نعت کے منفی عناصر،- ڈاکٹر اشفاق انجم

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ڈاکٹر اشفاق انجمؔ ۔انڈیا


ABSTRACT[ترمیم]

Dr. Ashfaque Anjum has raised questions on content of devotional poetry. Most of the couplets referred in the article do not seem worth mentioning. But the matter is highly sensitive and therefore, citing some examples to highlight mistakes does not seem awkward. Devotional poetry for expressing love to our Holy Prophet (S.A.W) has had been in vogue through centuries and people of different cadres, natures and capabilities are engaged in creating such poetry. This activity is going on without acquiring adequate knowledge of Personality of the Holy Prophet and sanctity of the poetic text. Criticism on the expression of views in such poetry is done just to give insight for creating fine and error free Naatia Poetry. The matter of writing Naatia Poetry in real context of religious fervour requires proper heed. Hence, apart from some points of differences, the article contains various points to ponder with.

نعت میں منفی عناصر[ترمیم]

مذہب اور عقائد پر مبنی شاعری وہ چاہے جس مذہب و زبان سے متعلق ہو، ہمیشہ سے غلو اور افراط و تفریط کا شکار رہی ہے۔ اردو نعت و منقبت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں بلکہ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اردو میں نعت و منقبت نگاری میں جس قدر بے اعتدالی اور بد احتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا ہے شاید ہی کسی اور زبان میں نظر آئے گا۔

دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام اپنے شرعی اصول و ضوابط سے روگردانی کی کسی کو بھی اور کسی بھی حالت میں اجازت نہیں دیتا لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے ۔ اردو نعت و منقبت میں کفر و شرک کا اعلانیہ اظہار، ہندوؤں کا ایشور کے اوتار لینے کے نظریئے کو نعوذ باللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات پر بلا خوف و خطر منطبق کرنا اس کی مثالیں ہیں۔ یہی نہیں عیسائیت کا ’’نظریۂ کفارہ‘‘ کو بھی بعض شعراء نے ایک نئے انداز سے اسلام سے جوڑنے کی سعی نامشکور کی ہے۔ ملاحظہ ہو:

قیامت میں کافی ہے امت کی خاطر

وہ راتوں میں آنسو بہانا کسی کا

کیا یہ عیسائیت کا وہی نظریہ نہیں ہے کہ:

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سولی پر چڑھ کر تمام عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا۔ اب وہ کتنے ہی گناہ کریں ان کی بخشش یقینی ہے۔‘‘

مندرجہ بالا شعر میں بھی یہی بات پوشیدہ ہے کہ امت کچھ بھی کرے شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر حال میں بخشوا لیں گے!!

محترم ڈاکٹر معین الدین عقیل فرماتے ہیں:

’’اس میں شک نہیں کہ شاعروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے عقیدت مندانہ اور والہانہ جذبات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس صنف میں سیرت کے جستہ جستہ یا جزوی پہلو بھی پیش کئے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی اپنی جگہ محل نظر ہے کہ اس عمل میں ان میں سے بعض شاعروں سے بے احتیاطی بھی روا رہی ہے۔‘‘

’’اسی ذیل میں اردو نعت نگاری میں ایک منفی صورت یہ بھی نظر آتی ہے کہ اس میں ہندو عقائد یا ہندوستانی مقامی اثرات بھی کافی در آئے ہیں جو محل نظر ہیں۔‘‘

’’اگرچہ غلو اور شرک کو بھی مقامی اثر کے تحت شمار کیا جا سکتا ہے مگر ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کہ یہ نعت میں صرف اردو زبان میں لکھی گئی نعتوں سے مخصوص نہیں، دیگر زبانوں کی نعتوں میں بھی یہ خیالات و عناصر موجود ہیں۔ یہاں مقامی اثرات کے ذیل میں محض ان اثرات کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے جو دراصل وہ ہندو عقائد و تصورات ہیں جن کو اردو شعراء نے یقیناًاپنی سادگی میں غیر شعوری طور پر اپنی نعتوں کے مضمون کے طور پر باندھا اور اپنے تئیں ایک حسن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و شخصیت اور احوال زندگی کے متعلق خلافِ واقعہ، غیر عقلی، معجزاتی، یہاں تک کہ طلسماتی واقعات بھی نظم کئے جانے لگے۔ آغاز میں یہ عمل اور طریقہ ممکن ہے اس خیال و مقصد سے اختیار کیا گیا ہو کہ وہ لوگ جو ہندو دیوتاؤں کے فوق الفطرت کارناموں اور محیرالعقول واقعات کو سن کر ان کے تابع فرمان بن جاتے تھے، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و فضیلت اُن کے دلوں پر بھی ثبت ہو جائے اور وہ اسلام قبول کر لیں یا اگر مسلمان ہیں تو ہندوؤں کے اثر میں نہ جائیں اور اسلام سے قریب رہیں۔ نورنامے اور شمائل نامے اس تاثیر میں مزید اضافے کا سبب بنے۔ نیت اور مقصد چاہے جتنا بھی مثبت ہو لیکن اس کا ایک منفی نتیجہ بہرحال یہ بھی سامنے ہے کہ متعدد غلط روایات اور حکایات نے جگہ پالی اور عوام ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور یہ سب ان میں سے اکثر کے عقیدے کا جزو بھی بن گئے۔‘‘ (1)

اردو نعت اور شعراء کی بے احتیاطی اور غلو و شرک کی آمیزش کے منفی اثرات کے تعلق سے میں ڈاکٹر عقیل صاحب کے بیان سے متفق ہوں لیکن آپ کے اس بیان سے کسی طور پر اتفاق نہیں کر سکتا کہ:

’’غلو و شرک اردو نعتوں میں ہی نہیں بلکہ دیگر زبانوں کی نعتوں میں بھی موجود ہے اور مقامی خصوصاً ہندو عقائد و تصورات کے زیر اثر اردو شعراء نے اپنی سادگی میں غیر شعوری طور پر ایسے مضامین باندھ کر اپنے کلام میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

محترم ڈاکٹر عقیل صاحب اور آپ ہی کی طرح دیگر نرم مزاج اور مرنجاں مرنج ناقدین کی اردو شعراء کی بے احتیاطی اور بے راہ روی سے ’’صرف نظر‘‘ کی روش نے ایسے شعراء کی غیر شعوری طور پر حوصلہ افزائی ہی کی ہے جب کہ یہاں انتہائی سخت گرفت کی ضرورت ہے کیوں کہ ہماری زبان میں کم ہی شعراء ایسے ہیں جو ہر ممکن حزم و احتیاط اور عقل و شعور کے ساتھ نعت کہہ رہے ہیں جب کہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے شعراء کی ہے جو صرف دوسروں کی نقالی پر زندہ ہیں یعنی یہ دوسروں کے چبائے ہوئے لقمے چباتے اور اگلتے ہیں جنہیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا چبا رہے ہیں ! ان کے اندر کیا اتر رہا ہے اور وہ کیا اگل رہے ہیں؟ علاوہ ازیں ان شعراء میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے سیرت پاک پر ایک بھی کتاب نہیں پڑھی ہے (خدا کرے میرا یہ گمان غلط ہو) جب کہ آج کی اردو نعت تو اسی کا مظہر ہے کہ ہمارے شعراء شریعت ہی نہیں سیرت پاک سے بھی بہت کم یا پھر واجبی سی واقفیت رکھتے ہیں۔ محترم عقیل صاحب نے جسے اردو شعراء کی سادگی اور غیر شعوری کوشش قرار دیا ہے میں اسے شعراء کی جہالت اور سیرت و شریعت سے ناواقفیت سے تعبیر کرتا ہوں۔ بیشتر شعراء تو ایسے ہیں جو نعت کے مفہوم و مقصد ہی سے ناواقف ہیں اور ایسے ایسے مضامین نظم کر جاتے ہیں جن کا نعت سے کسی طور تعلق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ تو ’’مدینہ شریف‘‘ کی مدح و تعریف کو بھی نعت کہتے ہیں۔ ممکن ہے بعض حضرات میرے اس خیال سے متفق نہ ہوں کہ:

’’آج کی نعت کا ایک بہت بڑا ذخیرہ (جسے نعت کہنا یا تسلیم کرنا غلطی ہوگی) ہی نہیں شعراء کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جسے دریا برد کر دینا چاہئے۔‘‘

ہر کوئی جانتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کو سب سے بڑا ہی نہیں بلکہ ناقابل معافی گناہ قرار دیا ہے اور وعید ہے کہ ایسے لوگ جہنم کا کندہ بنائے جائیں گے، اس کے باوجود شعراء نے شرک ہی نہیں کیا بلکہ خود اللہ تعالیٰ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں زمین پر اتار لائے۔

ذاتِ احمد تھی یا خدا تھا

سایہ کیا میم تک جدا تھا

وہ نغمہ کن جس سے مرتب ہوئے کونین

اللہ کے پردے میں محمد کی صدا ہے

عینیت غیر رب کو رب سے ہے

غیریت عین کو عرب سے ہے

ایک شاعر صاحب جو خیر سے ’’پیر طریقت‘‘ بھی ہیں،فرماتے ہیں:

خدا عرش سے آ گیا ہے زمیں پر

محمد محمد ہے کوئی پکارے

علمائے سو اور خود ساختہ پیرانِ طریقت سے ہمارے ایک طبقے کو بے حد عقیدت و محبت ہے۔ درج ذیل اشعار ایسے ہی پیرانِ طریقت کی کرامات ہیں جنہیں ان کے پیروکار درست ثابت کرنے کے لئے ہرممکن تاویلات پیش کر رہے ہیں جو ’’عذرِ گناہ بدتراز گناہ‘‘ کے مصداق ہے۔

درج ذیل اشعار کو اگر کوئی شخص درست سمجھے تو مجھے اس کے صاحب ایمان ہونے میں شک ہے۔

وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہوکر

اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

اللہ کے پلے میں وحدت کے سوا کیا ہے

جو کچھ مجھے لینا ہے لے لوں گا محمد سے

پردۂ میم میں چھپے ہیں حضور

ہم سے نزدیک ہیں نہیں کچھ دور

بندے سے ہو ثنائے محمد مجال کیا

ترسٹھ برس لباس بشر میں خدا رہا

محمد نے خدائی کی ، خدا نے مصطفائی کی

کوئی سمجھے تو کیا سمجھے، کوئی جانے تو کیا جانے

نگاہ عاشق کی دیکھ لیتی ہے پردۂ میم کو اٹھا کر

وہ بزم یثرت میں آئیں بیٹھیں ہزار منہ کو چھپا چھپا کر

ایسے ہی خیالات فاسدہ سے ’’اوتار‘‘ کا جنم ہوتا ہے،

صورتِ انساں میں آکر خود دکھانا تھا کمال

رکھ لیا نامِ محمد تاکہ رسوائی نہ ہو

اس مقام پر پہنچ کر صرف ایک کمی رہ جاتی تھی یعنی ’’انکار‘‘ سو اسے بھی اس صورت میں پُر کر دیا گیا۔

