شاہ محمد ولی الرحمن ولی نعمانی القادری ۔ منظر عارفی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Manzar Arafi.jpg

مضمون نگار: منظر عارفی، کراچی

مطبوعہ : نعت رنگ ۔ شمارہ نمبر 27


ABSTRACT[ترمیم]

Introduction of Wali's poetry pertaining to devotional/Naatia text has presented with text of certain Natia poetry. The poetry relates to traditional poetic trends besides Sufi concept of Haqiqat-e-Muhammadia. The writer of article has pointed out some texts with his reservations and has invited attention of Critics to judge the text of poetry in the light of facts and norms of expression of ideas in such a sacred poetic realm.

شاہ محمد ولی الرحمن ولیؔ نعمانی القادری ۔ ایک تعارف[ترمیم]

حضرت مولوی شاہ محمد ولی الرحمن نعمانی کاتخلص ’’ولیؔ ‘‘ہے۔ چشتی الجمالی النظامی القادری مشرب سے تعلق ہے۔آپ کے والدِ گرامی کانام مولاناشاہ محمدخلیل الرحمن ہے جو حضرت چہار قطب ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ کے اولاد اور سجادہ نشین ہیں۔والد گرامی بھی شاعر تھے اور ’’خلیل‘‘تخلص کرتے تھے۔ آپ کی سکونت قصبہ سرساوہ ضلع سہارن پور یوپی تحصیل نکوڑ میں تھی۔

ولیؔ نعمانی القادری کی ولادت۱۳۰۳ھ (یعنی ۱۸۸۳ء)میں مذکورہ مقام پر ہوئی۔کیوں کہ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ کوفی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے اس لیے آپ نعمانی ہیں۔ ہندوستان میں آپ کا سلسلۂ نسب وسلسلۂ طریقت شیخ الشیوخ قطب الاقطاب، قطبِ عالم مولانا قطب جمال الدین ہانسوی قدس سرہ العزیز (خلیفۂ اعظم حضرت بابا فرید الدین گنجِ شکر اجودھنی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے) ۔آپ کے جد امجد حضرت مولانا قطب جمال الدین احمد ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے مشنِ طریقت جوسلسلۂ عالیہ چشتیہ جمالیہ کے نام سے موسوم ہے جاری ہے۔اسی نسبتِ خاص کے تحت آپ اولاد وسجادہ نشین حضرت چہار قطب ہانسوی (رحمۃ اللہ علیہ)کہلائے۔

ولی الرحمن نعمانی القادری نے ظاہری تعلیم کی تکمیل جے پور میں مولوی سلطان الدین احمد (چشتی جمالی نظامی) المتخلص ’’مبینؔ نارنولی‘‘سے حاصل کی۔مولاناموصوف علامۂ عصر ،معجز بیان، قادر اللسان، ادیبِ ہمہ داں ،شاعرِ خوش بیان اورصاحبِ دیوان تھے ۔انہی علامۂ عصر سے ولی الرحمن نعمانی نے عربی، فارسی،صرف و نحو،فلسفہ، منطق ، فقہ ،تفسیر ، علم الکلام وغیرہ بہت ہی کم عرصے میں حاصل کر کے دستار فضیلت پائی اور ہندوستان کے بلند پایہ علمام میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

شاعری آپ کو ورثہ میں ملی تھی، کم عمری ہی میں نہایت بلند اور بہتر اشعار کہنے لگے تھے۔ جنہیں دیکھ کر استادِمحترم جناب سلطان احمد جمالی المتخلص مبینؔ بے حد پسند فرماتے تھے ۔لیکن آپ نے ان اشعار کی اصلاح نہیں فرمائی بلکہ ان اشعار کو اپنے پیرومرشد کی خدمت میں بغرضِ اصلاح روانہ فرما دیا حضرت مرشدِ گرامی نے بھی آپ کے کلام کو بے حد پسند فرمایااورمناسب اصلاح فرمائی۔اور پھر کچھ عرصے بعد یہ سلسلۂ اصلاح ’’اب ضرورتِ اصلاح نہیں رہی‘‘کہہ کر ختم فرمادیا،یوں ولی الرحمن نعمانی ابتدائے زمانہ ہی میں فارغ الاصلاح ہو گئے۔

جے پور سے ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد آپ اپنے وطن سرساوہ ضلع سہارن پور اپنے والد ماجد (جو آپ کے مرشدِ برحق بھی ہیں)کی خدمت میں حاضر ہوئے اب والدِ گرامی نے آپ کو تزکیۂ و تصفیۂ باطن کی طرف متوجہ فرمایا۔اورذکر وشغل کی تعلیم دی۔اور اپنی قلبی توجہ سے آپ کے قلب کوروشن و منور فرمایا۔جب یہ تعلیم بھی مکمل ہوچکی تو آپ کے مرشدِبرحق (والدِ گرامی) نے اپنے وصال سے قبل آپ کو تمام کمالِ نعمتِ باطنی سے مالامال فرماکر اپنا جانشین وقائم مقام مقرر فرمادیا۔اس طرح آپ اپنے مرشدِ برحق کے دستِ مبارک سے ’’خرقۂ کاملہ‘‘زیبِ تن فرماکر طالبانِ حق کے رہبروہادی ہو گئے۔

حضرت ولی الرحمن نعمانی القادری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بھرپورزندگی گزاری اوربحکمِ مالک الملک ۲۷؍ذی الحجہ ۱۳۸۰ھ (یعنی ۱۹۶۰ء)کو سفرِآخرت پرروانہ ہوگئے۔

آپ کے تعارف نگار نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آپ پاکستان آئے یا نہیں لیکن امکان یہی ہے کہ آپ کاوصال اپنے وطن سرساوہ ضلع سہارن پور یوپی بھارت ہی میں ہوا۔اور وہیں آپ کی آخری آرام گاہ بنی۔آپ نے اپنے وصال سے دو ہفتے قبل اپنے چھوٹے صاحبزادے خواجہ فضیل الرحمن چشتی جمالی نظامی مدظلہ العالی کو خانقاہ شریف عالی جمالیہ میں بہ حالتِ بخار جوکچھ ارشاد فرمایا اگر اس کو لکھاجائے تو ایک معرکۃ الاراء کتاب و جودمیں آجائے۔ آپ کے تعارف نگار نے ان ارشادات کے صرف چار نکات نقل فرمائے ہیں جو من و عن پیش کیے جاتے ہیں۔آپ نے اپنے فرزند اصغر سے ارشاد فرمایا:

۱۔۔۔شریعت میں نماز بغیر حضورِ قلب کے ہوجاتی ہے مگر طریقت میں’’لاالٰہ عبادۃ الابحضورِ قلب ‘‘یعنی بغیر حضورِقلب کے نماز نہیں ہوتی۔اس پر گامزن رہنا۔

۲۔۔۔حقیقت ،انبیاعلیہم السلام کے دل پر وارد ہوتی ہے اوروہ مشاہدہ فرماتے ہیں اس حقیقت کی تین قسمیں ہیں’’حقیقتِ انسانی‘‘’’حقیقتِ محمدی‘‘اور’’حقیقتِ حق‘‘۔

۳۔۔۔کلمۂ شریعت،لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے مگر کلمۂ معرفت شریعت کے ساتھ ساتھ ضروری ہے جیسا کہ موت وحیات، رات ودن وغیرہ لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔اسی طرح کلمۂ شریعت و کلمۂ معرفت لازم وملزوم چیزہے۔بغیر کلمۂ معرفت کے معرفتِ قلب ومعرفتِ الٰہی ناممکن ہے ۔ کلمۂ معرفت کیا ہے ؟یہ یاد کرلو’’لاالٰہ الااللّٰہ حقاًحقاً محمد رسول اللّٰہ صفاً صفاً‘‘۔

۴۔۔۔’’من ترک الدنیا ملک ومن حب الدنیا ھلک‘‘جس نے دنیا کوچھوڑا فرشتہ ہوا،جس نے اس سے دوستی کی ہلاک ہوا۔

  • ۔۔۔دنیا کی دوستی سے زیادہ بندہ اورخدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔
  • ۔۔۔دل اورجسم کی ممات وحیات الگ الگ ہیں۔جسم کو روح نکلنے کے بعددفن کردیا جاتا ہے۔دل اس وقت مرتا ہے جب تک لذات وشہوات کو ترک نہ کیاجائے۔
  • ۔۔۔درویشی میں اگرکوئی ذرّہ بھرمحبتِ دنیا رکھتا ہے تو وہ مردودِطریقت ہے۔جو درویش امیر کے پاس ارادتاً جائے تو اس کو لازم ہے کہ خرقۂ خلافت کو اتار دے ۔ارادتاً کبھی کسی مال دار یارئیس یا حاکمِ وقت کے پاس نہ جانا ورنہ مردودِ طریقت ہوجاؤگے۔
  • ۔۔۔طریقت میں اصل نفس کی محافظت ہے۔درویش کو چاہیے کہ ہر حالت میں نفس پر نگاہ رکھے تاکہ باطن جمع ہو۔

یہ تعلیم طریقت کا لب لباب ہے۔ جوآپ نے اپنے مقربِ خاص (اپنے فرزندِ اصغر کو دی) اور مزید تعلیم اوراوراد سے بھی نوازا۔ مگر ان مخصوص فیوض ونعمتِ باطنی سے جو سینہ بہ سینہ خاندانِ عالی شان میں چلی آرہی ہے، اپنے بڑے صاحبزادے شاہ قطبِ عالم چشتی جمالی نظامی کو مالامال فرماکر اپنا جانشین مقرر کیا۔آپ کے تعارف نگار نے لکھاہے کہ:

’’میرے مرشد ومولائی کی ذات بابرکات ایک طرف مجموعۂ کمالات اورقائم مقام خاص اولیائے نامدار مقربانِ ذی الاقتدار ،محبوبانِ کردگار اورشیفتۂ رسولِ خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو دوسری طرف منبعِ علم و فضل ،آفتابِ ہدایت، تصویرِ صبرو رضا ،واعظِ شیریں بیان ،شاعرِہمہ داں ،صاحبِ دیوان،پیکرِ خلوص و محبت ،رہبرِ طریقت و علمبردارِ خلق عظیم ہے۔ جن کی برکت سے جملہ نفوسِ بھارت و پاکستان درسِ طریقت سے آراستہ وپیراستہ ہیں۔اس طرح آپ کے فیوض و برکات ،انوارو کرامات کا جاری سلسلہ قطب الاقطاب شیخ الشیوخ حضرت مولانا قطب جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے ۔آپ ریاضت و مجاہدہ فقر وتجرید میں بے حد بلند وممتاز تھے ،کشف و کرامات کی مجسم تصویر اورذوق و محبت کے آئینہ دار تھے‘‘۔(۱)

’’کلامِ ولیؔ ،ولی الکلام‘‘حضرت مولانا شاہ محمد ولی الرحمن چشتی جمالی نظامی نعمانی کاضخیم شعری مجموعہ ۵۷۲صفحات پر مشتمل ہے۔اندازہ نہیں کیاجاسکتاکہ اس مجموعے میں کتنے کلام ہوں گے لیکن بلاشبہ سینکڑوں کلاموں پر مشتمل ہے ۔عارفانہ کلام اور نعتیں خلط ملط ہیں ۔عارفانہ غزلوں میں بھی کثرت سے نعتیہ اشعار موجود ہیں۔ابنِ عربی کے فکروفلسفے سے نہ صرف متاثربلکہ اپنی شاعری میں جابجا اس کے متبع اور مبلغ نظر آتے ہیں۔انتہائی زودگو اور انتہائی کثرت سے شعر کہنے والے شعراء کی صفِ اوّل میں آپ کا شمارکیاجاسکتاہے۔میں نے دیکھا ہے کہ قافیہ ملاہے تو اسے آپ نے کسی بھی مضمون کے تحت باندھ ضرور دیا ہے یہی وجہ ہے کہ بیشتر مقامات پر کلام ’’مختلف الرنگ‘‘ہوگیاہے۔ لیکن جو آپ کا سنجیدہ کلام ہے بلاشبہ بڑے پائے کا ہے اورخاصے کی چیز ہے۔اوّل میں نے کوشش کی تھی کہ وہ تمام اشعار جو سنجیدہ نعت پر مشتمل ہیں آپ کے مجموعۂ کلام سے اس کا انتخاب کرلوں ۔ لیکن یہ خاصا دقت طلب کام لگا جس کے لیے وقت بھی خاصادرکار ہوتا۔ نیز اتنا مواد منتخب ہوجاتا کہ ایک مقالے میں اس کا سمونا ناممکن ہوتااس کے لیے الگ سے کتاب درکار ہوتی۔چناں چہ خاصی سوچ بچار کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ نعت رنگ کے قاری کے لیے میں حضرت ولی الرحمن صاحب کی چند معرکۃ الاراء نعتیں اور تین نعتیہ قصائد پیش کردوں کتاب ابھی موجود ہے۔اہلِ ذوق وضرورت کو باآسانی حاصل ہوسکتی ہے۔

دیکھا جو اپنی پشت پہ تم کو چڑھے ہوئے

حق نے کہا کہ اے مرے محبوب غم نہ کر

جوعاشقانِ روئے نبی ہیں وہ اے ولیؔ

دوزخ کا خوف قبر کا ڈر حشر کا خطر

سُن کر ولی کی نعت کو قدسی پھڑک اُٹھے

چلتی ہیں رات دن تری رحمت کی چکّیاں

وہ مچھلیاں ملیں گی ہمیں خلد میں ولیؔ

ڈالے قدم براق نے کیسے بڑھے ہوئے

ہیں تیرے اُمتی تو مِرے دل چڑھے ہوئے

پروردگار کے ہیں بڑے منہ چڑھے ہوئے

زاہد ترے خیال ہیں کیسے سڑے ہوئے

کہنے لگے کہ شعر بڑے چلبلے ہوئے

میرے گنہ پڑے ہیں پِسے اور دَلے ہوئے

جن مچھلیوں کے کانٹے ہیں بالکل گلے ہوئے

صرف یہ سات اشعار میں نے نمونتاً اس لیے پیش کیے ہیں کہ سطورِبالا میں میں نے جو رائے قائم کی ہے اس کا ثبوت مہیا ہو سکے۔بات صرف ان سات آٹھ دس شعروں تک محدودنہیں بلکہ اُن کے شعری مجموعے میں ان جیسے سینکڑوں اشعار ہیں بلکہ پورے پورے کلام ہیں۔میں نہیں کہہ سکتاکہ اس قسم کے کلاموں کو انہوں نے شعوری طورپراپنی پہچان بنانے کی کوشش کی ہے ۔یاوہ صرف اپنے قاری کو مسکراتا ہوا دیکھناچاہتے ہیں۔واللہ اعلم۔

نعت[ترمیم]

والشمس جمالِ ڑُخِ نیکوئے محمد

سو جاں سے دل آرائی پہ قربان ہو اُس کی

واللیل بیانِ صفتِ موئے محمد

گر دیکھ لے فردوسِ بریں کوئے محمد

اِس جذبۂ اُلفت کے دل وجان سے قرباں

سر کوپئے تسلیم جھکا دیتے ہیں اُس جا

ہے عرش نشیں ذرّہ مدینے کی زمیں کا

ڈر مجھ کو ولیؔ ! گرمیِ محشر کا نہیں ہے

کھینچے لیے جاتا ہے مجھے سوئے محمد

عشّاق کو آتی ہے جہاں بوئے محمد

طوبیٰ سے ہے بڑھ کر شجرِ کوئے محمد

ہے سر پہ مِرے سایۂ گیسوئے محمد(۲)

نعت[ترمیم]

کیا بڑی سرکار ہے سرکارِ ختم المرسلیں

دیکھنا چاہو اگر حسن و جمالِ کبریا

عشق کہتے ہیں جِسے وہ ان کے در کا ہے غلام

نام ہم نے رکھ لیے ہیں انجم و شمس وقمر

سُن کے باتیں مصطفی کی کہتے تھے روح الامیں

عاصیوں کے دامنوں کو کردیا رحمت سے پُر

دوست کیا دشمن بھی دلدادہ ہیں اُن کے عشق کے

جیسے ختم المرسلیں اللہ کے دلدار ہیں

واہ رے جوشِ محبت عرش پر بھی جبرئیل

عاشقوں کے پاس یہ دو نعمتیں بے مثل ہیں

کیا بڑا دربار ہے دربارِ ختم المرسلیں

دیکھ لو آئینۂ رخسارِ ختم المرسلیں

حُسن ہے اِک آئینہ بردارِ ختم المرسلیں

درحقیقت ہیں یہ سب انوارِ ختم المرسلیں

گفگتوئے حق ہے یا گفتارِ ختم المرسلیں

واہ رے دربارِ رحمت بارِ ختم المرسلیں

کس قدر محبوب ہیں اطوررِ ختم المرسلیں

اس طرح صدیق ہیں دلدارِ ختم المرسلیں

ڈھونڈتے ہیں سایۂ دیوارِ ختم المرسلیں

قُربِ حق ، اور لذّتِ دیدارِ ختم المرسلیں

آرزو اللہ کے دیدار کی تھی اے ولیؔ !

اُس کے بدلے ہوگیا دیدارِ ختم المرسلیں(۳)

نعت[ترمیم]

حُسن ہے شرحِ جمالِ رحمت للعالمیں

سر نگوں ہیں اُن کے آگے جن و انسان و ملک

کوثر و تسنیم ہیں بے کار گر اُن میں نہ ہو

گو سیہ کاروں میں ہوں لیکن نہیں خوف و خطر

تیری قسمت کیوں نہ ہو اچھی زمینِ کربلا

اُلفتِ صادق یہ ہے دیکھو خدائے دوجہاں

عشق ہے تفسیرِ حالِ رحمت للعالمیں

واہ رے جاہ و جلالِ رحمت للعالمیں

قطرۂ آبِ زُلالِ رحمت للعالمیں

ہیں نظر میں زلف و خالِ رحمت للعالمیں

تجھ میں ہیں مدفون آلِ رحمت للعالمیں

رد نہیں کرتا سوالِ رحمت للعالمیں

کوئی جچتا ہی نہیں میری نظر میں اے ولیؔ !

جب سے دیکھا ہے جمالِ رحمت للعالمیں(۴)

قصیدۂ جمالیہ[ترمیم]

