نعت نامے ۔ احمد صغیر صدیقی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

احمد صغیر صدیقی ۔کراچی

3/ستمبر 2014

’’نعت رنگ‘‘ کا ۲۴ واں شمارہ میرے سامنے ہے۔۵۶۰ صفحات کا یہ مجلّہ ۸ مقالات ،۹ نعت نگار شعرا کے فکر وفن پر مبنی مضامین کتابی جائزے ۱۱نعتوں اور ۵ حمدوں پر مشتمل ہے ۔اس بار بھی’’نعت رنگ‘‘نے اپنے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا ہے اور موجودہ شمارہ اپنے Contentsکے اعتبارسے پچھلے شماروں سے کسی بھی طرح کم وقیع نہیں ہے۔

شمارے کے با لکل ابتدا میں اہل قلم حضرات سے کچھ گزارشات شائع کی گئی ہیں اس میں ایک یہ ہے کہ ہاتھ سے لکھا ہوا مسودہ کاغذ کے صرف ایک جانب لکھا ہوا ور خوش خط ہوناکہ اغلاط کا امکان نہ رہے۔اس ضمن میں ایک بات میری سمجھ میں نہیں آسکی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اگر مسودہ صاف صاف لکھا ہوتو کمپوز رکو پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے اور غلطیوں کا امکان کم ہوجاتا ہے (امکان نہ رہنے وا لی بات درست نہیں)مگرمیں یہ سمجھنے سے قاصر رہاہوں کہ کاغذ کے ایک طرف لکھنے سے غلطیاں ختم ہونے کا امکان کس طرح نہیں رہتا ؟میں سمجھتا ہوں کہ صرف ایک طرف لکھنے کے لیے یہ جواز درست نہیں بلکہ یہ کاغذ کازیاں ہے۔میں نے اپنا مسودہ کاغذ کے دونوں طرف لکھا ہے اس کے لیے معذرت خواہ ہوں تاہم صفحہ پر خاصہ بڑاحاشیہ دے دیا ہے تاکہ آپ اس جگہ کچھ لکھنا چاہیں تو لکھ سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل کا ابتدائیہ خیال افروز ہے۔یہ بات بہر حال اطمینان کی ہے کہ نعت رنگ جیسے رسائل کی کاوشوں سے اب نعت گو شعرا میں بڑی حد تک بدعتوں سے احتراز کا شعور پیدا ہورہاہے۔

مدیر گرامی! آپ نے اپنی بات میں رسالے کی تاخیر سے آمد وغیرہ کی وضاحت کی ہے۔بے شک وہ اپنی جگہ مضبوط ہے تاہم عرض کرنا چاہوں گاکہ کسی بھی جریدے یا کتابی سلسلے کی آمد میں سال بھر سے بھی زیادہ تاخیر ہونے لگے تو اس پر خاصہ برا اثر پڑتا ہے ۔بہت سی باتیں پڑھنے والوں کے حافظے میں نہیں رہتی کچھ اس کی جگہ کسی اور جریدے کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔اور بعض یہ سمجھ کر اسے ذہن سے نکال دیتے ہیں کہ شاید بند ہوگیا ہے۔لہٰذا کوشش تویہی ہونی چاہیے کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر لے آئی جائے ۔دیر میں چھپنے والے جریدوں میں لکھتے ہوئے مجھ جیسے لکھنے والوں کوتو یہ خدشہ بھی لاحق رہتا ہے کہ پتا نہیں ان کی تحریر ان کی زندگی میں چھپ سکے گی یا نہیں ۔آپ کی تحریر سے معلوم ہوا کہ جناب طاہر قریشی اور جناب شہزاد احمد کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری مل گئی ہے ۔دونوں کو مبارک باد ۔جناب شہزاد احمد کو اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگ جانے سے وہ مرحوم شاعر شہزاد احمد سے الگ پہچانے جاسکیں گے۔جناب احمد جاوید کی لکھی حمد بہت پسند آئی ۔غالب عرفان کی حمد بھی عمدہ ہے ۔ تنویر پھول صاحب کی لکھی حمد میں آخری شعر کی بنت پر توجہ کی ضرورت تھی جویوں ہے:

پامال ہے یہ گلشن ہستی میں ہورہا

فریاد لایا پھول ہے تیری جناب میں

یہ شعر کوئی بہت کمزور اور اناڑی شاعر لکھتا تواس سے صرف نظر کیا جاسکتا تھا مگر......جناب خورشید رضوی کی لکھی حمد بھی اچھی ہے۔مگر اسے ’’صحیح‘‘ مقام پر نہیں لگایا گیا ہے۔

شمارے کا پہلا مقالہ ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان کاہے اور اپنی نوعیت میں الگ ہو نے کی وجہ سے خوب ہے ۔ان کی تحقیقی کاوش سراہے جانے کی مستحق ہے ۔قصیدۂ بانت سعاد بھی جناب مولانااسید الحق قادری کی محنت کا ثمر ہے انھوں نے شاعر کعب بن زہیر کے حالات اور فن سے متعلق معلومات باخبری بخشی ہے ان کا مقالہ اعلیٰ درجے کاہے ۔جناب ڈاکٹر افضال احمد انور نے اپنے مقا لے میں (معنویت لفظ نعت کی روشنی میں یکتائی مصطفیصلی اللہ علیہ وسلم) جس ریسرچ کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے انھوں نے لفظ نعت کے کوئی ۲۵ عدد معنی سے ہمیں باخبر کیاہے اس لحاظ سے یہ مقالہ اور بھی باتوقیر ہوگیا ہے۔ڈاکٹرشہزاد احمد نے جم کر پاکستان میں نعتیہ صحافت کا جائزہ لیا ہے انھوں نے ایک زبردست تحقیقی کام کیا ہے ۔یہ مقالہ لکھنے پڑھنے والوں کے لیے ایک ریفرنس کاکام دیتا رہے گا ۔بھارت کے ڈاکٹر اشفاق انجم نے کچھ غیر منقوط حمد ونعت سے متعلق جو مقالہ لکھا ہے بلاشبہ قابل تحسین ہے ۔بھارت میں شاعری کی حالت کچھ بہتر نہیں انھوں نے جن راز پرتاپ گڑھی نامی شاعر کی غیر منقوط حمد کا ذکر کیا ہے ان کے اندر کوئی شاعرانہ اوپج موجود نہیں ۔بہرحال ڈاکٹر صاحب نے ان کی غلطیوں سے لوگو ں کو آگاہ کرکے اچھا کیا ہے کیونکہ آج کل شعری ادب کے قارئین بھی سخن فہمی سے فاصلے پر نظر آتے ہیں ۔حد یہ ہے کہ آج کل کے بہت سے مدیر بھی کسی ادبی ساکھ کے مالک نہیں انھیں چونکہ اچھی بری شاعری کی تمیز نہیں ہوتی وہ جو کچھ آتاہے چھاپ دیتے ہیں اس سے ہوتا یہ ہے کہ ایک تھرڈ کلاس شاعر سمجھنے لگتا ہے کہ وہ کوئی معمولی چیز نہیں۔اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے ’’ارم‘‘کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں ان سے سچی بات تو یہی ہے کہ بہت سے شعرا آگاہ نہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ منظرعارفی کے مقالے میں بھی نعت گوئی میں ’’ارم ‘‘کے استعمال پر تفصیل سے بات کی گئی ہے اور بہت وضاحت سے اس ضمن میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ان کا مضمون بھی پڑھنے کے لائق ہے۔جناب تنویر پھول نے حمدونعت میں الفاظ کے مناسب استعمال پر مقالہ لکھا ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے شعرا ’’خیر الامم‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلمکی ذات اقدس کے لیے لکھتے ہیں جو درست نہیں کیونکہ خیرالامم سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے یعنی اُمت مسلمہ میرے خیال میںیہ بات درست نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس طرح خیرالبشر درست ہے اسی طرح خیر الامم بھی درست ہے اور اُمم جمع ہے اُمت کی ۔اُمت کے معنی ہیں ۔گروہ جماعت وغیرہ اس سے صرف اُمت مسلمہ مراد لینا درست نہیں ۔تنویر پھول صاحب نے اپنے مضمون میں بقیہ جتنی غلطیوں کی نشان دہی کی ہے سب درست ہیں اور شعرا کوان پر توجہ دینا چاہیے ۔ بعض تو بہت دلچسپ اغلاط ہیں مگر دیکھے کون ؟ انھوں نے کسی کا مصرعہ لکھا ہے:

’’ مدفن میرا طیبہ میں بنے اب کے برس بھی ‘‘

یعنی اب تک مدفن ان کا طیبہ میں بنتا ہی رہاہے اب کے برس بھی بننا چاہئے۔ خوب!انھوں نے ایک اور بات دلچسپ لکھی ہے کہ اسے ہمارے بے پناہ مشہور ڈاکٹر عامر لیاقت بڑے ترنم سے پڑھتے رہے ہیں ۔اور پھول صاحب کے جملے سے تو لگتا ہے کہ یہ نعت انھی کی لکھی ہوئی ہے ان کا جملہ ہے (ٹی وی میں عامر لیاقت آکر اپنی ایک نعت .........)پھول صاحب نے اپنے مقالے میں احمد ندیم قاسمی مرحوم کے کچھ اشعار لکھے ہیں کہ ان میں اتنا غرور پایاجاتا ہے ۔فرماتے ہیں (اللہ تعالیٰ سے) ’’میں تیرا فن ہوں یہی فن تیرا غرور ہوا تری انا کامری ذات سے ظہور ہوا ‘‘وغیرہ ) اب ذکر قاسمی صاحب کا چلا ہے تو سبھی جانتے ہیں کہ ان کی شاعری کسی رتبے کی نہیں تھی اس سے قبل بھی وہ ایک نظم میں لکھ چکے ہیں ’’انسان عظیم ہے خدایا ‘‘۔یعنی اللہ تعالیٰ کو تو معلوم نہیں لہٰذا شاعر بتارہاہے کہ انسان عظیم ہے ۔پھول صاحب کا یہ مضمون نہایت دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی ۔ڈاکٹر طاہر قریشی نے اپنے مقالے میں ایک مشکل موضوع کواٹھایا ہے اور ان عناصر سے آگاہ کرنے کی سعی کی ہے جو نعت کی تشکیل میں اہمیت رکھتے ہیں۔ صفحہ ۴۹۴ پر ڈاکٹر ابوالخیر کشفی کے الفاظ درج ہیں۔وہ کہتے ہیں ’’نعت کے عناصر کیا ہیں ؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اگر کوئی نقاد تمام عناصر کی نشان دہی کرنا چاہے.......تویہ کا رِمحال ہے‘‘۔ڈاکٹر قریشی نے بہرحال اپنی سی عمدہ کوشش کی ہے ۔

جریدے میں ’’فکروفن ‘‘کے حصے میں متعدد شعرا پر مختلف ناقدین نے قلم اٹھایاہے مثلا ڈاکٹر ریاض مجید نے لالۂ صحرائی کی غزوات نگاری پربات کی ہے ۔ڈاکٹر اشفاق انجم نے دادا میاں عطا کے بارے میں لکھا ہے ۔ڈاکٹر عزیز احسن نے سرور سہارنپوری کے فن کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ۔ ڈاکٹر عزیز احسن صاحب نے اپنے مقا لے میں ایک حدیث نوٹ کی ہے ۔’’اے اللہ روح القدس کے ساتھ حسان کی مدد فرما‘‘۔مجھے سمجھانے کے لیے بتائیں یہ’’روح القدس کے ساتھ‘‘کااضافہ کیوں کیا گیا ہے کیا’’اے اللہ حسان کی مدد فرما‘‘ کہنے سے مدد میں کمزوری آجاتی ہے ؟میں بہت معمولی آدمی ہوں ۔اعتراض نہیں کررہا ہوں صرف سمجھنا چاہتا ہوں کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ احادیث میں ملاوٹ بہت کی گئی ہے۔اختر بستوی پر ڈاکٹر سراج قادری اور حافظ افضل فقیر کی نعت گوئی پر جناب گوہر ملسیانی نے قلم اٹھایا ہے۔یہ سلسلے اچھے ہیں ۔نعت گو شعراسے متعارف کرانے کاعمل قابل ستائش ہے۔لیکن اچھا ہوگا کہ پہلے ان نعت گو شعرا پر جائزے پیش کئے جائیں جو عمدہ نعتوں کی وجہ سے کوئی بڑا مقام رکھتے ہیں مثلاً عبدالعزیز خالد رحمانی کیانی، مظفر وارثی ،حفیظ تائب ،حنیف اسعدی، مولانا ماہرالقادری وغیرہ ۔ڈاکٹر اسلم عزیز نے سید محسن نقوی کی نعت نگاری پرقلم اٹھایاہے ! مضمون تو اچھا ہے مگر ڈاکٹرصاحب نے یہ لکھنے کے بعد کہ ’’وہ نعت کے لیے وہ یوں الفاظ تلاشتا اور تراشتا ہے جیسے جوہری جواہرات کا انتخاب کرتا ہے‘‘۔متعدد ایسے اشعار بہ طور انتخاب لکھے ہیں جن سے ان کے تحسینی لفظوں کی نفی ہوتی ہے ۔دیکھیے یہ اشعار :

(۱) جبریل تیرے در کے نگہ بان کاہم مزاج /باقی ملائکہ تری گلیوں کے کوزہ گر

(۲) موج صبا کو ہے تیری خوشبو کی جستجو/جیسے کسی کے در کی بھکارن ہو دربدر

(۳) زلفوں سے خجل شب کی ستارہ بدنی ہے ۔

(۴) میں سایۂ طوبیٰ کی خنک رت سے ہوں واقف /مولا تری گلیوں کی مگر چھاؤں گھنی ہے۔

(۵) گلنار گھٹاؤں سے یہ چھلتی ہوئی چھاؤں

(۶) ظاہر ہوا اک پیکر صد رنگ بصد ناز

اب کیا میں تفصیل بھی بتاؤں کہ اشعار اور مصرعے کس طرح ظاہر کررہے ہیں کہ شاعر کو عمدگی سے الفاظ کے چناؤ کا طریقہ نہیں آتا؟ پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں ملائکہ کو گلیوں کے ’’کوزہ گر‘‘ کہا گیا ہے شاعر شاید یہ کہنا چاہتا تھا کہ باقی ملائکہ گلی کے بھکاری ہیں ۔ مگر اسے معلوم نہیں کہ ’’کوزہ گر‘‘برتن بنانے والے کوکہتے ہیں ۔اسے ’’دریوزہ گر‘‘کے معنی میں نہیں استعمال کیا جاسکتا ۔ اب دوسرا شعر دیکھیں ۔ موج صبا کو حضور کی خوشبو کی جستجو ہے۔اور وہ در بدر بھکارن کی طرح پھر رہی ہے ۔’’گویا اُسے یہ خوشبو مل ہی نہیں رہی ہے ۔حالانکہ اس خوشبو سے تو ساری دنیا مہک رہی ہے جناب ہمارے شاعر کی صبا کا جواب نہیں اور اسی طرح اس کی جستجو کابھی ۔ا ب تیسرے مصرعے کو دیکھیے ۔شاعر کہتا ہے کہ حضور کی زلفوں کے سامنے شب کی ستارہ بدنی خجل ہے۔اگر بالوں کی سیاہی کی تحسین پیش نظر تھی تو پھر شب کی تیرگی کا تذکرہ ہونا چاہئے تھا ۔’’ستارا بدنی‘‘کا یہاں کوئی محل نہ تھا۔مگر شاعر کواس کی سمجھ ہوتی توپھر بات بھی بن جاتی ۔ اسی طرح بعد کے شعر میں شاعر نے کہا ہے ’’گلیوں کی چھاؤں گھنی ہے‘‘ ہے ناکمال کی بات چھاؤں درختوں کے چھت وغیرہ تلے ہوتی ہے گلیوں میں نہیں ۔اور یہ گلیوں کا چھاؤں والا مصرعہ اس طرح اور بھی خراب ہوجاتا ہے جب ہم پہلے مصرعے میں ’’طوبیٰ کے سائے کی بات پڑھتے ہیں جو ایک درخت ہے۔‘‘آگے آئیے شاعر صاحب نے فرمایا ہے ۔’’گلنار گھٹائیں‘‘ ۔ہوسکتا ہوں شاعر نے دیکھی ہو ں ۔میں نے نہیں دیکھیں۔اور ممکن ہے شاعر کے مداح ڈاکٹر صاحب نے بھی دیکھی ہوں تواور بات ۔اور آخری مصرعے میں ’’مقصد تخلیق کائنات‘‘کی تخلیق کے لیے شاعر نے لکھا ہے ۔’’ظاہر ہوا اک پیکر صد رنگ بہ صد ناز‘‘۔مجھے ’’بہ صد ناز ‘‘ پر اعتراض ہے۔اس قسم کی باتیں شعرا اپنی معشوقاؤں کے لیے لکھتے ہیں۔ڈاکٹر اسلم عزیز صاحب مجھے معاف کریں ۔میں ان کے اس فتوے سے بھی متفق نہیں کہ محسن تقوی عصر حاضر کاایک ’’بڑا‘‘شاعر تھا۔

آگے کے حصے میں کچھ شعرا کے بارے میں خصوصی مطالعے ہیں۔یہ بھی ویسے ہی مقالے ہیں جو اس سے قبل کے حصے میں تھے ان میں بھی متعدد نعت گو شعرا کے فکر وفن سے تعارف کرایا گیا ہے۔حزیں صدیقی صاحب تواس دنیا میں نہیں ہیں مگر انھوں نے اپنے متعدد شعروں میں ’’کبریا‘‘کالفظ ’’خدا تعالیٰ‘‘کے لیے استعمال کیاہے جو درست نہیں یہ لفظ ’’بڑائی‘‘ کے معنی میں ہے معنی صفت ہے ۔اسم نہیں ۔ نعیم بازید پوری قا بل مبارک باد ہیں انھو ں نے ایک غیر مسلم کے ان خیالات کا ترجمہ ہمیں پڑھایا جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے احساسات لکھے تھے۔ان کی نظم بھی خوب ہے۔ڈاکٹر عزیز احسن کا انٹرویو دلچسپ تھاانھوں نے ہمیں ماہر القادری صاحب کی نعت سنائی۔کیاخوب ہے۔کیا خوب ہے وللہ۔انھوں نے ’’وتیرہ‘‘کو ’’وطیرہ‘‘لکھا ہے ۔نشاندہی میں کوئی حرج نہیں ۔اسی طرح انھوں نے جناب عبدالعزیز خالد کی سادہ سی نعتیہ نظم بھی سنائی ۔مجھے تو بہت ہی اچھی لکھی۔کاش وہ کوئی کتاب ایسی بھی لکھیں جس میں اُردو کی بہترین نعتیں موجود ہوں۔جناب ماہرالقادری ،اور عبدالعزیز خالد صاحب کی یہ دونوں نعتیں بہتریں نعتیں کہی جاسکتی ہیں ۔جناب رحمان کیانی کی تحریر بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی ۔جرمن شاعر کی نعت کا ترجمہ بہت اچھا لگا۔

اس سے آگے اس شمارے میں کتابوں پر تفصیلی مضامین ہیں ۔ان میں ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی کا مضمون بہت اہم ہے جنھوں نے ایک غیر مسلم مصنف کی کتاب ’’ہمارے رسول‘‘کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا ہے ۔کاش کہ یہ مضمون مصنف ڈاکٹر دھر میندر کی نظر سے بھی گزرے اور وہ برا ماننے کے بجائے اس پر غور کریں ۔کچھ بھی ہو ڈاکٹر دھر میندر نے نیک نیتی سے کتاب مرتب کی ہوگی۔اب انھیں بہت سی باتوں کاعلم نہیں ۔یہ ایک الگ بات ہے انھیں ڈاکٹر سفیان کی باتوں پر توجہ دینی چا ہیے ۔پروفیسر انوار زئی کا مضمون بھی اچھا ہے اسی طرح ڈاکٹر عزیز احسن کا مضمون جو مزاح نگار انور مسعود صاحب کے نعتیہ کلام سے متعلق ہے اپنی جگہ ٹھیک ٹھاک ہے ۔انور مسعود صاحب کا مصرعہ ہے۔

زندگی دی نبض دے نغمے سریلے ہوگئے

ہمیں یہ معلوم ہوکر خوشی ہوئی کہ نبض نغمے بھی گاتی ہے اور یہ نغمے ’’کبھی کبھی‘‘سریلے بھی ہوجاتے ہیں ۔ڈاکٹر عزیزاحسن نے اپنے مضمون میں ڈاکٹر طاہر قریشی کے کام سے ہمیں متعارف کرایا ۔ ڈاکٹر قریشی صاحب اپنے کام پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

حاصل مطالعہ کے حصے میں کتابوں پر مختصر تبصرے ہیں جو ڈاکٹر عزیز احسن نے کئے ہیں۔ان کے تبصرے اچھے مناسب اور متوازن ہیں ۔’’سلامتی کا سفر ‘‘ نامی کتاب (مصنف اعجاز رحمانی) پران کا تبصرہ خصوصیت سے پسندآیا۔شاعر کواسے نہایت توجہ سے پڑھنا چاہیے اوراحسن صاحب کی زرف نگاہی کی تعریف کرنی چاہیے ۔حمیراراحت کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر احسن نے شاعرہ کی ایک نعت کوٹ کی ہے اس میں مجھے دوشعر ایسے نظرآئے جوکسی بھی طرح نعت کے نہیں کہے جاسکتے ۔آپ انھیں غزل کا شعر ضرور کہہ سکتے ہیں ۔آپ بھی دیکھیں :

نہ زادراہ تھا کوئی نہ خوش گمانی تھی

بس ایک حرف دعا کا چراغ ہاتھ میں تھا

کوئی بھی آندھی کبھی ڈگمگاہ سکی نہ مجھے

اُجالا دل میں نہاں تھا چراغ ہاتھ میں تھا

(ویسے آخری مصرعے میں چراغ کاہاتھ میں ہونا اوراجالے کادل میں ’’چُھپا‘‘ ہونے کی بات بھی توجہ طلب ہے۔)اس حصے میں ایک اور کتاب پر بھی تبصرہ ہے یہ کتاب ہے جناب گوہر ملسیانی کی۔نام ہے ’’عصر حاضر ہے نعت گو‘‘۔تبصرہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں عصر حاضر کے سارے نعت گو نہیں ہیں ۔ اس طرح نام مناسبت نہیں رکھتا ۔اسے MIS LEADINGکہا جاسکتا ہے۔ جناب گوہر ملسیانی نے اپنی ایک تحریر میں (جسے تبصرے میں کوٹ کیا گیا ہے)لکھا ہے۔ (میری طبع نازک پرتمام باتیں گراں گزریں )مجھے یہ جملہ دیکھ کر حیرت ہوئی ۔انکسار کاتقاضہ ہے کہ آدمی خود اپنی طبع کے لیے ’’نازک‘‘ وغیرہ نہ لکھے ۔بہرحال جناب گوہر ملسیانی نے لکھا ہے ۔ان کے کو ٹیشن سے معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کون لوگ تھے جن کی باتیں شاعر کی طبع نازک پر گراں گزری تھیں نہ اس سے اس معروف نعت گو شاعر کانام معلوم ہوسکا جس کی تضحیک کی گئی تھی کہ بقول ان کے ان نام نہاد سخن وروں کا پتا چل سکا جنھوں نے نعت کو پروپیگنڈہ قراردیا تھا۔گوہرصاحب کو ایساکون سا خوف لاحق تھا کہ انھوں نے ان اسلام دشمن قوتوں کو Exposeنہیں کیا؟ڈاکٹر عزیز احسن صاحب سے معافی چاہتا ہوں لیکن ان کا یہ لکھنا کہ جناب گوہر ملسیانی ’’صاحب اسلوب ‘‘ شاعرہیں میری سمجھ میں نہیں آسکا ۔مجھے وہ صاحب اسلوب نظرنہیں آتے ذرا ان کا یہ شعردیکھیں:

حسن دلکش کابیاں ہے اوراک صحرا نشیں

اُم معبد کی زباں پرہیں شمائل آپ کے

کیا اس شعر میں انداز بیاں کچھ ایسا ہے جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ شاعر صاحب اسلوب ہے؟ویسے میرے خیال میں صاحب اسلوب ہونا کوئی ایسی محسن صفت بھی نہیں کہ اس پر بہت خوش ہواجائے ۔عموماً صاحب اسلوب شاعر کے ہاں بیان کی یکسائی اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ اُ س کاایک شعر پڑھیں یا دس لگتا یہی ہے کہ ایک ہی چیز پڑھی ہے۔ یقین نہ آئے توایک واقعی صاحب اسلوب شاعر سراج الدین ظفر کاشعری مجموعہ غزال وغیرہ پڑھ لیجئے۔ایک لطف کی بات اور ہے کہ اُم معبدنے حضور کا جو سراپا بتایا اُس میں اس کی ذہنی سطح بھی نظر آتی ہے کیونکہ وہ کوئی بہت پڑھی لکھی خاتون نہ تھی۔اس کے بیان سے چند سطریں ملاحظہ ہوں : ’’نہ توند نکلی ہوئی نہ چند یاکے بال گرے ہوئے.......‘‘

ذرا دیکھیے کیایہ بیان سراہے جانے کے لائق ہے ۔ہمارے گوہر ملسیانی صاحب نے اسے بہ طور خاص کوٹ کیا ہے ۔اس جگہ میں واضع طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں تحریروں اور تخلیات پر بات کرتا ہوں۔لکھنے والوں کی شخصیت میرا ہدف نہیں ہوتی ۔گوہر ملسیانی صاحب میرے لیے معزز اور محترم ہیں البتہ میں تمام اچھے لکھنے والوں سے زیادہ کڑے معیار کاتقاضہ ضرورکرتا ہوں انھیں برا نہیں ماننا چاہیے۔

اس باب میں شعرا کی تازہ نعتیں ہیں۔یہ حصہ برا نہیں ہے ۔خورشید رضوی صاحب سلیمان خمار اور رئیس احمد نعمانی کے چند اشعار متاثر کرتے ہیں۔

خطوط کاحصہ اس جریدے کا سب سے دلچسپ اور سب سے زیادہ پڑھا جانے والا حصہ ہوتاہے ۔ اس میں اب تک درجنوں ایسے نکات اٹھائے جاچکے ہیں اور ان پر بحث ہوچکی ہے جو مدتوں سے اذہان میں سوالیہ نشان قائم کئے ہوئے تھے (اگر ان خطوط سے یہ نکات مع جواب ایک جگہ جمع کرکے شا ئع کئے جائیں ۔تویہ ایک نہایت کارآمد کام ہوگا)مجھے اس حصے میں علامہ کوکب نورانی کی کمی محسوس ہو ئی۔اگر وہ کچھ خفا ہیں تو انھیں منا لینا چاہیے۔

جناب ریاض چودھری نے اپنے خط میں ڈاکٹر شعیب نگرامی کے مقالے کے بارے میں لکھا ہے کہ انھیں اس پر آڑے ہاتھوں لیا گیا میں سمجھتاہوں کہ اس طرح کی سوچ مناسب نہیں ۔ہم کو کھلے دل ودماغ کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ڈاکٹر نگرامی بہرحال کوئی جاہل آدمی نہیں۔ان کی باتوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ۔برا بھلا مت کہیں ۔ریاض صاحب نے خدا جانے کن لوگوں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے خوشامد کی ڈگڈگی بجاتے ہیں۔شاید ان کا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جنھوں نے ڈاکٹر نگرامی کی حمایت کی تھی۔ایسی گفتگو موثر نہیں ہوتی۔ریاض چودھری صاحب نے ایک شعر لکھا ہے:

بعد مرنے کے چلے جائیں گے سب سے چھپ کر

ایک گھر ہم نے مدینے میں بنا رکھا ہے

اس شعرسے تو یوں لگتا ہے جیسے مدینے میں جو گھر بنایا گیا ہے وہ کوئی چرچ وغیرہ ہے اس میں شاعر چھپ کر جانے کی بات کررہاہے۔ عجیب ساشعر ہے ۔ایسے شعر بظاہر بھلے لگتے ہیں لیکن جب اِن میں اترا جاتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ شعر ہے کیسا۔اور یہ کام ہماشما کا نہیں ہوتا ۔ تنقیدکی اہمیت بھی اسی لیے ہے ۔نعت کے اشعار غوروفکر چاہتے ہیں۔اپنے اسی مضمون میں خود ریاض چودھری صاحب نے ڈاکٹر اشفاق انجم کی تحریر سے ایک کو ٹیشن دیا ہے جویوں ہے۔

’’......اگر ایک بھی لفظ نامناسب در آئے توساری قضا کو مکدرکردیتا ہے‘‘

ریاض صاحب نے کسی ادبی ایجاد ’’اکائی‘‘کا ذکر تحریر فرمایاہے۔میں نے کبھی پڑھا نہیں۔ اگر کوئی نمونہ خط میں ہوتا تو بات کی جاسکتی تھی۔البتہ میں جب بھی اسطرح کی ادبی ایجادوں کاذکر سنتاہوں تومجھے ’’موجدّوں‘‘سے ہمدردی ہوجاتی ہے ۔حال میں ایک ناکام افسانہ نگار نے افسانوں کے میدان میں ایک نئی کہانی کی ایجاد کاسہرا اپنے سر باندھا ہے جوکسی بھی طرح کوئی نئی صنف نہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ ان ’’پوپلی‘‘کہانیوں کو بڑھاوا دینے والے بھی انھیں میسر آگئے ہیں ریاض چودھری صاحب کے خط سے ان کے جواں سال بھتیجے کی رحلت کی خبر ملی رنج ہوا ۔اللہ اسے جواررحمت میں جگہ دے ۔

خطوط میں ایک خط ڈاکٹر مستجاب ظافر صاحب کاہے۔انھوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں نے یعنی اس خاکسار احمد صغیر صدیقی نے’’لفظوں ‘‘کو مونث باندھا ہے حالانکہ یہ سارا قصور کمپوزر کاتھا۔ جس نے میرے مصرعے :

’’میرے آقا مجھے دلجوئی کے لفظوں سے نواز‘‘

میں ’’کے لفظوں ‘‘کے بجائے’’کی لفظوں‘‘لکھ دیا تھا ڈاکٹرظافر صاحب نے میری تنقیدی تحریرکے بارے میں بھی چند باتیں لکھی ہیں ان سے عرض ہے کہ مجھے شخصیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا میں تو تخلیقات پر بات کرتاہوں ۔میرا لہجہ یااسٹائل قدرے تلخ یا سخت ہوجاتا ہے ۔اس کامجھے اعتراف ہے لیکن یہ ان کے لیے ہی ہوتا ہے جنھیں میں اہم سمجھتا ہوں ۔اہم لوگوں سے میرا تقاضہ بلاشبہ سخت ہوتا ہے۔ہونا چا ہیے کہ ان کی غلطیاں ادب پر دوررس اثرات مرتب کرتی ہیں ۔ڈاکٹر ظافر صاحب نے صفحہ ۵۵۸ پر اپنے خط میں لکھا ہے :

’’میں یہاں احمد صغیر صدیقی کے اٹھائے ہوئے نکات پر کچھ نہیں کہنا چاہتا‘‘

مجھے ان کی اس بات پر اعتراض ہے۔آخرکیوں وہ کچھ نہیں کہنا چاہتے؟اگرمیری باتیں نادرست ہیں تو انھیں بتانا چاہیے۔اوراگر درست ہیں تو ایمانداری کاتقاضہ ہے کہ اِن کی تائید کی جائے۔

تنویرپھول صاحب نے اپنے خط میں’ ’ہمارے رسول‘ ‘اور ’’اللہ کے رسول‘‘کے بارے میں وضاحت کردی ہے۔عام طور پر ماضی میں وہ رسالے کے مشمولات پرشرح وبسط کے ساتھ بات کرتے رہے ہیں مگر اس بار ان کاخط سرسری بھی ہے اورمختصر بھی۔

میں رسالے کے قارئین سے چاہوں گا کہ وہ مضامین وغیرہ پر اپنی رائے ضرور دیا کریں۔ اس سے لکھنے والوں کو پتا چلتا رہتا ہے کہ خلق خدا انھیں کیا کہتی ہے۔اس طرح اصلاح کاراستہ نکلتا ہے۔ادب کی اصلاح ہوتی ہے اور ادیب کی بھی۔

ایک اور بات ۔جریدے میں مضامین پر انگلش میں ’’Abstract‘‘ لکھنے کی طرح ڈالی گئی ہے ۔ اچھی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ کام اُردو میں کیوں نہیں کیاگیا؟اُردو کے جریدے میں انگلش ایبسٹریکٹ کیوں؟ مدیر گرامی صاحب ۔یہ طرح جوآپ نے ڈالی ہے یہ مہنگی بھی پڑسکتی ہے۔اس میں ہر مضمون کوپہلے پڑھنا ضروری ہے تبھی اس کی کریم کو ایبسٹریکٹمیں منتقل کیاجاسکتا ہے چلو ابھی تو آپ کوکوئی ABLEآدمی میسر ہے جویہ کام کرسکتا ہے ۔لیکن اس کی عدم موجودی میں متبادل آسانی سے نہیں ملے گا ۔ کیونکہ اس میں ضرورت ہے ایک ایسے فرد کی جس کی انگریزی اوراُردو دونوں پرگرفت مضبوط ہواور جوادب سے بھی ربط رکھتا ہو۔اور جسے ادبی انگریزی لکھنی آتی ہو بہرحال یہ میرا معاملہ نہیں ۔مدیر گرامی آپ سنسکرت میں بھی ABSTRACTلکھا ئیں تو میراکیاجاتا ہے۔یہ بات تو میں نے بس یوں ہی لکھ دی ہے۔البتہ وہ دوسری ’’طرح‘‘جوآپ ڈالنے کاارادہ رکھتے ہیں وہ ٹھیک ہے یعنی لکھنے والوں کا یک سطری یا دوسطری تعارف آخر میں آپ سے گذارش ہے اگر میری تحریر آپ شائع فرمائیں تو کتابت کی پروف خوانی احتیاط سے ہونی چاہیے شمارے ۲۲ میں میں نے جو طویل خط لکھاتھا اس میں اس قدر اغلاط تھیں کہ جب میں نے اسے درست کیا تو صفحہ پرقتل عام کاساسماں تھا۔ظاہر ہے کہ میری تنقید ان الفاظ کے ساتھ تخلیق کاروں تک نہیں پہنچی ہوگی جو میں نے لکھے تھے اس طرح وہ بے جان اور بودی بھی ہوگئی تھی۔ یہی نہیں اس میں تو سطریں تک مِس کردی گئی تھیں اور بہت سی باتیں بے معنی ہو گئی تھیں۔اُمید ہے اس بار اِدھر خصوصی توجہ دیں گے اور چلتے ہوئے کام سے گریز کیا جائے گا ۔کتابت کی بہت زیادہ اغلاط رہ جانے سے پرچے کی نیک نامی بھی متاثر ہوتی ہے جسے آپ جیسا مدیر یقیناافورڈ کرنا پسند نہیں کرے گا۔



مزید دیکھیے[ترمیم]

نعت رنگ | کاروان ِ نعت | فروغ نعت | نعت رنگ ۔ شمارہ نمبر 25