منظر ایوبی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"منظر ایوبی

شاعر و ادیب

نسیم سحر کے مضامین پر مشتمل مطالعات نعت اور مقصود علی شاہ کا دوسرا مجموعہ قبلہءِ مقال شائع ہوگیا ہے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

منظر ایوبی 4 اگست 1932ء کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے۔

منظر ایوبی نے 1950ء میں بدایوں میں ہی انٹرمیڈیٹ کیا، اسی سال 24 اپریل کو ان کی حبیبہ خاتون سے شادی ہوئی جس کے بعد اسی برس 3 مئی کو وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔منظر ایوبی نے جامعہ پنجاب سے ادیب فاضل کی سند حاصل کی جبکہ ایم اے اردو جامعہ کراچی سے کیا۔انہوں نے 1950ء تا 1961ء وزارتِ عمال میں ملازمت کی جبکہ 1961ء سے 1994ء تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔منظر ایوبی نے اردو شاعری اور نثر گوئی کا آغاز 1946ء میں ہی کر دیا تھا، ان کی تصانیف اور شعری مجموعوں میں تکلم، مزاج، چڑھتا چاند ابھرتا سورج، نئی پرانی آوازیں کے علاوہ متعدد کتابیں شامل ہیں [1]


نعت گوئی کے بارے نظریہ[ترمیم]

جہاں تک نعت گوئی سے معاشرے کی اصلاح، تہذیب معاشرت، سماجی برائیوں کے انسداد، عظمت انسانیت کا فروغ اور اشاعت وتبلیغ دین کا کام لینے کا تعلق ہے، اس بارے میں اُردو نعت گو شاعروں کا وہ طبقہ (جو اگر چہ دیگر مکاتب فکر کے حامل نعت گو یوں کے مقابلے میں محدود ہے) قابل صد تحسین بھی ہے اور قابل پذیرائی بھی، جن کی مذہبی و دینی موضوعات پر مشتمل فکری کاوشیں بالخصوص نعتیں مذکورہ بالا افادی تقاضوں کی مکمل طور پر آئینہ دار ہیں اور جو سردار انبیاء کی اسوۂ حسنہ اور سیرت طیبہ کو اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بنائے ہوئے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہمارے نعت گو شعراء مغرب کی ثقافتی اور تہذیبی یلغار سے اپنے ماحول اور معاشرے کو محفوظ رکھنے، نئی نسلوں اور الحاد گزیدہ افراد کی کردار سازی کے لئے صرف اور صرف سرکار دو عالم کی ذات اقدس اور کردار و عمل کو محور فکر بنائیں کہ ان کی تقلید و اتباع کے بغیر عالم اسلام نہ اپنے موجودہ مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ اپنی آخرت سنوار سکتا ہے۔

مضامین[ترمیم]

وفات[ترمیم]

آپ 19 جون اور 20 جون کی درمیانی شب انتقال فرما گئے ۔

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. عقیل عباس جعفری