عبد العزیز خالد کی نعتیہ شاعری ۔ اقصی سلطانہ کے مقالے سے اقتباس

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

مقالہ نگار : اقصی سلطانہ

مقالہ : مجلہ نعت رنگ کے تنقیدی مباحث کا مطالعہ

عبد العزیز خالد کی نعتیہ شاعری[ترمیم]

عصرحاضر کے سب سے منفردنعت گو عبدالعزیز خالد ہیں اُنھوں نے نعت نگاری کا ایک خاص انداز ایجاد کیا ہے جو اُنھیں نہ صرف زیر جائزہ دورکے نعت گو شاعروں سے منفرد کرتا ہے بلکہ ماقبل کے اُردو نعت گو شاعروں سے بھی منفرد کرتا ہے جس طرح اُردو شاعری میں وہ ایک خاص الخاص اُسلوب کے موجود ہیں۔ اسی طرح وہ نعت نگاری میں بھی ایک اجتہادی شان رکھتے ہیں۔ اسی سبب ڈاکٹر سید عبداللہ انھیں مخترع نعت نگارکہتے ہیں۔

ان کی نعت گوئی کا رنگ انفرادیت ان کے نعتہ مجموعوں کے نام ہی سے جھلکتا ہے ، مثلاً ’’فارقلیط ‘‘، ’’منحمنا ‘‘، ’’حمطایا ‘‘، ’’ماذ ماذ‘‘، ’’عبدہ ‘‘ وغیرہ خالد کے نعتیہ مجموعوں کے نام حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اسمائے مبارکہ سے ماخوذ ہیں جن کا ذکر کتب سابقہ اور صحائف آسمانی میں آیا ہے خالد نے اسمائے صفات کی معنوی وسعت ورفعت اور بلاغت کے سبب انھیں ازسر نو متعارف و روشناس کرایا اور اُردونعت میں ان کی ترویج کی۔ عصر حاضر کے نعت گو شاعروں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے صفات کاذکر اورتلاش خالد کے اسی ذوق اختراع و اجتہاد کا مرہون ِ منت ہے ۔ خالد کی نعت دوسرے تمام نعت گو شعرا کے کلام سے مختلف اورجدا ہے ان کے نعتیہ مضامین محبت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات سے لے کر تاریخ اسلام کے مختلف واقعات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ علوم و فنون، اساطیر و تلمیحات، تمدن، تاریخ، تہذیب و ثقافت،معاشرت و عمرانیات وغیرہ کے متعدد حوالوں نے ان کی نعت کے دائرے کو بہت وسعت دی ہے ۔

خالد کی انفرادیت ان کے موضوعات و مضامین کی بجائے زیادہ تران کے لب و لہجے اور زبان و بیاں کی وجہ سے ہے۔ اُنھوں نے نعت کو وصفِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تاریخ و عمرانیات سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔ ان کی نعتوں میں عربی، فارسی، اورہندی کے علاوہ بہت سی زبانوں کے الفاظ نہ صرف بہ کثرت بلکہ تواتر سے استعمال ہوئے ہیں ان زبانوں میں عربی کے الفاظ نمایاں ہیں بعض جگہ پر مصرعے عربی میں چلے آتے ہیں ’’فارقلیط ‘‘ کے یہ شعر دیکھئے ۔

کثیر المکام کریم اسماعی

نمائندہ حضرت کبریا ہے

ضلع الضم اشکل العین ابیض

نہ تاب نظارہ نہ تاب ثنا ہے

نہ ضرب المثل خانق الطرف اکحل

یہ اثمد کاسرمہ بھی کحل وجے ہے

کریم العصنارہ شریف الاروعہ

تو فخر انام و حبیب صلی اللہ علیہ وسلم خدا ہے

(فارقلیط ، عبدالعزیز خالد )


خالد کے اسلوب نعت میں ایک اہم عنصر ان کی نو تراشیدہ اور وضع کردہ ترکیبیں ہیں جنھوں نے ان کی نعت کو وقیع بنا دیا ہے ان کی نعت گوئی میں غرابت ، تراکیب کی ثقالت اور قرآن و حدیث کے حوالوں کی کثرت کے باوجود ایک کشش ہے۔ خالد کے مندرجہ بالا اشعار اس کی عمدہ مثال ہیں ڈاکٹر سید عبداللہ، خالد کے اُسلوب شعر کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’خالد کی زبان میں ایک خاص قسم کا نیا پن ہے مگر اسکے ساتھ ہی اس میں ایک خاص قسم کا بیگانہ پن بھی پایا جاتا ہے اسکی ترکیبیں بیگانہ پن کے باوجود کسی نہ کسی پہلو سے اپنی معلوم ہوتی ہیں ان میں دوری کے باوجود قربت کا احساس ہے خالد کے کلام کے کھردرے قماش سے وحشت نہیں ہوتی ‘‘


