نصیر الدین نصیر - منتخب اشعار

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"Naseer"

نصیر الدین نصیر
منتخب اشعار
منتخب نعتیں

فراغ رہووی 13 جولائی 2020 کو دار ِ فانی سے رخصت ہوگئے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

منتخب اشعار[ترمیم]

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں


حاضر و ناظر و نور و بشر غیب کو چھوڑ

شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہیں


کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصیر

اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں


تھی جس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی

قدرت نے اسے راہ دکھائی تیرے در کی


پانے کو تو خورشید و قمر چرخ نے پائے

کیا پایا اگر خاک نہ پائی ترے در کی


آتی ہے یوں لبوں پہ شہ ِ انس و جاں کی بات

جیسے کہ منہ زمیں کا ہو اور آسماں کی بات

-

ہے طرفہ مزاج ان کا دیدار علاج ان کا

عیسیٰ سے نہ اچھے ھوں بیمار مدینے کے

۔

نصیر اب چلو قبر سے تم بھی اٹھ کر

انہیں دیکھنے کو خدائی گئی ہے

۔

ارضِ طیبہ میں میسر آگئی دو گز زمیں

یوں ہمارے منتشر اجزا کو یکجائی ملی

۔

بحرِ عشقِ مصطفٰی کا ماجرا ہو کیا بیاں

لطف آیا ڈوبنے کا جتنی گہرائی ملی

۔

غلام حشر میں جب سید الوری کے چلے

لوائے حمد کے سائے میں سر اٹھا کے چلے


مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے مرے آقا کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا


نظر با عالمِ پاکیزگی پڑے اُن پر

مسافرانِ لحد اس لئے نہا کے چلے


اُس آستانِ ناز کا جب تذکرہ ہوا

میری جبینِ شوق میں سجدے مچل گئے


جھپکے جو نصیر آنکھ دمِ نزع تو یا رب!

پُتلی میں پھرے احمدِ مختار کا چہرہ ﷺ


نصیر اچھا ہُوا دَر مِل گیا اُن کا ہمیں ورنہ

کَہاں رُکتے، کَہاں تھمتے، خُدا جانے کَہاں جاتے


مجھ پہ محشر میں نصیر ان کی نظر پڑ ہی گئی

کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا


جلا وہ آگ محبت کی میرے سینے میں

کہ خیال غیر کا آئے تو خاک ہو جاوں.


اپنی تو کٹ رہی ہے بڑی دھوم دھام سے

رحمت ہے مصطفیٰ کی کرم غوث پاک کا


نشے کی علتِ حرمت میں یہ بھی تھا پہلو

کہ پل صراط پہ مومن نہ لڑکھڑاکے چلے


بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون

وہ نہ بلوائیں تو اُن کے در پہ جاسکتا ہے کون


یہ کہہ کہ در حق سے لی موت میں کچھ مہلت

میلاد کی آمد ہے محفل کو سجانا ہے


مجھ پہ محشر میں نصیر انکی نظر پڑ ہی گئی

کہنے والے جسے کہتے ہیں خدا کا کرنا


توجہ کی خیرات لے کر اٹھے گا

نصیر آج بیٹھا ہے بن کر سوالی


میرے اعمال تو بخشش کے نہ تھے پھر بھی نصیر

کی محمد نے شفاعت تو خدا مان گیا


نام آتے ہی ابو بکر و عمر کا لب پر…

کیوں بگڑتا ہے؟ وہ پہلو میں سلائے ہوئے ہیں



کل پل سے ہمیں جس نے خود پار لگانا ہے.

زہرہ کا وہ بابا ہے حسنین کا نانا ہے



سارے عالم میں وہی وہ ہیں نصیر

سب کاکچھ ان کا ہے،ہمارا کچھ نہیں


میں کہ ذرہ ھوں مجھے وسعتِ صحرا دے دے

تجھ کو آتا ھے قطرے کو بھی دریا کرناﷺ


مَیں ہوں گدائے کوچہِ آلِ نبی نصیر

دیکھے تو مجھ کو نارِ جہنم لگا کے ہاتھ


یہ کس کا شہر قریب آ رہا ہے دیکھو تو

درود پڑھتے ہوے قافلے ہوا کے چلے

مزید دیکھیے[ترمیم]

فراغ رہووی 13 جولائی 2020 کو دار ِ فانی سے رخصت ہوگئے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات