طلع البدرعلینا۔منظرو محلِ وقوع ایک تحقیق ،- ڈاکٹر افضال احمد انور

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

پروفیسر ڈاکٹر اِفضال احمد انورؔ ۔فیصل آباد


ABSTRACT[ترمیم]

Dr. Ifzal Ahmad Anwar, has put up result of his research on the famous poetic expression i.e. Tala-al Badrul Alaina, in order to ascertain the time and venue or site of reciting the same to welcome the Holy Prophet Muhammad (S.A.W). According to his research, the couplets were recited twice i.e. at the time of entering of the Prophet Muhammad (S.A.W) into the territory of Yathrib on sacred mission of Hijrah from Makkah and on the occasion of coming back to Mandina Munawwara from the battle field of Tabuk. The writer has cited various examples of historians and finally chose to accept the verdict given by Peer Hazrat Mehr Ali Shah of Golra Shareef (R.A) in this regard. Dr. Ifzal Ahmad concludes decisively that the couplets under discussion were recited twice rather than only one occasion of Hijrah as, in his opinion, has erroneously been reported by some historians.

طَلَعَ الْبَدرْ عَلَیْنا... منظرو محلِّ وقوع___ایک تحقیق[ترمیم]

حضور پْر نور صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم جب مکّہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہلِ علاقہ ( خصوصاََ خواتین اور ننھی ننھی بچیوں)نے جو اشعار گاکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کا والہانہ استقبال کیا تھا‘ وہ درج ذیل ہیں۔

طَلَعَ الْبَدرُ عَلَیْنَا

مِنْ ثَنِیّا تِ الْودَاعٖ

وَجَبَ الشّْکرُ عَلَیْنا

مَا دَ عَا لِلّٰہِ دَا عٖ (1)

1۔ ہم پر وداع کی گھاٹیوں سے چودھویں رات کا چاند طلوع ہوگیا(یعنی حضور پْر نور صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم مدینہ منّورہ میں تشریف لے آئے)۔

2۔ ہم پر (خدا کا) شکر لازم ہے‘ جب تک اللہ کو پکارنے (دعا کرنے) والا کوئی بھی اْسے پکارتا رہے۔ (یعنی اس احسانِ عظیم پر واجب ہے کہ ہم ابدالآسباد تک خدا کا شکر ادا کرتے رہیں۔)

پہلے دو شعروں کا منظوم ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے یوں کیا ہے۔

ان پہاڑوں سے جو ہیں سوئے جنوب

چودھویں کا چاند کیا نکلا ہے خوب

شکر اس دن تک کریں اللہ کا

مانگیں جب تک مانگنے والے دعا (2)

اگرچہ عام کتابوں میں اوپر والے پہلے دوشعر ہی مرقوم ملتے ہیں لیکن کچھ سیرت نگاروں نے تیسرے شعر کی نشاندہی بھی کی ہے۔

اَیّْھَا المبَعْوثْ فِیْنَا

جِءْتَ بِالْا مْرِ الْمْطَا عٖ(3)

علامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی نے اپنی تصنیف ’’ سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ‘‘ میں مزید تین اشعار کی نشان دہی کی ہے :

اَنْتَ شَرَّ فْتَ الْمَدِ ینْہ

مَرْحَباََ یَا خَیْرَ دَاعٖ

فَلَبِسْنَا ثَوْبَ یَمَنِ

بَعْدَ تَلْفَیْقِ الرِّ قَاعٖ

فَعَلَیْکَ اللہْ صَلّٰی

مَا سَعٰی لِلہِ سَاعٖ

اْنھوں نے ان اشعار کا ترجمہ بھی دیا ہے ___آپ نے مدینہ کو مشرف فرما دیا ‘ تو آپ کے لیے خوش آمدید ہے اے بہترین دعوت دینے والے۔ پس ہم لوگوں نے یمنی کپڑے پہنے حالانکہ اس سے پہلے پیوند جوڑ جوڑ کر پہنا کر تے تھے۔ تو آپ پر اللہ تعالیٰ اْس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک اللہ کے لیے کوشش کرنے والے کوشش کرتے رہیں۔(4)

پروفیسر محمد رفیق نے مندرجہ بالا تین اشعار کے بعد یہ شعر بھی متّصلََا درج کیا ہے۔

نَحْنُ جَوَا رُُ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ

یَا حَبَّذَا مْحمَّدْْ مِنْ جَارٖ

انھوں نے اس شعر کا ترجمہ بھی لکھا ہے :

’’ ہم بنو نجّار کی لڑکیا ں ہیں۔ واہ! محمد صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکتنے اچھے ہمسائے ہیں۔ (5)

اْردو زبان میں سب سے زیادہ نعتیہ اشعار لکھنے کی سعادت حاصل کرنے والے عظیم محققِ نعت‘لاہور کے راجا رشید محمود نے اس شعر نَحنُْ جَوَا رْْ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ کے حوالے سے یہ معلوماتبھی بہم پہنچائی ہیں:

’’مدینہ منورہ میں حضور حبیبِ خالق و مالک صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکی تشریف آوری کے بعد اوّلیت کا شرف اْن خیر مقدمی نعتیہ اشعار کو ملتا ہے ‘جو بنی نجار کی بچیوں( بنی نجار حضور صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے ننھیال کا قبیلہ ہے ) نے دف بجا کر گائے اور یہ ’’ نَحْنُ جَوَا رْْ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ ‘‘ والے اشعار تھے۔‘‘(6)

نعت کی تاریخ میں ان اشعار کی قدرو قیمت ‘ غنائیت اور تاثیر کسی سے مخفی نہیں۔ بعض سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اشعار ہجرتِ مدینہ کے وقت نہیں بلکہ اْس وقت پڑھے گئے تھے جب حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم غزوۂ تبوک سے واپس مدینہ منور ہ تشریف لائے تھے۔بعض احباب ان اشعار کا موقع محل ہجرتِ مدینہ کو قرار دینا راوی کا سہو اور نا درست سمجھتے ہیں ‘ جبکہ کچھ سیرت نگار تیسرا نقطۂ نظر یعنی یہ مدنی خیر مقدمی اشعارِ تشکر کادونوں مواقع پرپڑھا جانا درست مانتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لیا جائے اور صحیح محلِّ وقوع کا اندازہ لگایا جائے۔

فرہنگ[ترمیم]

طَلَعَ :طلوع ہْوا‘ ظاہر ہوا‘ نکلا‘تشریف لایا

اَلْبَدْرُ : ال یہ علامتِ تخصیص ہے( بَدْرُ: چودھویں رات کا چاند (جو روشنی اور تکمیل کے عروج کے معنوں کو ظاہر کرتا ہے اور انتہاے ترقّی کا مظہر ہے۔ گویا یہ خاص چودھویں کا چاند ہے(جو کبھی زوال پذیر نہ ہو )مراد ہے کامل عروج کے حامل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم ___

عَلَیْنَا : ( عَلیٰ اْوپر( On)حرفِ جار‘ ہے___

نا : ہم (We) یعنی ہم پر ___ مِنْ : سے (From )حرفِ جار‘ہے___ ثَنِیّا تِ : یہ ثَنِیَّہْ کی جمع ہے۔ عربی میں ثنیّہ کہتے ہیں سامنے کے اْوپر اور نیچے کے دو‘ دو دانتوں کو۔ اسی نسبت سے دو پہاڑوں کے درمیانی راستے (گھاٹی) کو بھی ثنیّہ کہتے ہیں کہ اس کے دائیں بائیں پہاڑ ہوتا ہے۔ ثِنِیَّات یعنی گھاٹیاں ___

ودَاع: چھوڑنا ‘ رخصت کرنا‘ خیر باد کہنا۔ ثنیّتہ الوداع سے مراد وہ گھاٹی ہے جہاں تک مہمان کو چھوڑنے جائیں (مشایعت) یا کسی معزّز مہمان کو لینے کیلئے آبادی کے مضافات تک جائیں اور احتراماََ اْسے ساتھ لے کر آئیں ___

وَجَبَ : واجب ہْوا۔ ضروری ٹھہرا___ شُکْرُ : تشکّر‘ شکر یہ ادا کرنا ‘کسی کے اچھے کام (احسان‘نیکی) پر ممنونیت کے جذبات کا اظہار کرنا‘ مراد ہے اللہ کا شکر ادا کرنا ___

مَا : جو۔ مراد ہے جب تک ___

دَعَا : پکا رنا‘ رغبت کرناسے ہے‘ یعنی پکارے ‘ دعوت دے ___

لِلّہِ : لِ اللہ۔ لیے ‘ واسطے( For)۔اللہ کیلئے ___

داعٖ : داعی۔ پکارنے والا ‘ دعا کرنے والا‘ دعوت دینے والا___

اَیّْھَا : اَے! یا! (حرفِ ندا برائے تخاطب )___

مَبْعُوْث : بَعْث بھیجنا ‘ تیزی سے روانہ کرنا‘ مبعوث بھیجا گیا‘ روانہ کیا گیا ___

فِیْنَا : فیِ حرفِ جار( In) مِیں‘ اندر ‘ نَا : ہم ‘ ہم میں ___

جِءْتَ : تو آیا۔ جِءْتَ بِ۔تو لایا۔ آپ لائے ___

اَلْاَ مْر : امر یعنی حکم ‘ دین‘ مراد ہیدینِ اِسلام ___

اَ لمطَاع : اطاعت کیا گیا۔ جس کی اطاعت کی جائے‘ قابلِ اطاعت ___

شَرَ فْتَ : تونے شرف بخشا ‘ آپ نے مشرّف کیا‘ آپ نے عزّت بخشی ___

اَلْمَدِیْنَہ : شہر (مراد ہے مدینہ منّورہ۔ شہر رسول صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم پہلے اس شہر کا نام یثرب تھا۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی اس شہرِ مقدس میں تشریف آوری کے بعد اس کانام مدینتہ النّبی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمہو گیا جو بعد میں مخفف ہو کر صرف مدینہ رہ گیاجس کا لفظی مطلب شہر ہے ‘ المدینہ یعنی خاص شہر ) ___

مَرْحَبَا : خوش آمدید ’’Welcome‘‘ (رَحبْ‘ ترحاب۔ خوش آمدید کہنا ‘ لفظی مطلب تم کشادگی پاؤ‘ آپ فراخی پائیں‘ یہ لفظ حَب سے ہے جس کا مطلب ہے جگہ کا کشادہ اور وسیع ہونا)مراد ہے ا?پ بہت اچھے آئے ___

یَا : اَے ( یَا : اَیْھّا : یا اَ یّْھا : اے‘ حروفِ ندا ___

فَ: پس ___

لَبِسْنَا : ہم نے لباس کیا‘ ہم نے پہنا۔ ہم پہنا کرتے تھے ___

ثَوْبْ : کپڑا ‘ کپڑے ___

یَمَنْ : ایک ملک کا نام ہیجس کی سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے ___

بَعْدْ : بعد‘ پیچھے( After) ____

تَلَفِْ یق : کپڑا دوہرا کر کے سینا۔ دوکپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوں تو دونوں کو جوڑ کر ایک تہہ بنا کر سی لینا___

رَقَاعَ : رَقْعََا (کپڑے پر جوڑ لگانا۔ پھٹے کپڑے میں پیوند لگا کر سینا)۔تلفیق الَرّقاع : پھٹے پرانے کپڑوں میں جوڑ (پیوند ) لگا کر پہننا___

فَعَلَیْکَ : فَ (پس) علیٰ 228ک : علیٰ (اوپر) 228کَ ‘ تو ‘ آپ( You)فعَلَیْک‘ پس آپ پر ___

صَلّٰی : اْس نے درود بھیجا۔ رحمت نازل کی‘ مجازاََ رحمت نازل کرے‘ درود پڑھے ___

مَاسَعیٰ : مَا ( جب تک) سَعیٰ 236 اْس نے سعی (کوشش کی) جب تک کوشش کرے‘ جب تک کہ کوشاں رہے____

سَاعٖ : سَاعی‘کوشش کرنے والا۔ دوڑ دھوپ کرنے والا۔ سعیُُْ : کوشش ‘ جدو جہد ‘ کوشش کرنا‘ دوڑنا۔ پوری کوشش کرنا۔

اختلافِ نسخ[ترمیم]

1۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے پہلے مصر ع کے پہلے لفظ کو طَلَعَ کے بجائے اَشْرَقَ لکھا ہیاور اس کا ترجمہ بھی کیا ہے۔

اَشْرَقَ اَلبدرْ علینامن ثنّیاتِ الوداع

اِن پہاڑوں سے جو ہیں سوئے جنوب چودھویں کا چاند ہے ہم پر چڑھا (7)

(اس میں اَشْرَقَ کا مادہ ش رق ہے یعنی مشرق کو روانہ ہونا ‘ چمکنا ‘ طلوع کرنا)

2۔ ابومحمدعبدالمالک نے ’’ ہجرتِ خیرالبشر صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم‘‘میں مصرعّ ___ اَنْتَ شَرَّ فْتَ الْمَدِ ینْہ کی جگہ جئت شرفت المدینہ تحریر کیا ہے۔(8)

3۔ شاہ مصباح الدین شکیل نے یہ دو شعر بھی اسی موقع و محل کی مناسبت سے درج کیے ہیں:

اَشْرقَ اَلْبَدْرُ فِیْنَا وَاَ خْتَمَتْ مَنہُ الْبُدْرُ

ہمارے درمیان چودھویں کا چاند نمو دار ہو اہے۔ا س کی روشنی سے تمام چاندوں کی روشنیاں ماند پڑگئی ہیں۔

مِثْلُ حُسْنِکَ مَا رَاَیَْنا قَطّْ بَا وَجْہ السُّرُور

آپ جیسا حْسن والا ہم نے کبھی اور کہیں نہیں دیکھا۔آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کا جمالِ جہاں آرا دیکھ کر دل و نظر کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ (9)

ان اشعارِ مبارکہ کا پس منظر ____ نعت کی تاریخ میں ان اشعار کی تاریخی وروحانی قدرو قیمت ‘ غنائیت اور تاثیر کسی سے مخفی نہیں۔ان بابرکت اشعار کو پڑھتے ہی قاری حْسنِ تصور میں اْس ہجومِ نورو نز ہت اور جلوسِ یمن و سعادت میں جا شامل ہوتا ہے جہاں یہ مدینہ منورہ میں پڑھے گئے تھے ۔ یہ بابرکت اشعارِ تشکر‘ استقبالی ہیں جو مدینہ منّورہ کی مخدّرات ( پاک بیبیوں) اور بچیوں نے حضور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے موقع پرہی گائے تھے۔اس امر تک کسی سیرت نگار کو قطعاََ کوئی اختلاف نہیں ہے‘ البَتّہ یہ اشعار مدینہ منور ہ میں کس موقع پر گائے گئے تھے‘ اس میں بعض سیرت نگاروں کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کچھ نقطہ ہائے نظر ہیں۔

پہلا نقطۂ نظر ____ یہ اشعار بوقتِ ہجرت ‘مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منوّرہ میں حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی آمدِ پاک کے موقع پر پڑھے گئے تھے۔

اس خوشیوں بھرے موقع کا نقشہ مولانا ابو محمد عبدالمالک نے یوں کھینچا ہے۔

’’ مدینہ منورہ کی تاریخ کا یہ کتنا مبارک دن تھا۔۔۔۔ فاتحِ مدینہ تن تنہا اپنے ایک یارِ غار کے ساتھ شہر میں داخل ہو رہے ہیں ‘ ساتھ میں کوئی باڈی گارڈ نہیں ‘ کوئی مسلح فوج نہیں‘ کوئی ہتھیار نہیں‘ کمر میں علامتی طور پر صرف ایک تلوار تھی‘جس کا نام ماثور تھا۔ یہ تلوار نبی فاتح ? کو اپنے والد ماجد سے ورثے میں ملی تھی ‘ جس کو اپنے والدِ محترم کی نشانی سمجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم بہت عزیز رکھتے تھے۔۔۔ طیبہ کے بہت سے باسیوں نے تو ابھی تک دیکھا نہیں تھا‘مگر ان کے دل آپصلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کو پہچانتے تھے ‘ آمد سے قبل ہی اْنھوں نے اپنا سب کچھ نبیِ فاتح صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکے نام لکھ دیاتھا۔‘‘ (10)

حضرت براءؓ بن عازب نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ایک ارشادِ مبارک بیان فرمایا ہے جس کا ترجمہ ابو محمد عبدالمالک نے مختلف کتابوں کے حوالے سے لکھا ہے۔

’’ جب ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو لوگ گھروں سے نکلے۔گلیوں اور راستوں میں استقبال کے لیے موجود تھے۔بچے اور غلام مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر ب آ وازِ بلند کہہ رہے تھے ‘ جاء محمد صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمجاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم۔۔ اس سے حسین منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔ خواتین اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھی ایک دوسری کو بتا رہی تھیں کہ وہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم۔۔۔ وہ ہیں رسول صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم۔‘‘(11)

حضرت انس بن مالکؓ کی روایت بھی مدِّ نظر رہنی چاہیے جس کا شاہ مصباح الدین شکیل نے یوں ترجمہ پیش کیا ہے :

’’جس دن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ہمارے یہاں تشریف لائے اس سے خوب تر اور روشن دن میں نے ہر گز نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے قدم مبارک کی برکت سے ہمارے نصیب جاگے اور جمال جہاں آرا سے مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی۔ ‘‘(12)

کچھ سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ جب نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم مکّہ مکّرمہ سے ہجرت کر کے قباء میں تشریف لائے اور وہاں سے یثرب (موجودہ مدینتہ الرسول صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم)میں وارد ہوئے تو اْس وقت اْس شہرِ خنک میں بے انتہا رونق تھی۔ تمام لوگ(بچے ‘ خواتین اور مرد حضرات ‘ یکجاہو کر اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے استقبال کے لیے جمع ہو گئے تھے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اپنی اونٹنی( جس کا نام قصواتھا) پر سوار تھے۔آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکے پیچھے حضرت ابوبکر صدیقؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ ہر طرف عوام کا ہجوم تھا۔ لوگوں کی خوشی دیدنی تھی۔ اہلِ مدینہ نے اس دن سے زیادہ بارونق‘ بے انتہا روشن اور خوشیوں بھرا دن نہیں دیکھا تھا۔ ایک عظیم الشان جلوس کی صورت تھی۔ اس جلوس میں کچھ حبشی لوگ تلو ار زنی کے جوہر دکھا رہے تھے اور کچھ نیز ہ بازی کے کرتب دکھا کر لوگوں کو محظوظ کر رہے تھے۔ اس روز لوگ تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے یہ نعرے بھی لگا رہے تھے :

جاءَ رسول اللہ ‘ ___ جاء رسول اللہ

(اللہ کے رسول آگئے ___اللہ کے رسول آگئے)

اس بابرکت ‘پْر رونق اور خوشیوں بھرے ہجرتِ مدینہ کے مو قع پر اشعار طَلَعَ الْبَدرُ عَلَیْنَا۔۔۔پڑھے گئے تھے۔ (13)

1 ۔ کچھ سیرت نگاروں کے ہاں اس بابرکت موقع کی کچھ جزئیات کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ علاّمہ ملّا معین الواعظ الکاشفی الہروی سمیت بہت سے سیرت نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اشعار طلع البدر علینا۔۔۔۔ کو دف بجاکر پڑھا گیا تھا۔ (14)

2۔ مولانا‘ علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی مدینہ تشریف آوری کے وقت اہلِ علاقہ کے جوش و خروش کا ذکر کیا ہے۔ اْن کے بقول :

’’شہر قریب آگیا تو اہلِ مدینہ کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ پردہ نشین خواتین مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئیں اور یہ اشعار پڑھنے لگیں ‘‘:

طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘ (15)

3۔ علامہ فیاض الحس خورشیدی کے بقول :

’’حضورِ انور صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی سواری نزدیک پہنچی تو جوشِ مسرّت کایہ عالم تھا کہ پردہ نشین عورتیں چھتوں پر نکل آئیں او ر یوں گانے لگیں طلع البدر علینا۔۔۔۔۔‘‘ (16)

4۔ معروف علمی و روحانی شخصیت مولاناپیر سیّد محمد سعید الحسن شاہ کے لفظوں میں :

’’ انصار کی معصوم و نوخیز لڑکیاں پیارے لہجے اور پاکیزہ زبان سے نعتِ مصطفٰے( صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم) کے یہ شعر الاپ رہی تھیں : طلع البدر علینا۔۔۔۔۔‘‘ (17)

5۔ مولانا معراج الدّین نے بھی ایسا ہی نقشہ کھینچا ہے۔ اْن کے بقول :

’’چھوٹی چھوٹی بچیوں نے( حضور نبی اکر م صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی) آمد کے وقت نغمہ کہنا شروع کیا۔

طلع البدرعلینا۔۔۔۔۔‘‘ (18)

6۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اس موقع پر انصاری لڑکیوں کے گانے کیلہجے کا بھی ذکر کیا ہے :

’’انصار کی معصوم لڑکیا ں پیارے لہجہ اور پاک زبانوں سے اس وقت یہ چند اشعا ر گارہی تھیں‘‘۔

اشرق البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘(19)

7۔ عبدالقدوس انصاری کے بقول :

قصوا ء ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکی سواری کا نام ) مدینہ منّورہ کی شمالی سمت چلی تو جب ثنیّتہ الوداع کے پا س پہنچی تو فضاؤں میں انصار عورتوں کے خوشی اور تشکر بھرے ترانے گونجنے لگے : طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘(20)

8۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے بھی اس موقع کا کچھ نقشہ کھینچا ہے ‘ جس کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے :

’’ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم کے استقبال کیلئے جمع ہوئے ‘ اْنھوں نے اپنا بہترین لباس زیبِ تن کر رکھا تھا اور وہ پوری طرح مسلّح تھے‘ لڑکوں اور لڑکیوں نے دفیں سنبھالیں‘ وہ ایسی مسّرت اور خلوص سے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ‘ ہم آہنگ ہو کر ایک استقبالیہ نظم گا رہے تھے : طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘(21)

9۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے مخصوص ادبی رنگ میں اس بابرکت موقع کا نقشہ یوں کھینچا ہے :

’’۔۔۔۔۔و فورِ جذبات سے ان بلند بخت بچیوں کی آنکھیں چھلک پڑیں‘ وہ کب سے مہانِ ذی حشم کی راہ میں آنکھیں بچھائے کھڑی تھیں۔ دف کی آواز پر حروفِ سپاس ‘ گلاب بن کر مہک اْٹھے ‘ کائنات کا ذرّہ ذرّہ بنو نجّا ر کی اِن بچیوں کا ہم زبان بن گیا۔۔۔۔۔طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘(22)

معروف شاعر اور سیرت نگار نعیم صدیقی نے بھی ان اشعار کے گائے جانے کا موقع و محل واقعۂ ہجرت ہی قرار دیا ہے۔

’’ قْبا سے مدینہ تک دو رویہ انصار صفیں باندھے کھڑے تھے۔حضورصلی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے ننھیالی رشتہ داروں نے شوق سے ہتھیار لگائے۔ ہر طرف تحمید و تقدیس کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ عورتیں چھتوں پر جمع تھیں‘ اور یہ ترانۂ خیر مقدم اْن کے لبوں پر تھا۔۔۔۔طلع البدرْ علینا۔۔۔۔‘‘(23)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے یہ امر صاف ظاہر ہے کہ اْردو سیرت نگاروں میں سے بعض احباب کے نزدیک استقبالیہ اشعارِ تشکر ? طلع البدر علینا۔۔۔مدینہ کریمہ کی خواتین اور بچیوں نے اْس وقت گائے تھے ‘ جب ا?قائے کون و مکاں صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ہجرت کر کے مکّہ مکرمہ سے مدینہ منّورہ تشریف لائے تھے۔ بعض نے ان اشعار کے دف پر گائے جانے کا بھی ذکر کیا ہے اور بعض سیرت نگاروں نے اس عظیم الشان جلوس کے جوش و خروش اور اہلِ ہنر کے کرتبوں کا بھی نقشہ پیش کیا ہے۔

مندرجہ بالا شواہد اس حقیقت کو سامنے لاتے ہیں کہ پہلے نقطہ نظر کے مطابق ‘ اِن خیر مقدمی اور استقبالیہ‘ نعتیہ اشعار کے گائے جانے کا موقع ومحل حضور پور نور‘ سیّدِ عالَم کی ہجرتِ مدینہ ہے۔

دوسرا نقطۂ نظر[ترمیم]

اس رائے کے مطابق یہ اشعا ر ہجرتِ مدینہ کے موقع پر نہیں بلکہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر مدینہ منّورہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے داخلے کے وقت پڑھے گئے۔ان کے نزدیک ان اشعار کاموقع ومحل ہجرتِ مدینہ کو قرار دینا راوی کا سہو‘خطا اور نادرست ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دوسرے نقطۂ نظر کا بھی جائزہ لیا جائے اور صحیح صورتِ حال کا اندازہ لگایا جائے۔

حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم۹ ہجری رجب کے مہینے میں مدینہ منّورہ سے تبوک کیلئے روانہ ہوئے تھے۔ رو م کے عیسائی عسا کر سے مقابلہ کارِآساں نہ تھا۔ رومیوں کے پاس بے پناہ عسکری قوّت ‘ خوردونوش کے وسیع ذخائر اور دولت کی فراوانی تھی‘ جبکہ اس زبر دست عالمی قوّت سے ٹکرانے کا عزم رکھنے والے اہلِ ایمان کے ہاں بڑی تنگدستی تھی۔ طویل مدّت سے بارش نہ ہونے کے سبب عام قحط اور خشک سالی کا دور دورہ تھا۔ موسم بھی سخت گرمی کا تھا۔ تبوک تک کا سفر طویل بھی تھا اور بے حد دشوار گزار بھی۔ حضور پر نورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم،تیس ہزار مجاہدین صحابۂ کرام کے ساتھ اِس سفر پر روانہ ہوگئے تو مدینہ منّورہ میں رہ جانے والے بچّے اور خواتین و حضرات لشکرِ اسلام کیلئے انتہائی فکر مند بھی تھے اور بہت زیادہ دعا گو بھی۔ یہ لشکرِ اسلام تقریباََ پچاس دنوں کے بعد اللہ کی نصرت سے فتح مند اور ظفریاب ہو کر واپس پلٹا۔جب اہلِ مدینہ کو لشکر کی واپسی کی خبر ہوئی تو وہ بڑی شدت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی تشریف آوری کا انتظار کر نے لگے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سرکا ر ابد قرار صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی واپس تشریف آوری پر اہلِ مدینہ کو کتنی خوشی ہوئی ہوگی۔ اسی موقع سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کا استقبال کرنے والوں نے یہ اشعار پڑھے۔اس ضمن میں بعض حوالہ جات درج ذیل ہیں :

1۔ علامہ صفی الرحّمان مبارکپوری لکھتے ہیں:

’’اسلامی لشکر تبوک سے مظفر و منصور واپس آیا۔۔۔۔۔ خاتمۂ سفر پر جب دْور سے نبی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کو مدینہ کے نقوش دکھائی پڑے‘ تو آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم نے فرمایا ‘ یہ رہا طابہ اور یہ رہا اْحد۔ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبّت کرتا ہے اور جس سے ہم محبت کرتے ہیں۔ ادھر مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی آمد کی خبر پہنچی تو عورتیں ‘ بچّے اور بچّیاں باہر نکل پڑیں ‘ اور( اْنھوں نے ) زبردست اعزاز کے ساتھ لشکر کا اِستقبال کرتے ہوئے یہ نغمہ گنگنایا : طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘(24)

2۔ علّامہ احمد بن محمدّ بن ابی بکر قسطلانی ؒ نے مواہب لدنیہ میں ان اشعار کے پڑھے جانے کا تعلق غزوۂ تبوک ہی سے بتایا ہے۔ ان کے نزدیک مکّہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کے وقت ان اشعار کا تعلق بر بنائے وہمِ راویان ہے۔ اْنھوں نے بوقتِ ہجرت حضور پر نورصلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی مدینہ منّورہ تشریف آوری کے موقع پر ‘ پردہ نشین عورتوں کی طرف سے طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔ اشعار گائے جانے کا بھی ذکر کیا ہے لیکن فوراََ بعد طبری ‘ ابنِ بطال‘ ابنِ العراقی اور ابنِ قیّم کے اقوا ل درج کر کے یہ ثابت کرنے کی سعی کی ہے کہ ان اشعار کا اصل موقع ومحل ہجرت مدینہ نہیں بلکہ غزوۂ تبوک سے واپسی ہے۔ ان کے نقل کر دہ اقوال کا ترجمہ مولوی محمد عبدالجبار خان آصفی کے لفظوں میں یوں ہے :

’’____میں کہتا ہوں کہ مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے ا?نے کے وقت اِن اشعار کے پڑھنے کو بیہقی نے دلائل میں روایت کیا ہے اور ابوالحسن مقری نے اپنی کتاب الشمائل میں ابنِ عائشہ سے روایت کیا ہے اور طبری نے ( الریاض) میں ابو الفضل بن ا لحمجی سے ذکر کیاہے۔ اْنھوں نے کہا ہے کہ مَیں نے ابنِ عائشہ سے سْنا ہے۔ مَیں گمان کرتا ہوں کہ ابنِ عائشہ نے اپنے باپ سے ان اشعار کی روایت کی ہے ‘ پس ان شعروں کو ذکر کیا اور محب الطبری نے کہا ہے کہ اس حدیث کو حلوانی نے شیخین کی شرط پر روایت کیا ہے۔ طبری کا کلام ختم ہوگیا۔اور ثنیۃ الوداع کا نام اس لیے ثنیۃ الوداع رکھا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم نے اپنے بعض سفروں میں کہ و ہ ( غزوۂ تبوک ہے) بعض مقیمانِ مدینہ کو وہاں رخصت فرمایا ہے اورکہا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم نے اپنے بعض لشکروں کی ثنیۃ الوداع تک مشایعت کی ہے اور اس لشکرکو اس کے پاس رخصت کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مدینہ سے مسافر ثنیۃ الوداع تک قدیم عہد میں مشایعت کیا جاتا تھا اور اْس کے پاس رخصت کیا جاتا تھا اور قاضی عیاض نے اس ا?خر قول کو صحیح کہاہے اور اس پر انصار کی عورتوں کے قول کے ساتھ استد لال کیا ہے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم مدینہ میں تشریف لائے تھے ‘ انصار کی عورتوں کا قول یہ ہے : طلع البدرْ علینا مِن ثنیّاتِ الوداع۔ اِس قول نے اس پر دلالت کی ہے کہ ثنیۃ الوداع قدیم اسم ہے‘ اور ابنِ بطال نے کہا ہے کہ ثنیۃ الوداع نام نہیں رکھا گیا ہے مگر اس لیے کہ اہلِ مدینہ حجاج اور غازیوں کی مشایعت ثنیۃ الوداع تک کیا کرتے تھے اور اْن کو اْس کے پاس رخصت کیا کرتے تھے اور ثنیۃ الوداع کی طرف آنے والے کی ملاقات کے وقت نکلا کرتے تھے۔ ابنِ بطال کا قول ختم ہوگیا۔

شیخ الاسلام الولی بن العراقی نے کہا ہے کہ یہ کل اقوال مردو د ہیں۔ صحیح بخاری اور سنن ابی داوؒ د اور ترمذی میں سائب بن یزید سے روایت ہے ‘ کہا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم تبوک سے تشریف لائے‘ آدمی مدینہ سے نکلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ثنیۃ الوداع کے مقام سے ملاقات کرتے تھے۔ ابن العراقی نے کہا ہے کہ یہ قول اس باب میں صریح ہے کہ ثنیۃ الوداع شام کی طرف سے ہے ( نہ مکّہ کی طرف سے۔ اس سے ابنِ بطال کے کلام کا رد ظاہر ہوگیا‘ جبکہ میرے والد حافظ عبدالرحیم نے ترمذی کی شرح میں ابنِ بطال کے قول کو نقل کیا۔ اس لیے کہا ابنِ بطال کا قول غلط ہے‘ اور ابنِ عائشہ کا کلام معضل ہے۔

اس کے ساتھ حجّت قائم نہیں ہوتی ہے۔ ابنِ العراقی کا قول ختم ہو گیا۔

اور ابنِ العراقی سے اس قول کے غلط ہونے کی طرف ا بنِ القیّم نے (ہدی النبوی) میں سبقت کی ہے اور کہا ہے کہ بعض راویوں کی یہ غلطی ہے اس لیے کہ ثنیۃالوداع نہیں ہے مگر شام کے ناحیہ سے۔مکّہ سے آنے والا شخص ثنیۃ الوداع کو نہیں رکھتا ہے اور اس کی طرف نہیں جاتاہے مگر جس وقت مکّہ سے آنے والا شام کی طرف متوجہّ ہوتا ہے۔ ثنیّات الوداع کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کا تشریف لانا واقع نہیں ہْوا ہے‘ مگر اْس وقت کہ آپ تبوک سے آئے تھے۔ ابنِ القیّم کا قول ختم ہوگیا۔۔۔۔۔‘‘(25)

علامہ احمد بن محمد بن ابی بکر قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں جب خود غزوۂ تبوک پر قلم اْٹھایا تو ان اشعار کا موقع و محل بھی بتا دیا :

’’_____رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم مدینہ کے قریب پہنچے تو آدمی مدینہ سے باہر نکلے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم سے ملاقات کریں اور عورتیں اور لڑکے اور لڑکیاں اور باندیاں یہ اشعار پڑھ رہی تھیں ‘‘ :

طلع البدرُ علینا مِنْ ثَنِیّا تِ الودَاع۔۔۔۔۔‘‘(26)

وہ ان اشعار کے حوالے سے اپنی تحقیقات کا نچوڑ بھی تحریر کرتے ہیں :

’’۔۔۔۔ثنیہ ‘ پشتہ یا ٹیلہ کا راستہ یا پہاڑ یا پہاڑ کا راستہ ‘ ثنیاتِ وداع مدینہ منورہ کے قریب وہ ٹیلے ہیں ‘ جہاں مسافروں کو رخصت کرتے ہیںیا مسافروں کا استقبال کرتے ہیں۔ ( طلع البدرْ علینا کے حوالے سے ) ہم نے آگے بیان کر دیا ہے کہ بعض راویوں نے وہم کیا ہے اور کہا ہے کہ عورتیں اور لڑکیوں وغیرہ نے یہ اشعار نہیں پڑھے تھے مگر اس وقت کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم مکّہ معظمہ سے مدینہ منّورہ تشریف لائے تھے۔راوی کا یہ وہم ظاہر ہے اس لیے کہ ثنیّات الوداع شام کے ناحیہ سے ہیں۔ مکّہ سے مدینہ آنے والا شخص ان ثنیّات کو نہیں دیکھتا ہے مگر جس وقت شام کی طرف متوجہ ہوتا ہے‘ جیسا کہ میں نے اْس کو آگے ذکر کیا ہے۔‘‘(27)

3۔ ضیاء الامّت‘ حضر ت علامہ پیر محمد کرم شاہ الا زہری ? نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف ‘ ’’ضیاء النّبی‘‘ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکی تیسری جلد میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی مکّہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کی ہجرت کا ذکر بہت تفصیل اور بہت محبت سے کیا ہے۔ ان کا لفظ لفظ دامنِ دل کھینچتا ہے۔میدانِ تحقیق میں اْن کی احتیاطیں خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اْنھوں نے ہجرت کے اس باب میں طلع البدرْ علینا۔۔۔۔ اشعار کا ذکر تک نہیں کیا بلکہ اْنھوں نے ضیاء النبی کی چوتھی جلد میں غزوۂ تبوک کے واقعات لکھتے ہوئے‘ اِن اشعار کو درج کیا ہے۔اْنھوں نے حضرت سائب بن یزیدؓ کا قول اپنے لفظوں میں یوں بیان کیا ہے :

’’جس روز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ‘ تبوک سے واپس تشریف لائے تو مَیں ( حضرت سائب بن یزیدؓ ) بچوں کے ساتھ نبی کریم علیہ الصّلٰو ۃ و التسلیم کی پیشوائی کیلئے ثنیتہ الوداع تک آیا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلّم نے شہر مدینہ میں قدم رنجہ فرمایا تو مدینہ کی عورتیں ‘ بچّے اور بچّیاں یہ اشعار گاتے ہوئے حضورصلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کا اِستقبال کرنے کیلئے نکل آئی تھیں اور دوسری پردہ دارخواتین اپنے مکانوں کی چھتوں پر اکٹھی ہوگئیں۔ وہ سب یہ اشعار گارہی تھیں : طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘(28)

پیر محمد کرم شاہ الازہری کے اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ان اشعار کے گائے جانے کا محلِ وقوع غزوہ تبوک سے واپسی ہے‘ نہ کہ موقعِ ہجرت۔ دونوں نقطہ ہائے نظر کا جائزہ :اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں طرف جیّد علمائے کرام کی آراء ہیں اور ہمارے ہاں تو اتر سے ان اشعار کا موقع و محل عموماََ ہجرت کے حوالے ہی سے بیان کیا جاتا ہے۔ ابنِ بطال اور ابنِ قیّم وغیرہ نے اشعار کے اِس موقع و محل کو راویوں کا ’’وہم ‘‘ اور ’’خطا‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ثنیۃ الوداع ( وداع کی گھاٹی) اْس سمت واقع ہی نہیں جہاں سے مکّہ سے آنے والے آتے ہیں بلکہ اْس سمت واقع ہے‘ جہاں شام کے مسافر آتے ہیں لیکن یہاں یہ امر قابلِ غور ہے کہ وداع کی گھاٹی جیسے شام کی سمت ہے دوسری سمتوں میں واقع کیوں نہیں ہوسکتی ؟ اگر دیگر سمتوں میں بھی ایسی ہی گھاٹیاں ہوں تو اْن کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ عقل اس امر کو ماننے میں متا مّل ہے کہ اہلِ مدینہ مسافر کو صرف شام کی سمت ہی کچھ دْور تک چھوڑ نے جاتے ہوں اور دیگر سمتوں میں واقع وداع کی گھاٹیوں کی طرف نہ جاتے ہوں۔

داخلی شہادت : مندرجہ بالا شعر میں ترکیب ثنیۃ الوداع( وداع کی گھاٹی ) نہیں بلکہ ثنیات الوداع ( وداع کی گھاٹیاں)استعمال ہوئی ہے۔ یعنی مہمان کورخصت کرنے ( یا خوش آمدید کہنے) کی گھاٹیاں۔ یہاں ثنیۃ کا صیغۂ جمع ثنیات استعمال ہْوا ہے جو معنوی وسعت کا ضامن اور داخلی شہادت کی خوبصورت مثال ہے‘ جس سے ثابت ہوتاہے کہ وداع کی گھاٹی ایک نہیں بلکہ ایک سے زیادہ تھیں ‘ اسی لیے شعر میں ثنیہ کی جمع ثنیات استعمال ہوا ہے۔شعر کی اسی داخلی شہادت سیثنیتہ الوداع کے محض ایک ہی جگہ واقع ہونے اور دوسری سمتوں میں واقع نہ ہونیکی تغلیط بخوبی ہوجاتی ہے۔

تفصیل ثنیتہ الوداع :ابو محمد عبدالمالک نے اپنی تحقیقی تصنیف’’ ہجرتِ خیرالبشر صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم‘‘ میں مدینہ منورہ کے ثنیات کا ذکر اپنے مخصوص تحقیقی انداز میں کیا ہے وہ دکتور محمد الیاس کی کتاب تاریخِ مدینہ کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

’’ لغت کے اعتبار سے پہاڑوں کے درمیان والے راستے کو ’’ ثنیتہ‘‘ کہتے ہیں ‘ مدینہ منورہ میں دو ثنیہ مشہور ہیں‘ ایک ثنیہ قباء4 کی طرف( یعنی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکے روضہ مطہرہ سے جنوبی سمت) تھا‘ قبا کے راستے سے مکّہ مکرمہ آنے جانے والے اس جگہ سے گزرتے تھے‘ اس کی جگہ قبا کے قلعے اور مسجد جمعہ کے قریب قریب تھی‘ آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکا استقبال کرتے ہوئے بنو نجّار کی بچیوں نے ’’ طلع البدر علینا ‘‘ کا گیت اسی جگہ پڑھا تھا‘ دو سرا ثنیہ شمالی جانب تھا‘ خیبر ‘ تبوک اور شام جانے والے یہاں سے گزرتے تھے‘ پندرہویں صدی ہجری کے آغاز میں سڑک کی توسیع ہوئی تو یہ ثنیہ اسی میں آگیا ‘ یہ شارع سید الشہد اءؓ اور شارع ابوبکرؓ کے سنگم پر واقع تھا ‘ جس کا فاصلہ مسجد نبوی کے شمال مغربی کونے سے تقریباََ ۰۵۷ میٹر ہے‘ا س پر ایک مسجد بنی ہوئی تھی‘ جو ’’ مسجد ثنیتہ الوداع ‘ ‘ کے نام سے مشہور تھی۔جس جگہ پہ بنو نجار کی بچیوں نے اشعار پڑھ کر آقا صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکا استقبال کیا تھا‘ اس جگہ پر ایک مسجد بنا دی گئی تھی‘ اس مسجد کا نام ’’ مسجد بنات بنو نجا ر‘‘ تھا۔ مدتوں وہ مسجد قائم رہی ‘ مگر اب وہ مسجد کافی عرصہ سے منہدم ہو چکی ہے‘ اس کا محل وقوع مسجد جمعہ کے سامنے کی طرف تھا۔(29)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ ثنیتہ الوداع مدینہ منورہ میں محض ایک ہی نہیں تھا۔

تیسرا نقطۂ نظر[ترمیم]

اس رائے کے مطابق یہ خیر مقدمی اشعارِ تشکر طَلَعَ الْبَدرُ عَلَیْنَا۔۔۔۔۔ کے ایک جلوس و ہجوم کی شکل میں گائے جانے کا محلِّ وقوع مکّہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا موقع بھی تھا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّمکی غزوۂتبوک کے وقت واپسی کے وقت بھی یہی اشعار ایسے ہی خیر مقدمی جلوس کی طرف سے دوبارہ گائے گئے تھے۔

4۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ نے بھی علامہ احمد بن محمد بن ابی بکر قسطلانی کا منہاج اختیار کیا ہے۔اْنھوں نے ہجرت کے وقت بھی ان اشعار کا ذکر کیا ہے اور غزوۂ تبوک کے موقع پر بھی۔ وہ ہجرت کے موقع کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’ مخدّراتِ قبائلِ انصار‘ بر سرِ کو چہ ہا و بر درسراہا و بربا مہا برآمدہ می خواند ند طلع البدرْ علینا من ثنیّات الوداعٖ۔۔۔۔۔ ‘‘(30)

یعنی انصاری قبیلوں کی پرد ہ نشین خواتین گھروں سے باہر گلی کوچوں اور گھروں کی چھتوں پر پڑھ رہی تھیں ‘ طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔ پھر جب الشیخ عبدالحق محدّث دہلوی نے غزوۂ تبوک سے واپسی کا ذکر کیا تو وہاں بھی انھی اشعار کا موقع ومحل بتایا اور لکھا:

’’چوں نزدیک شد آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم بمدینہ طیبّہ و خواست کہ در آید بیرون آمدند اہلِ آں برائے پیشوائیِ وے وبیرون ا?مدند زناں و خرداں و د ختراں و گفتند طلع البدرْ علینا۔۔۔۔۔‘‘(31)

محدث دہلوی چونکہ انہی اشعار کا موقع ومحل آمد بر وقتِ ہجرت لکھ چکے تھے اور غزوہ? تبوک کے حوالے سے بھی یہی اشعار لکھ رہے تھے لہذا اْنھوں نے اس کی وضاحت بھی خود ہی تحریر کی:

’’ بعضے گفتہ اند کہ دروقتِ قدوم آنحضرت بود بمدینہ از ہجرت چنا نکہ گذشت و صاحبِ مواہب لدنیہ گفتہ کہ ایں قول وہم است و خطا است زیرا کہ ثنیات الوداع درنا حیۂ شام است نمی بیند آں ر ا قاوم از مکّہ بسوئے مدینہ۔۔۔۔۔‘‘(32)

یعنی بعض کہتے ہیں کہ جس وقت آں حضرت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم نے ہجرت کے وقت مدینہ منّورہ میں قدم رنجہ فرمایا ‘ (اْس وقت یہ شعر طلع البدرُ علینا) پڑھے گئے۔ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ‘اور صاحبِ مداہب لدنیہ نے کہا کہ یہ قول وہم ہے اور غلطی ہے کیونکہ ثنیّات الوداع ناحیۂ شام ( شام کی طرف ) ہے اور اْسے مسافر نہیں دیکھتا ہے جب وہ مکّہ سے مدینہ کی طرف آتا ہے۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت شیخ عبدالحق محدّث دہلوی یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان اشعار کا موقع و محل ہجرت اور تبوک دونوں جگہ بیان ہوا ہے اور مواہب الدنیہ کی تحریر کہ صرف تبوک سے واپسی پر ہی پڑھے گئے ‘ دیگر قول وہم است و خطا است بھی نقل کردیا لیکن عملاََ خود دونوں مقاما ت پر ذکر کرنا‘ ثابت کرتا ہے کہ وہ دونوں مواقع ( ہجرت 228تبوک سے واپسی )پر ان اشعار کے پڑھے جانے کو درست قرا ردیتے ہیں۔ اسی نکتے کی طرف تاجدارِ گولڑہ شریف ‘ حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ ؒ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اْنھوں نے مدارج النبوّ ت کے حاشیے میں تحریر فرمایا کہ ابنِ قیّم وغیرہ کا یہ خیال کہ ہجرت کے وقت مدینہ میں ان اشعار کا پڑھا جانا وہم ہے‘ درست نہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

’’ قولہ ایں وہم است ‘ وایں قولِ وہم درمواہب ازابن قیّم وغیرہ است مگر صحیح نیست‘ ردکرد ہ است ایں ر ا ولی الدین العراقی ‘ کذافی الزرقانی‘ زیرا کہ ثنی? صرف سوئے جہت شام ازمدینہ طیبّہ نیست بلکہ ثنیات بدیگر اطراف نیز موجود اند کہ جمع لفظ ثنیّات بریں شاہد است‘ پس قول کہ وقتِ ہجرہ ایں اشعار گفتند نیز صحیح است و عرب ہر مقامِ وداع راثنیہّ گویند‘‘ (33)

یعنی یہ کہنا کہ یہ وہم ہے اور یہ قولِ وہم ابنِ قیّم وغیرہ کا ہے جو مواہب میں ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اسے رد کر دیا گیا ہے ‘ یہ ولی الدّین عراقی جیسا کہ زرقانی میں ہے کیونکہ ثنیۃ صرف مدینہ منّورہ سے شام کی سمت ہی میں نہیں بلکہ دیگر اطراف میں بھی ثنیات موجود ہیں (شعر میں استعمال کیا گیا ) لفظ ثنیات اس پر شاہد (گواہ) ہے۔ لہذا یہ قول کہ وقتِ ہجرت یہ اشعار پڑھے گئے‘ یہ قول بھی صحیح ہے اور عرب ہر مقامِ وداع کو ثنیۃکہتے ہیں۔

حضور پیر صاحب تاجدارِ گولڑہ شریف کے علم و فضل سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟ لہذا یہی ماننا پڑے گا کہ ان اشعار کا موقع ومحل ہجرت والی روایت کے مطابق بھی درست ہے اور غزوۂ تبوک سے واپسی والی روایت کے مطابق بھی درست ہے‘ لہذا یہی قرار پاتا ہے کہ خیر مقدمی اشعارِ تشکر۔۔۔۔ طَلَعَ الْبَدرُعَلَیْنَا سب سے پہلے مدینہ منورہ کے باسیوں نے اْس وقت گائے جب سرورِ کون و مکاں ‘ حبیبِ رحماں صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں تشریف لائے‘ اور یہی نعتیہ اشعارِ تشکر اْس وقت بھی اہلِ مدینہ نے جلوس کی شکل میں پڑھے جب آپ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم غزوۂ تبوک سے واپس مدینہ منورہ میں تشریف لائے۔ اقولُ : اِس خاکسا ر کی رائے ہے کہ اگر اس امر پر غور کر لیا جائے کہ کیا ایک ہی طرح کا گیت دو مختلف( یا دو سے بھی زیادہ ) مواقع پر پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ تو سارا مسئلہ ہی حل ہوسکتا ہے۔ یہ دینی و ملّی نعتیہ اشعار کس خوش نصیب شاعر کے ہیں‘ راقم کو معلوم نہیں‘ لیکن ان اشعار کی تازگی تو صدیوں بعد آج بھی قائم ہے۔ ا س نعتیہ گیت میں اللہ جلّ شانہ ‘ کی حمد بھی ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کی نعت بھی ‘او ر اْن کا عشق بھی۔اس میں ادبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم بھی ہے اوربے انتہا شعری خوبیاں بھی۔ اس میں روانی بھی ہے اور ترنّم بھی۔ یہ خیر مقدمی اشعار تشکر صدیوں سے اسی ذوق و شوق سے گائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے ثنا خواں حضرات ان نعتیہ اشعار کو دنیا کے چپے چپے میں مسلسل سْنا کر عشاقِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے قلوب و اذہان کو منور کر رہے ہیں۔ ان شا ء4 اللہ قیامت تک ثنا خوانانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ان با برکت اشعار کو یونہی پڑھتے رہیں گے۔ اس سیاق و اسباق میں اور مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں ان اشعار کے سْنائے جانے کا محلِ وقوع محدود نہیں رہتا ‘اگر یہ نعتیہ اشعار ‘ یہ گیت اور یہ روحانی نغمہ ہجرت کے واقعہ کے بعد غزوۂ تبوک کے موقع پر بھی پڑھا گیا ہے تو اس میں وہم یا تعجّب کی کیابات ہے؟مندرجہ بالا مباحث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم کے ظاہری زمانۂ حیات میں بھی ان اشعار کا موقع و محل وقتِ ہجرت بھی ہے اور تبوک سے واپسی بھی۔ عربوں کا حافظہ اظہر من الشمس ہے۔ کچھ مخصوص علوم اْن کی قوتِ حافظہ ہی کے مرہونِ منت ہیں جیسے علم الانساب ‘ علم الرجال‘ روایت و درایت کی بحثیں وغیرہ۔عرب اپنے تاریخی اشعار ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اور ہر مناسب موقع پر انھیں پڑھتے ہیں۔ اْن کے صدیوں سے جاری اس اْصول کے پیشِ نظر بھی یہ اشعار ہجرت کے وقت بھی پڑھے گئے اور غزوۂ تبوک سے واپسی کے وقت بھی کہ دونوں کا اصل موقع حضور پر نور صلی اللہ علیہ والہٖ وسلّم کی بارگاہ میں ہدیۂ خوش آمدید پیش کرنا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف تاجدارِ گولڑہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے ’’نیز صحیح است‘‘ فرما کر رہنمائی فراہم کی ہے کہ ان نعتیہ اشعار کا اصل موقع ومحل ہجرت بھی ہے اورغزوۂ تبوک سے واپسی کے وقت بھی ان کا گایا جانا صحیح ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں تمام اشکال بھی دور ہوجاتے ہیں اور مختلف روایات میں کوئی بْعد و تضادبھی نہیں رہتا۔