کیا مجھ کو ضرورت ہے کہ قرآن پڑھوں میں

ہے یاد مجھے مصحفِ رخسارِ محمد

جنت نہیں ملتی ہے عبادات کے بدلے

جنت کی طلب ہے تو مدینے کی فضا مانگ

اتنا ہی نہیں یہاں تک کہہ دیا گیا کہ اللہ کا وجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے مشروط ہے،

زبانِ شمع رسالت اگر نہ ضو دیتی

قسم خدا کی خدا یوں خدا نہیں ہوتا

اس حد تک پہنچ جانے کے بعد ظاہر ہے کہ عقیدے میں بگاڑ آنا ہی تھا۔ سو وہ اس صورت میں سامنے آیا،

تصرف آج بھی ہے وقت پر محمد کا

لکھا ہے وہی جو مرے آقا سے ملا ہے

عصیاں کو مٹا دے مری تقدیر بنا دے

زہے قسمت سہارا مل گیا ہے مجھ کو اس در کا

جس کو چاہیں بخش دیں خلد بریں

محمد کو حاجت روا لکھ رہا ہوں

ابھی زمین ابھی عرش پر قیام رسول

لکھوں گا وہی جو مرے آقا سے ملے گا

تابع ہیں ترے لوح و قلم صاحب عالم

اسی سرکار سے ملتا ہے جو کچھ ہے مقدر کا

مالک خلد بریں میرے نبی

میں جو لکھ رہا ہوں بجا لکھ رہا ہوں

یہاں صرف عقیدے میں بگاڑ ہی نہیں آیا بلکہ اس میں مزید پختگی آتی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف یہ کہ حاجت روا تسلیم کر لیا گیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’شافع محشر‘‘ کے ساتھ ’’مالک میزان‘‘ بھی بنا دیا گیا اور جرم و سزا اور بخشش و انعام کا حق اللہ تعالیٰ سے چھین کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تفویض کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس معطل محض ہوکر رہ گئی۔ ملاحظہ ہوں شعرائے کرام کی بے باکیاں،

دوزخ میں میں تو کیا مرا سایہ نہ جائے گا

اتنا بھی معاصی پہ پشیماں نہ ہو اے دل

بروزِ حشر کہیں گے نبی فرشتوں سے

جس کو سرکارِ دو عالم سے عقیدت ہوگی

قبر نبی ذریعہ شفاعت کا خوب ہے

کیوں کہ رسولِ پاک سے دیکھا نہ جائے گا

سرکار ہیں اپنے وہ نمٹ لیں گے خدا سے

یہ ہے غلام مرا ، یہ مری امان میں ہے

بالیقیں حشر میں بس اس کی شفاعت ہوگی

دیدار ہو رہا ہے محمد کے شہر میں

(محمد کے شہر میں غالباً یہ کسی اور نبی کی قبر ہے!؟)

جائیں گے میدانِ محشر میں جدھر بھی مصطفی

عاصیوں کو دیکھ لینا بخشواتے جائیں گے

ایسے بے باک و گستاخ نعت گو شعراء نے ایک گمراہ کن نظریہ یہ بھی مہیا کر دیا کہ،

’’چاہے جتنے گناہ کرو، وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہر حال میں بخشوا لیں گے۔‘‘

یہ بے حد خطرناک نظریہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’مرتبہ شفاعت‘‘ ضرور حاصل ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ان لوگوں کی سفارش فرمائیں گے جو نیک و متقی، زاہد و مرتاض ہوں گے اور ان کے نیک اعمال میں کچھ کمی رہ گئی ہوگی تو اس کی بھرپائی شفاعت سے ہوگی ناکہ ایسے لوگوں کی شفاعت کی جائے گی جو عاصی ہوں گے اور ان کے سروں پر صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا بوجھ لدا ہوگا، ایسے لوگوں کو بخشوانا یا ان کی سفارش کرنا تو دور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں فرمائیں گے۔

عقیدے کے بگاڑ میں ایک عنصر اور بھی کارفرما ہے وہ ہے مسلک، فرقہ اور مختلف مکاتب فکر کے نظریات!! شعرائے اردو نے اپنے اپنے مسلکی نظریات یا فکری منہج کو نعت میں پیش کر کے اس کی حرمت و پاکیزگی کو آلودہ کر دیا ہے۔ اہل تشیع بھی نعت گوئی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور اپنے عقائد و نظریات کی اشاعت سے غافل بھی نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہو،

جانشینئ پیمبر کے سزا تو ہی تو تھا

قالب خاکی کے پردے میں خدا تو ہی تو تھا

یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خدا ہونے کا اعلان ہے۔ پھر اہل سنت کس طرح خاموش رہتے!! انھوں نے بھی نعت میں اپنے مسلکی نظریات کی تبلیغ اور دیگر فرقوں کی تضحیک و تحقیر میں نعت جیسی مقدس صنف کو ہجویات سے آلودہ کر دیا۔

خاک جل کر ہوتے ہیں تو ہوں رسالت کے عدو

سبھی سنیوں کا ہے ایمان اس پہ

کرتا ہے رب عطا تو عطا کرتے ہیں نبی

سب کو دلواتا ہے اپنے اللہ سے

جنت کا راستہ ہے یہی نعتِ مصطفی

تراتے پھر رہے ہیں جو نجدی

ندائے یا رسول اللہ لگاتے ہی رہیں گے ہم

مسلک احمد رضا اپنا لے جو

اس لئے پڑھتے ہیں ہم سنی کھڑے ہوکر سلام

یا نبی کے ہم تو بس نعرے لگاتے جائیں گے

پیامِ خدا ہے پیامِ محمد

دشمن کیوں جل رہا ہے خدا کے نظام سے

دونوں عالم کا داتا ہمارا نبی

سنی نے شان سے ہے پڑھی نعتِ مصطفی

کب ہو گا انہیں زوال آقا

جلانا تجھ کو نجدی ہے وطیرہ اہل سنت کا

نار سے وہ نور ہو ہی جائے گا

ہے یہی سرکارِ طیبہ سے محبت کی سند

اس کے ساتھ ہی یہ بھی

نبی کو بشر اپنے جیسا کہے جو

چالیس دنوں تک ہو گر عالمِ تنہائی

وہ گستاخ دوزخ کا حق دار ہوگا

گھر پہنچیں تو لگتا ہے بیگم کا فیگر اچھا

اب اس کا ردِ عمل بھی ملاحظہ فرمائیں،

گر عقیدت میں غلو کا یہی انداز رہا

آپ کہتے ہیں محمد مصطفی سے مانگئے

پہلے نورِ مصطفی سے دل فروزاں کیجئے

مجھ کو ڈر ہے کہ بریلی نہ مدینہ ہو جائے

اور ارشادِ محمدؐ ہے خدا سے مانگئے

پھر مکانوں کی منڈیروں پر چراغاں کیجئے

مجھے کسی مسلک، منہج یا مکتب فکر سے کوئی بیرنہیں ہے۔ ہاں! مسلک و نظریات میں شدت پسندی کے خلاف ضرور ہوں۔ نظریہ و عقیدہ ہر انسان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے اس تعلق سے میں کسی پر کسی بھی طرح کا نہ جبر پسند کرتا ہوں نہ اس کے خلاف کچھ کہنا ہی مناسب خیال کرتا ہوں کیوں کہ قرآن و سنت کی واضح تعلیمات ہمارے سامنے ہیں۔ اب ہمیں کیا اور کس طرح کرنا ہے یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے ۔ کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر مانے نہ مانے! یا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب تسلیم کرے یا نہ کرے اس پر آپس میں سر پھٹول کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس معاملے کو آخرت و میزان پر چھوڑ دینا چاہئے۔ مجھے تو بڑی ہنسی آتی ہے کہ دیوبندی اور بریلوی ایک دوسرے کو کافر، مشرک اور بدعتی کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن آپس میں شادی بیاہ سے انھیں کوئی پرہیز بھی نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی مساجد کی تعمیر میں دل کھول کر عطیات بھی پیش کرتے ہیں، کل جماعتی تنظیم کے اسٹیج پر ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو بیٹھنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتے اور جہاں کسی نے کوئی شوشہ چھوڑ دیا تو آپس میں دست و گریباں بھی ہو جاتے ہیں۔ (میرے شہر میں تو یہی صورت حال ہے) خیر!!

ان مسلکی و نظریاتی تنازعات کے طفیل ایک خرابی اور در آئی کہ نعت میں منقبتی مضامین کی آمیزش کی جانے لگی اور اس انداز سے منقبتی شعر کہے جانے لگے کہ نعتیہ و منقبتی اشعار میں تمیز مشکل ہو رہی ہے۔

جسے پروانۂ شمع رسالت لوگ کہتے ہیں

لاکھوں میں ایک فخر امم حافظ ملت

دین حق کی راہ لاکھوں کو دکھائی ہند میں

کرم سے آپؐ کے احمد رضاؒ کی یہ عنایت ہے

گھر لٹایا، سر کٹایا دین احمد کے لئے

کٹا دیتے ہیں سر کو سچ کی خاطر وقت پڑنے پر

اسی نے ہے بچایا دین و ایماں یا رسول اللہ

ملت کا محافظ ہے نگہبان ہمارا

حضرت خواجہ معین کے خلق کی تلوار نے

عطا ہم کو کیا یہ کنزالایماں یا رسول اللہ

بنت احمد کا مجھے لخت جگر اچھا لگا

کوئی دیکھے ذرا یہ حوصلہ آلِ پیمبر کا

اور اگر ایسے شعر پہ کسی نے لب کشائی کی جرأت کی تو تلواریں کھنچ جاتی ہیں۔

جنبش لب ہے وہاں سوئے ادب

جب زبانیں سوکھ جائیں پیاس سے

جانتے ہیں وہ کسے کیا چاہئے

جام کوثر کا پلا احمد رضا !!

یہ مسلکی نظریاتی اختلافات اس قدر شدت اختیار کر گئے ہیں کہ ایک دوسرے کو کافر، مشرک، بدعتی، دوزخی کہنے میں ذرا بھی خوف محسوس نہیں کرتے۔ نص صریح سے ثابت ہے کہ جنت دوزخ کا فیصلہ صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے وہی جانتا ہے کہ کون جنتی ہے اور کون دوزخی!! اتنا ہی نہیں وہ قادر مطلق ہے اپنی مرضی کا مختار ہے وہ چاہے تو نیک و متقی کو دوزخ میں ڈال دے اور گنہ گار کو بخش دے!! ہم کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم کسی کو اپنی مرضی سے دوزخ میں دھکیل دیں یا کسی کو جنت کا پروانہ عطا کر دیں لیکن ہمارے شعراء ایسے فتوے نہایت آسانی و بے خوفی سے جاری فرما رہے ہیں۔

نبی کو بشر اپنے جیسا کہے جو

جس کو سرکارِ دو عالم سے عقیدت ہو گی

وہ گستاخ دوزخ کا حق دار ہوگا

بالیقیں حشر میں بس اس کی شفاعت ہو گی

اگر عقیدت و شفاعت کی یہی صورت حال اور شرط ہے تو پھر غالباً کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ بھی اپنے اس شعر کی بنا پر شفاعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق دار ٹھہریں گے

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں

ایک سحرؔ ہی کیا چندر بھان برہمن سے لے کر جگن ناتھ آزاد اور کرشن بہاری نور تک غیر مسلم نعت گو شعراء کی ایک نہایت ہی طویل قطار ہے۔ ان کے تعلق سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدت مندوں کا فتویٰ کیا ہوگا!؟

ہمارے شعراء کی عقیدت و محبت اب جنون کی حد تک پہنچ چکی ہے کہ ’’مدینہ شریف‘‘ اور ’’حب نبیؐ ‘‘ کے آگے قرآن، حدیث، سنت، شریعت اور جنت و رضوان و جبرئیل سبھی کچھ حقیر و بے معنی سے ہوکر رہ گئے ہیں۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے بار بار ذکر فرمایا ہے کہ،

’’وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں نیک اعمال کئے ہیں وہ’’فوزِ عظیم‘‘ یعنی ’’جنت‘‘ کے حقدار ہوں گے جہاں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ انسان ان کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ اس لئے اے ایمان والو! جنت کی طلب کیا کرو اور جہنم سے پناہ مانگتے رہو کہ وہ نہایت ہی بری جگہ ہے۔‘‘

نہات ہی شرم و افسوس کی بات ہے کہ ہمارے شعراء نے اس ’’فوزِعظیم‘‘ اور ’’انعامِ الٰہی‘‘ کی وہ توہین و تضحیک کی ہے کہ خدا کی پناہ!! آقائے دو جہاں نبی مکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جس جنت کی خواہش اور جس کے لئے دعا فرمایا کرتے تھے شعراء نے اس کا کیا حشر کیا ہے ملاحظہ فرمائیے،

باغ جنت سے میں گھبرا کے نکل جاؤں گا

جنت کی ثنا پھر نہ سنائے کبھی واعظ

رضوان اگر دیکھ لے طیبہ کی گلی کو

اگر ناز جنت پہ کرتا ہے رضواں

لطف طیبہ میں اشرفی جو ہے

ہر حال میں خوش حال ہوں طیبہ کی گلی میں

کرے رشک کیوں کر نہ جنت بھی اس پر

بہت ڈھونڈا مگر جبرئیل نے بھی

کیوں وہ تکتی ہے خاک طیبہ کی

رشک گلزارِ جناں طیبہ میں حاضر ہو گیا

یاد آئے گا جو دیوار کا سایہ تیرا

دیکھے جو بہارِ چمن کوئے محمد

وہ بھول کے بھی جائے نہ جنت میں دوبارہ

تو آکر ذرا دیکھ جائے مدینہ

وہ کہاں خلد کی بہاروں میں

دل میرا تو جنت کا طلب گار نہیں ہے

کہ ہے اس سے اونچا مقامِ مدینہ

نہ پایا دو جہاں میں ایسا گلزار

خلد کو میں رقیب لکھوں گا

میری منزل ہے یہی میں کیوں کروں جنت کی آس

اس میں شک نہیں کہ ہر مسلمان شہر نبیؐ سے بے پناہ محبت رکھتا ہے اسے اگر ’’جنت ارضی‘‘ کہیں تو زیبا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جنت سماوی کی تحقیر و توہین تو قطعی نا مناسب ہے بلکہ آخرت میں قابل گرفت بھی ہوگی۔ حشر میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پوچھے گا کہ،

’’میں نے جس جنت کو فوزِ عظیم کہا ہے تم نے اس کی تحقیر و تذلیل کیوں کی؟‘‘

تو یہ کیا جواب دیں گے سوچ کر رکھیں اور اگر انھیں دوزخ میں ڈالنے کا حکم ہوگا تو یہ کیا کریں گے؟ یہ بھی دھیان میں رکھیں!!

قرآن و حدیث میں جہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے وہاں یہ بھی ہے کہ جنت میں کسی قسم کا رنج و الم نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی تکلیف دہ شئے ہوگی۔ اب ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارے شعراء مدینہ شریف کو جنت سے اعلیٰ و ارفع جانتے ہیں اور اسی جنت رسولؐ میں ’’خار‘‘ بھی اگا رہے ہیں،

اٹھالوں گا پلکوں سے میں ان کو اپنی

مجھ کو اک خار جو مل جائے رہِ طیبہ کا

کہ پھولوں سے بہتر ہے خارِ مدینہ

چھوڑ دوں گا میں چمن سارے زمانے کیلئے

ایک تماشہ اور بھی ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی جنت کی تحقیر و تضحیک کرنے والے شعراء کا یہ حال ہے کہ وہ شداد کی بنائی ہوئی جنت یعنی ’’ ارم‘‘ کی تمنا کر رہے ہیں،

آپ کا شہر بھی کیا خلد سے کم ہے ہم کو

ہو رہا ہے مردِ مسلم رہروِ راہِ ارم

دشت طیبہ بھی باندازِ ارم ہے ہم کو

کس طرح محمود راہِ ہادئ اسلام ہے

یہ شعراء صرف جنت کی تحقیر و تضحیک پر مطمئن نہیں ہو جاتے بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر انبیائے کرام یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حرم کعبہ کی شان میں بے ادبی و گستاخی سے نہیں چوکتے،

مردوں کو زندہ غلامانِ نبی کرتے ہیں

شہِ کونین کی نسبت نے بخشا ہے شرف ہم کو

ہے بارگاہِ محمد ، حرم کی راہ نہیں

اتنا بھی معاصی پہ پشیماں نہ ہو اے دل

بلالؓ کہنے کو ادنیٰ غلام ہے کہ نہیں

ہم عاشق ہیں محمد کے وہ قاصد ہیں محمد کے

ایسا ہے بہروپیا حسان کا بھولا صنم

ترے امتی کی ہے شان کیا صل علیٰ صل علیٰ

دست محمدی کا بوسہ تمھیں ملا ہے

معجزہ آپ کا اے حضرت عیسیٰ کیا ہے

ہم عاصی عافیت میں ہیں خدا کے یار کے دم سے

سرِ نیاز ادب سے جھکا مدینے میں

سرکار ہیں اپنے وہ نمٹ لیں گے خدا سے

مسیح و خضر سے افضل مقام ہے کہ نہیں

ٖٖفرشتو ! مرتبے جبرئیل سے بڑھ کر ہمارے ہیں

وہ عیاں بھی اور نہاں بھی دل کے کاشانے میں ہے

پرِ جبریل ہے زیر پا صل علیٰ صل علیٰ

کیا نازش پیمبر احمد کبیرؒ تم ہو

یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کے بیان میں صریحاً معجزۂ الٰہی کی تضحیک ہو رہی ہے کیوں کہ معجزے انبیاء علیہم السلام کے اپنے اختیار سے نہیں بلکہ مشیت الٰہی سے ظہور میں آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’خدا کا یار‘‘ کہنا گستاخی ہی کے مترادف ہے۔ حرم کعبہ کو بارگاہِ محمدؐ کے مقابلے میں کمتر بتانا بھی اسی قبیل سے ہے۔ اسے کیا کہیں گے کہ ’’سرکار اپنے ہیں وہ خدا سے نمٹ لیں گے!‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’بہروپیا اور بھولا صنم‘‘ کہتے وقت شاعر کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوئی؟ حضرت بلالؓ کو مسیح و خضر سے افضل گرداننا کیا معنی رکھتا ہے؟ شاعر کو غالباً ’’نازش پیمبر‘‘ کے معنی معلوم نہیں اس لئے حضرت احمد کبیر رفاعیؒ کو اتنے بلند مرتبے پر پہنچا دیا کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ’’وجہِ نازش‘‘ ہو گئے لیکن یہاں تک آکر تو گستاخی کی انتہا ہوگئی،

شمس منیر والضحیٰ بدرالدجیٰ لقب ملا

ایک دن عرش پہ محبوب کو بلوا ہی لیا

ثانی رہا ہے خود خدا سرورِ کائنات کا

ہجر وہ غم کہ خدا سے بھی اٹھایا نہ گیا

خدائے تعالیٰ کو ’’سرورِ کائناتؐ کا ثانی‘‘ کہنا مفتیان شرعِ متین سے متعلق مسئلہ ہے۔ وہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ یہ کیا ہے!؟ دیگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کو انسانی صفات سے متصف کرنا کہاں تک درست ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجر کا غم برداشت نہ کر سکا اور عالم بے قراری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بلوا لیا تاکہ آپ سے ملاقات و دیدار سے اس کا دل خوش اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں!!

میں نے اپنے کئی مضامین میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ صنف نعت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مختص ہے تو اس میں مضامین و خیالات، زبان و بیان بھی شستہ و پاکیزہ ہونے چاہئیں۔ا یک لفظ بھی ایسا نہیں آنا چاہئے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبے کے منافی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و رفعت سے کمتر ہو۔

یہاں بالیدگی ہوتی رہی موئے مبارک ہے

اللہ نے ایسا چاند بھی چمکایا فرش پر

وہ تاجدار ہو گیا سارے جہان کا

زمانے بھر میں یکتا کشتِ قدرت ہے سرِ اقدس

چودہ صدی کے بعد بھی جو ضو فشاں ہے آج

میرے نبی کے در کا جو مزدور ہو گیا

جب تکلم کبھی فرماتے ہیں میرے آقا

دو جہاں کی دولتوں پر آپ کا ہے اختیار

سگانِ کوچۂ احمد بنے نصیب سے ہم

نہیں قابل حضوری کے تو باہر ہی گزاروں گا

پھوٹ کر منہ سے نکلتے ہیں ستارے اُن کے

جس کا منگتا قیصر کسریٰ ہو وہ قیصر بھی آپؐ

در حبیب پہ سجدے کئے قریب سے ہم

سگ در ہی بنا لیں آپ دربارِ رسالت کا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ اقدس کو ’’موئے مبارک کی کشت قدرت‘‘ کہنا کہاں تک درست ہے؟ جب کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ’’بال کی بالیدگی صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس کے لئے مخصوص تھی اور باقی تمام انسان بالوں سے محروم ہیں!!‘‘ دوسرے شعر میں ’’فرش‘‘ نہایت قبیح معلوم ہوتا ہے یہاں ’’ارض‘‘ بھی کہا جا سکتا تھا۔ تیسرے شعر میں ’’مزدور‘‘ فضول لفظ ہے یہاں ’’غلام‘‘ کا محل ہے۔ ’’منہ سے پھوٹنا‘‘ گھٹیا اور بازاری محاورہ ہے ایسے موقعوں پر ’’پھول برسنا یا ستارے جھڑنا‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’قیصر‘‘ (شاہِ ایران کا لقب) کہنا کہاں تک درست ہے۔ جب کہ قیصر و کسریٰ جیسے بادشاہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کفش برداری کے بھی لائق نہ تھے اور کتا بن کر درِ حبیبؐ پر سجدہ ریزی کو کیا کہا جائے گا؟؟ جب کہ حدیث شریف میں ہے کہ،

’’جس گھر میں کتا پلا ہو وہاں فرشتے نہیں آتے، اگر کسی مکان کی چوکھٹ پر کتے کی رال بھی ٹپک جائے تو چالیس روز تک فرشتے اس مکان میں داخل نہیں ہوتے۔‘‘

اس حدیث پاک کی روشنی میں روضۂ اقدس پر سگ (کتے) کا وجود کم از کم میں تو برداشت نہیں کر سکتا۔

نعت کی پاکیزگی، گھٹیا الفاظ، بے تکے مضامین اور غلط بیانی کی بھی ہرگز متحمل نہیں ہو سکتی لیکن بعض شعراء نے اس طرف سے جیسے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ انھیں یہ احساس تک نہیں ہے کہ وہ کس عظیم ہستی کی شانِ اقدس میں شعر کہہ رہے ہیں اور اس کی لفظیات کیا ہونی چاہئیں اور مضامین و خیالات کے بیان میں کس قدر احتیاط برتنی چاہئے۔ یہی نہیں حقیقت سے بعید اور خلافِ واقعہ باتیں نظم کرنے میں بھی انھیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔

گنبد خضریٰ سے پھوٹی جب صداقت کی کرن

بھیک لینے روشنی کی چاند تارے چل پڑے

شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ صداقت کی کرن حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں نہیں پھوٹی بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ’’گنبد خضریٰ‘‘ سے ظاہر ہوئی اور اب تک جو چاند تارے روشنی سے محروم تھے انھیں گنبد خضریٰ سے بھیک میں روشنی عطا ہوئی ہے!؟

جہاں آتی ہے چاندنی بھیک لینے

وہ ماہِ رسالت کا در دیکھنا ہے

یہاں بھی وہی بات ہے لیکن اس میں یہ نیاپن ہے کہ چاند کی بجائے ’’چاندنی‘‘ بھیک لینے آتی ہے۔

چاند پر پڑتی ہے آقا جب کبھی میری نظر

یاد آتا ہے مجھے انگلی اٹھانا آپ کا

شاعر صاحب کو غالباً ’’انگلی اٹھانا‘‘ محاورے کے معنی اور محل استعمال سے واقفیت نہیں ہے۔

خدا کو دعا میری سننی پڑے گی

نبی کا وسیلہ بہت معتبر ہے

’’سننی پڑے گی‘‘ کی تاکیدی قباحت اہل علم و زبان سے پوشیدہ نہ ہوگی۔

دلوں میں شعلۂ ایماں اسی سے روشن ہے

نبی کا عشق تو جیسے دیا سلائی ہے

کیا ’’عشق نبی‘‘ کو ’’دیا سلائی‘‘ سے تعبیر کرنا درست ہے؟

بے ہوش جس سے ہو گئے موسیٰ تھے طور پر

جلوہ تھا اِک وہ نورِ نبی کے شرار کا

خلافِ واقعہ ہونے کے علاوہ شعر میں ’’نورِ نبیؐ‘‘ کو ’’شرار‘‘ یعنی ’’آگ کی چنگاری‘‘ کہا گیا ہے!!

امتی پریشاں ہیں وہ خبر نہیں لیتے

آج کل شفق شاید بدگماں محمد ہیں

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور امت سے ’’بدگمان‘‘؟!

تلاش کی ہے بہت ہم نے بزمِ امکاں میں

کہیں ملی ہی نہیں آپ کی مثال مجھے

یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے کہ شاعر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل ایک اور شخصیت کی تلاش میں نکل پڑا ہے۔

تم سا داتا، تم سا مولا، تم سا آقا ہے کہاں

بندہ پرور آپ کے ہم ہیں پجاری یا نبیؐ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوجا!؟ نعوذ باللہ!!

ان کے ہونٹوں سے خدا بول رہا تھا جیسے

ہونے والا نہیں جادو کبھی زائل ان کا

اللہ غنی! کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ’’ساحر‘‘ تھے؟

کس کو ہم بتلائیں اپنا زخم دل داغ جگر

جب سوائے آپ کے ساتھی نہ ہمسر ہے کوئی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’اپنا ساتھی و ہمسر‘‘ کہنے والے شاعر کی عقل پر شاید پتھر پڑ گئے ہیں۔ اس شعر کی تو داد ہی نہیں دی جا سکتی:

بہ محشر پڑھ کے میرا فردِ عصیاں

فرشتہ خود بھی ششدر ہوگیا ہے

اتنا بُرا نامۂ اعمال ہے؟ شاعر کے خیال میں حشر میں اعمال نامے میزان پر نہیں تولے جائیں گے بلکہ ایک فرشتہ انھیں پڑھ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کو سنائے گا!! اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرمائے گا۔

اسی قبیل کے کچھ اشعار اور ملاحظہ فرمائیے:

نقش قدم کو چومتے رہتے تھے جبرئیل

مٹی کا نہ لیں بوسہ کیوں کر نہ ملائک بھی

جنبش سے انگلیوں کی دکھایاہے معجزہ

رضوان اگر خلد میں جانے نہیں دے گا

جو عشق محمد میں سرشار ہوگا

وہ مرتبہ تھا میرے نبی کے جمال کا

جب خلد بریں کے ہوں مہمان مدینے میں

اک شق سا پڑ گیا تھا فلک کے ہلال میں

کہدوں گا میں جاکر مرے رحمت لقبی سے

میسر اسے جلوۂ یار ہو گا

ان اشعار کی قباحتوں کی تشریح کی ضرورت تو نہیں محسوس ہوتی پھر بھی اشارۃً عرض ہے کہ، جبرئیل علیہ السلام کا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کو چومنا، ملائک کا مدینے کی مٹی کو بوسہ دینا، انگلیوں کی جنبش سے معجزہ دکھانا اور ’’بدر‘‘ نہیں بلکہ ’’ہلال‘‘ میں ’’شق‘‘ پڑ جانا۔ شعراء کی جہالت اور زبان و بیان کی کمزوری کے شاہد ہیں۔

اس مقام پر یہ کہنا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ جس طرح دورانِ گفتگو لوگ طرح طرح کی قسمیں کھاتے ہیں اس طرح نعت میں بھی شعراء اپنے کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے قسمیں کھاتے ہیں لیکن ان کا یہ عمل کہاں تک درست ہے یہ تو علماء و مفتیان کرام ہی بتا سکتے ہیں۔

قسم اللہ کی اک آپ کے درکے سوا ہم نے

زبانِ شمع رسالت اگر نہ ضو دیتی

جس کسی کو بھی طیبہ میں موت آ گئی

کسی در پر نہیں دامن پسارا یا رسول اللہ

قسم خدا کی خدا یوں خدا نہیں ہوتا

وہ خدا کی قسم جنتی ہو گیا

نعت کا ایک شعبہ ’’سراپا نگاری‘‘ بھی ہے جس میں شعراء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سراپا کو بیان کرتے ہیں لیکن میرے مطالعے میں ہے کہ شعراء اس ضمن میں احتیاط سے کام نہیں لیتے یعنی اس تعلق سے وہ عامیانہ زبان استعمال کرتے ہیں یا پھر وہ انداز و اسلوب اختیار کرتے ہیں جو غزل کے محبوب کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرز کو کسی طور مستحسن نہیں کہا جا سکتا۔ اس میں ایک قباحت اور بھی ہے کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قد زیبا، گیسو و رخسار کے ذکر سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔

خواب میں زلف کو مکھڑے سے ہٹا لے آ جا

جان بہار ، جانِ جہاں ، جانِ انجمن

بوئے گل اس لئے پھرتی ہے چھپائے چہرہ

ہر غنچہ و گل میں ہے نہاں یار کی خوشبو

جس دن سے ان کی زلف معطر سے مس ہوئی

اگر پرتو پڑے سلطانِ دیں کی زلف کاکل کا

وہ خط وہ چہرہ وہ زلف سیاہ تو دیکھو

پس فنا بھی نہ آشفتگی مٹے گی مری

اے دو عالم کے حسینوں سے نرالے آ جا

وہ حسن بے پناہ وہ صورت نبی کی ہے

گیسو سرکارِ دو عالم نے سنوارے ہوں گے

تا حشر رہے گی مرے سرکار کی خوشبو

قسمت بلند ہو گئی بوئے شمیم کی

نکل جائے گلستانِ جہاں سے پیچ سنبل کا

کہ شام صبح کے بعد آئی صبح شام کے بعد

رہے گا زلف نبی کا خیال تربت میں

ان اشعار پر مزید تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

میں نعت پاک میں یا پھر نثر یا ادب کی کوئی بھی صنف ہو۔ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’تو، تیرا‘‘ جیسی ضمیروں کا استعمال نامناسب بلکہ بے ادبی خیال کرتا ہوں۔ اس تعلق سے میرا ایک مضمون ’’اردو نعت میں ضمائر کا استعمال‘‘ نعت رنگ شمارہ نمبر ۲۲ میں شائع بھی ہو چکا ہے۔ غالباً اس کے ردِ عمل کے طور پر جناب تنویر پھول صاحب رقم طراز ہیں،

’’نعت گو شعراء میں ایک طبقہ نعت کہتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’تو، تم، اس‘‘ وغیرہ کے استعمال کو یکسر ممنوع سمجھتا ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ ہمارے اکابرین نے اسے معیوب اور خلافِ ادب نہیں سمجھا ہے۔ ویسے بھی اعمال کا دار و مدار نیت پر ہوتا ہے جوشعراء ان الفاظ کو استعمال کرتے ہیں ان کی نیت نیک ہوتی ہے جو اس سے پرہیز کرنا چاہیں ضرور کریں لیکن دوسروں پر طعن و تشنیع نہ کریں۔‘‘ (2)

پھول صاحب نے اپنی تحریر میں ’’ایک طبقہ‘‘ لکھا ہے جب کہ میرا خیال ہے کہ مندرجہ بالا عبارت میرے مضمون کا ہی ردِ عمل ہے۔

مجھے اس تعلق سے کوئی بحث نہیں کرنی ہے۔ صرف پھول صاحب سے اتنا ہی دریافت کرنا چاہوں گا کہ،

’’اگر خوش بختی سے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا موقع مل جائے تو اس وقت آپ رحمۃ اللعالمین، ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’تو‘‘ سے خطاب کریں گے یا ’’آپ‘‘ سے!؟؟

حوالاجات[ترمیم]

1) نعت رنگ شمارہ نمبر ۲۴، صفحات ۷ تا ۱۳

2) نعت رنگ، شمارہ نمبر ۲۴، صفحہ ۲۲۳


مزید دیکھیے[ترمیم]

نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25 | نعت رنگ | کاروان ِ نعت | فروغ نعت

سگ مدینہ | نعت میں ضمائر کا استعمال