غالب کی مثنوی بیانِ معراج کاتنقیدی مطالعہ ۔ ڈاکٹرسید یحییٰ نشیط

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

NAAT KAINAAT YAHYA NASHEET.jpg

مضمون نگار : ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط۔بھارت

غالب کی مثنوی’ بیانِ معراج‘ کاتنقیدی مطالعہ[ترمیم]

ABSTRACT: BAYAAN-E-MI'RAJ is a part of Mathnavi 'Abr-e-Gohar Bar' (Cloud,pouring pearls) showing miraculous journey of Prophet Muhammad (S.A.W.),from Masjid-e-Haraam (Makkah)to Masjid-e-Aqsa (Jerusalem) wherefrom skies for experiencing the unseen world. Ghalib applied astronomy instead following narrative of Quran and Sunnah. The article presented below contains salient features of Ghalib's poetic work to elaborate beauty of expression and pointing out facts and fantasy of text. Some comparative points are also mentioned in poetic works of similar nature in Iqbal and Shafiq's poetry.


تقدیسی ادب پر ہمارے ناقدین نے بہت کم توجہ دی بلکہ اکثریت نے ان تخلیقات کو سرے ہی سے ناقابلِ اعتنا سمجھ کر ان سے صرفِ نظر کیا، جبکہ بعض زبانوں کے ادب پاروںمیں تقد یسی ادب کو کلاسک کا درجہ دیا گیا اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کے جتن کے� گے� ہیں ۔ ہندی میں تُلسی کی راماین اور مراٹھی میں’’گیانیشوری‘‘ہمارے سامنے کی مثالیں ہیں۔تقدیسی ادب سے اغماض برتنے کی چند وجوہ بھی ہوسکتی ہیں۔جیسے مذہب بیزاری ،دینی علوم سے عدم واقفیت، علمائے کرام کا خوف ، مادیت پسند ادبی تحریکوںکے اثرات وغیرہ۔ان عوامل کی فعالیت کچھ اس قدر شدید رہی ہے کہ ہماری بعض نہایت اہم تخلیقات گوشہءِ گمنامی میں پڑی رہیں۔ایسی تخلیقات میں مرزا غالبؔ کی فارسی مثنوی’ابرِ گہر بار‘کے لازمی جزو’’بیانِ معراج‘‘کا شمار کیا جاسکتا ہے۔صنفِ مثنوی کے عناصرِترکیبی میں نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا شمار ہوتا ہے۔مثنوی نگار نعتِ رسول کے ساتھ اکثر اوقات واقعہ ء معراج کو نظم کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔غالب نے اس مثنوی میں نعتِ رسول اور واقعہءِ معراج دونوںکو بہ اہتمام نظم کیا ہے۔معراج کے واقعہ کو انھوں نے اس انداز سے نقل کیا ہے کہ وہ بذاتِ خود ایک مثنوی بن گئی ہے۔ غالب کی اس تقدیسی تخلیق کوبے اعتنائی کی نظر سے دیکھا گیا ہے ،جبکہ واقعہء معراج کے تاریخ ساز واقعہ سے متاثرہوکر لکھی گئیں ڈانٹے کی ’ ڈیو این کامیڈی‘،امیر خسرو کی ’نہہ سپہر‘،ابوالعلی معری کی رسالۃالغفران،ابن شہید الاندلیسی کی’رسالۃالتوابع والزوابع ‘اور ڈاکٹر علامہ اقبال ؔکے ’جاوید نامہ‘ کو جو پذیراِئی حاصل ہوئی ہے،غالبؔ کی مثنوی کو ان کا عشرِعشیر حصہ بھی نہیں مل سکا۔افسوس تو اس امر کا ہے کہ ’جاوید نامہ‘ لکھتے وقت اقبال ؔ نے شیخ محمد غوثؒ گوالٖیاری کی غیر معروف کتاب کو تلاش کرنے کے لیے اپنے احباب کو خطوط لکھے ، رسالۃالغفران اور التوابع کے مطالعہ کا ذکر کیا مگر ’جاوید نامہ ‘کے سو سال قبل لکھی ہوئی غالب ؔکی مثنوی سے استفادہ کا کہیں ذکر نہیں،حالانکہ دونوںکا تقابل کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اقبالؔ کی فکر کا سر رشتہ غالب ؔکے بیانِ معراج سے ملتا ہے۔


غالب کا فارسی دیوان ان کی حیات میں پہلی بار 1845ء میں دارالسلام دہلی سے شائع ہواتھا۔ انھوں نے اگرچہ 1835ء ہی میں اسے ’’میخانۂ آرزو‘‘کے نام سے مرتب کردیا تھا لیکن یہ اردو دیوان کے چار سال بعد شائع ہواتھا۔ان کے فارسی دیوان کا دوسرا اڈیشن منشی نول کشور پریس سے 1863ء میں شائع ہوا۔اس دیوان میں بیس برس کا بقیہ کلام اور مثنوی ’’ابرِگہر بار‘‘پہلی بار شائع ہوئے ۔یہی مثنوی غالب ؔکی \\فارسی]] تصنیف ’سبدِچین‘اور ’سبدِباغِ اردو ‘میں بھی شامل کردی گئی تھی،لیکن ترتیب کا یہ عمل غالب کی وفات کے بعد ہوا۔’ مثنوی ابرگہر بار میں نعتیہ اشعار کی کل تعداد 478 ہے۔ ان میں281 اشعار [بیان معراج‘کے متعلق اور مثنوی کے دیگر اجزاء(حکایت ،مغنی نامہ،اور ساقی نامہ) میں140 اشعار قلم بند ہوئے ہیں۔مثنوی کے ترکیبی عنصر کے تحت ’ابرِ گہر بار کی ابتدامیں57 اشعار کی طویل نعت بھی لکھی گئی ہے۔

مثنوی کے ترکیبی عناسر کے تحت نعتیہ مضمون میں معراج نامہ لکھنے کی روایت شروع ہی سے رہی ہے۔اردو میں ملا نصرتی ؔنے ’گلشن عشق ‘اور ’علی نامہ‘ میں معراج کے واقعہ کو اتنی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک علاحدہ مثنوی بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ معراج کے مو ضوع پر مستقل ’معراج نامے ‘ اردو۔فارسی میں لکھے گئے ہیں اردو میں بلاقیؔ کے معراج نامہ کو اولیت کا شرف حاصل ہے۔بلاقیؔ نے 1065ھ میں اسے مکمل کیاتھا۔ بلاقی کے علاوہ شاہ کمال ،مختار ؔ،محمد باقر آگاہؔ،ہاشمی ؔ،قربیؔ،ضمیرؔلکھنوی ، امین گجراتی وغیرہ نے بھی معراج نامے قلم بند کئے ہیں۔رشید احمد خاں نے ناسخؔ کے معراج نامہ کا ذکر دیوان ناسخ کے مقدمے میں کیا ہے۔لیکن علم نجوم کو اساس بناکر اردو میں صرف ایک معراج نامہ لچھمی نرائن شفیقؔنے لکھا تھا۔اسی طرح علوی سفر پر مشتمل ’جاوید نامہ‘،’نہہ سپہر‘کی طرز پر اردو میں مضطر مجاز نے ’’شہربقا‘‘لکھی۔اقبال خوداس قبیل کا معراج نامہ لکھنا چاہتے تھے،لیکن زندگی نے وفا نہ کی۔اب غالبؔ کے ’بیان معراج‘ کے اردو تراجم ہی ہمارے ذوق کی تسکین کا سامان فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں اور اردو کے باذوق قارئین ان ہی ترجموں پر اکتفا کررہے ہیں۔


’معراج ‘تاریخ اسلام کا اہم واقعہ ہے۔سماجی مقاطعہ،چچا کی موت اور بیوی کی وفات جیسے سانحات سر سے گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی پاک کو آسمانوںپر بلایا گیا۔جنت و جہنم کی سیر کرائی گئی۔اس آسمانی سفر کی روداد جن تخلیقات میں بیان کی جاتی ہیں،انھیںمعراج نامہ کہا جاتا ہے۔قرآن حکیم میں معراج کے سفر کا اجمالاً تذکرہ ہے لیکن احادیث میں اس کی تفصیل ملتی ہے۔برق رفتار براق پر سوار ہو کر آپ بیت المقدس سے عرش اعلیٰ پر جا پہنچے اور تمام آسمانوںکی سیر فرمانے کے بعد مکہ مکرمہ واپس لوٹ آئے۔ معراج نامہ میں علوی سفر کی یہی روداد بیان کی جاتی ہے،لیکن عالمی ادب میں’ڈیوائن کامیڈی‘اور ہومرؔ کی ’اوڈی سی‘جیسے جو علوی سفر نامے قلم بند ہوئے ہیں وہ تمام تر تخیلاتی ہیں،جبکہ سفر معراج کا واقعہ حقیقی اور تاریخی ہے۔غالبؔ نے مثنوی بیانِ معراج میں اس سفر کے واقعات اپنی فکر و عقیدت اور شاعرانہ خیال آرائی کے سہارے علم نجوم کو اساس بنا کر بیان کئے ہیں۔غالب سے قبل ابن العربی کی’فتوحات مکیّہ،حکیم سنائی کی’سیرالعباد الی المعاد‘اور امیر خسروؔ کی’نہہ سپہر‘ جیسی سماوی سفر پرمشتمل کتابوںمیں بھی علم نجوم کے نکات کی توضیح نہایت مؤثر انداز میںہوئی ہے۔


