قربان میں ان کی بخشش کے ۔ خالد محمود خالد

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر : خالد محمود خالد

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں

بن مانگے دیا اور اتنا دیا دامن میں ہمارے سمایا نہیں


ایمان ملا اُن کے صدقے قرآن ملا اُن کے صدقے

رحمٰن ملا اُن کے صدقے وہ کیا ہے جو ہم نے پایا نہیں


اُن کا تو شعار کریمی ہے مائل بہ کرم ہی رہتے ہیں

جب یاد کیا اے صل علی وہ آ ہی گئے تڑپایا نہیں


جو دشمن جاں تھے ان کو بھی دی تم نے اماں اپنوں کی طرح!

یہ عفو و کرم اللہ اللہ یہ خُلق کسی نے پایا نہیں


وہ رحمت کیسی رحمت ہے مفہوم سمجھ لو رحمت کا

اُس کو بھی گلے سے لگایا ہے جسے اپنا کسی نے بنایا نہیں


مونس ہیں وہی معزوروں کے غمخوار ہیں سب مجبوروں کے

سرکارِ مدینہ نے تنہا کس کس کا بوجھ اُٹھایا نہیں


دل بھر گئے منگتوں کے لیکن دینے سے تری نیت نہ بھری

جو آیا اسے بھر بھر کے دیا محروم کبھی لوٹایا نہیں


آواز کرم دیتا ہی رہا تھک ہار گئے لینے والے!

منگتوں کی ہمیشہ لاج رکھی محروم کبھی لوٹایا نہیں


رحمت کا بھرم بھی تم سے ہے شفقت کا بھرم بھی تم سے ہے

ٹھکرائے ہوئے انسان کو بھی تم نے تو کبھی ٹکھرایا نہیں


خورشید قیامت کی تابش مانا کہ قیامت ہی ہوگی

ہم اُن کے ہیں گھبرائیں کیوں کیا ہم پہ نبی کا سایہ نہیں


اُس محسنِ اعظم کے یوں تو خالد پہ ہزاروں احساں ہیں

قربان مگر اُس احساں کے احساں بھی کیا تو جتایا نہیں

نعت خوانوں میں کلام کی پذیرائی[ترمیم]

| سید سلمان کونین

| اویس رضا قادری کی آواز میں

| ذوالفقار علی کی آواز میں

مزید دیکھیے[ترمیم]

خالد محمود خالد