مجید امجد

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Majeed Amjad.jpg

جدید اردو نظم کے گل سرسبد مجید امجد 1914 کو پیدا ہوئے ۔ ان کی پرورش ان کے نانا کے گھر ہوئی ۔ ان کے نانا حکیم مولوی نور محمد جھنگ شہر میں ایک خاص مذہبی مقام اورمرتبہ ر کھتے تھے۔وہ سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت تھے۔ان کا شمار اپنے عہد کی معروف روحانی شخصیات میں ہوتا تھا۔ یڈیو پاکستان کے نمائندے سے ہونے والے ایک مصاحبے میں ابتدائی تعلیم کے حوالے سے مجید امجد کہتے ہیں :

’’جب اتنے عرصے کے بعد گزرے ہوئے وقت کی طرف خیال کرتا ہوں۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو میری پرورش جس ماحول میں ہوئی اس میں مجھے زیادہ تر فارسی،عربی،طب،منطق اور اس قسم کے دوسرے علوم پڑھنے کا اتفاق ہوا۔کالج کے ساتھ ساتھ میں ایک مسجد میں بھی زیر تعلیم رہا۔‘‘[1]

نعت گوئی کے بارے تااثرات[ترمیم]

’’ صنف نعت ایک نہایت ادق اور نہایت وقیع صنف ہے۔ شعر اور اس کے اوزان میں جکڑے ہوئے الفاظ کا سلسلہ اپنی تمام اثر اندازیوں کے باوجود ، توصیف رسول کے اظہار کے مقام پر آکر عاجز ہو جاتا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جب تک حقیقت رسالت کی عظمت کا ادراک کامل حاصل نہ ہو، لکھنے والے کا بھٹک جانا ایک یقینی امر ہے، اور سب سے بڑھ کر ضروری شرط یہ بھی ہے کہ نعت نویس عشق رسول کے جذبات صادق سے بہرہ مند ہو اور یہ جذبہ اس کے اعمال و تصورات پر حاوی ہو۔ یہ عشق رسول کاجذبہ روح نعت ہے اور مقام مصطفوی کا سچا ادراک جان نعت ہے۔ دونوں صفات ایک ہی جلوے کا پرتو ہیں اور یہ صفات جب آئینۂ شعر میں منعکس ہوں گی تو نعت اس رتبے کو پہنچ سکے گی، جو اس کا مقصود ہے۔ لیکن عام طورپر دیکھا یہ گیا ہے کہ مروجہ نعتیں اس معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ یہاں یہ بات مناسب معلوم نہیں ہوتی کہ بعض جلیل القدر شعرا کا نام لے کر ان کی ان نعتوں کا ذکر کیا جائے جن کے بیان کی معنویت اس نازک اور مشکل مقام پر آکر مطالب مقصود تک نہیں پہنچ سکی۔حقیقت یہ ہے کہ جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعریف میں ذرا سی لغزش ، نعت کو حدود کفر میں داخل کر سکتی ہے۔ ذرا سی کوتاہی مدح کو قدح میں بدل سکتی ہے۔ ذرا سا غلو ضلالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔ ذرا سا عجزبیان اہانت کا باعث بن سکتا ہے۔ فن شعر کے لحاظ سے اس کام کے لیے کمال سخن وری اور نفس مضمون کے لحاظ سے اس کے قدح میں بدل سکتی ہے۔ ذرا سا غلو ضلالت کے زمرے میں آسکتا ہے۔ ذرا سا عجزبیان اہانت کا باعث بن سکتا ہے۔‘‘[2]

مزید فرماتے ہیں


’’فن شعر کے لحاظ سے اس کام کے لیے کمال سخن وری اور نفس مضمون کے لحاظ سے اس کے لیے کمال آگہی درکار ہے، اور پھر ان دونوں چیزوں کو جلا جس چیز سے ملتی ہے وہ عشق کا سرمدی، جذبہ جو لفظوں کو تجلیات سے بھر دیتا ہے اور معانی میں وسعتیں سمو دیتا ہے۔ یوں نعت ایک مقدس آزمائش ہے۔ بیان عقیدت کی رو سے جو ہر ایمان کی آزمائش اور غایت غایات کی جستجو کے ضمن میں قوت ادراک کا امتحان سچی نعت لکھنے والوں کا مرتبہ انسانی اکتسابات کی معراج ہے۔ اس کا ہر سانس دیدار حبیب کی منزل ہے۔ وہ فرشتوں کا ہم زبان ہے۔ وہ تمام ارواح مبارکہ کا ہم نوا ہے اس کی زبان پر اس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدح ہے جس کی مدح خود ذات باری نے کی ہے۔ اس کی فکر لامحدود کی حدیں متعین بھی ہیں۔ وہ قدم قدم پر نص قرآنی کا پابند ہے۔ اس کا ہر لفظ زنجیری احتیاط بھی ہے۔[3]

حمدیہ ونعتیہ شاعری[ترمیم]


وفات[ترمیم]

مجید امجد 1974 کو اس جہان ِ فانی سے کوچ کر گئے ۔


حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. مجیدامجد سے ایک نایاب مکالمہ ،مشمولہ، کلیات نثر مجید امجد،مرتبہ ،محمدافتخارشفیع ،لاہور:کتاب سرائے،۲۰۱۶ء،ص۱۹۷
  2. ۔منظور حسین مہجور،سید،بام عرش،لاہور:ماورا پبلشرز،۱۹۹۲ء،ص۱۲
  3. ۱۰۔منظور حسین مہجور،سید،بام عرش،لاہور:ماورا پبلشرز،۱۹۹۲ء،ص۱۲