یہ بات ان کی نعت گوئی کے بارے میں زیادہ صحیح اورمناسب ہے ان کی نعت گوئی میں الفاظ کی غرابت ، ثقالت اور قرآن و حدیث کے حوالوں کی کثرت کے باوجود ایک کشش ہے ان کے مجموعے ’’فارقلیط ‘‘ اور ’’منحمنا ‘‘ دونوں میں وہی کیفیت موجود ہے۔ خالد کے فن نعت گوئی کا یک اہم عنصر وہ الفاظ و مناسبات ہیں جن کا تعلق ہندی زبان و مذہب سے ہے جنھیں اُنھوں نے نمایاں طور پر اپنی نعتوں میں استعمال کیا ہے۔ بلاشبہ خالد نے ہندی الفاظ کو اپنے فن میں نہایت سلیقے سے برتا اوراس سے ان کے فن میں کیف اور نرمی کے عناصر بھی پیدا ہوئے مگران سے خالد کی نعت کا تقدس بھی مجروح ہوا ہے مولانا ماہر القادری ، نعیم صدیقی اور دوسرے کئی نعت گو شعرا نے بھی نعت کے ذیل میں اسی اسلوب و انداز اوربندی زبان اساطیر مذہب، اور دیو مالا کے ان الفاظ کو احترام نعت رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے منافی اور نا مناسب قرار دیا ہے ۔ خالد کے مجموعہ ’’من حمنا‘‘ کے اشعارملاحظہ ہوں جن میں بندی لفاظ اور اساطبہ کا ذکر ہے۔


وہ میرا مہاراج پھر بھوگسائیں

سلونا ہے، سجدا رہے، ،سانولہ ہے

تو ساجن سوامی میں باندی بیا کل

میں مورکھ نمانی توگن ہے کلا ہے

بچھائوں تری سیج چن چن کے کلیاں

تو صاحب ہے میرا تومیرا ملا ہے

کیا تو نے قبضے میں تریا کا جوبن

منوہر ہے، اچیل ہے تو چا لیا ہے

(من حمنا، عبدالعزیز خالد )


خالد نے کلام میں ہندی دیو ملا وغیرہ کا استعمال تاثر کو گہرا کرنے کے لیے یا رنگ کو زیادہ شوخ کرنے کے لیے کیا ہے تاکہ نعت میں اسراریت Mystry رومانیت، جمع ہو جائے۔ مختصراً یہ کہ خالد کے اسلوب نعت میں علمی حوالے، اساطیری عناصر، مشکل پسندی ، فارسی و عربی تراکیب کے الفاظ کثرت سے موجود ہیں۔


اُسلوب کے علاوہ خالد کے موضوعات نعت میں ایجاد و اختراع کی مثالیں ملتی ہیں خالد کی نعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، ختم نبوت ، رحمت للعالمین ، اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسمائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کتب سابقہ کی مبشرات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کے واقعات، خصائل و شمائل اور اوصاف حمیدہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار سے لے کر حمدِ باری تعالیٰ اور منقبت صحابہ کے موضوعات پرمحیط ہے۔ اس میں بہت جگہ قومی و ملی اشارے اور تاریخی و عمرانی مضامین بھی نظر آتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں موجود قرآنی، تاریخی،عربی، معاشرتی اور تمدنی معلومات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ خالد کی نعت شاعری کے علاوہ قاموس العلم بن گئی ہے۔


خالد کے متفرق نعتیہ کلام میں ان کا وہ استغاثہ بہت مشہور ہے جو اُنھوں نے ’’سقوطِ ڈھاکہ ‘‘ کے موقع پر لکھا اس میں قوم و ملت کو درپیش ابتلا و مصائب کا حال بڑی درد مندی سے بیان ہوا ہے۔ سادہ بیانی کے باعث یہ نظم خالدکی دوسری نعتوں سے موثر ہے۔

یا رحمت للعالین! یا رحمت للعالمین

اک ملت واحد ہی کافر قہر مانی طاقتیں

تیرے سوا حال دل آف زدہ کس سے کہیں؟

آہوں سے دم گھٹتا ہے سینے میں، خدایا کیا کریں

ڈر ہے صبادا ضبط گریہ سے کلیجے پھٹ پڑیں

مرنے کی کیا صورت نکالیں کسی طرح زندہ رہیں

اے رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔

(خروش خم‘ عبدالعزیزخالد )

بحیثیت مجموعی خالد نے اپنے عالمانہ اندازِ نگارش، خاص الخاص اسلوب اور تنوع موضوعات سے اُردو نعت کو وسعت اور عظمت دی۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

مضامین میں تازہ اضافہ
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات