نعت گوئی اور اس کے تقاضے ۔ بابر حسین بابر

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

مضمون نگار : بابر حسین بابر

نعت گوئی اور اس کے تقاضے[ترمیم]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دنیائے شعر و سخن میں بڑے نامور شعرا ء پیدا ہوئے ، جنہوں نے شہکار غزلیں کہیں ، لاجواب نظمیں تخلیق کیں، کسی نے مرثیہ مرثیہ گوئی میں نام پیدا کیا تو کسی نے جدت پسندی میں اپنا لوہا منوایا ۔کسی نے حالاتِ حاضرہ کو موضوعِ سخن بنایا تو کوئی انقلابی شاعر کہلایا۔ الغرض کوئی صنفِ سخن ایسی نہیں جس میں قادر الکلام شعراء نے طبع آزمائی نہ کی ہو۔ فن کی دنیا میں ان شعراء کو وہ مقام نصیب ہوا کہ ان کا لکھا ہوا کلام حجت مانا گیا اور انہیں سند تسلیم کیا گیا ۔ لیکن جب نعت گوئی کا مرحلہ آتا ہے تو الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ قلم رک جاتے ہیں، آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں ،دلوں پہ رقت طاری ہو جاتی ہے،روانی سے اشعار کہنے والے سوچوں میں گم ہو جاتے ہیں ،الفاظ کے جادوگر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں، تخیل آفرینی کی صلاحیتیں جواب دینے لگتی ہیں ۔وہ ذات جو محمد ﷺ یعنی سراپا حمد و ستائش ہے ا س کی تعریف و ثنا کے لائق ایک لفظ بھی نصیب نہیں ہوتا اور بالآخر اعترافِ عجز کے بغیر کوئی چارۂِ کار نہیں رہتا اور یہی کہنا پڑتا ہے :


لا یمکن الثناء کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر


یہی اعترافِ عجز کمالِ فن بھی ہے۔بارگاہِ حسن و جمال میں اپنی درماندگی کا اظہار ہی معیارِ نعت ہے ۔درِ رسول پر سب کے سر جھک جاتے ہیں ، مقامِ مصطفی کی بلندی دیکھ کر ہر خیال چھوٹا محسوس ہوتا ہے ہر لفظ قاصر نظر آتا ہے ۔یہی خیال وجہِ تسکین بنتا ہے کہ جو کچھ کہا وہ اگر چہ شایانِ شاں نہیں لیکن وہ اپنی خوئے بندہ نوازی کی بنا پر قبول فرما لیں تو ہمارے لیے سرمایۂِ حیات بھی ہے اور باعثِ نجا ت بھی۔ اعظم چشتی صاحب مرحوم نے بالکل بجا فرمایا تھا:


وہ رفعتِ خیال وہ حسنِ بیاں نہیں

جو کچھ کہا حضور کے شایانِ شاں نہیں


ایک اعظم چشتی مرحوم پر ہی کیا موقوف امام المادحین ، شاعرِ دربارِ رسالت سیدناحضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کہا تھا :


ما ان مدحت محمدا بمقالتی

ولکن مدحت مقالتی بمحمد


یعنی میں اپنی باتوں سے محمد ﷺ کی تعریف نہیں کرتا بلکہ نامِ محمد ﷺ سے اپنی باتوں کی تعریف کرتا ہوں ۔


اسی کے متعلق سیدی حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے یوں لکھا ہے:

’’ حضور نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا مداح خود پروردگارِ عالم ہے ۔ حق تو یہ کہ مدح و توصیف کا حق اس کے بغیر کوئی ادا ہی نہیں کر سکتا ۔جس ربِ قدوس نے اپنے محبوب ﷺ کو یہ رفعتیں ، یہ شانیں، کمالات ، یہ اخلاقِ حسنہ اور علم کی بے کرانیاںمرحمت فرمائی ہیں، وہی ان کے کیف و کم کو جانتا ہے اور اسی کا کلامِ بلاغت نظام ان کے اوصاف و کمالات کو صحیح طور پر بیان کر سکتا ہے ‘‘(مقدمات،مؤلف ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس، ص 99مطبوعہ مکتبہ جمالِ کرم لاہور)


آپ مزید لکھتے ہیں:


’’ الغرض خالقِ ارض و سما کے محبوب و حبیب محمد رسو ل اللہ ﷺ کی توصیف و نعت کا حق بجز زبانِ قدرت کے ادا نہیں ہو سکتا ۔ غالب نے ازراہِ تکلف نہیں بلکہ حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا :


غالبؔ ثنائے خواجہ بیزداں گذاشتیم

کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است

(ایضا، ص101)


محبوبِ رب العالمین ﷺ کی بارگاہ میں ہدیۂِ نعت پیش کرنا محض توفیقِ ایزدی سے ہی ممکن ہے۔ سیدی حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمدکرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق بہت خوب لکھا ہے:


’’ ہر کس و نا کس کو یہ شرف نہیں بخشا جاتا فقط ان ہستیوں کو اس سعادت سے بہرہ اندوز کیا جاتا ہے ، جن کی روحیں بھی پاک ہوتی ہیں اور جن کے قلوب بھی ہر آلائش سے منزہ ہوتے ہیں‘‘(ایضا)


دیگر اصنافِ سخن کے مقابلے میں نعت کو جو بلند مقام اور امتیازی خصوصیت حاصل ہے اس کے متعلق میں نے اپنی کتاب ’’وفا کے دیپ جلنے دو‘‘ میں جو لکھا تھا وہ یہاں دوبارہ قائین کی نذ ر کرتا ہوں :


’’دیگر اصنافِ سخن کے مقابلے میں نعت کو ایک بلند مقام حاصل ہے ۔نعت شعر کے معیار کو بھی بلند کرتی ہے اور شاعر کے معیار کوبھی۔غزل میں شاعر فرضی محبوب کے حسن کی تعریف کرتا ہے جبکہ نعت میں محبوبِ حقیقی کے قصیدے لکھتا ہے ۔غزل کا وقار اور اعتبار شاعر اپنے فن سے بڑھاتا ہے جبکہ نعت خود شاعر کو معتبر بناتی ہے ۔دیگر اصناف ِ سخن میں شاعر لافانی اشعار تخلیق کرتا ہے لیکن نعت خود شاعر کو لافانی بنادیتی ہے ۔غزل میں حسنِ محبوب کے بیان کی خاطر مبالغہ آرائی سے کام لینا پڑتا ہے جبکہ نعت میں مبالغہ ممکن ہی نہیں کیونکہ جس حسن کی تعریف خود خالِقِ کائنات نے کی ہو مخلوق تو اس کو کما حقہ ٗبیان کرنے سے ہی عاجز ہے مبالغہ تو بہت دور کی بات ہے ‘‘(وفا کے دیپ جلنے دو،ص۱۰)


سیدی حضور ضیاء الامت ، جسٹس پیر محمد کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے نعت کی امتیازی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے کیا خوب لکھا ہے:


’’ دنیا میں جتنی زبانیں ہیں ان کی فصاحت و بلاغت کے قواعد ہیں ان کی جتنی پابندی کی جائے فصاحت کا معیار اتنا ہی بلند ہو جاتا ہے لیکن نعت کی اپنی مخصوص زبان ہے اور اس کی فصاحت و بلاغت کا اپنا معیار ہے اور وہ ہے ’’جذبۂِ عشق‘‘ ایک سادہ سا جملہ اگر سوزِ عشق سے لبریز ہے تو وہ اپنی اثر آفرینی میں طویل قصائد سے بازی لے جاتا ہے ۔جذبۂِ عشق و محبت سے بے بہرہ دفاتر بھی دل میں گداز پیدا نہیں کر سکتے اور نعت گوئی کاحق ادا نہیں ہوسکتا‘‘(مقدمات مؤلف ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس، ص ۱۰۳مطبوعہ مکتبہ جمالِ کرم لاہور)


نعت کے لیے محبتِ رسول ﷺ کو لازمی شرط قرار دیتے ہوئے علامہ تقی عثمانی صاحب نے اپنے مضمون ’’ نعت اور اس کے آداب ‘‘ میں لکھا ہے :


’’ یہ میرا ایمان ہے کہ اچھی نعت اس وقت تک نہیں کہی جاسکتی جب تک دل حضور اقدس ﷺ کی محبت اور آپ کی اطاعت کے جذبے سے آباد نہ ہو۔ اگر دل اس متاعِ بے بہا سے محروم ہے تو محض لفاظی سے نعت کا حق ادا نہیں ہو سکتا ‘‘(پہچان نعتیں ص 347مؤلف سعد اللہ شاہ مؤلف لائف گارڈ پرنٹرز لاہو ر)