خدا کا شکر طبیعت ہے آج ایسی بلند

یہ بات اور زیادہ عجیب ہے واللہ

ہُمائے طبعِ رسا نے کچھ ایسی کی پرواز

تخیّلات ہوئے اس قدر رفیع الشان

یہ اوج اور یہ رفعت ہوئی جو پیشِ نظر

یہی تو وقت ہے لکھ نعتِ احمدِ مختار

یہ سُن کے اور بھی فکرِ رسا بلند ہوا

درود پڑھ کے لگا نعتِ مصطفی لکھنے

کہا یہ دل نے کسی گُل کی آمد آمد ہے

یہ عرض کرنے لگا حق سے ہوکے میں خورسند

الٰہی کس کی ہے آمد کہ واہے خلدِبریں

الٰہی کس کی ہے آمد کہ باغ باغ ہیں دل

الٰہی کس کی ہے آمد کہ فرطِ شادی سے

الٰہی کس کی ہے آمد کہ چھارہی ہے بہار

الٰہی کس کی ہے آمد طبیعتیں ہیں شاد

الٰہی کس کی ہے آمد کہ جس کے آنے کی

الٰہی کس کی ہے آمد کے نور کاہے سماں

الٰہی کس کی ہے آمد کہ آج کون و مکاں

الٰہی کس کی ہے آمدکہ مست ہیں عشّاق

الٰہی کس کی ہے آمد کہ حاسدانِ زماں

الٰہی کس کی ہے آمد کہ عرش و کرسی کے

الٰہی کس کی ہے آمد کہ جبرئیلِ امیں

الٰہی کس کی ہے آمد کہ انبیائے کرام

زمینِ شعر کو بھی آ رہا ہے عرش پسند

کہ آئی عرش کو بھی یہ زمینِ شعر پسند

کہ تکتے تکتے نظر تھک کے ہوگئی خود بند

کہ ڈھونڈتا ہے انہیں فکرِ طبع ہوکے بلند

تو بولے روح الامیں اے ولیِ دانشمند

پر ایسی نعت ہو آجائے جو خدا کو پسند

یہ سُن کے رنگِ طبیعت بڑھا دو چندسہ چند

ہوئیں درود کی ہر سمت سے صدائیں بلند

کہ آئی فصلِ بہار اور خزاں ہوئی پابند

کہ اے خدائے رحیم و کریم و پاک وبلند

الٰہی کس کی ہے آمد ہوئی جو دروزخ بند

الٰہی کس کی ہے آمد بھرے ہیں تال سمند

قبائے گُل کے گئے ٹوٹ دفعتاً سب بند

ہر اِک بشر نظر آتا ہے چاق اورچوبند

الٰہی کس کی ہے آمد کہ دل ہیں حوصلہ مند

سُنا رہے ہیں خبر شوق سے چرند وپرند

الٰہی کس کی ہے آمد کہ ہے سُرور دو چند

دکھائی دیتے ہیں مسرور اور آئینہ بند

الٰہی کس کی ہے آمد ہیں سب کے سب خربند

بدی کو چھوڑ کے نیکی کے ہو گئے پابند

ہیں جتنے پائے وہ سب اور ہوگئے ہیں بلند

درود بھیجتے ہیں اُس پہ با صدائے بلند

ہوئے تمام صلواۃ و سلام کے پابند

الٰہی کس کی ہے آمد کہ حوریانِ جناں

سنگھار کرتی ہیں پہنے ہوئے ہیں بازو بند

الٰہی کس کی ہے آمد کہ آج شیطاں بھی

فریب و مکر نہ کرنے کی کھا گیاسوگند

الٰہی کس کی ہے آمد کہ آج تجھ کوبھی

تمام خلق کی ہر بات آرہی ہے پسند

ندائے غیب یہ آئی کہ او سعادت مند

وہ آرہا ہے کہ اللہ کا حبیب ہے جو

وہ آرہا ہے خدا جس کا چاہنے والا

وہ آرہا ہے جو کعبے سے بُت نکالے گا

وہ آرہاہے کہ سب جس کے فیضِ صحبت سے

وہ آرہا ہے کہ اصحابِ باصفا جس کے

وہ آرہا ہے کہ اولادِ باحیا جس کی

وہ آرہا ہے غلامانِ با صفا جس کے

وہ آرہا ہے کہ جو سب کے دل کا ہے مطلوب

وہ آرہا ہے جو مخلوق کو بنائے گا پاک

وہ آرہا ہے کہ جس کے قدومِ اقدس پر

وہ آرہا ہے کہ جس کی پناہ حق کی پناہ

وہ آرہا ہے کہ جس کا عدو خدا کا عدو

وہ آرہا ہے کہ مجبور جس سے اہلِ خرد

وہ آرہا ہے جسے علمِ غیب حق نے دیا

وہ آرہا ہے کہ گفتار جس کی ہے شیریں

وہ آرہا ہے لبوں میں ہے جس کے آبِ حیات

وہ آرہا ہے کہ رفتارِ ناز سے جس کی

وہ آرہا ہے کہ رفعت کو جس سے رفعت ہے

خیال اور قیاس اور وہم اور گماں

وہ آرہا ہے خدائی میں حکم جس کاچلے

نہ پہنچے تجھ کو کبھی دشمنوں سے چشمِ گزند

ادائیں جس کی ہیں اللہ کو تمام پسند

وہ آرہا ہے کہ جس کے نبی ہیں خواہش مند

وہ آرہا ہے کرے گا جو نامِ حق کو بلند

بنیں گے صاحبِ دل اور رہیں گے طالع مند

کریں گے خلق میں اسلام کے علم بلند

خدا کی راہ میں سر دے گی ہوگی حوصلہ مند

تمام ہوں گے خوش اطور اور سلیقہ مند

جو لے گا اُس کے قدم ہے وہی سعادت مند

وہ آرہا ہے کہ جس سے کٹیں گے سارے گند

جھکیں گے شوق سے سارے شہانِ دولت مند

وہ آرہا ہے کہ جس کی گزند حق کی گزند

وہ آرہا ہے جو اِس کو پسند حق کو پسند

وہ آرہا ہے کہ ہے جس سے سب کاناطقہ بند

ہے جس کے پیشِ نظر یہ تمام پست و بلند

بھرا ہے جس کی زباں میں تمام شہد اورقند

ہمیشہ کھاتے ہیں خضر اُس کی عمر کی سوگند

ہو زندہ مردۂ صد سالہ گو ہو قبر میں بند

مقام اُس کا ہے اتنا رفیع اور بلند

مجال کیا ہے جو پہنچیں وہاں لگاکے کمند

وہ آرہا ہے خدائی کرے گی جس کو پسند

وہ آرہا ہے جو اپنے کرم کے دامن میں

لگائے رکھتا ہے فضلِ اِلٰہ کا پیوند

وہ آرہا ہے کہ خود حق نے دستِ قدرت سے

لگایا جس کے لیے آسمان کا چھت بند

ووہ آرہا ہے کہ دستِ خدا نے جس کے لیے

بچھایا فرشِ زمیں چھانٹ کر بلا پیوند

وہ آرہا ہے جو کھولے گا اپنے ہاتھوں سے

شرابِ عشق کا ہر ایک شیشۂ سر بند

وہ آرہا ہے بصد شوق سامنے جس کے

جھکے گا سجدے میں کعبہ زمیں سے ہوکے بلند

وہ آرہا ہے کہ جس کے سبب سے تابہ ابد

وہ آرہا ہے کہ جس کا نظیر ناممکن

مہِ ربیع کی تاریخ بارہویں تھی ولیؔ !

