’ ابیات نعت‘‘ کے قصیدے کا دوسرا مطلع بھی شامل ہے)شاعر نے فلکیات کے شعبے سے ایسی شعری لفظیات اخذ کرکے اپنے خیالات کو نظم کیا ہے:

آسماں کے نودائرے؍ چرخ کا گنبد؍ گردوں کا غبار؍ زحل؍کرہ آتش کا؍ فلک؍ فرق فرقد(فرقدیکے ازدو ستارہ کہ نزدیک قطب اند:حاشیہ) کوکب دمدار ؍ زمیں تا آسماں ؍ مکاں تالا مکاں؍ ستارۂ اوج؍کہکشاں۔

اس فلکی لفظیات کے تلازموں نے’’ ابیات‘‘ میں قصیدے کی شان پیدا کردی ہے۔ درمیان میں ’’ جملہ؍ مسند؍ مسندالیہ ‘‘ کی قواعدی اصطلاحات اور تیسرے مطلع سے پہلے’’ مضمون؍ بیت؍ آورد؍ آمد’’ جیسی شعری اصطلاحات شاعرنے نظم کی ہیں ۔ وہ اشعار دیکھیے ؂

لکھوں اک مختصر جملہ کہ روضہ ہے محمد کا

یہی مسندالیہ اچھا سبب ہے رفعِ مسند کا

اور سلام حق کو لے کر دمبدم جبریل آتے ہیں

عجب مضموں کھپا اس بیت میں آوردِ آمد کا

یہ نظم شاعر کے کثیر العلوم ہونے کا ثبوت ضرور ہے مگراشعار میں علمی اصطلاحات کثرت سے برتنے کی وجہ سے خیال کی ترسیل مزید سست پڑگئی ہے اور شعریت اور جمالیاتی حظ کے رنگ ہلکے ہوگئے ہیں۔

تیسرا مطلع یوں ہے[ترمیم]

تصور میں ترے ، جنت ہے گوشہ اپنے مرقد کا

کہ تھالا میری چشم تر کا ہے طوبیٰ ترے قد کا

شاعر کہتا ہے کہ تیرے (یعنی رسول اکرمVکے) تصور سے میری قبر کا گوشہ جنت بنا ہوا ہے۔ میری چشم تر تیرے قد کے طوبیٰ کے لیے تھا لا ہے یعنی تیرا قد ہر وقت میری نگاہ میں سمایا ہوا ہے۔ اس شعر کے قافیے’’ مرقد ؍ قد‘‘ تجنیس زائد کی مثال ہونے کے ساتھ ساتھ قافیۂ معمولہ کی مثال بھی ہیں(مرقد: مرکب؍ قد:مفرد) اس مطلع کے بعد جو دوسرا مطلع آتا ہے ، وہ دراصل زیر نظر قصیدے میں شامل گیارہ اشعار کی غزل کا حسنِ مطلع ہے ؂

محمد مصطفی، پتلا ہے تو نور مجرد کا

ہُوا خورشیدِ اقلیم عدم سایہ ترے قد کا

ان دونوں مطلعوں میں ’’ طوبیٰ؍ سایہ ‘‘ بھی مقفیٰ الفاظ ہیں۔ ان کے بعد ‘‘ بوٹا، نظارہ، مصرع، اکّا، جملہ‘‘ کے قافیے نظم کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے فقرہ ’’ ترے قد کا‘‘ یہاں ردیف کے طور پر سامنے آتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس غزل میں ’’ مجرد ، احمد‘‘کے قافیے بھی نظم کیے گئے ہیں جن کی ردیف حرف ’’ کا‘‘ ہے۔

غزل کے بعد چند اشعار تَعلی کے آتے ہیں جن میں شاعر نے اپنے سخن کی زبان کو شیرازاور اصفہان کی زبان سے بہتر بتایا ہے۔ اپنے خامے کو عصا ے موسوی اور ورق کو وادیِ ایمن کی مثال کہا ہے۔پھر سب سے بڑھ کر اپنے شعر کو قرآن سخن سے تشبیہ دی ہے جو محل نظر ہے کیوں کہ انسانی کلام کو تشبیہ کے طور پر بھی قرآن نہیں کہا جا سکتا ؂