آپ اسی جذبۂ محبت و اطاعت کے متعلق مزید لکھتے ہیں :


’’ دوسری طرف اگر دل جذبۂ ِ محبت و اطاعت سے سرشار ہو ، تو اسے لفاظی کی حاجت نہیں ہوتی ، پھر سیدھے سادے الفاظ بھی دل میں اتر جانے کی تاثیر حاصل کر لیتے ہیں اور ان سے ’’ بردل ریزد ‘‘ کا سماں بندھ جاتا ہے ۔ چنانچہ حالی مرحوم کے یہ نعتیہ اشعار دیکھیے:


وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا


کتنے سادہ اور کتنے بے تکلف اشعار ہیں ۔ پر اثر اتنے کہ انسان مرحبا اور صل علیٰ کہے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اسی طرح مولانا ظفر علی خان کے یہ اشعار دیکھیے :


ان اشعار کا پڑھنے والا شعروں کی سادگی کے باوجود یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ آواز محبت بھرے دل سے ابل رہی ہے ‘‘ (پہچان نعتیں ص 347, 348مولف سعداللہ شاہ مطبوعہ لائف گارڈ پرنٹرز لاہور )


ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی نے اپنے تحقیقی مقالہ’’ برِ صغیر پاک و ہند میں عربی نعتیہ شاعری‘‘ کے مقدمے میں اسی جذبۂِ عشق کے متعلق اظہارِ خیال ان الفاظ میں کیا ہے :


’’مدحیہ شاعری تین عناصر سے تشکیل پاتی ہے :

1۔ زبان ، ادب اور شعری روایات سے با اعتماد آگہی

2۔ سیرتِ رسولِ اکر م ﷺ سے استفادے کی صلاحیت ، اور

3۔ جذباتِ محبت و عقیدت کے اظہار کا سلیقہ

ان اجزا ء کا باہمی ربط غیر متوازن ہو جائے تو مدح کا حق ادا نہیں ہوتا ، اور اگر ان عناصرِ ثلاثہ کی ترتیب ، تدوین اور پیوستگی کا ملکہ حاصل ہو جائے تو مدح نگاری دوام کی حق دار ٹھہرتی ہے ‘‘(ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ، برِ صغیر پاک و ہند میں عربی نعتیہ شاعری ص 18مطبوعہ مرکز معارف اولیا ء محکمہ اوقاف پنجاب)


فنِ شاعری کے اعتبار سے نعت میں بھی انہی قواعد کی پابندی ضروری ہے جو دیگر اصنافِ سخن میں ملحوظ رکھی جاتی ہے لیکن نعت میں اوزان، تلفظ اور قافیہ وغیرہ کی پابندی کے علاوہ شرعی تقاضوں کو مدِ نظر رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ نعت کے نام پر کوئی ایسا شعر قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جس سے شانِ الوہیت کی نفی ہو رہی ہو ، دیگر انبیاء کی تنقیص یا اعمالِ شریعت سے بیزاری کا اظہار ہورہا ہو یا ان کی اہمیت میں کمی محسوس ہور ہی ہو۔ گویا نعت میں سخن کے ضابطوں کے ساتھ ساتھ شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے ۔اس سلسلے میں بھی سیدی حضور ضیا ء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا ذوقِ نعت ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔ استاذِ محترم جناب پروفیسر حافظ احمد بخش صاحب نے اس کیمتعلق لکھاہے:


آپ ایسا کلام پسند نہیں فرماتے تھے جس میں غیر محتاط الفاظ استعمال ہوتے مثلاً ایک نعت خوان نے کلام پڑھنا شروع کیا تو ابتدائی لمحات میں اس نے پنجابی کا یہ ماہیا پڑھا :


رب عشق کما بیٹھا

اک تن بدلے سارا عالم

گل وچ پا بیٹھا


آپ کا چہر ہ سرخ ہو گیا اور ارشاد فرمایا بس کرو اور اسے مزید پڑھنے کا موقع نہ دیا گیا ۔ اگرچہ نظریاتی طور پر یہ درست ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ساری مخلوق کو صرف اس لیے تخلیق فرما یا کہ محبوبِ دو جہاں ﷺ کو اس دنیا میں بھیجنا مقصود تھا لیکن بیان کا انداز درست نہ تھا اس لیے فوراً رو ک دیا ‘‘(جمالِ کرم ج3 ص 233مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور)


اگر اس شعر پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ شانِ الوہیت کے مناسب نہیں کیونکہ اس میں رب تعالی کی طرف ایک اضطراری کیفیت کو منسوب کیا جا رہاہے اگر چہ شاعر کا مقصد وہی ہے جو استاذِ محترم نے بیان کیا ہے لیکن الفاظ کا ظاہری مفہوم شانِ الوہیت کے مناسب نہیں ۔


اسی ضمن میں علامہ تقی عثمانی صاحب کا مضمون ’’ نعت اور اس کے آداب ‘‘ بھی نظر سے گذرا۔انہوں نے بھی اس قسم کے اشعار پر کڑی تنقید کی ہے جن میںاحکامِ شریعت کی واضح مخالفت نظر آتی ہے ۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں :

’’ لہذا نعت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں کسی بھی مرحلے پر اللہ اور رسول ﷺ کے ان احکام کی خلاف ورزی نہیں ہو نی چاہیے ۔ ہر وہ شعر جو ’’ شرک ‘‘ کی ادنیٰ سے بو لیے ہو ئے ہو، جس میں آنحضرت ﷺ کی طرف خدائی صفات منسوب کی گئی ہوں ، یا اس کا کوئی شبہ پیدا ہوتا ہو ، وہ در حقیقت نعت نہیں ، سرکارِ دوعا لم ﷺ کے ساتھ (معاذ اللہ )بغاوت ہے۔لہذا اس قسم کے اشعار (نقلِ کفر کفر نباشد ) کہ


اللہ کے قبضے میں وحدت کے سوا کیا ہے

جو کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں گے محمد سے


نعت تو کیا ہے ؟ حضور نبی کر یم ﷺ کے لائے ہوئے دین سے کھلم کھلا انکار ہے اور اس قسم کے مشرکانہ خیالات کو شاعرانہ آفرینی کے پردے میں گوارا کر لینا درحقیقت ’’ نعت ‘‘ جیسی پاکیزہ اور مقدس صنفِ سخن کی توہین ہے جو کسی بھی صاحبِ ایمان کے لیے قابلِ برداشت نہیں ہونی چاہیے‘‘ (پہچان نعتیں مؤلف سعد اللہ شاہ مطبوعہ لائف گا رڈ پرنٹرز لاہور ص 342)


آپ مزید لکھتے ہیں :


’’ جناب امیر مینائی جیسے شاعر جو نعت ہی کہ وجہ سے مشہورہیں اور بجا طور پر مشہور ہیں ، وہ بھی بعض اوقات یہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھ سکے اور اس قسم کے اشعار کہہ گئے :


مختارِ کل ہو مالکِ روزِ جزا ہو تم

رحمت کا ہے مقام کہ خاصِ خدا ہو تم


اب ’’ مالکِ روزِ جزا ‘‘ مالک یوم الد ین کا ترجمہ ہے جو سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت ِ خاص بیان کی گئی ہے ۔ اس لفظ کا استعمال غیر اللہ کے لیے خواہ مجازی معنی ہی ہو ، انتہائی خطرناک ہے ‘‘ (ایضا ص 343)


اسی طرح یہ شعر کسی طو ر بھی شانِ الوہیت کے مناسب نہیں :


تصویر محمد عربی دی رب آپ بنا کے لٹیا گیا

اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکارِ دو جہاں ﷺ محبوبِ رب العالمین ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف ایسے الفاظ منسوب کرنا قطعا درست نہیں جس میں رب تعالیٰ کی طرف اضطراری کیفیت کی نسبت ہو اور ان الفاظ سے اثر پذیری کے جذبات عیاں ہور ہے ہوں ۔


نعت گوئی میں حضور نبی کر یم ﷺ سے تعلق رکھنے والی چیزوں بالخصوص مدینہ طیبہ کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار نعت گو اشعار کا خاص مضمون رہا ہے لیکن بسا اوقات مدینہ طیبہ اور جنت کاموازنہ اس انداز میں کیا جاتا ہے جس سے جنت جیسی عظیم نعمت جو رضائے خدا وند ی کا مظہر ہے کمتر محسوس ہونے لگتی ہے ۔ یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :


قسمت میں مری چین سے جینا لکھ دے

ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے

جنت بھی گوارا ہے مگر میرے لیے

اے کاتبِ تقدیر مدینہ لکھ دے

اندازہ فرمائیں کہ جنت کا حق دار وہی ٹھہرتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے ، جس کے گناہ بخش دیے جائیں ۔ رضائے خداوندی کے بغیر جنت کا حصول نا ممکن ہے ۔اور جنت کے متعلق یہ کہہ دینا کہ جنت بھی گوارا ہے ، جیسے یہ کوئی انعام نہ ہو بلکہ ایک ایسی چیز ہو جو خامی کے باوجود قبول کی جا رہی ہو۔ اسے نہ صرف یہ کہ نعت نہیں کہا جا سکتا بلکہ احکامِ شریعت سے بے بہرہ ہونے اور کم عقلی کی دلیل ہے ۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مدینہ طیبہ ہو یا جنت، ان کی اہمیت سرکارِ دو جہاں ﷺ کی نسبت کی وجہ سے ہے ۔ دنیا میں حضور نبی کریم ﷺ کا مزارِ پاک یقینا مدینہ طیبہ میں ہے جس کے متعلق علمائے کرام نے صراحۃ کہا ہے کہ زمین کا جو حصہ حضور نبی کریم ﷺ کے جسم اقدس کے ساتھ مس کر رہا ہے وہ عرشِ الہی سے بھی افضل ہے لیکن قیامت والے دن جب حساب کتا ب ہو گا تو حضور نبی کریم ﷺ کا جنت میں بلند ترین مقام ہو گا ۔ اس لیے عاشقانِ رسول اس وقت جنت میں جانا پسند کریں گے جیسا کہ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے فرمایا کہ مانگ تو آپ نے عرض کی: اسئلک مرافقتک فی الجنہ ۔ یعنی میں آپ سے جنت میں آپ کی رفاقت مانگتا ہوں ۔


امامِ اہلِ سنت مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا اردو نعت گوئی میں بہت بڑا نام ہے ۔ ایک نعت گو شاعرہونے کے ساتھ ساتھ آپ بلند پایا عالمِ دین، محقق اورمفتی بھی تھے۔ عشقِ رسولِ کریم ﷺ سے بھرپور اشعار کہتے ہوئے آپ نے کبھی شرعی تقاضوں کو فراموش نہیں کیا ۔ اسی جذبۂِ عشقِ نبی ﷺ کی فراوانی میں شرعی آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے بول اٹھے :


پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بے قرار

روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے

(شرح کلامِ رضا فی نعت المصطفی المعروف حدائقِ بخشش، الحافظ القاری مولانا غلام حس قادری ،ص ۵۱۶مطبوعہ مشتاق بک کارنر الکریم مارکیٹ اردو بازار لاہور )


امامِ اہلِ سنت نے آدابِ نعت کے متعلق یوں لکھا ہے :


ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ

بے جا سے ہے اَلْمِنَّۃُ لِلّہ محفوظ

قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی

یعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ


اس رباعی کا جو مفہوم مولانا غلام حسن قادری صاحب نے لکھا ہے وہ قارئین کی نذر کرتا ہوں :


میں اپنے کلام (نعتِ مصطفی ﷺ ) سے بہت لطف اندوز ہوتا ہوں اور لذت حاصل کر لیتا ہوں کیونکہ میں نے نعت ِرسول علیہ السلام لکھنے والی قلم سے کسی او رکی تعریف کبھی لکھی ہی نہیں اور اللہ کا احسان ہے کہ حضور علیہ السلام کی تعریف بھی وہی لکھی ہے جو آپ (ﷺ) کی شایانِ شان ہے۔مبالغہ آرائی اور بے جا تعریف سے مکمل محفوظ رہا ہوں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں نے قرآن کریم سے نعت کہنا سیکھا ہے ۔ میرا مطلب ہے شرعی احکا م کا پورا پورا خیال رکھا ہے ۔(ایضا ،ص ۹۲۴،۹۲۵)

مزید دیکھیے[ترمیم]

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

مضامین میں تازہ اضافہ
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

{ باکس 1}}