’بیانِ معراج‘خالصتاًمذہبی موضوع کی حامل مثنوی ہے۔مگر غالبؔ نے شعری جمالیات کے سہارے اور مضمون ومعنی آفرینی کے ذریعہ اس کے کشف کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔عقیدت میں فن کو سمانے کا یہ ہنر بڑا مستحسن ہے۔مذہبی امور کا یوں فنکارانہ اظہار کہ تقدس مجروح بھی نہ ہو ،نہایت مشکل عمل ہے۔واقعۂ معراج بیان کرتے وقت انھوں نے علم نجوم کے غوامض کو ماہرِفن کی طرح منکشف کیاہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ اس علم میں درک رکھتے تھے بلکہ سیاروں کے سعد ونحس اثرات کو بھی مانتے تھے۔

مثنوی ’’بیانِ معراج‘‘ غالب ؔنے رات کی تعریف سے شروع کی۔ معراج کے واقعہ کو قرآن حکیم میں اسریٰ بعبدہ لیلا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسریٰ کے معنی رات میں سفر کرنے کے ہوتے ہیں۔معراج کا واقعہ رات میں پیش آیا تھااس لیے ’شبِ معراج ‘کی اہمیت دیگر راتوں کے بالمقابل کچھ زیادہ متصور کی گیٰ ہے۔غالبؔ نے اس مقدس نسبت کا خیال کرتے ہوئے اس شب کی تعریف میں اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔پہلے شعر میں اس رات کو انھوں نے راتوںاور دنوںکا جو ہر کہا ہے۔لیل و نہار کے متواتر منقلب ہوتے رہنے سے زمانہ وجود میں آیا ہے۔یہ زمانہ انفجار عظیم اوّل سے قیامت کے انفجار اخریٰ تک تشکیل پاتا رہے گا۔گردش دہر کی چکی پر انگنت شب وروز گزرتے رہیں گے۔ ان سب سے افضل واکبر معراج کی رات ہے۔غالب اسی لیے اس کی مدحت کرتے نہیں تھکتے۔طبعی طور پر رات روشنی کی نقیض ہے۔مگر غالبؔ کہہ رہے ہیںکہ یہ رات تو آنکھوںکو روشنی بخشنے والی ہے۔یہ دن کی آنکھوں میں سرمہ کے مانند ہے۔یہ ایسی رات ہے جس سے حاصل ہونے والی خوشیوں(عیدوں)کی فہرست لکھتے لکھتے اس کی سپیدی کثرتِ تحریر کی وجہ سے سیاہی میں بدل گئی ہے۔ غالبؔنے اس رات کو روشنی کی دولت سمیٹنے والے ضمیر کی رات کہا ہے جو ہر روز نہیں آتی صرف ایک مخصوص دن کے مقدر ہی میں یہ شب تھی۔اس رات نے سورج کے نور سے دن بھر خود کو دھویااور جب دن غروب ہو گیا تو عربی دستور کے مطابق لیلائے شب نے اپنے محمل کو درست کیا۔یہ رات آنکھ کی کالی پتلی میں نور کی طرح روشن تھی۔اس رات میں لیلائے شب کے راستے میں خورشید کی دمک بھرے ہوئے ذروں سے نور کا چھڑکائو کیا گیا۔اگرچہ اس رات کی روشنی و نور کے تمام اسباب میسر تھے مگر وہ خورشید کی احسان مند نہیںتھی۔غالبؔ کہتے ہیں،میںاس رات کو ماہ وش دلبر کیوں کہوں!کہ اس کے جسم کے زیور کا ایک گہر آفتاب تھا جو اس کے زیور سے گم ہو گیاتھا،لیکن ایک گہر کے گم ہو جانے سے اس کے منور جسم کی روشنی تھوڑی ماند پڑتی ہے۔رات میں آفتاب کی عدم مو جودگی کو زیورِشب کے گہر کی گمشدگی قرار دینا نہایت پیچیدہ استعارے کا نمونہ ہے۔اس کی صنائی میں غالبؔ کے تخیل کی پرواز کا کمال دیکھتے بنتا ہے۔تقدیسی شاعری میں مضمون و معنی آفرینی کے ایسے ابعاد واکرنا اور شعریت کے رنگ و روغن سے ’’رات‘‘ کے نہایت عام موضوع کو منور و محترم بنا دینا غالبؔ کے فن کا کمال ہے۔ شبِ معراج کی مدحت کا ایسا انداز اردو، فارسی میں شاید ہی ملے۔ایک شعر میں وہ معراج کی نورانیت کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں:


بہ زیرِ زمیں کردہ خفاش روئے

پئے امن گر دید خورشید جوئے


(یعنی چمگادڑجسے تاریکی پسند ہوتی ہے،وہ معراج کی رات کی روشنی کی تاب نہ لا سکی اور اس کی روشنی سے بچنے کے لیے زمین کے نیچے جا چھپی اور اپنی جان کی امان کے لیے سورج کی تمنّا کرتی رہی۔)


غالب اگر سیدھے سپاٹ انداز میں یہ کہہ دیتے کہ اس روشن رات کے سامنے آفتاب بھی تاریک دکھائی دیتا ہے،تو نہ اس میں ندرت پیدا ہوتی نہ خیال آرائی کاکوئی پہلو نکلتا ۔غالب نے اس شعر میں طبعی صداقت کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے۔وہ اس طرح کہ زمین کے شرقی کرے میں اگر رات ہو تو غربی کرے میں سورج روشن رہتا ہے۔غالب کہتے ہیں کہ معراج کی رات اس قدر روشن ہے کہ تحت الارض گیا ہوا سورج اس روشنی کے سامنے ماند پڑگیااور چمگادڑ اس شب کی روشنی سے بیتاب ہوکر تحت الارض پہنچ گئی۔یعنی جدھر سورج تھا ادھر چلی گئی۔معراج کی رات کے روشن ہونے کی دوسری توجیہہ وہ یوںبیان کرتے ہیں:

کہ گوئی مگر مہر زیرِ نگیں

فروزاں فوہ بودو پشتِ نگیں

اس شعر کے متعلق غالبؔ منشی نبی بخش حقیرؔکے نام19 نوبر 1852 ء کے خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’یہ شعر شبِ معراج کی توصیف میں ہے کہ وہ شب ایسی روشن تھی کہ بہ سبب روشنی کے زمین ایسی چمکتی تھی جیسے ڈانک سے نگینہ چمک جاتا ہے۔ آفتاب رات کو تحت الارض ہوتا ہے اور ڈانک بھی نگینے کے تلے لگاتے ہیں اور نگینہ بقدر ڈانک کی حقیقت کے چمکتا ہے۔ پس جس نگیں کے نیچے آفتاب ڈانک ہوگا،وہ نگیں اتنا درخشاںہوگا۔‘‘

(مرزا غالبؔ:مرتبہ، خلیق انجم،’’غالبؔکے خطوط‘‘،غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی ۱۹۸۷ء ج ۳ ص۱۱۱۵)


اس شب کا وصف بیان کرتے ہوئے غالبؔ آگے کہتے ہیں کہ معراج کی شب ایسی تابناک تھی کہ اس کی روشنی کے سامنے صبح کو اپنے وجود کی امید ہی نہ رہی تھی کہ اس رات کے سامنے وہ سپید ہو سکے گی۔ آگے غالب نے نادر تشبیہات کے سہارے اس شب کی اوصاف بیانی کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ بالفرض اگر سورج بھی اس راہ میں واماندۂ راہ ہو کر طلوع ہو جاتا تو اس کی آب وتاب کھو جاتی اور اس روشن رات کے مقابلے میں وہ کسی حسینہ کے چہرے پر مشک کے تل کے مانند دکھائی دیتا۔ سوداؔنے ’’ہاتھی کی تعریف میں‘‘لکھے گئے قصیدے میں ہاتھی کے سفید دانتوںکو لیلیٰ کے ہاتھوںسے تشبیہہ دی تھی۔لیکن لیلیٰ (عربی میںکالی کلوٹی چہرے والی کو لیلیٰ کہتے ہیں)کے سیاہ جسم کی مناسبت سے یہ تشبیہہ نہایت بھونڈی اور دور ازکار معنی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس معراج کی رات کی تابناکی میں سورج کو حسینہ کے چہرے کا تل کہنا ،طبعی حقیقت کے منافی ہونے کے باوجود اس میں نہ صرف یہ کہ معنویت ہے،بلکہ اسی معنویت نے اس میں صداقت کے نور کی آمیزش کی ہے۔ غالبؔآگے رقمطراز ہیں کہ یہ رات اتنی روشن تھی گویا دن محسوس ہوتی تھی ۔اس کی ضوفشانی کا یہ عالم تھا کہ اگر روشن رخساروںکواس رات سے تشبیہہ دی جاتی تو کچھ تعجب نہ ہوتا:

از آں روز تشبیہہ عارض بہ شب

اگر رسم گشتے نبودے عجب

(یعنی اس دن سے اگر رسم پڑجاتی کہ روشن رخساروں کو رات سے تشبیہہ دی جایا کرے تو کچھ تعجب نہیں)

آگے وہ لکھتے ہیں:

’’کہ اس رات میں نور پر نور کی موجیں اس طرح امڈپڑتی تھیں کہ دنیا میں نور کا دریا رواں تھا۔‘‘

توصیفِ شب کے بعد غالبؔ واقعہ ٔمعراج بیان کرتے ہیں کہ معراج کی خوش خبری سنانے حضرتِ جبرئیلؑ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مکان پر تشریف لائے اور کہا کہ اللہ رب العزت آپ کا طالبِ دیدار ہے۔ موسیٰؑ نے ’’ربّ ارنی ‘‘کا تقاضا کیا تھا ،وہی تقاضا اب ربّ کریم آپ سے کر رہا ہے۔


توئی کانچہ موسیٰ باو گفتہ است

خداوند یکتا بتو گفتہ است


(یعنی آپ کی وہ ہستی ہے کہ موسیٰؑ نے خدا سے جو تقاضا کیا تھا،وہی تقاضا خدا وندِیکتا آپ سے کر رہا ہے)