زمینِ شعر پر نازل ہے قرآن سخن مجھ سے

کتابِ آسماں اک نسخہ ہے لوحِ زبر جد کا

اس شعر میں آسمان کی رنگ(زبر جد) سے مماثلت تو قابل قبول ہے مگر حاشیے میں کہا گیا ہے کہ ’’ لوح زبر جد‘‘ سے مراد توریت ہے۔ اگر چہ شعر سے اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا۔ یہاں تو کتابِ آسماں کو لوح زبر جد کہا جارہا ہے۔

اگلے اشعار میں وجودِ مطلق اور حقیقت محمدی پر غیب و شہود کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ اشہد‘‘ سے احد و احمد دونوں کی شہادت مقصود ہے مگر اللہ اور رسول کے لیے شہادت سے مراد ایک نہیں دو شہادتیں ہیں۔ اللہ کے لیے شہادت اس کے الہِٰ وحد ہونے کی اور رسول کے لیے شہادت آپ کے رسول اللہ ہونے کی شہادت ہے۔ ان شہادتوں کو ایک نہیں مانا جا سکتا ۔

ع بہ مجبوری لکھا الید کی صورت لفظ اللہ کو

اس مصرع میں اللہ کی ھا تلفظ میں نہیں آتی اس لیے مصرع سکتہ زدہ ہے ، اگر ھا کو ادا کریں تو مصرع بحر سے خارج ہوتا ہے اور دونوں صورتیں معیوب ہیں ۔ اسے گزشتہ مصرع ع قلم کو بے گماں بازو ملے اللہ کے مد کا

کی طرح پڑھنا چاہیے جو یہاں بمجبوری ممکن نہیں۔ لفظ ’’اللہ‘‘ کو ’’ الید ‘‘کی طرح لکھنابے معنی ہے۔ کہتے ہیں ؂

ع یہ تھا منظور ، رفتہ رفتہ تکمیلِ شہادت ہو

اللہ کو ایسا منظور تھا، یہ کس واقعے، کس آیت ، کس حدیث سے ثابت ہے ؟

ع ہُوا لفظِ خدا سے اشتقاق اول ترے خد کا

لفظ’’خدا ‘‘ سے ’’ خد‘‘ کا اشتقاق لغو ہے۔ یہ اشتقاق کا نہیں، املا کا مسئلہ ہے کہ ’’خدا‘‘ سے الف نکال دیں تو لفظ’’خد‘‘ بچ رہتا ہے(جو یقینااپنے آپ میں بامعنی ہے) اوپر کی باتیں مصرعوں کے حوالے سے اس لیے کہی گئی ہیں کہ ان کے ساتھ آنے والے بقیہ مصرعوں میں شاعر کے اعتقادات کا بیان ہے جن سے مبصر کو بحث نہیں۔

محسن رعایت لفظی برتنے کا موقع نہیں چھوڑتے مثلاً

ع تیرے ابرو کی ہے محراب لازم طاق عرفاں کو (محراب؍ طاق)

ع تجمل کا ترے ماہی مرا تب، مہ سے تا ماہی (مہ؍ ماہی)

ع ثریٰ سے ثور تک اک گاو تکیہ تیری مسند کا (ثور؍ گاو)

ع کمندِ دل رہے، چھوٹے نہ تیری ڈور کا پھندا (کمند؍ پھندا)

ع جو ٹوٹے دم کا دھاگا طائرِ روحِ مقید کا (دم ؍ دور؍دھاگا)

وغیرہ وغیرہ ۔ قصیدہ دعا پر ختم ہوتا ہے ؂

الٰہی، پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

بڑھا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

لفظ’’ احد‘‘ میں میم کہاں ہوتا ہے؟اگر یہ لفظ لکھتے ہوئے روشنائی پھیلے گی بھی تو الف کی ، حاکی یادال کی روشنائی پھیلے گی(تینوں حروف کی بھی پھیل سکتی ہے ) یہاں میم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

