مقصود علی شاہ کے بارے نعتیہ مطالعاتی تا اثرات از سمعیہ ناز

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Temp samia naz.jpg

تحریر : سمعیہ ناز

نعتیہ مطالعاتی تااثرات[ترمیم]

مقصود علی شاہ جن کا تعلق انگلینڈ کے شہر برمنگھم سے ہے۔ ایک معروف سیئنیر نعت گو شاعر ہیں اور ان کے بارے میں کچھ بھی کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا ۔ ایک نعت جو تعارف کا باعث بنی اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں اس قدر خوبصورت، عشقِ رسول سے سرشار مدح و ثنا کرنے والی عظیم شخصیت سے متعارف ہوئی۔

وہ آقا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل میں سے ہیں اور ان کو اس نسبت کا خصوصی شرف حاصل ہے۔ جو ان کی نعتیہ شاعری سے عیاں ہے۔

ان کی نعتیہ شاعری کا مطالعہ جب بھی کرتی ہوں دل و ذہن منور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی نعت کے ہر شعر کو میں ہمیشہ بار بار پڑھا کرتی ہوں کچھ ایسی جذب کی کیفیت ہے کہ دل سیر ہی نہیں ہوتا روح کی پرواز رکتی ہی نہیں اور اشکوں کی برسات ہوتی رہتی ہے یہ کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے سبحان اللہ! اک حاضری اور حضوری کی کیفیت سے دل سرشار رہتا ہے۔ ان کا کلام غنایت سے بھرپور ہے میں جب بھی ان کی نعت کے اشعار پڑھتی ہوں زیرِ لب گنگنائے چلی جاتی ہوں۔ میں نے بطورِ خاص چاہا کہ میں ان کی ثنا نگاری کے خوبصورت شہ پارے سب کے ساتھ شئیر کروں جو ان کی ندرتِ کلام اور مضمون آفرینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وگرنہ مجھ ایسی کم مایہ بھلا ان کے تخیل اور ان کے فنی و فکری اسلوبِ نگارش کے بارے میں کہاں کچھ بیان کر سکتی ہے۔

ان کے ان اشعار میں جیسے سارا جہاں سمٹ آیا ہے

ان کے منفرد اسلوب کے کیا کہنے، کمال کی بے ساختگی ، روانی اور سلاست پائی جاتی ہے۔ ان کے نعتیہ شہ پاروں میں متنوع قوافی کا استعمال ، لطیف پیرایہء اظہار سے کلام میں ایک عجب سرشاری کی کیفیت در آتی ہے جس سے روح و دل شاد ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور ان کے خوبصورت اسلوبِ نگارش سے حاضری اور حضوری کی کیفیت نمایاں ہونے لگتی ہے۔

اللہ کریم ان کے قلم کو مزید روانی عطا فرمائے ۔ ان کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور وہ یونہی آقا حضور کی ثنا کو حرزِ جاں بنائے رکھیں۔ اور ثنائے حضور ان کے لیے توشہء آخرت اور بخشش و نجات کا زریعہ بن جائے آمین اللہم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


متفرق نعتیہ اشعار


لفظ بے مایہ ، تخیل کی زباں ہے خاموش

درگہء نعت میں اندازِ بیاں ہے خاموش


میں کہاں ، حرف کہاں ، آپ کہاں، نعت کہاں

ایک منزل ہے جہاں پورا جہاں ہے خاموش


سخی پہ ہے وہ جسے، جیسے ، جب عطا کر دے

عطا کا واسطہ عرضی سے ہے نہ حال سے ہے


بہار کو ترے کوچے سے ہے وہی نسبت

جو رنگ و نکہتِ گل کو وجودِ ڈال سے ہے


خامہ نے حرف باندھا ہی تھا بہرِ مدحت

دل کے ہر تار نے نغمات کے در کھول دئیے


نعت سے کیف کے ایقان کے دریچے جاگے

نعت نے لطف کی سوغات کے در کھول دئیے


ایک لمحے کی طلب کی تھی شہِ بطحا

آپ نے فیض کی ساعات کے در کھول دئیے


آبگینہ ہے یہاں دھڑکن پہ بھی پہرے بٹھا

یہ مدینہ ہے یہاں سانسوں کو بھی زنجیر کر


آ کبھی خوابِ تسلی میرے دل پر ہاتھ رکھ

آ کبھی حسنِ مکمل مجھ کو بھی نخچیر کر


یا الہی صبحِ مدحت لکھ مری تقدیر میں

رات کے ماتھے پہ لفظ روشنی تحریر کر


شب بھر حرائے خواب پہ ہوتا رہا نزول

مصحف کے روبرو تھے تلاوت کے سلسلے


شوق و نیاز و جذب کی دُنیائیں مختصر

مقصود، خام ہیں یہ عقیدت کے سلسلے


نور کے حرف چنوں، رنگ کا پیکر باندھوں

نعت لکھنی ہو تو مہر و مہ و اختر باندھوں


مہکے ہیں چار سو نئے رنگوں کے زمزمے

برسی زمینِ شوق پہ بارانِ نعت ہے


ہر صبح نو کی پہلی کرن سے یہی کھلا " ہر شعبہ ء حیات میں امکانِ نعت ہے "


عطا کے بعد بھی ہوتی رہی عطا کی نمود

دعا تو جیسے میرے نطق سے جڑی رہی ہے


ہر ایک سانس سے ہوتی رہی تری مدحت

ہر ایک سانس ترے ذکر سے سجی رہی ہے


شہودِ خالقِ مطلق کا سب سے تاباں نشاں

وجودِ خلقِ دو عالم کی آب ، تاب حضور!


خطا سرشت ہوں لیکن ہوں مطمئن مقصود!

کہ عیب ہونے نہیں دیں گے بے نقاب حضور!


مزید دیکھیے[ترمیم]

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نئے صفحات
نعت کائنات پر نئی شخصیات

سانچہ:ٹکر2