لب پہ نعت پاک کا نغمہ ۔ سید صبیح الدین صبیح رحمانی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page; it is not the most recent. View the most recent revision.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

شاعر: سید صبیح الدین صبیح رحمانی

نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

لب پر نعت پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے​


اور کسی جانب کیوں جائیں اور کسی کو کیوں دیکھیں

اپنا سب کچھ گنبدِ خضری کل بھی تھا اور آج بھی ہے​


پست و ہ کیسے ہوسکتا ہے جس کو حق نے بلند کیا

دونوں جہاں میں ان کا چرچا کل بھی تھا اور آج بھی ہے​


بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے

دین پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے​


سب ہو آئے ان کے در سے جا نہ سکا تو ایک صبیح

یہ کہ اک تصویر تمنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے​

اس نعت مبارکہ کی وڈیو

| قاری وحید ظفر قاسمی کی آواز میں

مزید دیکھیے

سید صبیح الدین صبیح رحمانی | قاری وحید ظفر قاسمی