’’ابیات نعت‘‘ میں نہ صرف شاعرانہ بلکہ عقیدے کا غلو بھی خوب نمایاں ہے۔بعض من گھڑت روایات کو عقیدے کا مقام دیا گیا ہے۔ اشعار میں مناسبت؍ رعایت لفظی؍ تجنیس؍ تعلیل وغیرہ کی صنعتیں خوب برتی گئی ہیں لیکن ان پر ناسخیت حاوی ہے اور اس لکھنوی شعری اسلوب کو شعریت اور فنی اقدار کے لیے سم قاتل سمجھنا بیجا نہیں۔

محمد حسن عسکری کی چند متضاد باتیں پھر سن لیجیے :

  • محسن پر کسی خاص اسلوب یا خاص لب و لہجے کی پابندی نہ تھی۔
  • محسن کا اسلوب بیاں خالی تصنع اور تکلف تھا۔
  • ہر شعر میں مبالغہ آرائی سے لفظوں کی بازی گری ملے گی۔موضوع کے تقدس نے ان کی شوخی کو بھی سنجیدگی اور پاکیزگی عطا کردی ہے۔
  • (محسن کے) جذب صادق کا اظہار نہایت پر تکلف اور پر تصنع انداز میں ہوا ہے۔
  • (ان کی) بازی گری کرشمہ کاری بن گئی ہے اور لفاظی میں معنویت پیدا ہوگی ہے۔

ان بیانات کو ’’ ابیات نعت‘‘ کے اشعار کی توضیح و تشریح کی روشنی میں دیکھیں تو محسن کے اسلوب کی کوئی واقعی شناخت سامنے نہیں آتی کیوں کہ عسکری کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ شعری اظہار میں تصنع اور تکلف، لفظی بازی گری، شوخی وغیرہ کے عوامل محسن کی شاعری کا خاصہ نظر آتے ہیں۔

دراصل نقاد عسکری کی اپنی مذہبی فکر محسن کی مذہبی فکر سے انطباق نہیں کرتی ۔ عسکری ایک گومگو کی کیفیت کا شکار نظر آتے ہیں کہ محسن کے شعری اور فنی اظہار کو ان کے مذہبی روحانی ، فکری وغیرہ تصورات کے ساتھ قبول کیا جائے کہ حالیؔ ، سر سید، تقویتہ الایمان اور بہشتی زیور کے معروضی، خالص اور بنیادی اسلامی افکار کی روشنی میں محسن کی عالم نور میں شوشے چھوڑنے والی شاعری کو ابتدائی بیسویں صدی کے نو آباد یاتی فلسفے سے زیر بار اور فراموش گاہی کی نذر ہوتی روایت کا حصہ قرار دیا جائے۔ دانتے کی ’’ طربیۂ خداوندی‘‘ اور رومی کی ’’ مثنویِ معنوی‘‘ دونوں ہی عسکری کے لیے کشش رکھتے ہیں یعنی

کعبہ مرے پیچھے ہے ، کلیسا مرے آگے

’’احمد بے میم‘‘ اور ’’ احد بامیم‘‘ جیسے مخصوص تصورات براے شعر گفتن خوب است کے مصداق ہیں۔ محسن کی پوری تقدیسی شاعری اللہ اور رسول کے لیے ایسے ہی تصورات پر اپنی ساخت اورشناخت قائم کرتی ہے۔فنی اظہار کے زاویے سے یہ ساخت و شناخت لکھنویت ؍ ناسخیت کی اسیر ہے اس لیے لکھنویت ؍ناسخیت کی ساری خوبیاں ؍ خامیاں اس میں یقینی طور پر پائی جاتی ہیں۔’’ ابیات نعت‘‘ کے اس جائزے سے ان کا سارا احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