مذاہب عالم کا فلسفہ اخلاق اوراردو نعت نگار،- ڈاکٹر اصغرعلی بلوچ/ ڈاکٹر شبیراحمد قادری

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ڈاکٹرشبیراحمدقادری۔فیصل آباد ڈاکٹراصغر علی بلوچ۔فیصل آباد


ABSTRACT[ترمیم]

The writers have presented results of their research regarding Philosophy of Ethics in different religions of the world. Every religion teaches man to adopt ethical values in his deeds and conducts. Islam has made the ethics an essential part of religion. Emphases has been put upon completeness of ethical teachings to show practical aspect of life of Muhammad (S.A.W) in order to define practicability of Islam. Some couplets have also been quoted from Urdu treasure of devotional poetry, at the end of the article.

مذاہبِ عالم کافلسفۂ اخلاق اور اُردو نعت نگار[ترمیم]

فلسفۂ اخلاق لغوی و اصطلاحی مفہوم[ترمیم]

اخلاق کا مادہ ’’خ ل ق ‘‘ہے۔ یہ عربی زبان کا اسم مذکر ہے اورُ خلق کی جمع ہے۔ اس کا لغوی مطلب طبعی خصلت، طبیعت، مروت اور عادت ہے۔ اسی طرح ’’علم الاخلاق‘‘ سے مراد حکمتِ عملیہ کی ایک قسم ہے جسے عربی زبان میں ’’ حکمتِ خُلقیہ‘‘ بھی کہتے ہیں(1)اسی طرح فارسی کی معروف لغت ’’فرہنگِ عمید‘‘ میں اخلاق کا مفہوم ’’خوے ہا‘‘ جمع خلق درج ہے(2)

فرہنگِ آصفیہ کے مطابق اخلاق سے مراد عادتیں ، خصلتیں، خوش خوئی، ملنساری، کشادہ پیشانی سے ملنا، خاطر مدارات، آؤ بھگت اور وہ علم ہے جس میں معا دو معاش ، تہذیبِ نفس، سیاست اور مدن وغیرہ کی بحث ہو(۳)اخلاق کا انگریزی مترادف (Ethics) ہے۔دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں "Ethics" کا مفہوم کچھ یوں دیا گیا ہے:

"The science of moral; The department of study concerned with the principles of human duty."(3)

انسائیکلو پیڈیا امریکانا (Encyclopedia Americana) میں Ethics کی یوں وضاحت کی گئی ہے:

"Ethics is the branch of philosophy in which men attempt to evaluate and decide upon particular cause of moral action or general theories of conduct"(4)

بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ اخلاقی احکامات کو مختلف پیشوں ، مذاہب اور دستورِ حیات میں صواب، ناصواب ، خیروشر اور فضیلت و غیر فضیلت جیسے تصورات میں تقسیم کرنے سے اس کا دائرۂ عمل پوری انسانی زندگی اور معاشرے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کسی ایک تعریف اور توجیہہ پر متفق ہونا مشکل امر ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں درج ہے :

"Ethics (From greak ethos,"Character,) is the systematic study of the nature of value concepts, "good", "bad", "ought", "right", "wrong" e.t.c, and of the general principles which justify us in applying them to anythings;also called "Moral Philosophy (From Latin mores, "Custom").(5)

مندرجہ بالا لغوی مطالب کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ’’اخلاق ‘‘سے مراد ایسے اصول ہیں جو ہمیں خیرو شر کو پہچاننے میں مدد دیتے ہیں اور اخلاقی رویوں اور عادات و خصائل کا مجموعہ ہی دراصل فلسفۂ اخلاق کے دائرۂ بحث میں آتا ہے۔ فلسفۂ اخلاق انسانی اعمال اور رویوں کا تجزیہ کرتا ہے اور اس میں کیا ہونا چاہیے؟ کیسا ہونا چاہیے ؟ اور کیوں ہونا چاہیے؟ جیسے سوالات کے جوابات تلاش کیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اخلاقی احکامات انفرادی اور اجتماعی رویوں کو ایک طرف تو معاشرتی اداروں کے تابع رکھتے ہیں اور دوسری طرف مذہبی اور وجدانی تصورات کی روشنی میں انسانی کردار و عمل کو ایسی سمت عطا کرتے ہیں جو ’’ابدی مسرت‘‘کی منزل پر منتج ہوتی ہے۔ گویا فلسفۂ اخلاق حقائق کے بجائے ان کی قدر و قیمت اور ان کے متفقہ معیارات سے بحث کرتا ہے اور خواہشاتِ نفسانی کو ایک ترتیب اور توازن عطا کرتا ہے۔ بقول پروفیسر بختیار حسین صدیقی :

’’جب خواہشات عقل کی اطاعت کی عادی ہو جاتی ہیں تو اس سے وہ ناقابلِ تسخیر قوت پیدا ہوتی ہے جسے ہم اخلاقی قوت کہتے ہیں۔ یہ قوت جتنی قوی ہوگی، اتنی ہی پختہ انسان کی سیرت اور اتنی ہی محکم اس کی شخصیت ہوگی۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کی مختلف اور متصادم خواہشات کو ایک اصول واحد کے تحت منظم کر کے اسے پُرسکون ، پُروقار اور باعزت زندگی کی مسرتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔‘‘(6)

انسانی فرائض کے اصولوں کا علم فلسفۂ اخلاق کا ایک اہم موضوع ہے۔ اوامر و نواہی کی صورت میں ہر نظامِ اخلاق میں اس امر پر مباحث ملتے ہیں۔ اس ضمن میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے فلاسفہ کے ہاں حقوق و فرائض کی نوعیت کا تعین کیا گیا ہے۔ قدیم یونانی فلاسفہ سے لے کر ہر دور کے قابل ذکر فلسفی کے ہاں اخلاق (Ethics) پر باقاعدہ فکری و نظری مباحث موجود ہیں جن سیفلسفۂ اخلاق کے موضوع کو رنگا رنگی اور تنوع عطا ہوا ہے۔ جو اسے مختلف نظریات کے طویل سلسلۂبحث سے منسلک کر دیتا ہے۔

دنیا میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں فلسفۂ اخلاق کی مختلف تعبیر یں کی گئی ہیں لیکن ایک امر خصوصی طور پر توجہ طلب ہے کہ بنیادی انسانی رویوں، میلانات، رجحانات اور کردار و اطوار میں مسلمہ آفاقی سچائیوں کو تقریباً ہر مذہب میں یکساں اہمیت حاصل ہے۔ ابتدائی انسان کسی مافوق الفطرت قوت کے شعور سے زیادہ کائنات کو ایک وحدت تصور کرتا تھا یہاں تک کہ دیوی، دیوتاؤں کو بھی مظاہرِ قدرت کی شخصی تشکیل ہی سمجھتا تھا۔وادئ دجلہ و فرات، وادئ سندھ، مصر، اناطولیہ، یونان، شام و فلسطین اور ایران کی پرانی قومیں بھی تخلیق کی قائل تھیں لیکن یہ تخلیق کو ایک مسلسل عمل سے تعبیر کرتے تھے۔ ان کے ہاں خیر وشر کے تصورات بھی پائے جاتے تھے۔

غیر سامی یا آریائی مذاہب اور فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

ہندومت، جین مت ، زرتشت اور سکھ مت غیر سامی مذاہب ہیں کیونکہ یہ الہامی نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق کسی خاص سرزمین، شخصیت، معروضی حالات اور نسل سے رہا ہے۔سب سے پہلے ہندومت میں فلسفۂ اخلاق کا جائزہ لیا جاتا ہے اورمذہب اور فلسفے میں جو انسلاک ہے اس کا کھوج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہندومت کا فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

تناسخ، کرم، وحدۃ الوجود اور طبقاتی تقسیم یہ چار ستون ہیں جس پر ہندو دھرم کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ہندو مت معروف معنوں میں مذہب سے زیادہ ایک مخصوص علم الانسان سے تعلق رکھتا ہے۔ ہندومت ویدوں پر مبنی ہے اور یہ قدیم آریہ قوم سے چلے آ رہے ہیں جن میں وقتاً فوقتاً تحریف ہوتی رہی ہے۔ لفظ ویدکا مصدر ’’ود‘‘ ہے جس کے معنی جاننا، سوچنا، غور کرنا اور حاصل کرنا ہیں۔ لفظ وید معروف کتب کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ وہ لٹریچر ہے جو دو ہزار سال کے عرصہ میں ہندوؤں نے مختلف علوم و رسوم سے متعلق جمع کیا ہے۔ اس کی چار قسمیں ہیں۔ رگ وید، یجر وید، سام وید اور اتھر وید۔ ویدوں کے بعد سب سے اہم تحریریں اپنشد ہیں۔ ہندومت میں دو ذرائع مذہبی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اپنشدوں کا ایک اہم مقصد مایا سے نجات ہے۔ ایشور نہ صرف مطلق قوت اور دانش ہے بلکہ کامل روحانی مسرت اور ہر نیکی کا جوہر بھی ہے۔ مانو (Law Of Manu) کے تحت دس سب سے بڑی فضیلتیں مندرجہ ذیل ہیں: قناعت، راست گفتاری، زہد، ضبطِ نفس، دوسروں کی ملکیت کا احترام کرنا، دانش مندی، روحِ اعلیٰ کا علم، غصے سے بچنا، دوسروں کو معاف کرنا او ر برائی کے بدلے اچھائی کرنا۔(7)ان فضیلتوں پر غور کریں تو ہندومت کیفلسفۂاخلاق اور اسلامی اخلاقی روایات کے بعض پہلو ایک سے ہیں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنیادی طور پر ہندومت میں مذہب کا مقصود ابتدائی زمانہ میں فرد کی اپنی بھلائی اور بعد کے دور میں فرد کی اپنی نجات رہا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندومت میں سماجی زندگی کا ایک ایسا باقاعدہ نظام وجود میں آگیا جس کو مذہب کی پوری حمایت حاصل تھی۔ یہ امر مبنی بر حقیقت ہے کہ ویدوں میں مخرب اخلاق مناظر بھی قلم بند کیے گئے ہیں ۔اسی طرح ہندومت میں ذات پات اور طبقاتی تقسیم کا غیراخلاقی اور غیرفطری تصور بھی موجود ہے۔رگ وید میں ’’ریت‘‘ کا تصور زبردست اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ہمہ گیر اخلاقی نظام ویدوں میں ریت ہے۔ہندومت کے فلسفۂ اخلاق پر بحث کرتے ہوئے Encyclopedia Of Ethics and Religion میں یوں اظہار خیال کیا گیا ہے:

"Hindu Ethics is deeply tinged with the belief in transmigration or rebirth according to the doctrine of Karma (action), under which every act, whether good or bad, finds it reward, not only in heavn or hell, but in innumerable other ladies, from a god to an insect, or plant, or even a stone."(8)

تناسخ ارواح (آواگون) اور کرم جیسے تصورات ہندوؤں میں بنیادی خصوصیت رکھتے ہیں انہی سے سزاا ور جزا کا اور سورگ اور نرگ کا فلسفہ جنم لیتا ہے۔ جدید ہندومت کی تحریکیں، اپنے اندر بہت سے تضادات رکھتی ہیں ۔ ان میں برہمو سماج ، بھگتی اور گیتا کی تحریکیں اور آریہ سماج قابل ذکر ہیں۔ آریہ سماج کی تحریک کے بانی سوامی دیانند سرسوتی (1824ء تا 1883ء) نے ایک انقلابی قدم اٹھایا اور مورتی پوجا سے انکار کر دیا۔ سوامی جی نے ہندوؤں کے کل شاستروں کو مسترد کر دیا اور چار ویدو ں کی مروجہ شرحوں پر شدید نکتہ چینی کی ۔ انہوں نے ذات پات کے نظام پر کاری ضرب لگائی اور علم کے دروازے سب پر کھول دیے۔ اس کے نظام اخلاق کے نمایاں خدوخال کچھ اس طرح ہیں:

’’1۔خدا ہر چیز کا مالک ہے،2۔ صحیح علم کا منبع اللہ کی ذات ہے،3۔ خدا رحمن و رحیم، سچا عادل، ازلی، ابدی، حاضر اور غیر فانی ہے اس لیے اسی کی عبادت جائز ہے،4۔ علم کی صحیح کتابیں وید ہیں۔ آریا سماج کا فرض ہے کہ وہ ویدوں کو پڑھے اور ان کی تعلیم دے،5۔ جھوٹ کی مذمت کرنی چاہیے اور سچ کہنے پر آمادہ کرنا چاہیے،6۔ ہر کام میں خیر یعنی اچھائی اور شر یعنی برائی کو ملحوظ رکھا جائے،7۔ لوگوں کے ساتھ ہر حال میں بھلائی کرنا آریا سماج کا بنیادی مقصدہے،8۔ انسان کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی حالت بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے،9۔ ہر فرد کی خوبیوں کی قدر کرنی چاہیے،10۔ ہر ایک کے ساتھ عدل کرنا چاہیے،11۔ ہر ایک سے محبت کا سلوک روا رکھنا چاہیے،12۔ علم کو پھیلا کر جہالت کو فتح کرنا چاہیے،13۔ اپنی خوشحالی میں دوسروں کو شریک کرنا چاہیے،14۔ ذاتی نیکی پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ معاشرتی بہبودمیں حصہ لینا چاہیے۔‘‘ (9)

آریا سماج کے اخلاقی اصول ایک صالح اور نیک زندگی کا نمونہ ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ سوامی دیانند کی سرگرمیوں، خیالات اور کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب خصوصاً اسلام کے شدید مخالف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ آریا سماج ایک خدا کے پرستار ہونے کے مدعی ہیں لیکن دراصل ان کی توحید ناقص ہے کیونکہ آریا سماجی روح اور مادہ کو قدیم مانتے ہیں جیسا کہ سیتارتھ پرکاش اور رگ وید آدی بھاسیہ بھومکا میں لکھا ہے:’’پرمیشور نے اپنے گیان سے جیو اور پراکرتی پر قابو پا کر دنیا قائم کی ہے۔‘‘(۱۰) اس تفصیل کا اجمال یہ ہے کہ ہندومت اپنے غائر تضادات کے ساتھ اپنے اندر سنہرے اخلاقی اصول بھی رکھتا ہے جو رامائن، مہا بھارت اور بھاگوت گیتا نیز اپنشدوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔

جین مت اور فلسفۂاخلاق[ترمیم]

برہمن مت کے فلسفہ و فکر کے خلاف باغیانہ افکار بدھ مت اور جین مت کے ظہور کا باعث ہوئے۔ جین مت کی بدھ مت کے افکار سے زبردست مماثلت پائی جاتی ہے۔ اگرچہ اس مذہب کا بانی مہاویر کو گردانا جاتا ہے لیکن اس مذہب کے پیروکار خود دعویٰ کرتے ہیں کہ مہاویر سے پہلے تقریباً 23 تری تھنکرز (Trithinkers) بعض مختلف ادوار میں مصلح قوم گزر چکے تھے جنہوں نے دنیا سے نجات اور سچائی کے پرچار کے لیے اپنی خدمات سر انجام دیں۔ مہاویر کو جین مت والے کسی نئے مذہب یا فکر و فلسفہ کا بانی تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ان کے خیال کے مطابق اس نے کسی فکر و فلسفے کو جنم نہیں دیا بلکہ قدیم چینی فکر کی تشکیل و تکمیل کی اور اسے پذیرائی سے ہمکنار کیا اور اسی وجہ سے اہم ترین رہنما گردانا گیا۔ (11)

جین مت کے عقیدے کے مطابق جین مذہب ایک ابدی مذہب ہے جو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے چونکہ ہندوستانی روایت میں دنیا کی کوئی ابتدا یا انتہا نہیں ہے اسی لیے اس اعتبار سے جین مذہب بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جین مت کے بنیادی عقاید سات کلیوں کی شکل میں ہیں جن کو جین مت کی اصطلاح میں سات تتّو یا سات حقائق کہا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ کائنات ، زندگی کے بنیادی مسئلے اور اس کے حل کے بارے میں سات نظریات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: ’’1۔روح (جیو) ایک حقیقت ہے،2۔غیر روح ( اجیو) بھی ایک حقیقت ہے جس کی ایک قسم مادہ ہے۔، 3۔روح میں مادہ کی ملاوٹ ہو جاتی ہے۔ (اَسَروْ)،4۔ روح میں مادہ کی ملاوٹ کے نتیجے میں روح مادہ کی قیدی بن جاتی ہے۔ (وندھ)،5۔روح میں مادہ کی ملاوٹ کو روکا جا سکتا ہے (سَمْورَا)،6۔ روح میں پہلے سے موجود مادہ کو زائل کی جا سکتا ہے (سرجَرا)،7۔روح کی مادہ سے مکمل علیحدگی کے بعد موکش حاصل ہو سکتا ہے۔‘‘(12)

جین مت میں نجات پانے کا طریقہ ’’نروان‘‘ کہلاتا ہے۔ مہاویر نے نروان حاصل کرنے کے جو دو طریقے بتائے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

نروان حاصل کرنے کا سلبی طریقہ یہ کہ انسان اپنے دل سے ہر قسم کی خواہشات اور آرزوؤں کو نکال دے کیونکہ خواہشات اور تمنائیں ہی رنج و غم اور مصائب کا باعث ہوتی ہیں۔ ایجابی طریقہ یہ ہے کہ انسان کے عقائد ٗ علم اور عمل صحیح اور درست ہوں۔ جین مت میں انہیں تری رتن (تین زیور) کہا جاتا ہے۔ جین مت میں نہ خدا ہے ، نہ پیغمبر ، نہ جنت، نہ جہنم۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا خود ذمہ دارہے۔ زندگی اعمال کا نتیجہ ہے۔ بدترین گناہ دوسروں کو تکلیف پہنچانا یا قتل کرنا ہے یعنی (Hinsa) ہنسا ہے اور بہترین فضیلت اہنسا (Ahinsa) ہے۔ جین مت کی اخلاقیات پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی کہتے ہیں:

’’اس مذہب کے چند تخصصات ہیں جو اخلاقی اہمیت رکھتے ہیں ۔ مثلاً کسی جاندار کو نہ ستانا، جھوٹ سے پرہیز کرنا ، چوری سے اجتناب کرنا، عمل اور فکر میں پاکیزگی اختیار کرنا اور لذات مادی کو چھوڑ دینا۔‘‘(13)

جین مت کا تمام فلسفہ تہذیبِ نفس ٗ ترکِ خواہشات اور رہبانیت پر مبنی ہے۔ ان چیزوں کے لیے کسی معبد کی ضرورت نہیں ہے۔ جین مت میں بھی آواگون اور مکتی کا ہندوؤانہ تصور موجود ہے۔جہاں تک جین اخلاقیات کا تعلق ہے اس میں بھی بدھ ازم کی طرح قنوطیت پائی جاتی ہے اور مخلوقات عالم سے محبت اور انسان دوستی کا احساس موجود ہے۔ جین اخلاقیات پر بحث کرتے ہوئے Encyclopedia Of Ethics and Religion میں درج ہے :

"In his four other oaths the Jaina Monk pionires like The Brahman and Buddhist and almost in the same words, not to speak untruth, to appropriate mothing to himself without permission, to preserve chasity and to pratctise self sacrifice."(14)

مہاویر سوامی کا قول امولیہ رنجن مہاپتر نے یوں نقل کیا ہے:

’’صداقت ، عدم تشدد اور نفس کشی مذہب کی بنیاد ہیں ۔‘‘(15)

راست علم، راست عقیدہ اور راست طرزِ عمل جین مذہب میں تین رتن ہیں جن پر چلنا کاملیت کے لیے ناگزیر ہے۔ نجات کی حالت کاملیت کی حالت ہے اور نجات یافتہ روح کی حالت میں ہی عمل اور خواہش سے آزادی حاصل ہوتی ہے۔

سکھ مت[ترمیم]

سکھ مت دنیا کے نئے مذاہب میں سے ایک ہے۔ دراصل سکھ مت بنیادی طور پر تمام مذاہب کو ابدی سچائی مانتا ہے اور اختلافات کو ظاہری نوعیت دیتا ہے۔ اس لیے بابا گورونانک نے اسلام اور ہندو مت کی چیدہ چیدہ باتوں کو ملا کر ان کے درمیان نقطۂ اتصال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بابا نانک کے ہاں خدا کا اہم ترین نام ’’ست‘‘ یعنی مطلق سچائی ہے۔ سکھ مت میں خدا کا تصور خالص اسلامی تصور ہے۔ سکھوں کے مول منتر میں بھی خدا کی انھی صفات کو بیان کیا گیا ہے جو اسلامی تصورِ توحید سے ہم آہنگ ہیں۔بابا نانک کے نزدیک بنیادی حقیقت صرف ایک ہے وہ کہتے ہیں:

’’اونکار (یہاں صرف ایک خدا ہے)،ست نام(حتمی سچ اسی کا نام ہے ) ، کرتا پرکھ (وہ تمام اشیاء کا خالق ہے)،نربھو(وہ بے خوف ہے ) ، نرویر(اس کی کسی سے دشمنی نہیں )،اکال مورت (وہ ازلی اور ابدی ہے)، اجونی سہ بھن(وہ بے شکل و صورت اور قائم بالذات ہے ) ، گرپرساد (گورگرنتھ صاحب) خود اپنی توفیق رضا سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (16)

باباگورونانک نے توحید پر زور دیتے ہوئے عشقِ الٰہی پر خاصا زور دیا ہے اور ست نام کے ذریعے تقدیر الٰہی پر راضی رہنے کا درس دیا ہے۔بابا گورونانک کے کلام سے ان کے اسلامی تصورِ توحید کا کھل کر اظہار ہوتا ہے وہ مسلم صوفیا کی طرح اسلامی تصوف کو اپنانے اورنفیِ ذات، موافقت اور معرفت کے راستے کو اختیار کرنے میں نجات سمجھتے ہیں۔کہتے ہیں :

پنج و کھت نواج گجارہِ پڑھ کتیب قرانا

نانک آکھے گورسدے ہی رہیو پینا کھانا

(اے نانک قبر تمہیں بلا رہی ہے، تم کھانے پینے میں ہی مست نہ ہو جانا۔ پانچ وقت نماز گزار اور قرآن جیسی کتاب پڑھتا رہ)(17)

بابا نانک نے خدا کے مختلف نام استعمال کیے مثلاً :ہری، گوبند، موہن، الکھ ، اکم، کرنہار اور اللہ، خدا،رحیم، کریم ، رب وغیرہ۔بابا نانک کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ خدا ایک ہے اور تمام انسان ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ وہ عدم تشدد کا حامی ہے۔ سکھ مت کی اخلاقی تعلیمات کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:

’1۔کردار اورفضائل کی نشوونما، خدا کا حصول اور اچھے اعمال کرنا سکھ کا بنیادی مقصد ہے،2۔انا یا خودی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ انا خدا اور انسان کے درمیان پردہ ہے،3۔اچھے اور نیک اعمال کرو، نیک اعمال کے ذریعے ہم خدا کے بہت قریب اور برے اعمال کے ذریعے ہم بہت دور ہوتے ہیں،4۔سکھ مت خدا کی ہدایت اور انسان کے بھائی چارے کی تبلیغ کرتا ہے ۔ یہ انسانوں پر زور دیتا ہے کہ خوش اعتقادی کے ساتھ الوہی فرض جان کر کام کریں،5۔عبادت اورخود سپردگی کے ذریعے ہی خدا کی رحمت حاصل ہوتی ہے،6۔خدا میں جذب ہو جانا انسان کی حتمی کامیابی ہے جسے نروان کہتے ہیں،7۔ہر فرد کو روحانی زندگی گزارنی چاہیے،8۔ہر فرد کا مطمحِ نظر اخلاقی اور روحانی زندگی گزارنے کے لیے کاملیت حاصل کرنا ہے۔ سکھ مت ہمیں اچھے اور نیک اعمال کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘

ابدی مسرت حاصل کرنے کے لیے سکھ مت میں ’’جپ جی ‘‘ میں پانچ مرحلے بتائے گئے ہیں وہ مراحل یہ ہیں:

1۔ دھرم کھنڈ ، 2۔گیان کھنڈ، 3۔ شرن کھنڈ، 4۔ کرم کھنڈ، 5۔ سچ کھنڈ۔

اسی طرح سکھ مت میں پانچ کاف کی مذہبی حیثیت مسلمہ ہے ۔ ’’پاہل‘‘ (بپتسمہ لینے کے بعد سکھ کے لیے پانچ کاف اپنانا ضروری ہے ) جو یہ ہیں:کیس، کچھا، کڑا، کرپان اور کنگھا (غیر تراشیدہ بال، جانگیہ، لوہے کا کڑا، خم کھایا ہوا خنجر اور کنگھی )بابا گرونانک کے مذہب اور سکھ مت کی اخلاقیات پر روشنی ڈالتے ہوئے امولیہ رنجن مہاپتر رقمطراز ہے:

’’قناعت ، خدا کی ہدایت، انسانی بھائی چارے، تزکیۂ نفس ، زندہ چیزوں پر رحم کرنا، جسم اور ذہن کی پاکیزگی ، روحانیت کی تلاش، مرد اورعورت کی برابری، دوسرو ں کی خدمت، کھانے پینے اور پہننے کے انداز میںآزاد خیالی کا پیغام اسے ایک ہمہ گیر مذہب بناتا ہے۔ یہ بھگتی اور خدا کی مرضی کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کا مذہب ہے۔‘‘(18)

یہ حقیقت ہے کہ نانک کی شاعری اور اس کا پیغام اپنے اندر عالم گیر صداقتیں سمیٹے ہوئے ہے اور گرنتھ صاحب کے اشلوکوں میں بابا فرید الدین گنج شکرؒ سے لے کر رامانند، کبیر، میرا بائی، بابا نانک اور پہلے چار گروؤں کے اشعار اور اقوال کا دانشمندانہ ذخیرہ موجود ہے۔ بابا گورونانک کی تعلیمات پر اظہار خیال کرتے ہوئے عماد الحسن فاروقی کا کہنا ہے :