غالب ؔنے فرط عقیدت اور عشقِ نبی میں مبالغہ کی انتہا تک پہنچ کر یہ شعر کہہ تو دیا مگر انھوں نے اس جانب توجہ نہیں دی کہ اس میں شانِ خداوندی میں استخفاف کا پہلو نکلتا ہے۔فرط عقیدت میلاد خواں نعت گو شعراء نے اس مضمون کو باندھا ہے۔حضرت جبرئیلؑ کی معروضات کو غالب ؔآگے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اے محمد!حضرت مو سیٰ کو کوہ طور پر اللہ نے جلوہ دکھایا تھا ،لیکن آ پ کو جلوہ دکھانے کے لیے راہ کے ان پتھروں(کوہ طور)کو ہٹا دیاگیا۔آپ کی شاہراہِ معراج پتھریلی اور پر مشقت زمین کی نہیں۔یہ تو اس کنارے سے اس کنارے تک وسیع اور کشادہ ہے۔یہ پوری راہ راہِ ایمن ہے۔ گو یہ سفر رات کا ہے،مگر یہ رات آپ کے لیے روشن کردی گئی ہے۔فرشتہ کہتا ہے کہ میں یہ تو نہیں کہوںگا کہ خدا وندِعالم آپ کی محبت میں مبتلا ہے تاہم اتنا ضرور کہوںگا کہ ادھر سے جذبۂ خلوص سچا ہے۔اس جہاں آفریں کو نہ بھوک ہے نہ سونا نہ اونگھ،لیکن آپ کی طلب میں وہ بے چین ہے۔اس لیے جلد اٹھئیے اور نو آسمانوںکو طے کر ڈالیے ۔غالب نے اس درمیان حضرت جبرئیل ؑ کی مدح میں بھی اشعار کہے ہیں۔وہ جبرئیل کو ’’امین‘‘اور ’’عقل اوّل‘‘کہتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جبرئیل خداوند عالم کا سب سے بڑا دربان ،فرشتوں کا فرشتہ ،’رازدانِ غیب ‘اور پیغمبروںکے سامنے سے پردے اٹھانے والا یعنی کاشفِ اسرار ہے۔وہ حق کے جوہر اصلی سے اپنی پیاس بجھاتا ہے۔اس کے پروںکی آواز میں ایسی تابانی ہوتی ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے کان آنکھ بن جاتے ہیں۔یہ تراکیب و لفظیات اور پیچیدہ خیالی غالبؔ کی مشکل پسندی کے مظہر ہیں۔جبرئیل کے اوصاف بیان کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جبرئیل کی آمد سے بحرِانوار موجزن ہوجاتا ہے۔آپ پر اس کے نزول کا تواتر اتنا زیادہ ہے کہ جو کچھ آپ کے دل میں ہوتا ہے وہ جبرئیل کی پیشانی پر ہوتا ہے۔


جبرئیل کا مژدۂ جاںفزا سنانے کے بعد غالبؔ اب آپ کے لیے لائی ہوئی سواری براق کی تعریف کرتے ہیں۔روایتی معراج ناموں میں براق کے حلیے کی تعریف بہت زیادہ کی گئی ہے لیکن لفظ ’’برّاق‘‘ (برق رفتار )کے اعتبار سے غالبؔ نے اس کی رفتار کے بیان ہی پر زور صرف کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا گھوڑا ہے جس نے جنت کی خوشبودار گھاس کھائی ہے۔اس کی تیز رفتاری کا یہ عالم ہے کہ گنبد سے گیند کے گرنے کو جتنا وقت درکار ہوتا ہے اتنی دیر میں یہ آسمان سے زمین پر اُتر آتا ہے۔وہ اتنا تیز رفتار ہے کہ جتنی دیر میں زبان سے لفظ’’آیا‘‘ ادا ہوتا ہے اتنی دیر میں وہ آکر نکل بھی جاتا ہے۔اس کی چمکدار سم سورج کا اور دُم گیسو ئے حور کا مقابلہ کرتے ہیں۔وہ گھوڑا نسیم سحر سے زیادہ سبک رفتار ہے کہ اس کی حرکت سے پھول سے نکہت پھوٹتی ہے۔وہ اتنا سریع السیر ہے کہ دل کی ایک دھڑکن یا آنکھ کی ایک بار پلک جھپکنے میںوہ دو سو بار فاصلے طے کر لیتا ہے۔غالبؔ نے براق کی تیز رفتاری کی توضیح کلمۂ طیبہ کے حوالے سے بھی کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ لا اِلٰہ کے اثر کی تیز رفتاری کا یہ عالم ہے کہ زبان پر یہ کلمہ آیا اور تمام عقائد باطلہ ریزہ ریزہ ہوگئے۔ویسی ہی رفتار اس براق کی ہے۔ ایک شعر میں انھوں نے براق کو ’’آتشیں سواری‘‘ کہا ہے۔اس کی سم سے قارون کے خزانے نکل آتے ہیں اور دم کی حرکت سے پروین کی لڑی بکھر جاتی ہے۔


براق کے سفر کے احوال بیان کرتے ہوئے غالبؔ کہتے ہیں کہ ہوا براق کے پیروںکو بوسہ بھی نہ دے پائی تھی کہ وہ ’کرۂ ہوا ‘ سے گزر کر ’کرۂ نار‘ میں پہنچ گیا۔یہ ایک جغرافیائی حقیقت ہے کہ ہماری زمین کے گردا گرد کرۂ ہوا ہے اور اس کے اوپر کرۂ نار کا غلاف ہے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاںہمارے سائنسدانوں کے داغے ہوئے مصنوعی سیاروں کے مستقر ہیں۔ہمارے الیکٹرانک مواصلاتی نظام کے لئے یہ کرہ نہایت سودمند ہے۔امرِتعجب تو یہ ہے کہ غالبؔ کے زمانے کے بہت بعد تک کرۂِ نار کا علم ماہرینِ فلکیات کو بھی نہیں تھا۔پتہ نہیں غالبؔ کے تخیل کی یہ کارفرمائی تھی یا واقعی وہ اس کرے سے باخبر تھے۔بیت المقدس تک کے سفر کے بعد سفر ِمعراج کا اگلا پڑائوغالبؔ نے چاند (فلک قمر)کو بتایا ہے ۔ براق کا قدم چاند کے تخت پریعنی فلک اول پر پڑتا ہے تو اس کی تیزرفتاری کا یہ عالم ہے کہ براق کی کلغی آسمانوں کے سب سے بلند ترین سیارے کیوان(زحل)کے تاج تک جا پہنچتی ہے۔آپ کی آمد سے اس کی مسرت ایسی دوبالا ہوئی کہ وہ تحت الشعاع میں آکر بھی آفتاب کے بالمقابل مہتاب بن گیاہے۔یاد رہے کہ تحت الشعاع چاند کی گردش کا وہ مقام ہے جہاںوہ مطلق دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں غالبؔ نے یہ معنوی نکتہ پیدا کیا ہے کہ چاند کا اس رات فلک پر کوئی وجود نہیں تھا مگر شبِ معراج کی وجہ سے وہ اتنا روشن ہو گیا گویا ماہِ کامل ہو۔اس رات میں فضیلتِ قمر کا یہ حال تھاکہ وہ آفتاب کی روشنی کا محتاج نہیں رہا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آمد کی وجہ سے ااس کی توقیر میں اضافہ ہو گیا تھااور اس کی حیثیت کو وقار حاصل ہو چکاتھا۔


فلکِ قمر سے آپؐکی سواری فلکِ دوم پر پہنچی۔یہاں آپ کا خدنگ ِتیر ِنظر عطارد تھا۔یعنی آپ نے سفرِشب میں اپنی روشن آنکھوں سے عطارد کو دیکھا ۔فارسی میں عطارد کا ایک نام ’تیر‘بھی ہے۔ شاعر نے تیر و عطارد کے استعمال سے شعر میں معنوی حسن پیدا کر دیا ہے۔ عطارد دبیرِفلک بھی ہے اور صاحبِِ قلم بھی۔ آپ کی آمد پر وہ مدحتِ رسول بیان کرنے کے لیے غالب کا قالب اختیار کرلیتا ہے۔ فلک عطارد پر شاعر (غالبؔ)نے چند نعتیہ اشعار نقل کیے ہیں،جن میں آپ کے وصفِ شفاعت کو بیان کیا ہے۔غالبؔ کی اس نعت میں عجز وانکسار نمایاں ہے۔ اس کے بعد آپ کی سواری تیسرے آسمان پر پہنچتی ہے۔اس فلک کا سیارہ زہرہ ہے۔یہ رقص وموسیقی کی دیوی ہے۔اس کی محفل چنگ و رباب ،بربط وجھانجھ اور صہبا وجام سے آراستہ رہتی ہے لیکن معراج کی رات آپ کی آمد کی خبر سن کر زہرہ اس قدر گھبرا جاتی ہے کہ تمام آلات موسیقی اور سامان عیش چھپا دیتی ہے۔گھبراہٹ میں اس کا بربط ٹوٹ جاتا ہے اور صرف چاند کا دف اس کے ہاتھ میں رہ جاتا ہے۔علم نجوم میں زہرہ اور چاند کی دوستی معروف ہے۔دف کی شکل عموماً چاند جیسی ہوتی ہے اس لیے غالبؔ نے یہاں چاند کا دف کہا ہے۔اسی طرح زہرہ کو رقاصہٌ فلک کہنا بھی علم نجوم کے اعتبار سے صحیح ہے۔ یہاں غالبؔ نے زہرہ کی تمام حرکات و سکنات کو علم نجوم کی روشنی میں پیش کیا ہے۔مثلاً

ردائے زنورش بہ انعام داد کہ در جلوہ بر سر کشد با مداد

( یعنی انھوں نے رقاصۂ فلک (زہرہ ) کو نور کی چادر انعام میں دی تاکہ صبح ہوتے ہی اپنے سر پر ڈال لے)


زہرہ آسمان میں صبح صبح نمودار ہوتا ہے،اس اعتبار سے نور کی چادر انعام میں دینا بڑا معنی خیز ہے۔نیز علم نجوم کے نکتہ کی کار فرمائی بھی یہاں دکھائی دیتی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا براق فلکِ چہارم کی طرف پرواز کرتا ہے۔یہ فلکِ شمس ہے۔ وہاںسونے کا ملمع چڑھا ہوا ایک عالی شان محل ہے جس کے دروازے پر ہوشنگ اور کیکائوس جیسے شان وشکوہ والے لوگ زمین بوس تھے گویا وہ اس محل والے سے بھیک مانگ رہے ہوں۔غالبؔ نے صاحبِ محل کو شہنشاہ گر کہا ہے۔یہ آفتاب ہے جس سے اوقات ناپے جاتے ہیں۔روزہ نماز کے اوقات کا تعین بھی اسی کے ذریعہ ہوتا ہے۔آپ کی آمد کا مژدہ سن کر فرطِ مسرت میں اس کی (شمس کی) ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ اسے اپنے سر،پیر کی بھی خبر نہیں ہوتی۔ چوتھے آسمان پر آپؐ کا استقبال موسیٰ ؑ اور سورج کرتے ہیں۔بہت سارے متقدمین سلاطین آپ کو سلام کرتے ہیں اور آپ پر درود بھیجتے ہیں۔ غالبؔ نے علم نجوم کو یہاں احادیثِ معراج پر فوقیت دی ہے۔کیوں کہ احادیث میں موسیٰ علیہ السلام سے معراج میں آپ کی ملاقات چھٹے آسمان پر ہوئی تھی غالب نے انھیں چوتھے آسمان پر سورج اور سلاطین متقدمین کے ہمراہ بتایا ہے۔در اصل موسیٰ علیہ السلام اہل مصر سے تھے اور آپؑ کے زمانے میں مصر میں یہ بنیادی عقیدہ تھا کہ بادشاہ (فرعون)سورج (جسے وہ ’را‘دیوتا کہتے تھے )کا بیٹا ہوتا ہے۔ علم بشریات اور تاریخِ مدن میں مصر کے متعلق یہ ساری باتوںکو غالبؔ نے علم نجوم کے حوالے سے نظم کیا ہے۔


فلکِ چہارم سے شاہِ معراج کی سواری پانچویںآسمان کی سمت روانہ ہوئی۔اس فلک کا سپہ سالارمریخ ہے۔ غالب نے مریخ کی شجاعت و جفاکشی کے متعلق جو کچھ نظم کیا ہے وہ تمام خوبیاںعلم نجوم میں اس کی اوصاف مانی گئی ہیں۔مثلاًمریخ کا مغرور ومتکبر ہونا ،خنجر کے دھنی ترکوں کی روحوں کا یہ مسکن ہونا،جنگ جو بادشاہوں کی مریخ پر سکونت ،شاہ پشنگ (پدر افراسیاب)کی وہاں موجودگی یہ تمام کوئف و واقعات مریخ کے مزاج سے لگا کھاتے ہیں۔مریخ پانچویں آسمان پر آپ کی آمد کی نوید سن کر اپنی کلغی سے راستے کے موتی صاف کرتاجارہا تھاتاکہ آپ کی سواری کو چلنے میں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔مریخ کی تابناکی دیگر سیاروں کے بالمقابل زیادہ ہوتی ہے۔اس کی روشنی کی وجہ سے اس کے اطراف کے ستارے مدھم روشنی کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتے ۔غالبؔ نے اس عمل کو راستے سے موتی جھاڑنے سے تعبیر کیا ہے۔


غالب،ؔآگے چھٹے آسمان کے سفر کے کی روداد بیان کرتے ہیں کہ معراج کے مسافر کو ایک دلکشا عبادت گاہ نظرآئی ۔رحمت کے فرشتے اس خانقاہ کے دروازے پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ اس عمارت کے در وبام سے شعاعیں پھوٹ پڑرہی تھیں۔وہاں ایک ایسے بزرگ فروکش تھے،جن کو خدا کی طرف سے خوبی کا فرمان ملا تھا۔ان کے حکم سے سعادت حاصل ہوتی اور دین کو تقویت ملتی تھی۔ طبیعت کو فہم و فراست سکھانے والے،معتدل مزاج ،جن کے غصے کی کڑواہٹ میں بھی شیرینی اور سختی میں نرمی موجود تھی۔احادیث میں لکھا ہے کہ چھٹے آسمان پر آپ کی جس نبی سے ملاقات ہوئی تھی وہ ابراھیم علیہ السلام تھے۔دوسرے راوی نے چھٹے آسمان پر ادریس علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔بہرحال!یہ دونوںپیغمبر اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے نرم خو اور معتدل مزاج تھے۔دین کی تشہیر میں ان کی کوششیں بے مثال تھیں۔چھٹے آسمان کا سیارہ مشتری مانا جاتا ہے۔غالب ؔکہتے ہیں کہ مشتری کی تابناکی خدا کے نور کا ایک جزو ہے۔اللہ کے رسول نے یہاں نور کا شربت پیا اور ساتویںآسمان کی جانب روانہ ہوئے۔اس آسمان کا مالک سیارہ زحل ہے۔یہ سیاہ رو اور نہایت منحوس مانا جاتا ہے۔ ہندوستان سے اس کی نسبت ہے۔اس نجومی نکتہ کا خیال غالبؔ اور اقبالؔ دونوں نے رکھا ہے۔ چناں چہ غالبؔ نے ’بیا نِ معراج‘ میں ساتویں آسمان پر زنار باندھے ہندو کا تذکرہ کیا ہے اور اقبالؔ نے قوم کے غدار میر جعفر و صادق کی بلبلاتی روحوں کے ساتھ روحِ ہندوستان کو مضطرب دکھایا ہے۔اپنی رو سیاہی اور نحوست کی وجہ سے زحل آپ کی آمد پر نہایت گھبرایا ہوا ہے۔وہ مارے شرمندگی کے آپ کے استقبال کے لیے بھی آپ کی راہ میں نہیں پہنچ سکا۔

فلک ہفتم سے آپ کا براق آٹھویں آسمان کی سمت پرواز کرنے لگا اس آسمان کو غالبؔ ’راس‘ اور ’بروج‘ کا آسمان کہتے ہیں۔ از روئے علم نجوم دائرۂ فلک بارہ حصوں میں منقسم ہے۔ ہر حصہ کا حکمراںایک برج ہے۔ہر برج سے متحرک سیاروںکو گزرنا ہوتا ہے۔ہر سیارے کی منزل کسی نہ کسی سیارے سے منسوب ہوتی ہے۔یہ آٹھواں آسمان ستاروں کا آسمان ہے۔جودائرہٌ فلک پر شش جہات میں پھیلے ہوئے ہیں۔چوںکہ یہ ستارے غیر متحرک ہیں اس لیے غالبؔ انھیں آسمان میں بکھرے ہوئے موتی کہتے ہیں۔انھیں کبھی آسمان کے چھالوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ایک جگہ تو انھوں نے ان ستاروں کو فصیلِ آسمان میں نظر کے تیر سے بنے سوراخ کہا ہے۔جس کی وجہ سے آسمان جذبۂ بے اختیارِ شوق میں چھلنی بن گیا ہے۔


و یا خود نگاہش دراں شہر بند

ز تیزی بہ دیوار روزن فگند

کچھ اس قسم کا خیال میرؔ نے بھی اپنی ایک غزل میں باندھا ہے۔وہ کہتے ہیں:


تارے تو یہ نہیں مری آہوں سے رات کی

سوراخ پڑ گئے ہیں تمام آسمان میں


غالبؔ کبھی ان ستاروں کو آسمانی فرش پر موتیوں کے چھڑکائو سے تشبیہہ دیتے ہیں۔

بروج از روئے علم نجوم مختلف جانداروں کی صورت میں متشکل کئے گئے ہیں۔ غالبؔ نے اس کا فائدہ اٹھا کر اپنے اشعار میں صنعتِ تجسیم کا نہایت فنکارانہ انداز میں استعمال کیا ہے۔مثلاًبرج حمل کے متعلق وہ کہتے ہیں:

حمل سر بہ نر می فرا پیش داشت سپاسے ا ز ا ں لا بہ بر خو یش داشت

(یعنی برج حمل نے ا پنا سر ادب سے جھکا لیا تھا اور اس انکسار سے اپنی ذات کا شکر گذ ا ر تھا)

حمل، مینڈھے کو کہتے ہیں۔ طبعی طور پر اس کا سرجھکا ہوا ہوتا ہے گویا کوئی چیز تلاش کر رہا ہو۔ غالبؔ حمل کے اس عمل کو اس کے عجز و انکسار پر انطباق کرتے ہیں۔برج حمل کے بعد غالبؔ برج ثور (بیل، گائو) کا ذکر کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ آپؐ کی آمد کی خبر سن کر وہ بے تحاشہ دوڑرہا ہے یہاں تک کہ خود اس کے سینگ اسکے دل میں پینا مار رہے ہیں۔غالبؔ نے انھوں نے نہایت خوبصورت صنعت تجسیم کا استعمال کیا ہے۔

نبودی اگر شیر در عرض راہ

چریدی بہ چالاکی از خوشہ کاہ

(یعنی اگر راستے میں شیر (برج اسد)نہ ہوتاتویہ گا و فلک تیزی سے گھاس کے خو شوں (ستاروں) کو چر جاتی)

استعاروں کے سہارے پیکر سازی میں، یوں لگتا ہے کہ غالب کو کمال حاصل تھا۔ آگے وہ کہتے ہیں کہ :


’’یوں کہو کہ ثریا ، ستاروں کے گچھے اور برج ثور بیل نہیں،بلکہ آنحضرت کی راہ میں کسی ہندوستانی جوگی نے گائے کو سر سے پائوں تک کوڑیوں( ستاروں) کے زیور سے لاد رکھا ہے اور راستہ چلتے ہوئے دوڑ دوڑ کر اور ضد کرکے بھیک مانگ رہا ہے۔‘‘


اس کے بعد وہ اپنے تخیل کو معراج کے بیان کی طرف موڑدیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان دونوں محلوں (برجوں) سے چاند اور سورج کے قران آپؐ کے بازو پر تعویذباندھ دیا تاکہ آپؐ جب آسمانی سفر سے واپس ہوں تو نظرِبد سے محفوظ رھیں۔نجوم میں قران کسی ایک برج میں بیک وقت دو ستاروں کے قیام کو کہتے ہیں۔طبِ نجوم میں برج حمل و ثور میں اگر شمس واقع ہو تو آدمی کے جسمانی حصص، رانیں اور زانو متاثر ہوں گے اور اگر ان بروج میں قمر واقع ہو تو زانو،شانہ اور ٹانگیں متاثر ہوں گی۔ لیکن ان کے قران سے آدمی ان امراض سے محفوظ رہے گا۔سفر میں آدمی کے پیر اور اس کے حصے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔لیکن آپ کا سفر بلا تکان اور بلا مضرت و مشقت ہوا تھا اس لیے نظرِبد سے بچانے کے لیے غالبؔ نے تعویذکا نکتہ چھیڑ دیااور ان ستاروں کے قران کو تعویذسے مشابہ قرار دیا۔علم نجوم میں شمس وقمر کے قران کی ساعت کو نظرِبد سے حفاظت کی ساعت تسلیم کیا گیا ہے۔ غالبؔ نے نجوم کی ان صداقتوں کو شاعرانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غالبؔ بھی مومنؔ کی طرح علمِ نجوم سے شغف رکھتے تھے۔ان ساری تفصیلات کے بیان میں انھوں نے اپنے علم وہنر کو تو خوب آزمایا ،لیکن نفسِ مضمون اور موضوع کی انھوں نے مطلق پروا نہ کی اور واقعۂ معراج کے حقائق اور تفصیلات جو احادیث میں مذکور ہیں،ان سے سراسر اغماض برتا۔ یہاں تک کہ اس میں مختلف علوم کے پرتو تو نظر آتے ہیں لیکن واقعۂ معراج کی روشنی کہیں نظر نہیں آتی۔کہیں کہیں چقماق کی سی چنگاریاں نظر آتی ہیں وہ غالبؔ کے حسن ِتدبر ، تفکر اور تخیل کے سائے میں آنکھ مچولی کرتی نظر آتی ہیں۔اس مثنوی میں غالبؔ کا کمال ِفن اوج پر دکھائی دیتا ہے۔اس میں تقدس کا بھی خیال رکھا گیا ہے،لیکن واقعۂ معراج سے رکھی جانے والی عقیدت اور حضورسے رکھی جانے والی انسیت کااس مثنوی میں فقدان نظر آتا ہے۔


برج حمل و ثور کے بعد غالبؔ نجومی ترتیب سے دیگر بروج کا ذکر کرتے ہیں۔برج جوزا کے بیان میں انھوں نے ’’کمر بستہ‘‘کی معنی خیز ترکیب استعمال کی ہے۔جوزا کی نجومی علامت ِ’پشت سے پشت جڑے ہوئے‘ توام کی ہے۔ ’’کمر بستہ‘‘ کہہ کر غالبؔ نے ان کی طبعی جسامت کی طرف گویا اشارہ کردیا ہے۔اس ترکیب سے جوزا کی مستعدی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔


زبس بود جوزا دراں رہروی

کمربستۂ خدمتِ خسروی

برج جوزا اوصاف کے لحاظ سے تیز حرکت اور سریع السیر ہے۔ اسے رفتار کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔انگریز ماہر نجوم جیرل ۔ال۔کینن کے مطابق ’’برج جوزا رفتار اور ترسیل کی علامت ہے۔وہ ادراک و عمل میں سریع السیر ہے۔اس کی سرعت پسندی میں تعمیر کا پہلو غالب ہوتا ہے،تخریب کا نہیں۔ وہ منفی اثرات سے عاری اور مثبت اثرات کا حامل ہوتا ہے۔‘‘غالبؔ نے برج جوزا کے تمام نجومی اوصاف کو مثنوی کے ذیل کے شعر میں شاعرانہ خیال آرائی کے ساتھ پیش کیا ہے:

بداں تا رود نیمہ از نیمہ بیش

ز تیزی بہ بر ید پیو ند خو یش


(اس غرض سے کہ اس توام کا ایک پیکر دوسرے پیکر سے خدمت میں آگے بڑھ جائے تیز رفتار نے اپنا جوڑ کاٹ لیا)


غالبؔ نے مثنوی بیانِ معراج میں ایسے بیسیوں نجومی نکات بیان کردیے ہیں۔ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ برج جوزا نے جب نور کے دروازے کھول دئے تو برج سرطان دریائے نور میں نہا گیااور سیارہ مشتری کو مقام شرف حاصل ہو گیا۔یہاں یہ بات یاد رہے کہ از روئے علم نجوم مشتری کا مقام شرف برج سرطان ہے اور مریخ کا مقام شرف برج اسد ہے۔مریخ اگر برج اسد میں ہو تو اس کے اثرات قلب کو کمزور کر دہتے ہیں۔ غالبؔ نے اس نجومی نکتے کو شاعرانہ انداز میں یوں بیان کیا ہے:


نہ د ر پنجہ ز و ر و نہ د ر سینہ دم

فرو ما ند بے حس چو شیر الم

نہ شد گر چہ چوں گائو قربان او

ولے شیر شد گر بۂ خو ا ن او

(یعنی سیارہ مریخ نے برج اسد میں جیسے ہی شرف حاصل کیا تو اسد (شیر) آپ کے خوان کی بلی بن گیا۔نہ اسکے پنجے میں کس بل رہا اور نہ سینے میں دم۔ وہ جھنڈے کے شیر کی طرح بے حس ہو گیا تھا)

نجومی نکات کی یہ توضیح با معنی اورحسنِ شاعری کا مرقع ہے۔برج سرطان کا مقام دریا،سمندر ، جھیل،نہر وغیرہ کو مانا جاتاہے۔اس اعتبار سے غالبؔ نے سرطان کے دریائے نور میںنہانے کی جو بات کہی ہے ،اس میں صنعت مرعات االنظیر کا استعمال بڑی خوبی سے کیا ہے۔یعنی شاعر نے دریا اور سرطان میں نسبت قائم کی ہے۔

غالبؔ برج اسد کے بعد سنبلہ ،میزان ،عقرب،قوس،جدی،دلو اور حوت کا ذکر کرتے ہیں اور ان بروج کی جو علامت میں علم نجوم میں متعین ہیں،ان کے معنوی پہلو کو زینتِ شعر بنانے کے جتن کرتے ہیں۔ مثلاًسنبلہ کے لیے ’سو دانوںکا خوشہ سے سر نکالنا‘،’میزان سے موتی تولنا‘،عقرب کا راستہ میں نگہ بانی کرنا‘’،قوس کا تیر چلانا‘اور جدی کی بھیڑ پر نشانہ سادھنا‘،’دلو کا ڈول سے پانی گرانا‘،’حوت کا شکار کرنا‘وغیرہ تمام مثالیں غالبؔ کی مضمون آفرینی سے معنوی ابعاد قائم کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ واقعہ معراج بیان کرتے وقت غالبؔ نے امیر خسروؔ کی تتبع میں’سبع افلاک‘ کی بجائے ’نہہ سپہر‘ کے تصور کو ترجیح دی ہے۔ سات سیاروں سے منسوب آسمانوں کا سفر مکمل کرنے کے بعد آپ کی سواری آٹھویں آسمان کی طرف پرواز کرتی ہے۔یہ آسمان غیر متحرک ستاروں اور بروج کا مسکن ہے۔سطور بالا میں اسکی تفصیل آچکی ہے۔آپ یہاں سے نویں آسمان پر پہنچتے ہیں۔یہ آسمان حضور کے سفر کی آخری منزل اور مقامِ عرشِ معٰلی ہے۔غالبؔ نے سفر کی آخری منزل کی رودادبیان کرتے وقت ان تمام غریب ،ضعیف اور موضوع احادیث اور روایاتِ باطلہ کو شعری رنگ اور آھنگ میں ڈھال دیا ہے جو اکثر میلاد نامہ | میلاد ناموں]] اور معراج ناموں میں بیان کی جاتی ہیں۔ یہاں ’’احمد بلا میم‘‘ کے نہایت گمراہ کن اور غیر اسلامی تصور کو بھی فلسفیانہ اور منطقیانہ اسلوب میں ڈھالنے کی عمداً کوشش کی ہے۔یہ تصور الہٰیت اور رسالت میں وحدت کو تسلیم کرتا ہے۔یہ خیال اور عقیدہ ’لا الٰہ الااللہ ‘کی گویا نفی اور تکذیب کرتے ہیں۔لیکن غالبؔ نے تاویلات و توجیہات کے سہارے اسے منوانے کی کوشش کی ہے:


احد جلوہ گر با شیون و صفات

نبی محو حق چوں صفت عین ذات

(یعنی اپنی شان و صفات کے ساتھ یہاں صرف ’’احد‘‘ ہی کا جلوہ تھا۔نبی کا وجود خدائے واحد میں یوں گم ہو گیا جیسے صفت عین ذات ہو)


وحدۃالوجود کے نظریے کی ساری موشگافیوں کے سہارے غالبؔ نے عرش معلیٰ پر نعوذباللہ ، اللہ اور رسول میں وحدت کا تماشہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے معراج کے آخری مرحلے کے ضمن میں بعض ایسی باتیںب ھی کیں جن کی سند نہ تو قرآن سے ملتی ہے،نہ احادیث میں ان کا کہیں ذکر ہے۔بہر حال خدا سے ملاقات کے بعد جب آنحضرت واپس تشریف لاتے ہیںت و دروازے کی زنجیر اسی طرح ہل رہی تھی جس طرح آپ نے جاتے وقت چھوڑا تھا۔ اور آپ کا بستر اسی طرح گرم تھا جیسے آپ استراحت فرماتے وقت چھوڑ گئے تھے۔ غالبؔ نے دوران معراج آپ کی سرعتِ رفتار کو بیان کرتے وقت معنی ومضمون آفرینی کے جوہر دکھائے ہیں:


نرفتہ بروں پائے از نقش پائے

کہ کردہ قدم بر قدم گاہ جائے

شرارے کہ از سنگ آں آستاں

بدر جست از نعل برق جہاں

ہنوزش قدم در رہ اوج بود

کہ آمد ز بالا بہ پستی فرود

(یعنی جتنی دیر میں نشانِ قدم سے قدم اٹھے اتنی دیر میں وہ اپنے مسکن پر لوٹ آئے۔ جو چنگاری آپ کے آستانے کے پتھر سے براق کی نعل کی رگڑ سے نکلی ، ابھی وہ شرارا اوپر ہی جا رہا تھا کہ آپؐ معراج کا سفر طے کرکے نیچے اتر آئے)

آخری شعر میں بالا(بلند) و پستی میں صنعت تضاد کا خوب استعمال ہوا ہے۔ معراج نامے کے آخری حصے سے پتہ چلتا ہے کہ غالبؔ اہل تشیع کے عقائد کو حرزِ جان رکھتے تھے۔ اس طرح ’’بیانِ معراج‘‘ حضرت علیؓ کی ملاقات اور نبی و امام کی باہمی رازدارانہ گفتگو پر ختم ہو جاتا ہے۔


تقابل و توازن:غالبؔ،شفیقؔ اور اقبالؔ:

فارسی میں سمٰواتی سیر پر مشتمل کئی منظوم تخلیقات پائی جاتی ہیں۔ انھیں واقعۂ معراج کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش بھی کی گئی ہے،حتیٰ کہ دانتے ؔکی ’طربیئہ خداوندی‘کو واقعۂ معراج سے متاثر ہو کر لکھی گئی تخلیق کہا گیا ہے۔ہمارے ناقدین نے اقبالؔ کے ’جاوید نامہ‘ کو بھی ایک قسم کا معراج نامہ کہا ہے۔مگر طربیئہ خداوندی ہو یا جاوید نامہ ،نہہ سپہر ہو یا بوستانِ خیال ان میں سے کوئی تصنیف معراج نامہ نہیں ہے۔علم نجوم کو اساس بنا کر ہمارے یہاں صرف دو ہی تخلیقات ملتی ہیں۔فارسی میں غالبؔ کی بیانِ معراج اور اردو میں لچھمی نرائن شفیق ؔ کی’’ معراج نامہ شفیق ‘‘ ۔ان کے علاوہ اردو ۔فارسی میں روایتی معراج ناموں کی بہتات ہے۔ان روایتی منظوم معراج ناموں کے درمیان شفیق اور غالب کے معراج نامے ایک قسم کی جدت تھے کہ ان میں علم نجوم کے حوالے سے واقعاتِ معراج منظوم کرنے کے جتن کئے گئے ہیں۔لچھمی نرائن شفیقؔ کا اردو معراج نا مہ غالبؔ کے فارسی معراج نامے سے اسّی برس قبل لکھا گیا تھا۔ شفیقؔ سے قبل اردو میں بلاقیؔ، ہاشمیؔ، نصرتیؔ اور کمالؔ وغیرہ معراج نامے لکھ چکے تھے۔ان میں معراج کے احوال اگر چہ تفصیل سے نقل ہوئے ہیں مگر ضعیف اور موضوع روایات کو زیادہ برتا گیا ہے۔غالبؔ کے ’’بیانِ معراج‘‘کے کم وبیش سو سال بعد اقبالؔ نے ’’جاوید نامہ‘‘لکھا تھا۔یہ معراج نامہ تو نہیں مگر فارسی میں ایک قسم کے ’’ڈیوائن کامیڈی‘‘کا جواب تھا۔ غالبؔ کے بیانِ معراج سے اس کے تقابل کی وجہ محض یہ ہے کہ غالب کی طرح اس میں بھی علوی سفر کی روداد ہے۔

لچھمی نرائن شفیقؔ اور غالبؔ دونوں نے معراج ناموں کی ابتداء روایتی انداز سے کی ہے،لیکن غالبؔ نے معراج کی رات کی تعریف میں اپنے خلاق تخیل کو خوب آزمایا اور معنی و مضمون آفرینی کے بہت سے ابواب وا کئے۔گذشتہ صفحات میں ان کا تذکرہ ہو چکا ہے۔حضرت جبرئیل ؑنے علوی سفر کی تیاری کے متعلق آپ کو خوش خبری سنائی تھی، اس کے بیان میں غالبؔ نے مبالغہ آرائی میں ایسی شدت اختیار کی کہ شان الوہیت میں استخفاف اور استکسار کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ معراج کے ضمن میں ایسی بے احتیاطیاں ہمارے نعت گو شعراء اکثر کرتے رہے ہیں،مگر لچھمی نرائن شفیقؔ]] اپنے معراج نامے میں بڑے محتاط نظر آتے ہیں۔وہ جبرئیل کی گذرشات کو یوں بیان کرتے ہیں:


در حجرہ پہ وہ آ جوڑ کر ہات

کہا سرور ترے پر حق کے صلوٰۃ

خدا کی ذات خواہش سے بری ہے

سو اس نے بھی تری خواہش کری ہے

زباں پر قدسیوں کی ہے یہ جد تد

خدا عاشق ہے، شاہد ہے محمد


غالبؔ نے براق کی تیز رفتاری کا ذکر سائنس کے دو اصولوں کی بنیاد پر کیا ہے،ایک قوت ثقل کا اصول ،جس کے مطابق انھوں نے براق کی تیز رفتاری کو آنکا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ گنبد سے گیند جتنی دیر میں زمین پر گرتی ہے،اتنی دیر میں براق آسمان سے زمین پر اتر جاتا ہے۔غالبؔ نے سائنس کے دوسرے اصول ’آواز کی رفتار‘سے بھی براق کی تیز پروازی کو تشبیہہ دی ہے۔


شتابش برفتار زاں حد گزشت

کہ تا گو ے آید ز آمد گزشت


(یعنی براق کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ جتنی دیر میںلفظ ’آید‘ کہا وہ آکر آگے نکل جاتا ہے)


لیکن قوت ثقل اور آواز کی رفتار سے بھی تیز روشنی کی رفتار ہے،اسی صفت کی وجہ سے حضورؐ کی معراج کی سواری کو براق یعنی تیز رفتار کہا گیا ہے۔لچھمی نرائن شفیقؔ نے براق کی تیز رفتاری کے لیے ’برق جولاں‘، اور تیز تر از خیال و گمان و فکر و وہم جیسی تراکیب استعمال کی ہیںجو روشنی کی رفتار کی ہم پایہ ہو سکتی ہیں۔

شفیقؔ اور غالبؔ کی مثنویوں میں شبِ معراج کے چاند کے متعلق تضاد بیانی پائی جاتی ہے۔فلک قمر پر آنحضورؐ کی تشریف آوری پر چاند کا فرطِ مسرت میں پھول کر مہ کامل بننے کا ذکر غالبؔ کرتے ہیں،جبکہ [[لچھمی نرائن شفیقؔ | شفیق کہتے ہیں کہ ہلال بن کر چاند نے آپؐ کو سلام کیا۔ ہلال کے پیکر کو غالبؔ نے ایک قصیدے میں یوں استعمال کیا ہے:

ہاں، مہِ نو ، سنیں ہم اس کا نام

جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام


چاند کے متعلق دونوں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ غالبؔ کے نزدیک وہ شب بدر کامل کی تھی،اور شفیقؔ اسے ہلال کی رات سمجھ رہے تھے۔جبکہ روایتوں میں رجب المرجب کی ستائیسویں شب کا ذکر ہے۔یہ رات نہ تو بدر کامل کی ہے نہ ہی ہلال کی ۔شاعرانہ رنگ آمیزی اور خیال آرائی کے لیے دونوں نے قمری تاریخ کا خیال نہیں رکھا۔ شفیقؔ نے البتہ قمر کی اسلامی اہمیت اور فضیلت کو اس شب سے جوڑنے کی کوشش کی ہے،وہ یہ کہ قمر کا آپؐ کی انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑے ہو جانا (معجزۂ شق القمر)، چاند کو دیکھ کر روزوں کا رکھنا ، رویت ہلال کی فضیلت وغیرہ تمام فضیلتیں شفیقؔ کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فلک قمر پر چاند کو عطا کردی تھیں۔وہ کہتے ہیں:

قمر کوں چرخ اوّل لا کے نزدیک

کہا اسنے کہ کانسے میں ملے بھیک

کہے حضرت مثالِ شمس انور

کئے ماہائے قمری ہم مقرر

برائے معجزہ یہ شق ہوا ہے

ہماری ضرب سینے پر لیا ہے

ولے بخشی ترے تئیںہم نے عزت

ترے پر منحصر راکھی عبادت

ترے تئیں دیکھ روزہ کو دھریں گے

ترے تئیں دیکھ کر عیدیں کریں گے

چاند کی فضیلتوں کے یہ احوال دیگر نعت گو شعراء نے شاذہی بیان کئے ہوں،مگر غالبؔ کے بیانِ معراج میں ان کا مطلق ذکرنہیں۔


فلک دوم کا مالک عطارد مانا جاتا ہے۔اسے ازروئے نجوم کاتب اور محرر زمانہ بھی گردانا گیا ہے۔ماہرین نجوم سے دی ہوئی اس نسبت کو شفیقؔ نے نہایت ماہرانہ انداز میں بیان کیا ہے۔فلک دوم پرجب آپ پہنچتے ہیں تو عطارد سے کہتے ہیں کہ ’رسالت تو مجھ پر ختم ہو گئی،وحی کا سلسلہ بھی کچھ دن اور چلے گا۔تیرا کام کتابت و محرری ہے ،اس لیے میں تجھے ابد تک کونین کے دفتر کی ذمہ داری سونپتا ہوں۔ غالبؔ نے عطارد کے اس وصف کا نہایت شاندار اظہار کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آپ کی آمد پر عطارد نے]] غالبؔ ]]کی شکل اختیار کی اور مدحتِ رسول کرنے لگا۔ یہیں مدحتِ رسول میں جو اشعار کہے گئے ہیںوہ غالبؔ کے عشق نبی کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ثنائے نبی کا یہ انداز اگرچہ بڑا منفرد اور والہانہ ہے،مگر تعلّی و تحسین ذات کا اثر و نفوذبھی اس میں دکھائی دیتا ہے۔


چرخ سوئم پر زہرہ کی گھبراہٹ کا بیان غالبؔ نے بڑے نفسیاتی انداز سے کیا ہے۔علم نجوم کی رو سے زہرہ رقص و موسیقی اور کیف و نشاط کا سیارہ مانا جاتا ہے۔سامان موسیقی میں اس کے ہاتھوں میں بربط و دف دکھائے جاتے ہیں۔اسلام میں ان تمام چیزوںکی حرمت آئی ہے۔اس لیے حضور کی آمد کی خبر سنتے ہی زہرہ (مونث) گھبراجاتی ہے اور ان چیزوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے تو بربط اس کے ہاتھوں سے گر کر ٹوٹ جاتا ہے اور چاند کا دف ہاتھ میں رہ جاتا ہے۔ غالبؔ نے علم نجوم کی رو سے اسے چاند کی تھالی کہا ہے۔وہ اس لیے بھی کہ زہرہ اور چاند میں نجومی نسبت تسلیم کرتا ہے۔فلک سوئم پر زہرہ آپ کااستقبال رقص و نغمے سے کرتی ہے۔یہ غالبؔ کے خلاق تخیل کا کمال ہے،وگرنہ شریعت میں یہ حرمت کے دائرہ میں آتے ہیں۔شفیقؔ نے بھی دائرۂ قمر کی دف بجاتے اور رقص کرتے ہوئے زہرہ کو فلک سوئم پر دکھایا ہے۔ان کے یہاں فلک سوئم کے واقعات کے بیان میں کوئی ندرت ہے نہ شعری حسن ۔


چرخ چہارم از رویے نجوم شمس کے تابع ہے۔غالبؔ نے آسمان پر ستاروںکی گل افشانی کا سبب شمس کو قرار دیا ہے۔وہ اس طرح سے کہ ثوابت وسیارگانِ فلک اکتساب نور کے لیے سورج ہی کے محتاج ہوتے ہیں۔علم فلکیات اور علم نجوم اکتساب نور کے اس نظریے کے موئدہیں۔شفیقؔ کے ’معراج نامے‘ میں سیارہ شمس اور فلک چہارم کا بیان محض سرسری ہے۔وہ اگر چاہتے تو سورج کی فضیلت بیان کرنے کے لیے ہندواسطور کا سہارا لیتے۔


فلک پنجم کا مالک سیارہ مریخ ہے۔وہ جری اور صاحبِ حشمت مانا جاتا ہے۔شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے اس فلک کے تذکرے میں اسے جنگ جو بادشاہوں کامسکن قرار دیا ہے ۔مگر حضورکی آمد پر اس فلک کا مالک مریخ جھاڑو دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے علی الرغم شفیقؔ نے مریخ کی سار ی دلیرانہ اور شجاعانہ اوصاف کا تذکرہ نہایت مختصر مگر جامع انداز میں کیا ہے ۔غالبؔ اور شفیقؔ دونوں نے چرخ ششم ،ہفتم اور ہشتم کی نجومی خصوصیات کا زیادہ احاطہ نہیں کیا ،لیکن زحل کے اوصافِ قبیحہ کو بیان کرنے میں منجمانہ فکر کو بہت برتا ہے۔ دونوں نے اسے رو سیہ اور بد بخت کہا ہے ۔دونوں نے اس کی نسبت ہندوستان سے بتائی ہے۔

فلک ہشتم علم نجوم کے مطابق غیر متحرک اور ساکت ستاروں کا مسکن ہے۔غالبؔ نے اس آسمان کے تمام بروج کابالتفصیل ذکر کیا ہے۔ مگر شفیقؔ سرسری طور پر گذر گئے۔چرخ نہم فلک الافلاک ہے ،اور عرش اعظم کا مقام بھی۔شبِ معراج میں یہ جگہ خلوت گاہِ خدا اور رسول بنی تھی۔یہاں کے احوال کا پتہ حبیب و محبوب کے سوا کسی کو نہیں معلوم۔اہل تشیع یہاں انگشتریِ رسول کاذکر کرتے ہیں اور حضرت علیؓ کی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملاقات کو برحق جانتے ہیں۔ شفیقؔ اگرچہ ہندو المذہب تھے مگر شیعہ حکومت میں عہدہ جلیلہ پر فائز تھے اس لیے انھوں نے سلاطین حیدرآباد (گولکنڈہ) کی مذہبی حسیت کا بہت زیادہ خیال رکھا اور معراج نامے کے آخری حصے میں اثنا ء عشری اعتقادات کا برملا اظہار کیا۔ غالبؔ کے یہاں بھی فلک الافلاک کے تذکرے میں شعریت پر شیعیت غالب نظر آتی ہے۔


غالبؔ اور اقبالؔ:

مثنویِ ’بیانِ معراج ‘ کے کم از کم سو برس بعد اقبالؔ نے ’ جاوید نامہ ‘تحریر کیا تھا۔ اقبالؔ نے خود اسے ’’ایک قسم کی ڈیوائن کامیڈی ‘‘ کہا ہے ۔ ان کے خطوط سے اس امر کا بھی اعتراف ہوتا ہے کہ وہ خود ایک معراج نامہ جدید لکھنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے احباب سے مواد بھی اکٹھا کرنا شروع کر دیا تھا مگر ’جاوید نامہ‘کے منصئہ شہود پر آنے تک جمع نہیں ہو سکا تھا ۔ جاوید نامہ ایک تخیلاتی ؍تصوراتی علوی سفر کی روداد ہے۔واقعات معراج سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔اقبالؔ اپنے مرشد پیر رومی کے ہمراہ یہ سفر کرتے ہیں۔ غالبؔ و شفیقؔ کے معراج ناموں اور اقبالؔ کے ’جاوید نامہ‘ میں ایک قدر مشترک ہے کہ تینوںمیں علم نجوم کو برتا گیا ہے اور ماہرانہ انداز میں اس کے نکات کو شعری پیکر میں ڈھال دیا گیا ہے۔ اقبالؔ نے نجوم کی اصطلاحات کے استعمال کے بغیر علم نجوم کے مبادیات کا احاطہ اپنی تصنیف میں کیا ہے۔ غالبؔ اور شفیقؔ کی طرح سیاروںکی صعودی ترتیب اقبالؔ نے بھی نجومی ترتیب ہی کے مطابق رکھی ہے۔

فلک قمر کے متعلق غالبؔ نے ’چاند کے تحت الشعاع میں پہنچنے، ماتھے پر داغ لگنے، مہ کامل بننے وغیرہ نجومی نکات اختصاراً بیان کئے ہیں،لیکن اقبالؔ کے یہاں قمر پر جہان دوست سے ملاقات ،چاند کے پہاڑاور غار ،فرنگی ساحرہ کی چاند پر موجودگی، جہان دوست(شنکر) اور گوتم سے ملاقات ،دریائے سیماب کا تذکرہ نیزرقاصہ امرپالی وغیرہ کا ذکر تفصیل سے ہوا ہے۔ ان مضامین میں نجومی نکات مضمر ہیں۔مثلاًعلم نجوم کی رو سے چاند اگر برج دلو میں مقیم ہوتو کالے جادو کے لیے مفیدمانا جاتا ہے۔رقص کا دیوتا نٹ راج (شنکر۔سومناتھ۔آقائے قمر) رقص کے فن میں پوجا جاتا ہے۔یہ اور اس قسم کی کئی جزئیات اور باریکیوں کو اقبالؔ نے بڑے ماہرانہ انداز میں منظوم کر دیا ہے۔ علوی سفر کی دوسری منزل فلک دوم ہے۔اسکا آقا عطارد ہے۔ منجم اسے دبیر فلک کہتے ہیں۔ یہ علم و دانش اور حکمت و بصیرت کا سیارہ مانا جاتا ہے۔غالبؔ نے عطارد کے اسی وصف کی بنیاد پر اسے اپنے حلیے میں پیش کیا ہے اور اسی کی زبانی اپنی نعت بارگاہ رسالتؐ میں سنائی۔اقبالؔ نے فلک پر عطارد کی دانش و فراست کے لحاظ سے سید جمال الدین افغانی اور سعید حلیم پاشا کی ارواح جلیلہ کو ملت روسیہ کو نصیحت کرتے ہوئے دکھایا ہے۔علم نجوم کی رو سے مذکورہ دونوں بزرگوں کے بروج بالترتیب ’جدی‘اور ’دلو‘ ہیں۔ ان دونوں برجوں میں عطارد کے قیام کے طالع افراد ایثار پسند ،ہمدرد قوم وملت، وسیع الذہن ،اور دور اندیش ہوتے ہیں۔ افغانی اور حلیم پاشا کی شخصیتیں امت مسلمہ کے اہم رہنمائوں میں گردانی جاتی ہیں۔علم نجوم کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ عطارد کی حکمت و فراست انھیں حاصل تھی۔اقبالؔ نے علم نجوم کے اسی نکتہ کے تحت فلک دوم پر افغانی اور حلیم پاشا کی ارواح کو بتایا ہے۔

فلک عطارد کے بعد علم نجوم کے مطابق فلک زہرہ ہے۔زہرہ کو ’’ناہید‘‘ بھی کہتے ہیں۔ جنس کے اعتبار سے یہ مونث ہے۔اس کا پیکر عورت کا ہے اور ہاتھ میں باجا ہے۔یہ رقص وسرور کی دیوی ہے۔فلک سوئم پر آپؐ کی آمد کی خبر سن کر اس کے گھبرا جانے کی کیفیت کو غالبؔ نے بڑے مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ مگر اقبالؔ کے یہاں شعریت سے زیادہ اس کے منجمانہ سروکاروں کو برتا گیا ہے۔زہرہ علم نجوم میں افریقہ سے منسوب ہے۔اس لیے اقبالؔ نے فرعون اور لارڈکچنر کو وہاں بتایا ہے کہ یہ دونوں غرق آب ہو کر مرے تھے۔فرعون ضرب موسیٰ کی تاب نہ لا سکا،تو کچنر مہدی سوڈانی سے خوف شدہ تھا۔ غالبؔ نے چوتھے آسمان کو فلک شمس سے تعبیر کیا ہے۔مگر اقبالؔ نے جاوید نامہ میں سیارہ شمس کا ذکر نہیں کیا۔وہ پیر رومی کے ساتھ عطارد سے مریخ یعنی فلک پنجم پر پہنچ جاتے ہیں۔مریخ ازروئے نجوم آتشی مزاج ہے اور انسانی زندگی میں عزم و حوصلہ پیدا کرتا ہے۔منفی اعتبار سے وہ اضطراری کیفیات پیدا کرنے والا مانا جاتا ہے۔غالبؔ نے اسے متکبر و مغرور کہا ہے لیکن آپؐ کی آمد کی خبر سن کر اپنی کلغی کے راستے سے موتی ہٹانے کے لیے جھاڑو دیتے ہوئے دکھایا ہے۔اس کے عزم وحوصلہ کی صفت کے مطابق غالبؔ نے اس فلک پر جنگ جو بادشاہوں اور پشنگ و افراسیاب جیسے شجاع ،تلوار کے دھنی شاہوں کو صف باندھے ہوئے دکھایا ہے۔اس کے علی الرغم اقبالؔ نے یہاں حکیم مریخی کو جہ مسلسل کی ترغیب دیتے ہوئے پیش کیا جو تقدیر کے بالمقابل تدبیر کو فوقیت دیتے ہیں۔اقبال ؔ نے فلک پنجم پر ایک فرنگی عورت کو بھی دکھایا ہے جو تجدد پسند اور آزادیِ نسواں کی علم بردار تھی ۔فرنگی عورت کو سیارہ مریخ پر بتانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مریخ کو برطانیہ سے منسوب کیا گیا ہے اور اس انتساب کو ماہرین نجوم کی تائید حاصل ہے۔


غالبؔ اور اقبالؔ دونوں نے علوی سفر کی روداد میں مریخ کے بعد کی منزل فلک ششم بتائی ہے۔ اس فلک کا مالک پیر سن مشتری ہے ،جسے برجیس بھی کہتے ہیں۔ نجوم میں اسے پانچویں دن جمعرات ، پنج شنبہ کا حاکم کہا گیا ہے ،فلسفہ ،آرٹ اور قانون سے اس کی نسبت اہل نجوم مانتے ہیں۔مشتری کی پیر سنی کے اعتبار سے غالبؔ نے ایک عالی شان مکان میں ایک بزرگ کی رہائش کے کوائف بیان کئے ہیں اور حکمت و فراست کو ان کی خوبیاں بتائی ہیں۔ یہ تمام اوصاف از روئے نجوم مشتری سے منسوب ہیں۔لیکن فلک مشتری پر اقبالؔ نے عالم اسلام کے مشہور ادباء و شعراء کی نشاندہی کی ہے۔ مثلاً: منصور حلاج ،قرۃالعین طاہرہ اور مرزا غالبؔ ۔ مشتری سے منسوب تمام صفات کی مذکورہ شخصیتیں حامل تھیں اس لئے اقبالؔ نے چھٹے آسمان پر ان کی سکونت کو واضح کیا ہے۔

ساتویں آسمان کے مالک ’زحل‘ کی سیاہ روئی اور بدبختی کا ذکر غالبؔ اور اقبالؔ دونوں نے کیا ہے۔زحل ہندوستان سے منسوب ہے اور رذیلوں ،نامرادوں کا مسکن ہے۔علم نجوم میں یہ منحوس مانا جا تا ہے۔ فلکیات کے مطابق اس سیارے کا رنگ سیاہ ہے اور اس کے مزے کو ماہرین نجوم کسیلا کہتے ہیں۔غالبؔ کے برعکس اقبالؔ نے زحل کی خصوصیات کے مطابق بہت سارے واقعات بیان کئے ہیں جیسے خونین قلزم میں میر جعفر اور صادق کا تڑپنا،روحِ ہندوستان کا نمودار ہونااور ننگ دین ننگ وطن غداروں کا مکافاتِ عمل وغیرہ۔ زحل کے وصفِ قبیحہ کے مطابق اقبالؔ نے جو واقعات قلم بند کئے ہیں وہ نہایت عبرت ناک ہیں۔ غالبؔ نے زحل کی اوصاف بیانی میں نہایت اجمال سے کام لیا ہے۔

فلک زحل کے بعد غالبؔ نے آٹھویں آسمان پر بروج اور غیر متحرک ستاروں کا ذکر کیا ہے اور پھر عرش المعلیٰ کے احوال بیان کئے ہیں۔ اقبال ؔ نے ’جاوید نامہ‘ میں فلک زحل کے بعد سرحد دنیا کا نقشہ کھینچا ہے ۔انھوں نے پرے از افلاک کو حدود کائنات کہا ہے۔اسکے بعد بے یمین و بے یسار جہاں ہے۔یہ ایسی دنیا ہے جو لیل و نہار سے آزاد ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں کلام کے لئے الفاظ کی ضرورت نہیں۔پرے از افلاک کی منظر کشی میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں اقبالؔ اور غالب ؔ کے فکری سلسلوں کا اتصال صاف دکھائی دیتاہے۔مثلاً غالبؔ کہتے ہیں:


جہت را دم خود نمائی نماند

زمان و مکاں را روائی نماند

(بیان معراج)


(یعنی اس عالم [مقام] کے اندر ایک دوسرا جہاں موجود ہے،گویا اس دنیا کو حکمِ دیگر ’کن‘سے بنایا گیا ہے۔اس کا وقت چاند سورج کی روش کا محتاج نہیں ۔[وہ ایسا جہاں ہے] جس میں نو آسمان گم ہیں۔ یعنی نہ یہاں سمتیں [زمین]ہیں نہ وقت[زماں] کا کوئی تصور)


غالبؔ نے جن حقائق کو بیان کرنے کے لئے اجمال کا سہارا لیا اقبالؔ ان کے لئے تفصیل سے کام لیتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ’جاوید نامہ‘ بذات خود ایک مستقل تصنیف ہے جس میں تفصیل کی گنجائش ہے،لیکن غالبؔ کی ’بیانِ معراج‘ ان کی ایک مختصر سی مثنوی کے ایک عنصر ترکیبی پر مشتمل ہے۔


مذکورہ مقام سے گذر کر اقبالؔ حضوریِ باری تعلیٰ میں پہنچ جاتے ہیں۔تو غالبؔ عرش معلیٰ پر رسول اللہ کے پہنچنے کا تذکرہ کرتے ہیں۔اقبال ؔ یہاں پہنچ کر شانِ عبدیت کی بجائے بندۂ گستاخ کی جرأت مندی کا اظہار کرتے ہیں اور حضور حق میں چند سوالات کی وضاحت چاہتے ہیں۔اس میں سے ایک سوال قوم کی تقدیر پر کیا جاتا ہے تو نور جمال ،قہر جلال بن جاتا ہے اور اقبالؔ کو زمین پر پہنچا دیا جاتا ہے۔یہاں ’جاوید نامہ‘ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکسغالبؔ نے عرش معلیٰ پر اللہ اور رسول اللہ کے راز و نیاز کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔’’احمد بے میم‘‘ کے غیر اسلامی تصور پر سر دھناہے۔حتیٰ کہ خدااور رسول کی غیریت کے پردے میں وحدت تلاش کی ہے:


نماند اندر احمد زمیمش اثر

کہ آں حلقۂ بود بیرونِ در

( یعنی احمد میں میم کا نشان بھی نہ رہا [وہ احد ہو گیا ] کیوںکہ وہ [میم] خارج از حقیقت تھا)


اس کے بعد غالبؔ نے آپ کی واپسی کا ذکر کیا ہے کہ جتنی دیر میں نشان قدم سے قدم اٹھے آپ اپنے مسکن پر پہنچ گئے ۔غالبؔ نے اس طرح معراج سے آپ کی واپسی کے بیان پر اپنی مثنوی ’بیانِ معراج‘ کا اختتام کیا ہے۔


غالبؔ اور اقبالؔ نے بیان کئے ہوئے اس علوی سفر کی روداد میںغالبؔ نے معراج کے حقیقی مشاہدات بجائے احادیث سے مستنبط کرنے کے علم نجوم کی اساس پر اپنے فکر و خیال کے مطابق رقم کئے ہیں، جبکہ اقبالؔ کے یہاں فلسفیانہ اور تخیلاتی فضا کے دُھندلکے میں اس سفر کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