حوالہ جات و حواشی[ترمیم]

۱۔نور بخش توکلی علامہ ،سیر تِ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم، لاہور : اوصاف القرآن پبلی کیشنز ، ۲۰۱۱ ع___ص۱۱۲

۲۔ محمد اشرف،پروفیسر ڈاکٹر ،سیرتِ خیرالانام صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم، لاہور : مکتبہ القریش ۱۹۹۹ع___ص ۹۹

۳۔ طاہر القادری،ڈاکٹر ،سیرت الرسول( صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم) جلد پنجم ،لاہور : منہاج القرآن پبلی کیشنز ،بارِ اوّل ، ۱۹۹۸ع ___ص۶۰۳

۴۔عبدالمصطفیٰ اعظمی ،سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم، لاہور : رومی پبلی کیشنز ،س ن __ ص۱۴۲

۵۔ محمد رفیق مولانا ،منتخب عربی اشعار ،لاہور : مکتبہ قرآنیات ،۲۰۱۴ ع ، ____ص ۶۱

۶۔ رشید محمود راجا ، نعتِ سرکار صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ایک سرسری جائزہ ،( مضمون مشمولہ ) ماہ نامہ نور الحبیب ،بصیر پور شریف ،شمارہ مئی ۲۰۱۴ ع ___ص ۸۳

۷۔محمدسلیمان منصورپوری،قاضی،مولانا،رحمۃللعالمین،جلداوّل،لاہور:عبداللہ اکیڈمی۲۰۱۲ع ___ ص ۱۰۷

۸۔عبدالمالک ،ابو محمد ، ہجرتِ خیر البشر صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ،کراچی:مکتبہ العرب،سعید آباد ،طبع دوم۱۴۳۴ھ ___ص۱۷۰

۹۔ مصباح الدین شکیل شاہ ،سیرتِ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ،جلد دوم،کراچی : پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ،سن ___ص۴۰

۱۰۔عبدالمالک ، ابو محمد، ہجرتِ خیر البشر صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم،کراچی : مکتبہ العرب،سعید آباد، طبع دوم۱۴۳۴ھ ___ص ۱۷۱

۱۱۔ ایضاََ ___ص۱۷۲

۱۲۔ مصباح الدین شکیل شاہ ،سیرتِ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم،جلد دوم ،___ص۴۱

۱۳۔معین واعظ الکاشفی الہروی ، مْلّا، معارج النبوّت ،جلد سوم ،لاہور : مکتبہ نبویّہ ۱۹۷۸ع ___ ص۲۵

۱۴۔ایضاََ____ص ۲۵

۱۵۔عبدالمصفیٰ اعظمی،علامہ،سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ الہٖ وسلم،الہ آباد:نیشنل آرٹ پرنٹرس ۱۹۷۸ ع____ص۱۸۴

۱۶۔ فیاض الحسن خورشیدی،علامہ ،سیرتِ رسولِ عربی ،لاہور : اوصاف القرآن ، ۲۰۱۱ع___ص۱۱۲

۱۷۔ محمد سعید الحسن شاہ ،سیّد ‘ خاندانِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم ،فیصل آباد : مکتبہ نوریہ رضویہ،۲۰۰۵ع ____ص۲۵۳

۱۸۔ معراج الدّین،الحاج ،مولانا ،محمدّ سیّد الکونین،لاہور : مطبع علی پرنٹر ز۱۹۹۴ع____ص۱۱۴

۱۹۔ محمد سلیمان منصور پوری، قاضی، مولانا ‘ رحمۃللعالمین ،جلد۱لاہور: عبداللہ اکیڈمی۲۰۱۲ع___ص ۱۰۷

۲۰۔ عبدالقدوس انصاری ،ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم( مضمون ‘مشمولہ ) نقوش رسول نمبر، جلد نمبر ۸ ____ص۳۲۴

۱۲۔محمد حمیداللہ،ڈاکٹر،محمدرسولاللہ صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم(ترجمہ از نذیر احمد ) مشمولہ نقوش،رسول نمبر جلد۲ ____ ص۳۲۴

۲۲۔محمدّ طاہر القادری، پروفیسر ڈاکٹر ،سیرۃالرسول صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم،جلد پنجم لاہور : منہاج القرآن پبلی کیشنز ، ۱۹۹۸ ع____ص۶۰۲

۲۳۔ نعیم صدیقی ،سیدِ انسانیت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم، لاہور : الفیصل ،ناشران و تاجرانِ کتب ، بارنہم ۲۰۰۷ ع ____ص ۸۲

۲۴۔صفی الرحمان،علامہ مبارکپوری،الرّحیق المختوم لاہور : المکتبہّ السّلفیہ ، طبعِ جدید۱۹۹۵ ع____ ص۵۸۸

۲۵۔ احمد بن محمد بن ابی بکر قسطلانی، علامہ ،مواہب لدنیہ، ( ترجمہ سیرۃ محمدّ یہ از مولوی محمد عبدالجبّار خاں آصفی ، حیدر آباد دکن (بھارت) : مکتبہ العلمیہ س ن___ص۲۰۲

۲۶۔ ایضاََ_____ص۴۲۹

۲۷۔ ایضاََ_____ص۲۹۴

۲۸۔ محمد کرم شاہ الا زہری،علامہ پیر،ضیاء النبی صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلّم، جلد چہارم ،لاہور:ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ۱۴۱۸ھ _____ص۶۲۸

۲۹۔ عبدالمالک ابو محمد ، ہجرت خیر البش،کراچی : مکتبہ العرب ‘سعیدآبا،۱۴۳۴ھ ____ص۱۷۰

۳۰۔ عبدالحق محدّث دہلوی ،الشیخ ؒ ،مدارج النبوّت ( از افادات حضرت پیر مہر علی شاہ ؒ ،گولڑہ شریف) جلد دوم ،چشتیاں ( ضلع بہاول پور ) : کتب خانہ مہریہ ____ ص۴۸

۳۱۔ ایضاََ____ص۲۵۸

۳۲۔ ایضاََ____ص۲۵۸

۳۳۔ ایضاََ____ص ۲۵۸


مزید دیکھیے[ترمیم]

نعت رنگ | کاروان ِ نعت | فروغ نعت


نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25