’’نام سمرن کے علاوہ جو چیزیں گورو نانک صاحب کے نزدیک عشقِ الٰہی کے حصول میں معاون ہوتی ہیں ان میں سادھو سنگت (نیک محبت) ، سیوا(خدمتِ خلق)، ایمانداری کی روزی کمانا اور دوسروں کو اس میں شریک کرنا نیز انکسار اور مخلوق سے محبت اور ہمدردی جیسی صفات شامل ہیں۔‘‘(19)

سکھ مت میں جس طرح انسان دوستی، امن ، محبت ، بھائی چارے اور صلح کل کا پیغام دیا گیا ہے وہ اسے ہر دلعزیزی اور مقبولیت دلاتا ہے اور ایک انسانیت نواز اور انسان دوست مذہب کے طورپر سامنے لاتا ہے۔

بدھ مت[ترمیم]

بدھ مت کوآریائی اور منگولی دونوں اپنے گروہ میں خیال کرتے ہیں۔ خیال غالب ہے کہ بدھ مت منگولی گروہ میں شامل ہے چونکہ ہندوستان کے دیگر مذاہب کی اخلاقیات بیان ہو چکی ہیں لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بدھ مت کو بھی اسی آریائی گروہ میں زیر بحث لایا جائے تاکہ ترتیب بھی برقرار رہے اور ہندو مت ، جین مت اور سکھ مت سے زمینی اور زمانی مناسبت بھی بحال رہے۔

بدھ مت کا بانی ’’سدھارتھ‘‘ ایک شہزادہ تھا اور روحانی کشمکش سے دوچار ہو کر اس نے راج پاٹ سے قطع تعلق کر لیا اور فقیری اختیار کر لی تاکہ اس کے روحانی اضطراب کا مداوا ہو سکے۔ مہاتما بدھ نے اس سلسلے میں نہایت کٹھن ریاض کر کے تلاشِ حق کی کوشش کی۔ بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں ہے اس اعتبار سے یہ ایک فلسفیانہ مذہب ہے۔ اس میں انسان کوخود اپنی اصلاح کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔بار بار جنم لینے (آواگون) کا عقیدہ ہندو مت کی طرح بدھ مت میں بھی ہے۔ اور ان جنموں کے اس چکر سے شکتی پانے کا واحد ذریعہ کرم (اچھے کام) ہیں۔ بدھ مت سے پہلے چار واک کا سوفسطائی فرقہ موجود تھا، جو نہ تو نیک و بد کے قائل تھا اور نہ جنت ، دوزخ اور خیرو اخلاق وغیرہ کو مانتا تھا۔ اس کے نزدیک یہ کائنات خود بخود پیدا ہوئی اور اس کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے۔ بدھ مت نے اس ذہنی اور روحانی پس منظر میں اپنے اخلاقی فلسفے کو پیش کیا اور چار واک کے فلسفۂ افادیت پر، جس نے اخلاقی اقدار کو تباہ کر دیا تھا، کاری ضرب لگائی۔ بدھ مت میں اعتقادات و مساوات کا کوئی مقام نہیں ملتا اور نہ نجات و مغفرت کا خدائی تصور پایا جاتا ہے۔بدھ مت کے اپنے نظریات کی موجودگی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بدھ کا مذہب اخلاقیات اور خود انحصاری پر منحصر ہے۔ اس نے ہمیشہ ان ما بعد الطبیعاتی معاملات سے گریز کرنے کی کوششیں کی جن کے لیے طویل بحث درکار ہے۔

بہرحال بدھ مت کا اخلاقی پہلو زیادہ قابلِ توجہ ہے کیونکہ اس مذہب کی بنیاد ہی دراصل اخلاقی نظام پر استوار ہوئی ہے۔ بدھ اخلاقیات میں چار باتیں نہایت اہم ہیں :

1۔ دکھ 2۔ دکھ کی جڑ

3۔ دکھ کا خاتمہ 4۔ دکھ کے خاتمے تک پہچانے والا راستہ

یوں دیکھا جائے تو گوتم بدھ نے منطقی مذہب، عملی اخلاقیات اور زندگی کے سادہ اصولوں پر زیادہ زور دیا ہے اور اس کا نقطۂ نظر قنوطی ہے اور اس میں ہمیں ’’نروان‘‘ کا صرف ایک ہی راستہ نظر آتا ہے جو ترکِ دنیا ، ترکِ خواہشات اور نفس کشی میں مضمر ہے۔بدھ نے کہا کہ پیدائش دکھ ہے ،بڑھاپا دُکھ ہے اور موت بھی دکھ ہے۔ ان سے مکتی پانا ہی دراصل نروان ہے:

’’بدھ مت کے ہشتگانہ اخلاقی اصول ہیں۔ عقیدہ پاک، ارادہ پاک، سخن پاک، رفتار پاک، روزی پاک، جدوجہد پاک، تفکر پاک، تصور پاک۔بدھ مت کے ان آٹھ اصولوں کے حصول کے لیے مندرجہ ذیل آٹھ امور پر کار بند رہنا ضروری ہے۔ جانوروں کو نہ ستانا، چوری نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، غیبت نہ کرنا، خود غرضی سے بچنا، زنا نہ کرنا، کینہ سے بچنا، اپنے دل کو جہل و نادانی سے پاک کر کے زیور عرفان سے آراستہ کرنا۔‘‘(20)

بدھ مت کے اخلاقی اقوال یہ ہیں:

1۔انسان اپنی فکر کا نتیجہ ہے وہ جو کچھ ہے اس کے آدرش ، اس کی پسند نا پسند، اس کی اپنی ذات یہ سب کچھ اس کی فکر کا نتیجہ ہے، 2۔دوست بہت بڑی دولت ہے، بھائی کی طرح اسے عزیز رکھو ۔ اچھے لوگوں کو اپنا سب سے قریبی دوست اور بھائی بنا لو،3۔سچی خوشی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو ساتھی انسانوں کے درمیان امن و خوشی کے ساتھ رہتے ہیں ،4۔عقل اور ضبطِ نفس ہی سچی دولت ہیں،5۔جفاکش قابلِ تعریف ہے،6۔حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں ہمیشہ صدقِ دل سے اپنا فرض ادا کرنا چاہیے،7۔برے کاموں کی سزا ہر حال میں ملے گی اور اچھے کاموں کی جزا بھی،8۔نفرت انسان کو نقصان پہنچاتی ہے۔

زرتشت اور فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

قدیم ایرانی مذہب زرتشت آریائی مذاہب میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ توحید پرستی، پاکیزگی اور انسانی بھلائی کا مذہب ہے جس میں ایک طرف ’’اَھورا مزدا‘‘ کا تصورِ توحید پایا جاتا ہے اور دوسری طرف جسمانی ، روحانی، ذہنی اور فطری پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔ زرتشت کے عہد کے بارے میں تہران یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد معین کی تحقیق زیادہ قابلِ یقین اور استناد کا درجہ رکھتی ہے جس کے مطابق یہ 1100ق ۔ م ایران کے اس حصہ میں پیدا ہوا جو آج کل افغانستان میں شامل ہے۔(21)

مؤرخین کا خیال ہے کہ قدیم آریہ لوگ اپنے آبائی وطن میں توحید پرست تھے اور اس قدیم مذہب کا نام زرتشت سے بہت پہلے ’’مزدلینا‘‘ تھا۔بعد میں اس مذہب میں اتنی تحریف ہوئی کہ ایک خدا کی جگہ بے شمار دیوتوں کی پوجا شروع ہو گئی اور مشرکانہ خیالات کی آمیزش نے اس کی اصلی حالت مسخ کر دی۔ زرتشت نے خدائے واحد کی عبادت پر زور دیا اور ان مشرکانہ اور باطلانہ رسوم کے خلاف کام کیا۔ زرتشت اپنے روحانی سفر کے دوران میں کئی کٹھن مراحل کے لیے گوتم بدھ کی طرح کئی برسوں تک ارض و سما کی بظاہر بے زبان فضا سے باتیں کرتا رہا اور غور و فکر کرتارہا کہ اسے حقیقتِ مطلق کا ادراک ہو سکے۔زرتشت کے نظام اخلاق کی بنیاد تین نکات پر ہے :

’’ھوخت، ھورشت، ھومت یعنی گفتار نیک، کردار نیک، پندار نیک‘‘(22)

زرتشت کی الہامی کتاب کا نام اوستا ہے جس کے پانچ حصے ہیں۔ لیسنا، ویسپرد، وندیداد، یشت، خوردہ اوستا۔۔۔ اوستا کی تفسیر کا نام ژند ہے اور ژند کی تفسیر کا نام پاژند ہے۔ اوستا کے قدیم ترین اورمتبرک ترین حصہ کا نام گاتھا ہے یہ حصہ زرتشت کی اپنی تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ زرتشت نے بہت سے شیاطین، مشکلات اور حریص خواہشات و گناہ کے خلاف لڑ کر نوع انسانی کی مادی اور روحانی ترقی اور فلاح و بہبود کی بنیاد ڈالی۔ اس کے ہاں نیکی اور خیر کا تصور انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ خیر و شر کے درمیان کشمکش ہی اخلاقی زندگی کی ضروریات کو اجاگر کرتی ہے اور زرتشت نے اسی کو کافی نہیں سمجھا کہ خود انفرادی نیکی حاصل کرے بلکہ اس نے معاشرتی نیکی اور فلاح و بہبود کو بھی یکساں اہمیت دی ہے۔زرتشت نے آگ کی پاکیزگی کی وجہ سے اسے اپنی عبادت گاہوں میں بطور قبلہ استعمال کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ آگ نورِ خدا کی تجلی کا بہترین مظہر ہے۔ آگ پاکیزگی اور نیکی کا راستہ ہموار کرتی ہے اور تاریکی اور بدبوؤں کو زائل کر کے طہارت عطا کرتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں آتش پرستی زرتشی مذہب میں مرکز عبادت قرار پائی اور اس کی غلط تعبیر کی گئی حالانکہ زرتشت نے دیگر الہامی و غیر الہامی مذاہب کی طرح آگ کو نورکی علامت قرار دیا ہے اور عبادت کے لائق صرف خداے بزرگ و برتر کو سمجھا ہے۔ زرتشت نے نیک انسان کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے اس کی پاکیزگی پر بہت زوردیا ہے۔زرتشت یقین، بھگتی اور اخلاقیات کا مذہب ہے۔ اہوارامزدا اور اس کا پیغام بر زرتشت، اس مذہب کے دو بنیادی ذرائع ہیں۔ غرباء کی خدمت، خیرات، ایمانداری، صداقت، نیک اعمال، نیک خیال، رحمدلی اور تقویٰ اس مذہب کی اخلاقیات کا نمایاں حصہ ہیں۔ اسی طرح منافقت، کینہ پروری، طمع، لالچ، لاپرواہی اور بے اعتقادی جیسی سلبی اقدار کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔

تاؤ مت اور فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

چین میں بنیادی طور پر دو مذہب پیدا ہوئے ، تاؤ مت اور کنفیوشس ازم۔ ان دونوں کی ہیئت مذہب سے زیادہ اخلاقی نظام کی ہے۔ چین کے رہنے والے بدھ مت، تاؤ مت اور کنفیوشس ازم کو یکساں مذہبی اہمیت دیتے ہیں۔تاؤ مت کا بانی لاؤزے 604ق۔م میں پیدا ہوا۔ لاؤزے (Lao-Tse) کا مطلب ہے بوڑھا فلسفی یا بوڑھا لڑکا۔ یعنی وہ شخص جو بڑا ہو جانے پر بھی بچوں جیسا ہو۔ تاؤمت کا نام اس مذہب کی مقدس کتا ب ’’تاؤتی چنگ‘‘ (Tao- Te -CHING) سے ماخوذ ہے جس کے معنی راستہ اور اس کی قوت یا فطرت کا راستہ ہو سکتا ہے۔ تاؤ کو اصلاحی راہ، خدا، آفاقی عقلِ کل، بے ّ علت وجود، ّ علت العلل، امن کا راستہ، بولنا اور گفتگو کرنا اور اصول و قانون کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

تاؤمت کے نظامِ اخلاق میں بہت سادگی پائی جاتی ہے۔ اس میں بھی دیگر مذاہب کی طرح نیکی اور بدی ، خیر اور شر ، اوامرو نواہی کا سلسلہ موجود ہے جو انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ذہنی اور روحانی آسودگی کا باعث بنتا ہے۔ تاؤ کے فلسفۂ اخلاق پر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی نے محمد جواد مشکور کی کتاب خلاصۂ ادیان کے حوالے سے یوں بحث کی ہے :

