طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو ۔ صائم چشتی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

شاعر: صائم چشتی

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو

محبوب نے آنا ہے راہوں کو سجانے دو


جو چاہیے سزا دینا محبوب کے دربانو

اک بار تو جالی کو سینے سے لگانے دو


گنبد کی زیارت سے اے روکنے والو تم

اللہ کے پیارے کو کچھ حال سنانے دو


اشکوں کی لڑی کوئی اب ٹوٹنے نہ پائے

آقا کیلئے مجھ کو کچھ ہار بنانے دو


آقا کیلئے ایسے الفاظ کہاں صائم

اشکوں کی زبانی ہی اک نعت سنانے دو


مزید دیکھیے[ترمیم]

اقبال عظیم | بیدم شاہ وارثی | حفیظ جالندھری | خالد محمود خالد | ریاض سہروردی | عبدالستار نیازی | کوثر بریلوی | نصیر الدین نصیر | منور بدایونی | مصطفیٰ رضا نوری | محمد علی ظہوری | محمد بخش مسلم | محمد الیاس قادری | صبیح رحمانی | قاسم جہانگیری | یوسف قدیری | قمر انجم | سید ناصر چشتی | صائم چشتی | وقار احمد صدیقی | شکیل بدایونی | ساغر صدیقی | حامد لکھنوی | حبیب پینٹر