علامہ نور بخشش توکلی کی العمدۃ فی شرح البردہ کی اہمیت ،- ڈاکٹر اشفاق جلالی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

پروفیسر ڈاکٹر اشفاق جلالی۔ کھاریاں سٹی


ABSTRACT[ترمیم]

Professor Ashfaq Jalali has introduced a literary work of exegesis of Allama Noor Bukhsh Tawakkali to elaborate beauty of meanings of Qaseeda-e-Burdah of Imam Bosairi. The writer of the article has also briefly introduced Imam Bosairi and Allama Noor Bukhsh. Salient features of the exegesis have also been delineated which denote that Allama Noor Bukhsh took help of books of Grammar, Dictionaries, Exegesis's of Holy Qura'an, Islamic Jurisprudence and Commentaries of Qaseeda available at that time to achieve the task of in depth study of Poetry of Imam Bosairi. References of all such books show the efforts of Exegesis writer, to catch the fragrance of meanings of couplets of Qaseeda.

علامہ نور بخش توکلیؒ کی ’’العمدۃ فی شرح البردۃ ‘‘کی اہمیت[ترمیم]

اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں کسی مقبول تحقیقی و تخلیقی کام میں اس کی گونا گوں خصوصیات ہوتی ہیں،وہاں اس کے دوام میں غیبی مدد و توفیق بھی ضرور شاملِ حال ہوتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ امام بوصیری مصریؒ کے’’ قصیدہ بردہ‘‘ کو عرب و عجم میں جو مقام و مرتبہ نصیب ہوا، وہ شاید ہی کسی اور قصیدہ کے حصہ میں آیا ہو۔ اس سے پہلے کہ اس کی ایک اہم شرح کے بارے میں کچھ عرض کریں’’ امام بوصیری ‘‘اور’’ قصیدہ بردہ‘‘ کے بارے میں چند الفاظ ذکر کرتے ہیں :

امام بوصیری اور قصیدہ بردہ[ترمیم]

یہ بھی حقیقت ہے’’ قصیدہ بردہ‘‘ میں جن اصطلاحات و تلمیحات کا تذکرہ ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعیدبوصیری ؒ کو جہاں علمِ حدیث ، سیر ، مغازی اور علم کلام میں پوری طرح مہارت حاصل تھی ، وہاں ان کا علم بیاں ،بدیع، صرف ، نحو اور ادب کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کا شایدیہ واحد قصیدہ ہے جس کے تراجم دنیاکی متعدد زبانوں جیسے انگریزی، جرمنی،فرانسسیسی، ترکی، فارسی اور اردو وغیرہ میں ہوئے، علاوہ ازیں بڑے بڑے اہلِ علم نے صاحبِ بردہ کے شاعرانہ کمالات اور ادبی کام پر دادِ تحسین پیش کی ہے ، جن میں علامہ سیوطی ، ابن اعماد حنبلی، ابنِ شاکر کتبی اور ابنِ سید الناس جیسے حضرات نے بڑی فراخدلی کے ساتھ آپ کے کمالات کا اعتراف کیا ہے ، مستشرقین میں نکلسن اور آربری بھی آپ کی جلالتِ شان کے قائل نظر آتے ہیں ۔

ویسے تو امام بوصیریؒ نے کئی قصائد مدحتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم میں نظم کیے لیکن سب سے طویل اور ممتازمقام ’’ قصیدہ بردہ‘‘ کا ہے ، جس کی مثال نہ تو ماضی میں تھی اور نہ مستقبل میں ممکن ہے، بے شمار قصیدے اس کے اسلوب اور طرز پر لکھے گئے جن کی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے ، لیکن کوئی بھی قصیدہ بردہ کے مقام کو چھو نہ سکا۔ حتی کہ علم و حکمت کے سرچشمہ ملک مصر کا بالاتفاق ’’ امیر الشعراء احمد شوقی‘‘ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ، جب وہ خود اپنا مشہورمدحیہ قصیدہ ’’ ولد الہدی فالکائنات ضیاء‘‘ رقم کر رہا تھا :

المادحون و أرباب الھوی تبع

لصاحب البردۃ والضیحاء ذی القدم

’’جملہ ثناء خوان اور اہلِ محبت صاحبِ قصیدہ بردہ کی اتباع کرتے ہیں، کیوں کہ اس کی اولیت حتمی ہے۔ ‘‘

مدیحہ فیک حب خالص و ھوی

وصادق الحب علی صادق الکلم

’’ بوصیری کی مدحت سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم سے سراپا محبت اور عقیدت ہے ، یہ درحقیقت محبت میں سچے انسان کے سچے کلمات ہیں ‘‘۔

ھذا مقام من الرحمن مقتبس

تری مھابتہ سحبان بالبکم

’’ یہ عظیم مقام و مرتبہ یقیناًاللہ تعالی کی مہربان ذات کا عطا کردہ ہے ۔اس کی عظمت وہیبت کا اندازہ ایک گونگا بھی بخوبی کرسکتا ہے‘‘۔

قصیدہ بردہ کی شروحات[ترمیم]

اسی طرح قصیدہ بردہ شریف کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں اس کی تلاوت سے لوگ عظیم برکات و ثمرات حاصل کرتے ہیں ،وہاں اس کو آسان اور عام فہم بنانے کے لئے جید علماء نے اس کی لا تعداد شروحات تحریر کی ، ان میں علامہ ابنِ مرزوق اورعلامہ خرپوتی کی شروحات انتہائی قابلِ ذکر ہیں ۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی یہ قصیدہ یکساں مشہور و معروف رہاہے ،اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں کے علماء و فضلاء نے بھی اس کی مختلف زبانوں میں شروحات تحریر کی ہیں ، جن میں ایک انتہائی نمایاں شرح عربی زبان میں’’ العمدۃ‘‘ کے نام سے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم جنابِ علامہ نور بخش حنفی نقشبندی توکلی ؒ کی ہے، یہ شرح کئی خصوصیات کی حامل ہے جن کا ذکربعدمیں تفصیل سے کیا جائے گا ، اس سے پہلے علامہ موصوف کا مختصر تعارف قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے :

علامہ نور بخش توکلیؒ اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم[ترمیم]

مولانا کا تعلق چک قاضیاں ڈسٹرکٹ لدھیانہ سے تھا ، وہ 1305ھ کے لگ بھگ پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم اپنے علاقے کے علماء سے حاصل کرنے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم اے عریبک کیا، علومِ عربیہ و دینیہ سے والہانہ محبت کا عالم یہ تھا کہ میونسپل بورڈ کالج کے پروفیسر ہونے کے باوجود مولانا غلام رسول قاسمی امرتسری ؒکے پاس حاضر ہوتے ،اور طلباء کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کر تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ کا درس لیتے، مولانا مرحوم عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی دولت سے مالا مال تھے ، یہی وجہ ہے کہ آپ کی کوششوں سے ہی متحدہ ہندو پاک میں بارہ وفات کی بجائے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے نام سے تعطیل شروع ہوئی، مزید یہ کہ جہاں آپ نے دیگر علوم و فنون میں ڈیڑھ درجن کے قریب کتب اور رسائل تحریر کئے ، وہاں آپ نے سیرت پر عام فہم انداز میں سیرتِ رسول عربی اور قصیدہ بردہ کی دو شروحات تحریر کیں ، جن میں ایک اردو اور دوسری عربی میں ہے، اور عربی کی شرح کے آغاز میں ہی اس کی تحریر کا مقصد بیان کرتے ہوئے ہیں کہ اس کا مقصد محض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے مقدس احوال اور شمائل کے ذکر سے تبرک حاصل کرنا ہے۔

’’العمدہ فی شرح البردۃ‘‘کی اہمیت[ترمیم]

ویسے تو علامہ موصوف نے جیسا کہ بیان ہو چکا، قصیدہ بردہ کی دوشروحات تحریر کیں، ایک اردو اور دوسری عربی میں ، یہاں ہم ان کی عربی شرح ’’ العمدۃ‘‘ کے بارے میں ذکر کریں گے۔

’’ العمدۃ ‘‘کے مآخذ[ترمیم]

یہ شرح انتہائی نمایاں اہمیت کی حامل ہے، کیوں کہ اس کے مصنف جہاں علومِ دینیہ و عربیہ کے ایک زبردست عالم ہونے کے ساتھ ساتھ کمال کے ادیب بھی تھے ، وہاں وہ اس حوالے سے بھی انتہائی خوش قسمت رہے کہ اس مشہورِ زمانہ قصیدے کی اس سے پہلے لاتعداد شروحات لکھی جا چکی تھی ،جن میں علامہ ابنِ مرزوق (ص۲،۴۷،۶۷وغیرہ)اور علامہ خرپوتی (ص18،41وغیرہ)کی شروحات انتہائی نمایاں ہیں،اسی لئے علامہ موصوف نے ان شروحات سے دل کھول کر استفادہ کیا ، یہی وجہ ہے کہ اس شرح میں ان شروحات کے علاوہ جا بجا [[قرآنی تفاسیر، احادیث، فقہ، سیرت ، لغات ومعاجم، صرف ونحو،اورعلومِ بلاغہ کے حوالے موجود ہیں ۔

علامہ موصوف کی یہ بھی ایک خصوصیت تھی کہ انہوں نے امانتِ علمی کے تحت ہر حوالے کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے ۔ ذیل میں ہم ان مآخذ کے حوالے سے مزید تفصیل بیان کریں گے۔

1۔ کتبِ تفسیر اور حواشی[ترمیم]

اس شرح میں علامہ موصوف نے کتبِ تفسیر میں جن سے استفادہ کیا ، ان میں سرِ فہرست علامہ اسماعیل حقیؒ کی ’’ روح البیان‘‘ (دیکھئے ص 34، 38 وغیرہ) ، اس کے علاوہ ’’ تفسیر الخازن‘‘ (ص10)اور ’’ حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی‘‘ (ص17،19)قابلِ ذکر ہیں۔

2۔ کتبِ حدیث وشروح[ترمیم]

ان میں نمایاں نام صحاح ستہ میں بخاری (ص:32،37،80)، مسلم (ص67)، ترمذی (ص24 ،30)، نسائی (ص21)کے ساتھ ساتھ مؤطین (مالک ص32) (احمد ص65،67)انتہائی نمایاں ہیں، ان کے علاوہ ابنِ حبان، الحاکم، الخطیب، ابنِ عساکر،،ابو نعیم، دیلمی، بیہقی، الخطائطی اور الاصابہ ( ابنِ حجر) سے بھی خوب استفادہ کیا ہے ۔اور شروح میں نووی کی شرح مسلم (ص27) سرِ فہرست ہےِ ۔

3۔ کتبِ فقہ[ترمیم]

ان میں عموما ابنِ قدامہ حنبلی کی ’’ المغنی ‘‘ (ص72)سے استفادہ کرتے ہیں ۔

4۔ کتبِ لغات[ترمیم]

اسی طرح علامہ موصوف نے مشکل الفاظ کی تشریح کے لئے مشہورِ زمانہ کتبِ لغات اور معاجم سے بھی استفادہ کیا ، جن میں علامہ یاقوت حموی کی ’’ معجم البلدان‘‘(ص84،87) ، ’’علامہ فیومی ‘‘کی ’’ المصباح‘‘ (ص 12، 32، 37، 49 وغیرہ) اور علامہ راغب اصفہانی کی ’’ مفردات‘‘ بہت نمایاں ہیں۔

5۔ کتبِ سیرت و شروحات[ترمیم]

ان میں علامہ خفاجی مصری کی ’’ نسیم الریاض ‘‘ (ص28،38،40،80وغیرہ)، قاضی عیاض ؒ کی ’’ کتاب الشفاء‘‘(ص41،72)، اور علامہ سیوطیؒ کی ’’الخصائص الکبری‘‘(ص27) سے زیادہ نقول حاصل کی ہیں۔

6۔اقوالِ نحاۃ[ترمیم]

اس شرح میں علامہ موصوف نے جا بجا اقوالِ نحاۃ سے استفادہ کیا ہے ، مثال کے طور پر بوصیری کے اس شعر ’’ دَع ما ادَّعَتہ النصاری فی نبیھم‘‘ کی شرح میں علامہ صاحب نے ذکر کیا:’’و’’دع‘‘ أمر من ’’ودع یدع‘‘ بمعنی ’’ اترک‘‘ قال بعض المتقدمین ، وزعمت النحاۃ أن العرب أماتت ماضی ’’یدع‘‘ ومصدرہ واسم الفاعل‘‘۔

یعنی ’’دع‘‘:’’ودع یدع‘‘ سے فعل امر ہے جس کا معنی ہے ’’ اترک‘‘ (چھوڑ دے)یہ بات کئی قدیم علماء نے بتائی ہے، کچھ نحویوں کا خیال ہے کہ عربوں کے ہاں’’یدع‘‘ کی ماضی ، مصدر اور اسم فاعل قابلِ استعما ل نہیں ہے۔

اس کے علاوہ امام بوصیری کے شعر:

کأنہ وھو فرد فی جلالتہ

فی عسکرٍ حین تلقاہ وفی حشم

کی تشریح میں لفظ، ’’ حشم‘‘ کے حوالے سے ابنِ سکیت کے قول کو نقل کیا ، جس میں انہوں نے کہا :’’ ھی کلمۃ فی معنی الجمع ، ولا واحد لھا من لفظھا ‘‘۔ یعنی ’’ حشم‘‘ ایسا لفظ ہے جویہاں جمع کے معنی میں ہے، کیوں کہ اس کا واحد استعمال نہیں ہوتا۔

اسی طرح صرفی قواعد کے حوالے سے بھی علامہ موصوف نے بہت گفتگوکی ،اور قدیم علماء کے اقوال سے خوب استفادہ کیا، مثال کے طور پر امام بوصیری کے اس شعر :

وبات ایوان کسری وھو منصدع

کشمل أصحابِ کسری غیر ملتئم

میں موجود لفظِ ’’ ایوان ‘‘ کے حوالے سے یہ قول نقل کیا کہ :’’ قال النحویون: الھمزۃ فی ’’ایوان‘‘ أصل غیر زائدۃ ، ولو کانت زائدۃ لوجب ادغام الیاء فی الواو، وقلبھا الی الیاء کما فی ’’ایام‘‘ فلما ظھرت الیاء ولم تدغم دلَّ علی أن الیاء عین ،وان الفاء ھمزۃ و قلبت یاء لکسرۃ الفاء و کراھیۃ التضعیف،کما قلبت فی ’’دیوان‘‘ و’’ قیراط‘‘ ، وکما أن الدال والقاف فاء ان والیائین عینان کذلک التی فی ’’الایوان ‘‘۔

نحویوں کا کہنا ہے کہ لفظ ’’ ایوان‘‘ میں دراصل ہمزہ زائدہ نہیں ہے ، اور اگر زائدہ تصور کر لیا جائے تو یاء کا واو میں ادغام اور اس کا یاء کی طرف منتقل کرنا ضروری ہو جائے گا، جس طرح لفظ ’’ ایام ‘‘ میں کیا جاتا ہے ، لہذا جب یاء ظاہر ہو گئی اور اسے مدغم نہیں کیا گیا تو یہ اشارہ ہے کہ یاء اصل میں عین کلمہ اور فاء ہمزہ ہے، اور یہ یاء سے فاء کے کسرہ اور تضعیف کی ناپسندیدگی کی بناء پر تبدیل کیا گیا ، جس طرح اسے ’’ دیوان‘‘ اور ’’قیراط‘‘ میں تبدیل کیا گیا ہے ، اسی طرح دال اور قاف فاء کلمے اور دونوں یاء عین کلمے ہیں ، اسی طرح کی صورت لفظِ’’ ایوان‘‘ کی ہے۔

7۔ کتبِ ادب[ترمیم]

اس شرح میں ،چونکہ یہ ادبی نقطہء نظر سے لکھی گئی ہے ، کتبِ ادب سے خصوصی طور پر استفادہ کیا گیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس شرح میں جا بجا ادباء و شعراء کے اقوال کو بیان کیا گیا ہے ۔ مثال کے طورپر اس شرح کے ص نمبر ۳۷ پر علامہ موصوف نے امام بوصیری کے شعر ’’ دَع ما ادَّعَتہ النصاری فی نبیھم.....‘‘ میں شیخ ابنِ فارض ؒ کے درج ذیل شعر کے ذکر کرنے کے بعد علامہ زرکشی ؒ کا یہ قول نقل کیا:

أری کل مدح فی النبی مقصرا

وان بالغ المثنی علیہ وأکثرا

اذ اللہ أثنی بالذی ہو أھلہ

علیہ فما مقدار ما یمدح الوری

’’ میری نظر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی ہر قسم کی مدحت انتہائی ناقص ہے ، اگرچہ اس میں ثناء خوان جتنی بھی کثرت و مبالغہ کر لے، کیوں کہ اللہ نے آپ کی آپ کے شایانِ شان تعریف فرما دی ہے، لہذا مخلوق کی تعریف کی مقدار وہاں کیا ہو سکتی ہے ؟‘‘۔

’’ قال الشیخ بدر الدین الزرکشی : ولہذا لم یتعاط فحول الشعراء المتقدمین کأبی تمام والبحتری وابن الرومی مدحہ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم وکان مدحہ عندھم من أصعب ما یحاولونہ ، فان المعانی دون مرتبتہ والأوصاف دون وصفہ، وکل غلو فی حقہ تقصیر، فیضیق علی البلیغ مجال النظم ....‘‘ شیخ بدر الدین زرکشی ؒ کا کہنا ہے اسی وجہ سے پرانے عظیم شعراء ،ابو تمام،بحتری،ابنِ رومی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی مدح سرائی میں طبع آزمائی نہیں کی ، کیوں کہ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی مدحت باقی تمام مدحتوں سے انتہائی مشکل کام ہے، اس لئے کہ معانی آپ کے مرتبہ سے کم اور صفات آپ کی تعریف سے ہیچ ہیں، آپ کے حق سے ہرطرح کا مبالغہ نقص ہے ، اسی وجہ سے ایک فصیح و بلیغ آدمی کے لئے آپ کی مدحت تحریر کرنا بہت مشکل کام ہے‘‘۔

اس کے علاوہ علامہ موصوف نے قدیم شعراء کے اشعار سے بھی خوب استفادہ کیا ہے ، جن میں نمایاں نام حضرتِ عباسؓ ، حسان بن ثابتؓ، ابنِ فارضؒ اور ابو کبیر ہذلی کے ہیں ۔ مثال کے طور پر ص نمبر ۷۷ پر سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے چچا جنابِ عباسؓ کے اشعار ذکر کئے ہیں :

من قبلھا طبتَ فی الظلال وفی

مستودعٍ حیث یخصف الورق

ثم ھبطت البلاد لا بشر

أنت ولا مضغۃ ولا علق الخ۔

اس کے علاوہ ابو کبیر ہذلی کے ص نمبر 79 پردرج ذیل اشعار ذکر کئے ہیں :

ومبرَّءٍ من کلِّ غبَّرٍ حیضۃٍ

وفسادِ مرضعۃٍ وداءٍ مغیل

واذا نظرت الی أسرۃِ وجہہ

برقت بروق العارض المتھلل

۔ علومِ بلاغہ[ترمیم]

چونکہ علامہ موصوف ایک زبردست ادیب بھی تھے ، لہذا انہوں نے اس شرح میں علومِ بلاغہ سے بھی خوب استفادہ کیا اور اسی بناء پر جا بجا ان کی طرف اشارے کئے، ان کی چند مثالیں درج ذیل ہیں :

1: امام بوصیری کے اس شعر[ترمیم]

کأنما اللؤلؤ المکنون فی صدف

من معدنی منطق منہ و مبتسم

کی تشریح میں علامہ موصوف نے ’’ حاشیہ باجوری‘‘ کے حوالے سے یہ ذکر کیا کہ اس شعرمیں ’’ تشبیہ مقلوب ‘‘ ہے اور یہ مدح میں بلیغ ترین ہے۔

2۔ اسی طرح امام بوصیری کے پہلے شعر[ترمیم]

أمن تذکر جیران بذی سلم

مزجت دمعا جری من مقلۃ بدم

میں موجود ’’ مزج الدمع بالدم‘‘ کے حوالے سے حقیقت اور کنایہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ موصوف کا کہنا ہے کہ ’’ اما حقیقۃ کما یشعر بہ قولہ الآتی : ’’ وأثبت الوجد خطی عبرۃٍ و ضنی ‘‘، واما کنایۃ عن شدۃ البکاء ‘‘۔

3۔ اسی طرح امام بوصیری کے شعر[ترمیم]

لولا الھوی لم ترق دمعا علی طلل

ولا أرقت لذکر البان والعلم

کے حوالے سے علامہ موصوف کا کہنا ہے کہ اس میں ’’الالتفات من الغیبۃ الی الخطاب‘‘ ہے ، اوراس کے ساتھ ساتھ اس میں علمِ بدیع سے ’’جناس شبیہ بالمشتق‘‘ہے۔

4۔ اسی طرح امام بوصیری کے اس شعر[ترمیم]

یا لائمی فی الھوی العذری معذرۃ

منی الیک ولو أنصفت لم تلم

کے حوالے سے علامہ موصوف کا کہنا ہے کہ اس میں بوصیری کے قول : ’’ لائمی اور تلم‘‘ میں علم بدیع سے ’’ رد العجز علی الصدر‘‘ کے ساتھ ساتھ اس میں ’’ جناس شبیہ بالمشتق‘‘ بھی ہے۔

5۔ اسی طرح امام بوصیری کے اس شعر[ترمیم]

واخش الدسائس من جوع ومن شبع

فرب مخمصۃ شر من التخم

کے حوالے سے علامہ موصوف کا کہنا ہے کہ اس میں ’’ ایھام حسن‘‘ ہے۔

اس طرح کی اس شرح میں لا تعداد مثالیں موجود ہیں ، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ موصوف کو دیگر مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ ادبی اور بلاغی علوم پر بھی پوری مہارت حاصل تھی ۔

ان تمام خصوصیات کے باوجود یہ دکھ دینے والا پہلو تھا کہ اس کوبڑے پیمانے پر خوبصورت انداز میں طبع نہیں کیاگیا ، جو کہ اس علمی و تحقیقی کام کے ساتھ کھلم کھلا ناانصافی تھی ، اس کا ایک ہی طبع ہمارے علم میں آیا ہے جو 1339ھ میں لاہور سے مطبع خادم التعلیم سے انجمن نعمانیہ کے خرچے سے منظرِ عام پر آیا ہے ، لہٰذا بندہ ناچیز نے اپنی بضاعت کے مطابق اس کی تحقیق و تخریج کا بیڑہ اٹھایا ہے ،جو کہ جلدہی انشاء اللہ ،اللہ تعالی کے فضل و کرم سے قارئین کے سامنے ہو گا۔ نعت ریسرچ سنٹر، کراچی کے تحت جدید انداز میں قارئین کی نذر کی جائے گی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25 | نعت رنگ | کاروان ِ نعت | فروغ نعت | سہ ماہی مدحت