’’اس مذہب کا اخلاقی نظام بالکل سادہ ہے۔ اس مذہب میں بھی دوسرے مذاہب کی طرح قتل، شراب نوشی، چوری ، زنا کاری، جھوٹ بولنے کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ ماں باپ کی اطاعت، استاد کا احترام، سب انسانوں سے محبت، رفاہِ عامہ کے کام کرنے ، علم کی روشنی پھیلانے کی تلقین کی گئی ہے۔‘‘(۲۳) لاؤزے کی اخلاقی تعلیمات کا ایک اہم پہلو عدمِ مداخلت ہے اس کا قول ہے کہ اگر بنی آدم اس اصول کو اپنا لیں تو جنگ و جدل، حرص و ہوس کا خاتمہ ہو جائے گا اور انسانی زندگی میں امن و امان اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ لاؤزے نے محبت اور انکسار کا درس دیا ہے اور نیک و بد، اچھے برے ہر ایک کو مخلص اور راست باز ہونے کی تعلیم دی ہے۔ لاؤزے کا خیال ہے کہ نرم اور نازک ترین شے دنیا میں سخت ترین شے کو توڑ ڈالتی ہے جیسے دنیا میں پانی سے زیادہ نرم شے کوئی نہیں لیکن پانی سخت ترین چٹانوں کو کاٹ دیتا ہے۔ تاؤمت میں انسانی زندگی کو عظیم اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کو سادگی اور انکساری سے بسر کرنا ہی اس کا اصل مصرف ہے۔ اسی طرح انسان کو زندگی کی سطحیت اور مصنوعی پن سے اجتناب کر کے حقیقی معنوں میں صاف ستھری اور سادہ زندگی اپنانی چاہیے ۔

لاؤزے کے اخلاقی اقوال[ترمیم]

’’1۔برائی کے بدلے میں اچھائی کرو،2۔سب سے بہترین وہ شخص ہے جو بنی آدم سے محبت کرے اور کسی سے نفرت نہ کرے، 3۔دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جائے،4۔لالچ اور حرص سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں، 5۔موت ہر ذی حیات پر لازم ہے اس لیے اس سے ڈرنا نہیں چاہیے،6۔اچھا خیال وہ ہے جو دانائی سے پُر ہو،7۔جس طرح نیچر میں تمام چیزیں خاموشی سے کام انجام دیتی ہیں اسی طرح انسان کو بھی بغیر کسی حرص اور شہرت کا خیال کیے اپنے کام میں مشغول رہنا چاہیے، 8۔ایک پاکیزہ آدمی کا دل سینکڑوں دلوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اس کا کوئی ایک مخصوص فعل نہیں ہوتا۔ پاکیزہ آدمی ان سب کو اپنے بچے سمجھتا ہے۔‘‘

تاؤتی چنگ کے مطالعے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ لاؤزے سچے اور واحد خدا پر ایمان رکھتا تھا اور اس کی رضا کے تابع رہنا ہی عظیم نیکی خیال کرتاتھا۔ امراء کے ظلم و تشدد کے دور میں اس نے نیکی، سکون، عدم مداخلت اورصلح پر زور دیا ہے۔

شنتو ازم اور فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

بدھ مت کی طرح شنتو ازم بھی جاپان کا قومی مذہب ہے اور ہندو مت کی طرح اس کا کوئی ایک بانی نہیں ہے۔ شنتو چینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’خدائی راستہ‘‘ ، دیوتاؤں کے طور اطوار وغیرہ ہیں۔ Encyclopedia Of Ethics And Religion میں اس کے بارے میں یوں درج ہے:

"The word Shinto is not Japanese, but Chinese. It means the way of gods, (Kami-no. michi). Some say it is religion, some a moral system and others a political way."(24)

شنتومت ایک مذہب، نظام اخلاق اور سنیاسی طرزِ زندگی کی حیثیت سے جاپان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ شنتو مت مظاہرِ قدرت کی پرستش کا نام ہے۔ اس میں خدا کے لیے کامی (Kami) کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ’’اوپر یا اعلیٰ‘‘ کے ہیں۔ مظاہر پرستی کے ساتھ ساتھ اسلاف پرستی بھی اس مذہب کا خاص رجحان ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ مذہب کثرت پرستی کا مذہب بھی ہے جس میں کروڑوں کی تعداد میں دیوتاؤں کو پوجا جاتا ہے۔ اسی طرح مظاہر پرستی ، آبا پرستی اور شاہ پرستی بھی اس مذہب کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ شنتو مت میں اخلاقی تعلیمات کے حوالے سے امولیہ رنجن مہاپتر نے مندرجہ ذیل دس نکات وضع کیے ہیں:

’’1۔خدا کی مشیت سے روگردانی نہ کرو،2۔آباؤ اجداد کی جانب اپنے فرائض نہ بھولو،3۔ریاست کے احکامات کی خلاف ورزی کا جرم نہ کرو،4۔خداؤں کی عمیق اچھائی کو نہ بھولو جس کے ذریعے آفات اور بد قسمتیاں اپنا رخ پھیر لیتی ہیں اور بیماری سے شفا ملتی ہے،5۔یہ مت بھولو کہ دنیا ایک بہت بڑا خاندان ہے،6۔اپنی شخصیت کی حدود مت بھولو،7۔دوسروں کے غصے میں آنے پر بھی غصے میں نہ آؤ،8۔اپنے کام میں سستی نہ کرو،9۔تعلیمات پر الزام نہ دھرو،10۔بیرونی تعلیمات کے پیچھے اندھا دھند نہ دوڑو۔‘‘

سامی مذاہب[ترمیم]

سامی مذاہب میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام شامل ہیں۔ان تینوں الہامی مذاہب میں فلسفۂ اخلاق کی جو روایت موجود ہے اس کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔

یہودیت کا فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

یہودی سامی النسل تھے ، صحرائے عرب کے شمال میں ان کا آبائی وطن تھا جہاں وہ صدیوں تک خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے رہے۔یہ مظاہر پرست تھے اور رفتہ رفتہ کثرت پرست اور بعد ازاں وحدت پرست ہو گئے۔ عہد نامہ عتیق یہودیت کا مرکزی ماخذ ہے ۔ اس کی تعلیمات کا ماخذ توریت ہے۔عہد نامہ عتیق علمائے یہود کی تالیف ہے۔ توریت بنیادی طور پر اخلاقی قصوں اور کہانیوں پر مشتمل ہے جس کا مقصد انسان کی فلاح اور اسے سیدھا راستہ دکھانا ہے۔ توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی اور انہیں کے دور میں یہودیت نے باقاعدہ مذہب کی شکل اختیار کی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عبرانی قوم کو فرعونِ مصر کی غلامی سے نجات دلا کر انہیں فلسطین میں آباد کیا تو پھر اللہ کی طرف سے ایک اخلاقی ضابطہ نازل ہوا جس کی پابندی ہر یہودی کے لیے لازم قرار پائی۔ یہ ضابطہ دس فرامین یا دس نکات کہلاتے ہیں جودرج ذیل ہیں:

’’1۔خدا ایک ہے اسی نے تمہیں مصر کی غلامی سے نجات دلائی اور وہ تہس ہوا 2۔میرے سوا کسی کو خدا نہ سمجھنا اور نہ اس کی عبادت کرنا، 3۔اپنے خدا کو یاد کرتے رہو کیونکہ اس سے گناہ کم ہوتے ہیں،4۔ہفتے کے سات دنوں میں سبت کو پاک قرار دیا گیا ہے۔ چھ دن تمہارے ہیں، اس میں کام کرو اور ساتواں دن اللہ کا ہے اس میں کام نہ کرو اور اپنے رب کو یاد کرو،5۔اپنے ماں باپ کی عزت کرو تاکہ اللہ تمہاری بھی عمر دراز کرے،6۔خوں ریزی سے گریز کرنا ،7۔زنا حرام ہے،8۔کسی دوسرے فرد کا مال چوری نہ کرنا ، 9۔اپنے ہمساے کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا،10۔اپنے پڑوسی کے مال، عزت یا کسی اور چیز پر لالچ کی نگاہ نہ ڈالنا۔‘‘(25)

یہودیت میں خدا کا تصور اعلیٰ ترین صفات کی حامل ہستی کا ہے اور انسان روحانی اور جسمانی ہر دو اعتبار سے خدا کے احکامات پر چلنے کا پابند ہے۔ انسان کے لیے ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نیکی ، انصاف اور بھلائی کے کام کرے، اپنے اندر اچھی صفات پیدا کرے، بُرے کاموں سے اجتناب کرے اور اپنی زندگی کو دوسروں کے فائدے کے لیے کام میں لائے۔ یہودیوں میں خیر و شر کا باقاعدہ نظام موجود ہے اور جزا و سزا کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔یہودیت میں اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان میں خیر و شر خلقی طور پر موجود ہے۔ صرف خدا کی ذات ہے جو شر سے پاک ہے۔ انسان اپنی فطرت کے باعث گناہ اور شر کی طرف راغب ہوتا ہے۔ گناہ کرنے سے خدا اور انسان کے درمیان تعلق کمزور پڑ جاتا ہے۔ خدا اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔ گناہگار اگر اپنی بخشش کے لیے خدا سے رجوع کریں تو ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔(26)مختصر یہ کہ یہودیت میں اعلیٰ انسانی اقدار اور مذہبی تعلیمات تو موجود ہیں لیکن یہ اور بات ہے کہ ان پر عمل نہ ہو۔ یہودیت کے مطابق زندگی اخلاقی تگ و دو کا نام ہے اور انسان کو خدا کی الوہی سرگرمیوں میں اس کا رفیق کار بننا ہوتا ہے۔ یہودیت کا جوہر اس آیت میں ہے:

’’تم میرے لیے پاکیزہ بنو کیونکہ میں تمہارا خداوند پاک ہوں۔‘‘(27)

یہودیت ، اخلاقیات اور کامل طرزِ عمل کی تعلیم دیتی ہے۔ اخلاقی اور روحانی ذات کے لیے یہودیت میں قول ہے کہ:

’’پہلے خود کو اور پھر دوسروں کو خوبصورتی دو۔‘‘

عیسائیت کا فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

عیسائیت ایک الہامی مذہب ہے اور اس میں انسانی نجات کے لیے عبادات و معاملات کا پورا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیحؑ افلاکی باپ کی تجسیم اور انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔حضرت عیسیؑ ٰ کی تعلیمات میں خیرات، نفس کشی، ترکِ دنیا، تزکیۂ نفس، ہمہ گیر محبت اور خدا پر یقین کا بیج بویا گیا ہے۔ وہ پاکیزگی اور سچائی کے مبلغ تھے ۔حضرت عیسیؑ ٰ کی اخلاقی تعلیمات کے بارے میں ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیؑ ٰ نے کوئی باقاعدہ ضابطۂ اخلاق نہیں دیا تھا۔ ان کی اپنی کوئی تحریر بھی نہیں۔ ان کے اخلاقی اقوال و نظریات ان کے بعد لکھے گئے۔ عیسائیت نے بیشتر اخلاقی تصورات یہودیت سے وراثت میں لیے ہیں۔عیسائیت میں اخلاق کی بنیاد دو نظریات ہیں: ایک تمام بنی نوع انسان سے محبت ۔دوسرا کفارے کا تصور یعنی انسان کی پیدائش ہی گناہ کا نتیجہ ہے اور یوں اس کی تمام تر زندگی گناہ ہے یا گناہِ عظیم ہے جس کا کفارہ حضرت عیسیؑ ٰ اپنی جان دے کر ادا کریں گے۔(28)حضرت عیسیؑ ٰ کی تعلیمات یہودیت کی تکمیل ہیں اور انہوں نے عیسائی اخلاقیات کی تعریف اور دائرۂ کار میں مندرجہ ذیل امور بیان کیے ہیں:

"Christian Ethics, analytically defined, is the science which deals with (1) what the christian man (individual and social) should desire and what he should avoid (summum bonum). (2) What he ought and ought not to do (duty.) and (3) what moral power is necessary to obtain end and accomplish duty (virtue)."(29)

عیسائی اخلاقیات کی بنیاد ان اوامر و نواہی، فرائض اور فضائل کے مختلف حوالوں سے مستحکم ہوتی ہے،جس میں سب سے بڑا ذریعہ بائبل ہے جو عیسائیت میں مستند سمجھا جاتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدا کی محبت پر بہت زور دیا ہے اور اسے بنی آدم کا باپ کہا ہے۔ خدا کی محبت کو اچھوتی تماثیل اور تلازمات کے ذریعے بیان کیا ہے۔ عیسائیت کی تعلیم میں خدا کا تصور شخصی ہے ۔ خدا سب چیزوں کا خالق ہے۔ علت اوّل سے خدا کو مقدس باپ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اخلاقی تعلیمات کا نچوڑ ان کا ’’پہاڑی وعظ‘‘ ہے جس کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:

’’۱۔مبارک ہیں وہ جو غریب ہیں، کیونکہ ان کے لیے آسمان کی بادشاہت ہے،۲۔مبارک ہیں وہ جو دکھ سہتے ہیں کیونکہ انہیں راحت ملے گی،۳۔مبارک ہیں وہ جو کمزور ہیں کیونکہ زمین کی میراث پائیں گے،۴۔مبارک ہیں وہ جو سچائی کے لیے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ ان کو تسکین ملے گی،۵۔مبارک ہیں وہ جو دردمند ہیں کیونکہ انہیں رحم حاصل ہوگا،۶۔مبارک ہیں وہ جن کا دل پاکیزہ ہے کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے،۷۔مبارک ہیں وہ جو امن پسند ہیں کیوں کہ انہیں خدا کے بیٹے کہا جائے گا،۸۔مبارک ہیں وہ جو سچائی کی خاطر مصلوب کیے جاتے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت ان کی ہے،۹۔مبارک ہو تم جب آدمی تم پر میرے حوالے سے ظلم کرتے اور ہر قسم کی بری بات کہتے ہیں،۱۰۔خوش اور مسرور رہو کیونکہ آسمان میں تمہارا انعام بہت عظیم ہے کیونکہ آدمیوں نے تم سے پہلے آنے والے نبیوں کو بھی قتل کیا۔‘‘(30)

حضرت عیسیؑ ٰ کی تعلیمات میں بندوں کے درمیان برادرانہ تعلق پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں حضرت عیسیؑ ٰ نے جن خوبیوں کو خصوصی اہمیت دی ہے ان میں مساوات ، عفو و درگزر، عیب جوئی سے پرہیز، عجز و انکسار اور اپنے دشمنوں اور برا چاہنے والوں کے ساتھ بھی نیکی کا سلوک سرفہرست ہیں۔ حضرت عیسیؑ ٰ کی تعلیم میں نیت اور ارادوں کو اہمیت حاصل ہے ۔شریر کا مقابلہ نہ کرنے اور بدلہ نہ دینے کی اہمیت کے بارے میں متی (باب ۵ ،آیات ۲۱،۲۲اور ۳۸ تا ۴۲) میں فرمایا گیا ہے:

’’اور تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا تھا کہ خون نہ کرنا اور جو کوئی خون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا اور میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کہے گا وہ سزا عدالت کی اور جو کوئی اسے احمق کہے گا وہ آتشِ جہنم کا سزاوار ہوگا۔ تم سن چکے ہو کہ تم سے کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت نہیں، میں تم سے کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے تواس کے ساتھ دو کوس چلا جا جو کوئی تجھ سے مانگے دے دے اور جو کوئی تجھ سے قرض چاہے اس سے منہ نہ موڑ۔ ‘‘(31)

مختصر یہ کہ عیسائیت میں امن و آشتی، محبت، بھائی چارے اور صلح کل کا پیغام ملتا ہے اور یہی اس کے اخلاقی فلسفے کے نمایاں خدو خال متعین کرتا ہے۔

اسلام کا فلسفۂ اخلاق[ترمیم]

دینِ فطرت اسلام خدا کا آخری دین ہے جس کی تکمیل کے لیے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو معبوث فرمایا گیا ہے۔ دینِ اسلام آفاقی اور دنیا بھر کے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں اخلاقیات کے ایسے سنہری اصول موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس دینِ مبین نے ایک قلیل عرصے میں پوری دنیا کو متاثر اور اپنے فکری سرمائے سے فیض یاب کیا ہے۔ اسلام کا نظامِ اخلاق پوری دنیا پر حاوی ہے۔ یہ اپنا مخصوص تصور کائنات ، معیار خیر و شر، قوت نافذہ اور قوتِ محرکہ رکھتا ہے۔ یہ سب مل کر اس کے فلسفۂ اخلاق کو ایک مکمل عملی نظام کی شکل دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں اخلاق فاضلہ کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے : ’’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا ‘‘(32)

(کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور ناکام و نامراد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو گناہوں کی میل سے ملوث کیا۔)

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اخلاقِ حسنہ پر بہت زور دیا ہے۔ارشاد فرمایا:

’’اِنَّمَا بُعثتُ لِاُتِمّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ‘‘(33)

(میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کروں۔)

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اسلام میں سب سے زیادہ اخلاقِ حسنہ پر زور دیا گیاہے۔ اخلاقِ حسنہ میں وہ تمام اعمال شامل ہیں جن کے ذریعے انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کے بھائی بندوں کو فائدہ پہنچے اور معاشرے میں امن و سلامتی پیدا ہو اور معاشرہ صحیح خطوط پر ترقی کرے۔ اخلاق کو قرآن و حدیث میں اس تواتر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ پورا دین الٰہیات اور اخلاقیات کے ستون پر کھڑا محسوس ہوتا ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں میں اخلاقی پہلوؤں کو مد نظر رکھا گیا ہے اور کوئی بھی اسلامی عمل اخلاق سے ماورا نہیں ہے۔ انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک انسان کے تمام فکری مدارج میں اسلام کا فلسفۂ اخلاق ایک توانا اور صحت مند روایت کے ساتھ موجود رہتا ہے۔قرآن پاک کے مطابق دنیا کی زندگی میں خیر و شر کی اس آزمائش میں انسان کی اعانت اور رہبری کے لیے خدا تعالیٰ نے ابتدا ہی سے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کا ایک سلسلہ قائم رکھا جو اپنی تعلیمات کے ذریعے بنی نوع انسان کے اندر ازل سے موجود الوہی عنصر کی ہمت افزائی اور خیر و شر میں امتیاز کے لیے واضح اصول اور قوانین پیش کرتے رہے۔ اس طور انسان کے لیے ہمیشہ یہ ممکن رہا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے صالح عنصر کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے خدا تعالیٰ کے طے کردہ روحانی اور اخلاقی اصولوں کو قبول کر لے اور ان کو اپنی دنیوی زندگی میں مشعل ہدایت سمجھے۔(34)

اسلامی فلسفۂ اخلاق کی بنیاد دین و دنیا کی خیر، سعادت اور نیکی پر مستحکم ہوتی ہے۔ جملہ مسلم مفکرین نے اسلامی روح کے ساتھ اخلاقِ اسلام کو تشکیل دینے میں قرآن و حدیث کے مسلمہ اصولوں کی پاسداری کی ہے اور یونانی فلاسفہ کی تعلیمات میں اسلامی روح کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال اسلامی تعلیمات،قوانین اور اخلاقیات کا اصل منبع قرآن و حدیث ہی ہے اور اس سے تمام علوم کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

اخلاقیات کے مسلمہ عمومی اصول[ترمیم]

مختلف مکاتبِ اخلاق، مشرقی و مغربی فلاسفہ اور مذاہب عالم کے اخلاقی نظریات کے مطالعہ کے بعد اخلاقیات کے کچھ عمومی مسلمہ اصول سامنے آتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں تمام دبستانِ اخلاق اور مکاتب فکر میں یکساں اہمیت کے حامل ہیں اور جن پر قدیم یونانی فلاسفہ سے لے کر جدید اسلامی اور مغربی فلاسفہ اور جملہ مذاہب عالم متفق ہیں۔ان فضائلِ اخلاق میں عظمتِ انسانی، صداقت، علم و حکمت، عقل و عشق، انسان دوستی، جواں مردی، کم آزاری، صدق و اخلاص، شجاعت، استقامت، عدل و انصاف، تواضع، حلم و انکساری، ترکِ خواہشات، محبت اور دوستی، قناعت پسندی، صبر و رضا، عفت و عصمت، تسلیم و رضا، نیکی و سعادت اور امن و محبت ایسے فضائل ہیں، ان اوصاف پر کم و بیش ہر مکتبۂ فکر کے فلاسفہ اور مذاہب کے بانیوں نے اتفاق کیا ہے۔ فلسفۂ اخلاق میں نیکی اور سعادت کا تصور ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے اور نیکی یا سعادت کو مختلف ذرائع سے حاصل کرنے کی تگ و دو کو اخلاق کا نام دیا گیا ہے۔ اسی طرح فلسفۂ اخلاق کی دو بڑے گروہوں میں تقسیم نے سعادت اور نیکی کے قدرے مختلف معیارات مقررکیے ہیں جو کسی نہ کسی طرح ہرقابلِ ذکر فلسفی کے نزدیک قابلِ قبول ہیں۔

مذاہبِ عالم میں انسان دوستی ، بھائی چارہ، ریاضت اور گیان دھیان، اطاعت و عبادات، امن، اخلاص، جنگ کی مذمت، ہمت، نیک اعمال، فرض ، ایمان، عفو و درگزر، دوستی، سخاوت ، مسرت، ابدیت، انصاف، محبت اور عدل جیسے اہم مذہبی اصولوں پر اخلاقی بنیاد رکھی گئی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ اخلاقی اصول مسلمہ آفاقی حیثیت کے حامل ہیں اور ان پر ہی فلسفۂ اخلاق کی پوری توجہ مرکوز رہی ہے لیکن چونکہ زمانی، زمینی اور نظریاتی اختلافات ہر جگہ موجود رہے ہیں اس لیے ان اخلاقی اصولوں کے حصول اور ان کے اطلاق کے طریقوں میں معمولی فرق اور اختلاف کا پایا جانا تعجب خیز نہیں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ہر قوم کے فضائل کی ترتیب، اس کے اجتماعی مرکز، ماحول، طرزِ بودوباش، طرزِ حکومت کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے لیکن ان فضائل کی اہمیت اور آفاقیت مسلمہ ہی رہتی ہے۔ مثال کے طورپر سچ کو کوئی فلسفۂ اخلاق اور مذہب کبھی رد نہیں کرے گا۔ اس طرح محبت اور نیکی ، عدل و انصاف، انسانی معاملات و توازن، انسانی رشتوں کا احترام اور دیگر مسلمہ اخلاقی اصولوں کو ہر جگہ اور ہر مذہب میں تسلیم کیا جائے گا لیکن ضمنی اور فروعی اختلافات فضائل کی ترتیب، مدارج اور اطلاق کے طریقوں میں ہو سکتے ہیں جن پر بات کرتے ہوئے مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہارویؒ یوں رقم طراز ہیں:

’’ علم اخلاق کے عالم کے لیے یہ بہت دشوار بات ہے کہ وہ ان تفصیلات کی تہ میں جائے اور فضائل کی قیمت میں اشخاص و افراد کے درمیان باریک امتیاز کی وجہ سے جو اختلاف مرتب ہوتا ہے اس کے کشف وو ضاحت میں مصروف ہو۔ وہ مجموعی اعتبار سے یہی کہہ سکتا ہے کہ تمام انسانوں سے عام فضائل، انصاف اور سچائی وغیرہ کے بارہ میں یہ مساوی مطالبہ ہے کہ وہ ان صفات کے ساتھ متصف ہوں۔‘‘(35)

ان مباحث کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ زندگی کی تمام اعلیٰ اقدار کا سر چشمہ نیکی اور سعادت ہے اور نیکی اور سعادت حاصل کرنے کے ذرائع حاسۂ باطنی سے تعلق رکھتے ہوں یا افادیت پسندوں کے مطابق ’’زیادہ سے زیادہ مسرت زیادہ سے زیادہ افراد کے لیے ‘‘ کے اصول پر مبنی ہوں اپنی جگہ وقیع اور قابلِ قدر ہیں۔

فلسفۂ اخلاق کے نقطۂ نظر میں اختلاف اور موافقت کے انہی اصولوں پر لیسلی اسٹیفن نے یوں روشنی ڈالی ہے:

’’ ایک اعتبار سے تو علماے اخلاق تقریباً بالکل متفق ہیں کہ کردار کے بعض اقسام کو صائب ، خیر اور ان کے مخالف اقسام کو خطا و شر کہتے ہیں ۔ کسی اخلاقی فلسفی کو اس سے انکار نہیں کہ بے رحمی، جھوٹ اور بے اعتدالی عیوب ہیں اور رحم ، سچائی اور عفت محاسن ہیں۔ ‘‘(36)

لہٰذا ایسی ہی اقدار اور اخلاقی ضوابط ہیں جن کی بنیاد پر فلسفۂ اخلاق میں مشترکہ اخلاقی نظام تشکیل پذیر ہوتا ہے اور جن کی صحت اور اہمیت پر کوئی اختلافِ رائے نہیں۔ انہی اخلاقی اصولوں کو ہم معاشرے کے ہر ادارے اور ہر شعبے میں کارفرما دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں اور ہمارے علم عمل سے ان اخلاقی اقدار اور اوصاف کا اظہار کسی نہ کسی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔ یہیں سے اخلاقیات اور جمالیات کے درمیان اختلاف و ارتباط کے نئے مباحث جنم لیتے ہیں کیونکہ اخلاقیات اور جمالیات دونوں کا تعلق اقدار سے ہے اور دونوں کے دائرۂ کار میں انسانی کردار، احساس اور ذوق کی نشوونما جیسے موضوعات ہیں۔

اخلاقیات و جمالیات ارتباط و اختلاف[ترمیم]

اخلاقیات پر سیر حاصل بحث کے بعد جمالیات کے ساتھ اس کی ہم آہنگی اور تضادات کا سوال سامنے آتا ہے۔چونکہ فلسفۂ اخلاق کی حدود میں انسانی کردار اور اقدار آتی ہے اور جمالیات کا تعلق جملہ انسانی حواس لطیف سے ہوتا ہے دونوں میں بعض امور میں موافقت اور بعض میں اختلاف پایا جاتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ادب سے اخلاقیات کا رشتہ جوڑنے سے پہلے اخلاقیات و جمالیات میں مماثلت کے پہلو تلاش کر لیے جائیں۔

دونوں اقدار مسلّمہ ہیں اور ان میں فروغی تغیرات کا آنا فطری امر ہے لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اصول عموماً ایک رہتے ہیں لیکن ان کے اخلاقی پہلو میں کہیں نہ کہیں کوئی تبدیلی آ جاتی ہے۔اخلاقیات و جمالیات میں مماثلت کے بعد اب ان میں اختلاف کے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرنا ضروری ہے تاکہ دونوں کو ایک علیحدہ مکمل عمل کی حیثیت سے دیکھا جاسکے اور دونوں کے حدود متعین ہو سکیں۔ جمالیات کا دائرہ کار چونکہ فنون لطیفہ تک ہے اس لیے اس علم میں فنون کے اظہار و ابلاغ اور پیشکش پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تاکہ وہ صوری و معنوی اعتبار سے خوبصورت نظر آئیں،بعض اوصافِ حسنہ میں تو بلا تامل لطافت کا اطلاق بھی ہوتا ہے مثلاً فیاضی ، عبادت میں خضوع و خشوع وغیرہ مگر بعض ایسے بھی مکارم اخلاق ہیں جو کسی طرح بھی اس عنوان کے تحت نہیں آتے مثلاً دیانتداری اور راست بازی وغیرہ کیونکہ ان دونوں میں آپ کو اپنے ظاہری ذوق اور مادی مفاد کو قربان کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ان اقدار پر عمل کرنے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

مندرجہ بالا مباحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں اطراف کے دلائل و براہین دو انتہاؤں پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف جمالیات کو اخلاقیات کا حصہ سمجھا گیا ہے مثلاً قدمائے یونان اور متاخرین فلاسفہ یونان کے ہاں تو ُ حسن اور نیکی کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے ۔ اسی طرح بعد کے مفکرین کے ہاں بھی جمالیاتی اور اخلاقیاتی اقدار میں بھرپور ارتباط پایا جاتا ہے۔

حکیم محمد سعید دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کے تصوّرِاخلاق کی وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ اِسلام کا تصورِاخلاق فلسفیوں، مفکروں اور نرے اخلاق پرستوں سے بالکل جدا ہے۔ اِسلام کے نزدیک حُسنِ اخلاق سچی بندگی کو پائے تکمیل تک پہنچانے کا ایک ذریعہ اور عبادات کا اہم حصہ ہے۔ یہ دونوں چیزیں الگ الگ خانوں میں منقسم نہیں ہیں بلکہ اپنے اندر ایک وحدت رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور انسانوں کے حقوق کو بہ تمام و کمال ادا کرنے کا نام عملِ صالح ہے، یہ ایک جامع ترین لفظ ہے جسے قرآن پاک عبادات اور اخلاق دونوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کے ساتھ ساتھ انسانوں کے حقوق کا ذِکر فرما کر ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ اُن کی اہمیت بھی حقوق اللہ سے کم نہیں اور یہ کہ کمالِ بندگی کا تصوّر،حُسنِ اخلاق کے بغیر ممکن ہی نہیں۔(37) حکیم محمدسعیدنے اپنی تصنیف’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘سب سے بڑے انسان میں آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے ذیل میں 41عناوین قائم کرتے ہوئے ان پر اختصار مگر جامعیت سے اظہارِخیال کیا ہے۔ عناوین درج ذیل ہیں:

  • رحمت و شفقت * خوش مزاجی * مستقل مزاجی * نرم مزاجی * سخاوت و فیاضی * عدل و انصاف * عاجزی اور انکساری * نبی صادق * اللہ کی نعمت
  • نماز میں آپ کا انہماک * علم کی سرپرستی * تربیت * سادگی و قناعت * نادار اور بے کس لوگوں کا خیال * سچائی * برداشت اور تحمل * دھوکے بازوں سے بے تعلقی * سخاوت
  • معاملے میں کھرے * بدزبانی سے نفرت * حیوانوں پر شفقت
  • احسان کرنے والوں کی قدر * بیماروں کی عیادت * بچوں سے محبت * وعدے کی پابندی * بے مروتی کا بدلہ * مہمان نوازی * بھیک اور مدد

مذکورہ کتاب اگرچہ نونہالوں کے لیے ترتیب دی گئی ہے اور اس میں اُن کی رہنمائی کے لیے آسان پیرائے میں بات کی گئی ہے۔ تاہم زیرِ بحث موضوع کے حوالے سے اس کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ’’نرم مزاجی‘‘ کے زیرِ عنوان حکیم محمد سعید رقم طراز ہیں کہ:

’’ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مستقل مزاج ہونے کے ساتھ نرم مزاج بھی تھے۔ لوگوں سے نرمی اور شفقت سے پیش آتے، جو آپ کو تکلیف دیتا اسے بھی راحت پہنچاتے۔ دشمنوں کی سختی کا جواب نرمی سے دیتے۔ ایک بار طائف میں لوگوں کو سلام کی دعوت دینے گئے۔ ان لوگوں نے آپ کو بہت تکلیف پہنچائی اور بہت ظلم کیا، بڑی گستاخیاں کیں، پتھر مارے، مگر آپ نے اُن کے لیے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کی، ایک مسلمان آپ کے خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ کافروں کے لیے بددعا کریں، آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے ایسے لوگ گزرے ہیں کہ اُن کے دو ٹکڑے کر دیے گئے، اُن کے سروں پر آرے چلائے گئے ، مگر ان لوگوں نے حق کی دعوت لوگوں تک پہنچائی، تم پریشان نہ ہو، ان لوگوں کو یقین تھا کہ اسلام پھیل کر رہے گا۔۔۔

علامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی نے اخلاقِ نبوت کے ذیل درج ذیل عناوین قائم کیے ہیں:

  • حلم و عفو * تواضع * حیا * حسنِ معاشرت * عدل * وعدہ کی پابندی * وقار * زاہدانہ زندگی * شجاعت
  • طاقت * سخاوت (38)

ان جملہ موضوعات کے حوالے سے علامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی نے مفصل و مدلل پیرائے میں بحث کی ہے۔آقائے کائناتصلی اللہ علیہ وسلم کےُ حسنِ اخلاق کے بارے میں علامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی لکھتے ہیں کہ آپ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں خلقِ خداسے کیا پوچھنا؟ جب کہ خود خالقِ اخلاق نے یہ فرمایا کہ:

اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم[ترمیم]

’’یعنی اے حبیب! بلاشبہ آپ اخلاق کے بڑے درجے پر فائز ہیں۔‘‘

آج تقریباً چودہ سو برس گزر جانے کے بعد دشمنانِ رسول کی کیا مجال کہ آپ کو بداخلاق کہہ سکیں۔۔۔ بلکہ آپ کے بڑے سے بڑے دشمن نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ آپ بہت ہی بلند اخلاق، نرم خو اور رحیم و کریم ہیں۔ بہرحال حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم محاسنِ اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے۔ یعنی علم و عفو، رحم و کرم، عدل و انصاف، جودو سخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدم تشدد، شجاعت، ایفاء عہد، حسنِ معاملہ، صبر و قناعت، نرم گفتاری، خوش روئی، ملنساری، مساوات، غم خواری، سادگی و بے تکلفی، تواضع و انکساری، حیا داری کی اتنی بلند منزلوں پر آپ فائز و سرفراز ہیں۔(39)

ڈاکٹر طاہر القادری اخلاقی کمال کے ذیل میں رقم طراز ہیں کہ:

’’انسان کی انفرادی زندگی کا نصب العین ’’اخلاقی کمال‘‘ ہے اور اخلاقی کمال عبارت ہے، کامل بندگی سے، جس کی اعلیٰ ترین صورت ’’رضائے الٰہی کا حصول‘‘ ہے۔۔۔ یوں سمجھ لیجیے کہ انفرادی سطح پر انسان کا مقصد حیات ’’انسانِ مرتضیٰ‘‘ یعنی ایسا انسان بننا ہے جس پر اُس کا رب راضی ہو۔‘‘(40)

ڈاکٹر طاہرالقادری اخلاق کے اہم زاویے ایثار و عمل کا محرک ’’حبِ الٰہی‘‘ بتاتے ہیں، اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں کہ :

’’کسی کی محبت میں ایثار و قربانی صبر آزما جدوجہد اور مصائب و شدائد کا خوشی سے برداشت کرنا محض محبوب کی رضا کی خاطر ہوتا ہے۔۔۔ اگر محبوب کو راضی کرنا پیشِ نظر نہ ہو تو کوئی کیونکر تکالیف کو دعوت دے گا اور اپنی جان و مال کی قربانی پر آمادہ ہو گا۔(41)‘‘

چودھری افضل حق کا کہنا ہے کہ:

’’ شخصی اخلاق کی اصطلاح پر نظر رکھو اور جماعتی بھلائی کے اصول کو نہ بھولو، تب ہی تم فلاح پا سکتے ہو۔ قوموں کے شخصی اور قومی اخلاق جب تک پاکیزہ رہیں گے، قوم زندہ رہے گی۔ جب اخلاقِ حمیدہ اعمالِ ناپسندیدہ میں تبدیل ہو جائیں گے تو شجر قومی بے برگ و بار ہو جائے گا۔‘‘(42)

مسلم شریف میں حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث نقل کی گئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

’’ جب بھی رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی گئی تو وہ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے ضرور عطا کی، آپصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان بکریوں سے بھری ہوئی پوری وادی عطا کردی، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس جا کر کہنے لگا کہ لوگو! مسلمان ہو جاؤ۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم تو دیتے وقت فقر و فاقہ سے ذرا بھی نہیں ڈرتے۔‘‘(مسلم)

اخلاق سے مراد شمائل مصطفوی کے بجائے خصائل و اوصافِ نبوی ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:

’’ وہ تمام اخلاق جو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں نبی علیہ السلام کی ذات میں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔اللہ کریم نے اپنے محبوبِ حقیقی کو جملہ کائناتوں اور عوام کے لیے بہترین نمونہ بنایا۔‘‘

قرآن مجید سے اس کی شہادت یہ آیات دیتی ہیں:

’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘(43)

گوہر ملیسانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:

’’خالقِ کائنات نے جس طرح اپنے پیغمبر، محسنِ انسانیت، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تزئین و آرائش فرمائی، اسی طرح آپ کو اخلاقِ حسنہ کا کامل و اکمل نمونہ دیا، آپ کی فضیلت و عظمت کا منھ بولتا ثبوت شبِ اسریٰ کا وہ سفر ہے جس میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر صف در صف کھڑے ہوئے اور سیادتِ عامہ اور اِمامتِ عظمیٰ کا فریضہ سرورِ کائناتصلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے لیے تیار کیا، بنی نوع انسان کو دنیوی اور اُخروی فلاح سے ہم کنار کرنے کے لیے اوصافِ جمیلہ سے نوازا، وہاں آپ کو اخلاقِ حمیدہ کی تمام خصوصیات کا حامل بھی بنایا۔‘‘(44)

اسرار احمد سہاوری قرآنی نظریہ اخلاق کے ذیل میں رقم طراز ہیں کہ:

’’قرآن کا نظریۂ ادب اخلاقی پابندیوں کا قائل معلوم ہوتا ہے ۔ ادب زندگی کا ترجمان ہے اور زندگی بغیر اخلاق کے زیور کے اپنا تمام حسن اور رعنائی ضائع کر دیتی ہے۔ رسول کریم کا ارشاد ہے اَلْبِرُّ حُسْنُ، یعنی نیکی حسنِ اخلاق ہی ہے اور نیکی کی جان تقویٰ ہے۔ بغیر خدا کے خوف یا محبت کے نیکی کا کوئی مفہوم نہیں، نظری دنیا میں ہی صرف اس کا وجود ممکن ہے اور خالی نظریات بغیر عمل کے کسی کام کے نہیں، اس لیے قرآن نے جہاں ایمان لانے کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ ساتھ عمل صالح کا بھی حکم موجود ہے۔ قرآنی نظریۂ اخلاق کا سب سے جامع عملی اظہار حضور سرور سروراں صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی میں دکھائی دیتا ہے۔ آپ جیسا تقویٰ، خوفِ خدا یا محبتِ خدا کس کے دل میں ہو گی۔ عمل صالح کی بھی بہترین صورت آپ کی سیرت ہے، جسے اسوۂ حسنہ بھی کہا جاتا ہے۔‘‘(45)

آیئے یہاں چند منتخب اشعار ملاحظہ ہوں، جن میں اخلاق کو موضوع بنایا گیا ہے:

تری اداؤں نے دی ہم کو خلق کی تعلیم

ہر ایک قولِ حسیں آئنہ صفات کا ہے(46)

تجھ سے اخلاق کی ہوئی تکمیل

خلق میں محترم ہے بعدِ خدا

تیرا پیکر ہے خلق کا مظہر

تو ہے سرچشمہ ہر بھلائی کا(47)

گفتار میں سو رنگ ہیں اخلاق و ادب کے

عالم میں ہے یکتا ترے لہجے کی حلاوت(48)

مرجعیت ملی ، پائی محبوبیت ، دل مسخر کیے حسنِ اخلاق سے

روحِ عالم کو مفتوح کرتی گئی ، موجِ نصرت جو اُن کے علم سے چلی(49)

اصلاحِ اخلاقِ عالم ، آپ نے کی از سعی پیہم

آپ جہاں کے محسنِ اعظم صلی اللہ علیہ علیک وسلم(50)

خلق میں سر بسر رؤف و رحیم

آدمیّت کا پاسباں یعنی(51)

حضور! آپ کے اخلاقِ طیّبہ کی قسم

بغیر دیکھے ہمیں آپ سے محبت ہے(52)

آپ کے اخلاقِ حسنہ کی نہیں آقا! مثال

آپ سے اچھا کہاں ہے کوئی عنوانِ حیات(53)

آفاق میں تہذیب کی ہر قدرِ دل افروز

سرکار کے اخلاق سے پھولی ہے ، پھلی ہے(54)

ترے اخلاق کیا کہنا ، ترے انوار کیا کہنا

ترا اسوہ ، تری سیرت ، ترا کردار کیا کہنا(55)

آپ خلقِ عظیم کے مالک

آپ نے دشمنوں کی عزت کی(56)

خلق کی خوشبو تمام ادوار میں رچ بس گئی

باغِ ہستی میں کھلا یوں ان کی شفقت کا گلاب(57)

رحمتہ للعالمیں ہیں ، مخزنِ لطف و کرم

منبعِ جود و سخا ہیں شافعِ روزِ جزا

سربسر انعامِ حق ہیں ، سربسر لطف و عطا

صاحبِ صدق و صفا ہیں شافعِ روزِ جزا(58)

کرتے ہیں کرم احمدِ مختار ہمیشہ

منگتوں کا بھرم رکھتے ہیں سرکار ہمیشہ(59)

یہ شانِ عفو و کرم یہ سخاوتیں بے مثل

یہ عرش و فرش ہیں کیا صرف اک عطائے رسول(60)

مجھ سے پوچھا کسی نے تعارف ترا ، میں نے نظریں جھکائیں ، کہا دلکشی

حسن ، کردار ، گفتار ، رفتار ، سب ، الغرض تیری ہر اک ادا دلکشی(61)

ہر بار آپ نے اسے دل سے کیا معاف

سو بار بھی کسی نے اگر کوئی بھول کی(62)

وقارِ سکوت اور حسنِ تکلم

تجھے دینے والے نے کیا کیا دیا ہے

تو دلجوئی و غم گساری کا پیکر

تو خیرالبشر اشرف الانبیا ہے

طبیعت میں دل سوزی و دل نوازی

تو دلگیر کے دردِ دل کی دوا ہے

تو کرتا ہے توقیر و تکریم مہماں

تو بے برگ و نادار کا آسرا ہے(63)

سلام اُس پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے

سلام اُس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اُس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اُس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اُس پر کہ دشمن کو حیاتِ جاوداں دے دی

سلام اُس پر ابوسفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اُس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں

سلام اُس پر ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں(64)

اعجاز ہی اعجاز ہیں تیرے لبِ گفتار

حکمت کا خزینہ تری شیریں سخنی ہے(65)

سخی! تیرے لطف و کرم کے تصدق

غنی! تیری شانِ عطا دیدنی ہے(66)

بھولی ہے نہ بھولے گی فصیحانِ عرب کو

اعجاز نمائی تری شیریں سخنی کی(67)

لطف و عطا و رحم و سخا ، حلم و عفو و خیر

صدق و صفا و حسن و حیا ، جرات و وقار

احسان و صبر و سعی و یقیں ، سادگی و عدل

ایسےُ گلوں سے مہکا ہے سیرت کا شاخسار(68)

کامل ہر اِک جہت سے ہے وہ خلق اس لیے

اللہ کی رِضا کا سبب اُسوۂ نبیؐ(69)

معیارِ حُسنِ خلق وہی شخص بن گیا

جس کو ملی ہے انؐ کی اطاعت کی روشنی(70)

لفظوں کو آپ سے ہوئی پاکیزگی نصیب

معنوں کے اعتبار سے ذم ، ذم نہیں رہا

تلخی کے سامنے بھی رہا لہجۂ ملیح(71)

نہ خوش جمال کوئی اُن سا آئے گا واجدؔ

نہ اُس سا ہو گا زمانے میں خوش کلام کہیں(72)

اب کہاں ایسی روایت کوئی انساں لائے

اُن پہ جو سنگ اٹھائے وہی ایماں لائے

اپنے دشمن کے ٹھکانے کو کیا جائے اماں

وہ محبت کے جہاں میں نئے امکاں لائے(73)

بارشِ الطاف ہے سب پر ہے فیضانِ نبی

عالم انسانیت ہے زیرِ دامانِ نبی(74)

ظلم کے بدلے میں ملتی ہے ہدایت کی دعا

درس ہے اخلاق کا تعلیمِ دینِ مصطفےٰ(75)

محبت ہی محبت ، رحمت و شفقت ، سلوک ، اخلاص

اثاثہ تھا رسالت کا یہی دولت محمد کی(76)

ہر نظر میں نور ہے ، ہر دل میں جلوہ آپ کا

یہ کرم ، یہ حسنِ احساں ، اللہ اللہ آپ کا(77)

نبی آئے جہاں میں رحمت للعالمیں ہو کر

سراج السالکیں بن کر شفیع المذنبیں ہو کر

غریبوں کی محبت میں گزاری زندگی اپنی

محمد مصطفےٰ نے صاحبِ تاج و نگیں ہو کر(78)

ہر حال میں بحرِ صدق و صفا ، ہر رنگ میں مخزنِ جود و سخا

غربت میں بھی تو سائل پرور ، عسرت میں تو آسودہ نظر(79)

عدل و احسان ، عطا ، صدق ، صفا ، عجز ، دعا

آؤ دربارِ رسالت کا یہ نقشہ دیکھو

سادگی ، حسن ، حیا ، صبر ، یقیں ، رحم ، سخا

کوہِ فاراں پہ کوئی دیتا ہے خطبہ دیکھو(80)

آپ مونس بھی ہیں ، آپ غم خوار بھی آپ مختار بھی شاہِ ابرار بھی

ہم غریبوں کا ہیں آپ ہی آسرا اے رسولِ خدا مرحبا مرحبا(81)

تم بحرِ مواہب ہو ، تمہی نازش دوراں

صحرا کی کڑی دھوپ میں رحمت کی گھٹا ہو(82)

دکھی دلوں کو کرتا عطا راحت و سکوں

حسنِ کلام آپ کا ہر اک خطاب میں(83)

ترا انکسار ، غنا ، حیا ، غمِ حشر ، صدق ، صفا ، دعا

جو یہ سات رنگ ہوئے بہم تری شخصیت کی بنی دھنک(84)

ترا جادوئے تکلم کہ گھٹائیں جھوم جائیں

ترا فیضِ یک تبسم کہ فضائیں جگمگائیں

ترے خلق سے گلوں میں ہے تمام رنگ و نگہت

مہ و مہر اپنی شمعیں ترے نور سے جلائیں(85)

ہے جس پہ خدا کو بھی محبت سے فخر

ہیں جود کے ، علم کے ، رواں مصدر آپ(86)

کرے گی اُس سے ہر ایک رُت ، کسبِ فیض

وہ منبۂ حلم و معدنِ علم و جود (87)

خدا کی رحمت ہے نام اس کا فلاحِ انساں پیام اس کا

ڈھلی ہوئی اس پیام میں جس کی زندگی ہے وہی نبی ہے

بشر ہے وہ یا کلامِ باری میں اس کی ہر اک ادا کا قاری

تمام قرآن کی جو تصویر معنوی ہے وہی نبی ہے(88)

تیرے نقوش پا سے ہے تہذیب کو فروغ

قدموں سے تیرے پھوٹ رہی ہے ضیائے خیر

خیر البشر کی ذات سے ہے خیر معتبر

خیر الوریٰ کے دم سے ہے قائم بنائے خیر

حی علی الفلاح کی آواز تو سنو

فرمانِ مصطفےٰ ہے کہ اٹھو برائے خیر (89)

اُسوۂ حضور کا ہے میرے لیے تو رہبر

آداب زندگی کے میں اس سے سیکھتا ہوں (90)

پاک ، معطر ، ارفع ، اعلیٰ آپ کی ساری باتیں

آپ کا اسوہ ہر راہی کو منزل پر لے جائے (91)

جو بھی آیا اُس میں بانٹیں خلق ہی کی دولتیں

شان دے کر عاجزی کو دل منور کر دیے (92)

ترے اخلاقِ حسنہ کی عجب معجز نمائی ہے

جو نکلا قتل کرنے کو تیرا شیدا ہوا پایا (93)

بفیضِ چشمِ محمدؐ وہ ہو گئے یکجا

بٹے ہوئے تھے قبیلے نواحِ طیبہ میں (94)

وہ سرورِ والا گہر و کاملِ علم

وہ مصدرِ اسرارِ اَحد ، محورِ حلم

وہ مسلم اوّل اور داعِ اسلام

اَسود ، اَحمر کو لَمعِ مہرومہِ سلم (95)

بے زبانوں کو زباں دی سیّدِ ابرار نے

دینِ حق کی آگہی ہے اب مکاں تا لامکاں

کس نے سینے سے لگایا بے کس و مجبور کو

کس کی بندہ پروری ہے اب مکاں سے لامکاں (96)

کیا چیز ہے سرورِ شہِ والا کی محبت

ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ میرے ہیں نبی جی (97)

یہ مضمون ابتدائی نوعیت کا ہے۔ اِرادہ یہ ہے کہ اس پر مزید کام کیا جائے مذکورہ مباحث وامثال سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نعت نگاروں کے پیش نظرحضورعلیہ السلام کے اخلاق و کمالات پیشِ نظر رہے ہیں۔ سیرتِ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ ناعتین کے فکروفن کی اساس کو پختہ تر کرنے کے لیے لازم ہے۔اخلاق اور اس کے ذیلی عناوین کی پیشکش کو اس لیے بھی فوقیت ملنا ضرو ری ہے کہ عصرِحاضر میں عالمِ انسانیت علی الخصوص ملتِ اسلامیہ میں عدم برداشت کا جو رویہ پرورش پا رہا ہے، اس کا سدِ باب ہو سکے، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ مِل سکے۔


حوالہ جات[ترمیم]

۱۔فرہنگِ عمید، طہران: کتاب خانہ ابن سینا، ۱۳۳۷ء، ص۱۱۸

۲۔فرہنگِ آصفیہ، (جلد اول)، لاہور: مرکزی اُردو بورڈ، ۱۹۷۷ء، ص۲۸۔۱۲۷

۳۔The Oxford English Dictionary, Vol III, Oxford at the Clarendon Press, 1978, P 312 ۴۔ Encyclopedia Americana U.S.A 1986, P 610

۵۔ Encyclopedia Britanica U.S.A. 1973, P 752

۶۔بختیارحسین صدیقی،دیباچہ: فلسفۂ اخلاق(چندمغربی مفکرین کے نظریات) ڈاکٹرا بصاراحمد ، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۱۹۸۹ء، ص۱۱،۱۰

۷۔ظہیراحمد صدیقی، ڈاکٹر، اخلاقیات ایرانی ادبیات میں، ص ۸۷

۸۔Encyclopedia of Ethics and Religion, P 496.

۹۔فرقوھار بحوالہ: تعارفِ مذاہب عالم(تقابلِ ادیان)، ایس۔ایم۔شاہد،لاہور:ایورنیو بکس پیلس،ت۔ن، ص ۱۴۰،۱۴۱

۱۰۔غلام رسول، چودھری ، مذاہبِ عالم کا تقابلی مطالعہ، لاہور:علمی بک ڈپو، ۱۹۷۶ء، ص ۲۱۸

۱۱۔شاہد،ایس۔ایم ،تعارفِ مذاہبِ عالم(تقابلِ ادیان)،ص۱۲۱

۱۲۔عمادالحسن فاروقی،دُنیا کے بڑے مذاہب،لاہور:مکتبہ تعمیرِ انسانیت،ت۔ن، ص ۱۲۹

۱۳۔ظہیراحمد صدیقی، ڈاکٹر، اخلاقیات ایرانی ادبیات میں،ص ۷۲

۱۴۔Encyclopedia of Ethics and Religion, P 484

۱۵۔امولیہ رنجن مہاپتر،فلسفۂ مذاہب، ص ۲۰۳

۱۶۔ شاہد،ایس۔ایم،تعارفِ مذاہبِ عالم،ص ۱۴۹۔۱۴۸

۱۷۔بابا نانک۔کلامِ نانک، ڈاکٹر جیت سنگھ(مؤلفہ) سری راگ مہلہ گھر۴، پٹیالہ:بھاشا وبھاگ، ت۔ن، ص ۱۳۹

۱۸۔امولیہ رنجن مہاپتر،فلسفۂ مذاہب،ص ۲۰۲

۱۹۔عمادالحسن فاروقی، دُنیا کے بڑے مذاہب،ص ۱۳۔۲۱۲

۲۰۔ظہیراحمدصدیقی، ڈاکٹر، اخلاقیات ایرانی ادبیات میں، ص ۷۴

۲۱۔بشیر احمد ڈار،حکمائے قدیم کا فلسفۂ اخلاق، مرتب: بشیر احمد ڈار،ص ۱۲۷

۲۲۔ظہیراحمدصدیقی، ڈاکٹر،اخلاقیات ایرانی ادبیات میں،ص۷۵

۲۳۔محمدجواد مشکور، بحوالہ: خلاصۂ ادیان بحوالہ اخلاقیات ایرانی ادبیات میں، مؤلف: ڈاکٹر ظہیراحمد صدیقی، ص ۶۸

۲۴۔Encyclopedia of Ethics and Religion, P 499

۲۵۔گھئی،او۔پی،اخلاقیات مذاہبِ عالم کی نظر میں، ص ۳۱۔۳۰

۲۶۔ایضاً،ص ۳۲

۲۷۔امولیہ رنجن۔مہاپتر،فلسفۂ مذاہب،ص ۱۷۶

۲۸۔ظہیراحمدصدیقی،ڈاکٹر،اخلاقیات ایرانی ادبیات میں،ص ۸۰۔۷۹

۲۹۔Encyclopedia of Ethics and Religion, P 469

۳۰۔متی درانجیل مقدس۔نیاعہد نامہ،لاہور:برٹش اینڈ فارن سوسائٹی، باب ۵، ص ۲۱۰

۳۱۔غلام رسول،چودھری ،مذاہبِ عالم کا تقابلی مطالعہ، ص ۴۳۴

۳۲۔قرآن حکیم، سورہ الشمس، آیت نمبر ۱۰۔۹

۳۳۔کنزالاعمال، جلد ۲،ص ۵

۳۴۔عمادالحسن فاروقی۔دُنیا کے بڑے مذاہب،ص ۳۳۷

۳۵۔حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا ، اخلاق اور فلسفۂ اخلاق،لاہور:خالد مقبول پبلشرز، ۱۹۸۶ء، ص۳۲۱

۳۶۔لیسلی اسٹیفن۔علم الاخلاق، مولوی احسان احمد(مترجم)حیدرآباد:دارالطبع عثمانیہ، ۱۹۳۵ء، ص ۱

۳۷۔محمد سعید، حکیم، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم، سب سے بڑے انسان، کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن، بار چہارم، ۲۰۱۰ء، ص۲۲۔۲۱

۳۸۔عبدالمصطفےٰ اعظمی، شیخ الحدیث، سیرتِ مصطفی، کراچی: دارالعلوم امجدیہ، بارسوم، ۱۹۹۶ء، ص۸۳۔۴۶۵

۳۹۔ایضاً، ص۶۶۔۴۶۵ شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی نے اخلاقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذیل میں ایک لطیف نکتہ آپ کے اسماء مبارکہ اور کنیت کے حوالے سے پیدا کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ عرب کا مشہور مقولہ ہے کہ ’’کَثْرَۃُ الاَسْمَاءِ تَدُلُّ عَلیٰ شَرَفِ الْمُسَمّٰی‘‘ یعنی کسی چیز کے ناموں کا بہت زیادہ ہونا اس بات کی دلیل ہوا کرتی ہے کہ وہ چیز عز و شرف والی ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ خلاقِ عالم جل جلالہ نے اس قدر اعزاز و اکرام اور عزت و شرف سے سرفراز فرمایا ہے کہ آپ امام النبین، سید المرسلیں، محبوب رب العلمین ہیں۔ اس لیے آپ کے اسماء مبارکہ اور القاب بہت زیادہ ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے بخاری خریف (جلد ۱، ص۵۰۱)سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ میں ’’محمد‘‘ و ’’احمد‘‘ ہوں اور میں ’’ماحی‘‘ ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹاتا ہے اور میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر سب لوگوں کا حشر ہو گا اور ’’عاقب‘‘ ہوں (یعنی سب سے آخری نبی)۔ اسی طرح آپ کی کنیت کے بارے میں بتایا ہے کہ آپ کی مشہور کنیت ’’ابوالقاسم‘‘ ہے۔ چنانچہ بہت سی احادیث میں آپ کی یہ کنیت مذکور ہے مگر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ آپ کی کنیت ’’ابوابراہیم‘‘ بھی ہے، چنانچہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو ان لفظوں سے سلام کیا کہ ’’السلام علیک یا ابا ابراہیم‘‘ یعنی اے ابراہیم کے والد آپ پر سلام (زرمانی، جلد ۲، ص۱۵۱) (عبدالمصطفےٰ اعظمی، علامہ، سیرتِ مصطفےٰ، کراچی: دارالعلوم امجدیہ، بار سوم، ۱۹۹۶ء، ص۸۵۔۴۸۳)

۴۰۔طاہر القادری، ڈاکٹر، اسلامی فلسفۂ زندگی ، لاہور: منہاج القرآن پبلی کیشنز، بارِ نہم، ۱۹۹۳ء، ص۳۹

۴۱۔ایضاً، ص۴۰۔۳۹

۴۲۔افضل حق، چودھری، دینِ اسلام، لاہور: تاج کمپنی، ت۔ن، ص۱۳۹

۴۳۔قرآن مجید، سورہ احزاب، آیت نمبر۲۱

۴۴۔گوہر ملیسانی، اخلاقِ محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نعت کے آئینے میں، مشمولہ: نعت رنگ، کتابی سلسلہ، کراچی، (مدیر: سید صبیح الدین رحمانی)، شمارہ نمبر ۲۰، اگست ۲۰۰۸ء، ص۵۳۔۵۲

۴۵۔اسرار احمد سہاوری، فکر و نظر، گوجرانوالہ: فروغ ادب اکادمی، ۱۹۹۱ء، ص۱۰۔۹

۴۶۔حافظ لدھیانوی، آئینہ کرم، فیصل آباد: ادراک پبلی کیشنز، بار اول، ۱۹۹۸ء، ص۱۳۰

۴۷۔حافظ لدھیانوی، مطلع الفجر، لاہور: بیت الادب، بار اول، ۱۹۹۸ء، ص۵۶۔۵۵

۴۸۔ایضاً، ص۶۰

۴۹۔ریاض مجید، سیدنا محمد، فیصل آباد: نعت اکادمی، ۲۰۰۳ء، ص۵۵

۵۰۔افق کاظمی امروہوی، مشمولہ: پاکستان کے نعت گو شعراء، مرتب: سید محمد قاسم، کراچی: ہارون اکیڈمی، ۱۹۹۳ء، ص۷۹

۵۱۔تابش دہلوی، ایضاً، ص۱۰۲

۵۲۔صابر کوثر، ایضاً، ص۲۳۰

۵۳۔سجاد مرزا، متاعِ عقیدت ، گوجرانوالہ: فروغِ ادب اکادمی، ۲۰۱۰ء، ص۶۱

۵۴۔محمد افضل فقیر، حافظ، عطائے محمد، لاہور: قاضی پبلی کیشنز، ۱۴۱۲ھ، ص۴۳

۵۵۔ارمان اکبر آبادی، مشمولہ: پاکستان کے نعت گو شعرا، جلد اول، مرتب: سید محمد قاسم، کراچی: ہارون اکیڈمی، ۱۹۹۳ء، ص۶۵

۵۶۔شوکت ہاشمی، شاخِ نور، لاہور: الحمد پبلی کیشنز، بار اول، ۱۹۹۴ء، ص۱۲۹

۵۷۔صبیح رحمانی، سید،

۵۸۔خالد شفیق، عالم افروز، لاہور: مجلسِ اردو، ۱۹۹۶ء، ص۱۲۱

۵۹۔خاکی، عزیزا لدین، آئینہ صل علیٰ، کراچی: تنظیم استحکامِ نعت، ۲۰۱۱ء، ص۴۱

۶۰۔ایضاً، ص۷۶

۶۱۔ممتاز گورمانی، مشمولہ: فروغ نعت، سہ ماہی، اٹک، (مدیر: سید شاکر القادری چشتی نظامی)، شمارہ اول، جولائی تا ستمبر ۲۰۱۳ء، ص۳۲

۶۲۔آصف بشیر چشتی، خلدِ نعت، فیصل آباد: اکائی پبلشرز، ۲۰۰۹ء، ص۹۲

۶۳۔خالد ، عبدالعزیز، مشمولہ: پاکستان کے نعت گو شعراء، جلد اول،مرتب: سید محمد قاسم، ص۲۶۴

۶۴۔ماہر القادری، ایضاً، ص۳۰۹

۶۵۔حافظ مظہر الدین، کلیاتِ مظہر، مرتبہ: ارسلان احمد ارسل، لاہور: ارفع پبلشرز، ۲۰۱۱ء، ص۵۵۹

۶۶۔ایضاً، ص۵۶۱

۶۷۔ایضاً، ص۵۷۰

۶۸۔منظور علی شیخ، بحوالہ: بہار نعت، ص۱۹۳

۶۹۔عزیز احسن، شہپرِ توفیق، مرتبہ:سیّد صبیح الدین رحمانی، کراچی:نعت ریسرچ سینٹر، ۲۰۰۹ء،ص ۳۶

۷۰۔عزیزاحسن، کرم و نجات کا سلسلہ، مرتبہ:قمررعینی، کراچی:اقلیمِ نعت،۲۰۰۵ء،ص ۸۲

۷۱۔وحید خیال، ص۲۰۰۶

۷۲۔واجد امیر، اِذن، لاہور: ادراک ، ۲۰۱۳ء، ص۱۱۶

۷۳۔ایضاً، ص۸۱

۷۴۔جمیل عظیم آبادی، مشمولہ: پاکستان کے نعت گو شعرا، جلد اول، ص۱۰۹

۷۵۔تاجی، ذہین شاہ، ایضاً، ص۱۵۸

۷۶۔ صابر کاسگنجوی، ایضاً، ص۲۲۷

۷۷۔ضیا القادری بدایونی، ایضاً، ص۲۴۱

۷۸۔طالق ہمدانی، ایضاً، ص۲۴۴

۷۹۔سلیم گیلانی، سیدنا، لاہور: ادارہ ثقافت پاکستان، س ن، ص۶۵

۸۰۔شوکت ہاشمی، شاخِ نور، لاہور: الحمد پبلی کیشنز، بار اول، ۱۹۹۴ء، ص۲۰۰

۸۱۔ستار وارثی، مشمولہ: مدحتِ شاہِ دو عالم، مرتب: محمد زکریا شیخ اشرفی، کراچی: بزمِ وارث، باردوم، ۲۰۰۲ء، ص۱۷

۸۲۔رشید وارثی، ایضاً، ص۵۸

۸۳۔فارانی، سلیم اختر، عودِ گلستانِ رسول، گوجرانوالہ: فروغ ادب اکادمی، ۲۰۰۷ء، ص۸۹

۸۴۔نعیم صدیقی، نور کی ندیاں رواں ، لاہور: ادارہ معارفِ اسلامی، بار دوم، ۱۹۹۱ء، ص۳۳

۸۵۔ایضاً، ص۵۵

۸۶۔ریاض مجید، سیدنا محمد، فیصل آباد: نعت اکادمی، ۲۰۰۳ء، ص۵۵

۸۷۔ایضاً، ص۶۸

۸۸۔مظفر وارثی، مشمولہ: بہارِ نعت، مرتب: حفیظ تائب، لاہور: پاکستان رائٹرز گلڈ، بار اول، ۱۹۹۰ء، ص۱۷۴

۸۹۔خاکسار، محمد افضل، ایضاً، ص۱۷۷

۹۰۔نجمی، محمد اقبال، خیراتِ مدحت، گوجرانوالہ: فروغ ادب اکادمی، ۲۰۰۳ء، ص۵۸

۹۱۔ایضاً، ص۷۰

۹۲۔ایضاً، ص۱۱۰

۹۳۔افضال احمد انور، ڈاکٹر ، غیر مطبوعہ

۹۴۔اصغر علی بلوچ، ڈاکٹر، غیر مطبوعہ

۹۵۔راغب مرادآبادی، مدحِ رسول، کراچی:فیڈرل بی ایریا، طبع اوّل ۱۹۸۳ء،ص ۱۴۷

۹۶۔طاہرسلطانی،مشمولہ:نعت کی بہاریں، مرتبہ:طاہرحسین طاہرسلطانی، کراچی:حمدونعت ریسرچ سنٹر، ۲۰۱۲ء،ص ۵۸۹

۹۷۔سرورحسین نقشبندی، مشمولہ:مدحت،کتابی سلسلہ، لاہور، تحفظِ ناموسِ رسالت نمبر،(مدیر:سرورحسین نقشبندی)، شمارہ۷، اکتوبر۲۰۱۳ء،ص۳۰۷


مزید دیکھیے[ترمیم]

نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25

نعت رنگ | کاروان ِ نعت | فروغ نعت