پُکارے حضرتِ جبریل لو مبارک ہو

ہوا وہ مشرقِ وحدت سے آفتاب طلوع

اُسی کا اسمِ گرامی ہے احمدِ مختار

یہی حبیبِ خدا ہے یہی ہے نورِ خدا

اِسی کے دامنِ عالی کے تھامنے والے

پڑھو ادب سے درود اورسلام اُن پہ تمام

پڑھا ادب سے درود اورسلام پھر سب نے

جمال اُس کا جو عشّاق کو نظر آیا

نثار ہوگئے فوراً جمالِ اقدس پر

گلے میں طوقِ غلامی ہر اِک نے ڈال لیا

درود پڑھ کے ہوئے اس طرح سے نغمہ طراز

غلامِ نرگسَ مست تو تاجدار آنند

یہ چاہتے تھے کہ آگے کچھ اور عرض کریں

نگاہیں خیرہ ہوئیں مثلِ حضرتِ موسیٰ

مگر سنبھال کے اپنے دلوں کو پھر سب نے

بزیرِ زُلفِ دوتا چوں نظر کنی بن گر

خدا کا بابِ کرم اب کبھی نہ ہوگا بند

وہ آرہا ہے کہ جس کی مثال قطعاً بند

خدائے پاک کو جو آچکی تھی خوب پسند

خوشی کی بات ہے سُن لیں تمام ارادت مند

ہوا وہ مغربِ رحمت سے ماہتاب بلند

اُسی کا رُتبہ کیا ہے خدا نے سب سے بلند

یہی ہے ختم رُسل اور یہی ہے دانش مند

رہیں گے شاد رہیں گے سداسداآنند

پڑھو صلواۃ و سلام اورپڑھو بہ بانگِ بلند

پڑھا صلواۃ و سلام اور پڑھابہ بانگِ بلند

تو شکرِ حق کیا سب نے ادا ہوئے خرسند

خودی کی توڑ دی بے ساختہ ہراِک نے کمند

اور اُس کی زلف کی زنجیر کے ہوئے پابند

کہ اے حبیبِ خدا ! اے نبیِ حوصلہ مند

خرابِ بادۂ لعلِ تو ہوشیار آنند

تو سب کے گریۂ رحمت سے ہوگئے لب بند

جنابِ عشق کا بھی واں پہ ناطقہ تھا بند

یہ عرض کی کہ’’اے صد‘‘ذی وقار و حوصلہ مند

کہ در یمیں ویسارت چہ بے قرارآنند

پھر ایک عاشقِ جاں باز سب سے آگے بڑھا

اورآگے بڑھ کے ادب سے یہ عرض کی اُسنے

نہ من برایں گِل عارض غزل سرایم وبس

پھر اس کے بعد بڑھے آگے حافظِ شیراز

وہ ہاتھ باندھ کے اس طرح عرض کرنے لگے

سُنا ہے نام تھا اُس کا ولیِؔ دانش مند

کہ اے سُرورِ دل وجانِ عاشقِ گلہ مند

کہ عندلیب تو از ہر طرف ہزار انند

کہ عاشقوں کو ہے جن کا بہت کلام پسند

کہ اے حبیبِ خدا! عاشقوں کے خواہشمند

خلاص حافظ ایں زلف تابدار مباد

کہ بستگانِ کمندِ تو رستگاں انند (۵)

قصیدۂ نعتیہ[ترمیم]

دربارِ کبریا سے چلی سج کے اِک دلہن

فضلِ خدا کا رُخ پہ تھا غازہ مَلا ہوا

شرمندہ رُخ کے سامنے مہتاب و آفتاب

روئے منیر اُس کا اگر دونوں دیکھ لیں

آنکھوں میں نور دل میں سرور اور باشعور

حیران اُس کی آنکھ سے نرگس کی آنکھ تھی

رخسار اُس کے غیرتِ گُل اور پُر ضیا

گُل نے جو باندھی ٹکٹکی رخسار کی طرف

اُس کی جبینِ پاک پہ صدقے مہِ منیر

اُبھری ہوئی جبیں پہ یہ ہے اور بھی کمال

ابرو سے اُس کی خنجر و شمشیر دم بخود

لب اُس کے گویا لعلِ بدخشاں کی جان ہیں

دندانِ پاک دُرِّ عدن سے کہیں سوا

زلفِ سیاہ دراز چمک دار مشک بو

سینے میں راز ہائے خفی و جلی نہاں

رفتار سے نسیمِ سحر فیض یاب ہے

شیرینیِ بیان کی لذّت سے ہوکے مست

بے مثل اُس کا حسن و جمال اوربانکپن

سانچے میں نور کے تھا ڈھلا اُس کا تن بدن

اور منفعل ہجومِ فلک کی سب انجمن

مٹ جائے دیکھ کر مہ و خورشید کا گہن

دستِ سخا پہ اُس کے فدا حاتمِ زمن

سب تک رہے تھے اُس کو گل و برگ و یاسمن

خود گل غدار غنچہ دہن اور گُل بدن

بلبل کے دل میں مارے حسد کے ہوئی جلن

صدقے رُخِ منیر پہ خورشیدِ ضو فگن

آتا نہیں نظر کسی صورت کوئی شکن

مژگاں سے اُس کی قلبِ سناں میں ہوئی چبھن

سیبِ ذقن مفرح بیمارِ خستہ تن

خوبی پہ اُن کی صدقے ہوا خود دُرِ عدن

خوشبو پہ اُس کی دل سے فدا نافۂ ختن

روشن تھا قلب ، نور سے جوں شمعِ انجمن

گفتار سے جنابِ مسیحا ہوئے مگن

نغمے خوشی کے گانے لگے طوطی اور اگن

آبِ حیات آبِ دہن سے خجل ہوا

اپنی زباں سے مُردے کو وہ قُم اگر کہے

رکھے قدم وہ اپنا جو صحرائے خشک میں

آراستہ تھی زیورِ عفو گناہ سے

شیطان اُس کے سامنے ہر وقت سر نگوں

انداز اور ناز میں یکتائے روز گار

پوچھا جو میں نام تو یوں بولی وہ دلہن

میں نے کہا کہ خاص وطن تیرا ہے کہاں

اور بڑھ کے قند و شہد سے شیرینیِ سخن

اُٹھا جائے مُردہ پھاڑ کے سب قبر اور کفن

کِھل جائے دم کے دم میں وہاں لالہ و چمن

عطرِ کرم سے اُس کا معطر تھا پیرہن

دہشت کے مارے سر سے لپیٹے ہوئے کفن

حیران دیکھتے تھے حسینانِ گُلبدن

کہتے ہیں مجھ کو رحمتِ خلّاقِ ذوالمنن

کہنے لگی کہ قربِ خدا ہے مِرا وطن

دیکھا جو اُس کو خلقِ خدا نے بایں ادا

اور حصر ایک شیخ و برہمن پہ کچھ نہیں

عالم میں چارسمت پھری پھر وہ نازنیں

اُس نے نگاہ اپنی کسی کی طرف نہ کی

آخر وہ پھرتے پھرتے مدینے پہنچ گئی

آئی اُسے وہاں کی ہر اِک شے سے بوئے عشق

مستانہ وار کوچہ و بازار میں پھری

دیکھا کہ راز و ناز کا بازار گرم ہے

ہر ذرّہ واں کا مہرِ جمال و جلال ہے

طوبیٰ کی طرح واں کے شجر پُر بہار ہیں

ہر ایک گُل سے آتی ہے خوشبوئے باغِ قدس

گلشن میں واں کے خار بھی ہیں پر عجیب ہیں

اور پھر نظرجو کی تو یہ دیکھا کہ ہر طرف

یہ دیکھ کے وہ اور بھی حیرت میں پڑ گئی

القصّہ حیرت اور مسرت میں غرق تھی

اِک دم جو اُس نے دیکھا حبیبِ الٰہ کو

مشتاق اُس کے ہو گئے سب شیخ و برہمن

مشتاقِ دید اُس کے ہوئے سارے مردو زن

لیکن نہ بھایا اُس کو کسی کا بھی باکپن

کیا جانے کس فراق میں تھی مست وہ دلہن

بھایا اُسے مدینے کا گلزار اور چمن

سمجھی کہ ہے ضرور یہی عشق کا وطن

ہر شے کو دیکھ دیکھ کے ہوتی تھی خندہ زن

مہرو وفا کا پایا ہر اِک بات میں چلن

ہر قطرہ بن کے بحرِمحبت ہے موجزن

اور ہر شجر پہ بلبل و قمری ہے نغمہ زن

گلزارِ معرفت سے مزیّن ہے بن کا بن

چبھ جائیں پاؤں میں تو نہیں ہوتی کچھ دُکھن

مستانہ وار پھرتے ہیں طاؤس اور ہرن

طوطی صفت ہے واں کا ہر اِک زاغ اورزغن

اور دل میں بڑھتی جاتی تھی کچھ اور ہی لگن

بس دیکھتے ہی بھول گئی سارا بانکپن

اور پھر وفورِ عشق میں نغمہ سرا ہوئی

بالا بلند عشوہ گرِ سروِ نازِ من

یہ کہہ کے صدقے ہوگئی حق کے حبیب پر

حُسن و جمالِ مصطفوی دیکھتی رہی

حضرت نے اُس کو سینے سے اپنے لگالیا

تو میری ہو چکی ہے تو میں تیرا ہو چکا

میری طرح سے تیرا بھی ہوگا یہ فرضِ عین

بولی دلہن کہ اے مرے دولہا ترے نثار

پابند تیرے حکم کی ہر دم رہوں گی میں

تیری رضا کو حق کی رضا جانتی ہوں میں

لائی زباں پہ حافظِ شیراز کا سخن

کوتاہ کرد قصّہ زہد دراز من

کرنے لگی وہ شکرِ خداوندِ ذوالمنن

اور رات دن وہ رہنے لگی مست اور مگن

فرمایا اُس سے فرطِ محبت سے یہ سخن

لیکن ہے مجھ کو اُمّتِ عاصی کی بھی لگن

رہنا پڑے گا بخششِ اُمت میں گامزن

اُمت پہ تیری صدقے مِری جان میرا تن

فرماں پہ تیرے چلنا رہے گا مِرا چلن

تیری رضا میں مجھ کو نہیں جائے دم زدن

اب میں ہوں اور بخششِ اُمت کا کام ہے

اُمت کو اپنی شوق سے مژدہ سُنائیے

ایک اور مژدہ دیتی ہوں محبوبِ کبریا

وہ یہ کہ تیری اُمتِ عصیاں شعار کا

معلوم ہے مجھے کہ خداوندِ کارساز

اُمت کو تیری اب یہی زیبا ہے رات دن

اور بھیجتی رہے ترے اوپر سدا درود

بھیجو ولیؔ ! درود شہِ دیں پناہ پر

محسوس تک نہ ہو گی مجھے اس میں کچھ تھکن

عصیاں کا دل سے دور کرے رنج اور محن

قدرت نے میری دل میں لگائی تری لگن

رکھتا ہے خود خیال خداوندِ ذوالمنن

اُمت کو تیری بخش چکا ہے شہِ زمن

قربان تجھ پر کرتی رہے جان مال و تن

تا خوش ہو ذاتِ پاکِ خداوندِ ذوالمنن

سرتاجِ انبیا پہ حبیبِ اِلٰہ پر(۶)

قصیدۂ نعتیہ عشقیہ[ترمیم]

کتابِ عشق میں دیکھ اے ولیؔ عجیب کتاب

خدا کے نام کے بعد اس میں عشق کا ہے بیاں

ہے شرحِ حُسن کاپیرایہ کچھ عجیب وغریب

سطورِ راہِ محبت کی منزلوں کا نشاں

معانی مطلبِ وصلِ صنم سے ہیں بھر پور

نہ اس میں فصل ہے کوئی نہ اس میں کوئی باب

بیانِ عشق میں ہے شرحِ حسن وحُسن مآب

کسی سے روئے سخن ہے نہ ہے کسی سے خطاب

حروف معنیٰ و اُلفت کے ذوق سے سیراب

ہے کامیابیِ عشّاق جس کا لب لباب

وہ جس کے حسن کی تشریح درج ہے اس میں

زبانِ حُسن بھی اس سے یہ کہہ رہی ہے کہ تو

بیانِ رُخ میں ہے والشمس والضحیٰ ناطق

خدا نے جس کو کہ مزّمّل اور مدّثّر

کہیں سراجِ منیر اور کہیں بشیر و نذیر

وہ سرورِ دو جہاں فخرِ انبیا و رُسل

وہ جس کے ڈر سے ہے شیطان منہ چھپائے ہوئے

وہ جس کے رعب سے اعدا ہیں لرزہ بر اندام

وہ جس کے دور میں فسق و فجور عصیاں کا

وہ جس نے دی ہے غلاموں کو اپنے یہ تعلیم

وہ جس نے کی ہے غلاموں کو اپنے یہ تلقیں

غلام جس کے پہنتے ہیں حُلّہ ہائے بہشت

نہ کوئی اس کا نظیر اور نہ کوئی اس کا جواب

ہے آپ اپنا نظیر اور آپ اپنا جواب

بیانِ زلف میں واللیل ہے بہت بیتاب

دیے ہیں فرطِ محبت سے خاص خاص القاب

عطاکیے ہیں اُسے یہ بھی لاجواب القاب

کہ جس کو طٰہٰ ویٰسین سے کیا ہے خطاب

وہ جس کے خوف سے بھاگا مسیلمہ کذاب

وہ جس کے نام سے دشمن کا ہو خطا پیشاب

خدا کے فضل و کرم سے ہوا ہے سدّباب

قدم بڑھاؤ محبت میں کہہ کے یا وہّاب

کہ صدق دل سے کہو انہُ ہوالتواب

وہ حلّے جن میں ہیں زربفت و اطلس وکمخواب

وہ جس کے در کے بھکاری شہانِ ذی رُتبہ

وہ جس کے در کے گدا غوث اولیا اقطاب

وہ جس کے در کے گداؤں کو اور غلاموں کو

وہ جس کے صدقے سے کُل عاصیانِ اُمت کی

وہ جس کے سر پہ شفاعت کا تاج زیبا ہے

وہ جس کا جسمِ مطہّر ہے ایسا پاکیزہ

وہ جس کا جسمِ منور بری ہے سائے سے

وہ جس کے دور میں عشّاق کامیابِ وصال

وہ جس کے دور میں عشّاق شاد اور آباد

وہ جس کے دور میں ہرگز نہیں فراق کا دور

ہیں اُسکے جتنے بھی عشّاق زندہ دل ہیں تمام

جو عاشقوں پہ ہے ماں باپ سے زیادہ شفیق

وہ شاہِ حُسن ، کہ جو بھی غلام ہے اُس کا

نہ کچھ عذاب کا کھٹکا ہے اور نہ شوقِ ثواب

خدا کے فضل سے ہے پاک وصاف فردِ حساب

جو بخشوائے گا ہم کو بلا حساب و کتاب

کہ جس پہ بھول کے بیٹھی کبھی نہ آکے زباب

فدا ہے جس کے پسینے پہ بوئے مشک و گلاب

وہ جس کے دور میں ناکامیاب ہیں کمیاب

نہ کوئی خانہ بدوش اور نہ کوئی خانہ خراب

وہ جس کے دور میں آتے ہیں سبکو وصل کے خواب

ہیں سب کے سب اولی الابصار اوراولی الالباب

وہ جس کا سایہ ہے اُمت کے سر پہ مثلِ سحاب

بنا ہوا ہے ہر اِک ملکِ عشق کا نوّاب

وہ جس کے دورِ نبوت میں حق کی رحمت کے

وہ جس کے دم سے ہے آباد عالمِ ملکوت

وہ جس کے دور میں کعبہ بتوں سے پاک ہوا

وہ جس کے مستوں کی خاطر خدائے برحق نے

وہ جس کے رندوں کی دعوت کے واسطے بھی مدام

وہ جس کے در پہ ملک بددوام آتے ہیں

وہ جس کے دور میں چھائیں گھٹائیں رحمت کی

وہ جس کے دور میں فصلِ خزاں ہوئی برباد

وہ جس کے دور میں بحرِ سخا ہے موجوں پر

وہ آسمانِ محبت کا پُر ضیا خورشید

زمیں پہ فرشِ زمرّد بچھا ہے جس کے لیے

وہ جس کے سامنے ہیں سر نگوں تمام شجاع

وہ بحرِ عشقِ الٰہی کا اِک درِ یکتا

وہ جس کے نور سے ہرزرّہ بن گیا خورشید

گناہگاروں کے سر سے بھی ٹل چکاہے عذاب

سبب سے جس کے ہے قائم یہ عالمِ اسباب

وہ جس کے دم سے مزین ہیں منبرو محراب

حلال کی مئے اُلفت حرام کی مئے ناب

جناں کے باغ میں تیار ہے شراب و کباب

بشوق کرتے ہیں جھک کے سلام اورآداب

اورآبِ جود وکرم بھر کے لا رہے ہیں سحاب

وہ جس کے دور میں فصلِ بہار کاہے شباب

لٹائے جاتے ہیں عرفان کے دُرِنایاب

کہ جس کے چاند ستارے ہیں آل اوراصحاب

کھنچی ہے جس کے لیے خیمۂ فلک کی طناب

مقابلے سے ہیں مجبور رستم و سہراب

وہ کانِ حُسن و ملاحت کا گوہرِِ نایاب

وہ جس کے ضو سے ہر اِک شمع بن گئی مہتاب

وہ جس کا رُخ ہے مرقع خدا نمائی کا

وہ جس کے روئے منور پہ حُسن کا ہے نقاب

تمام خلق کو آئے نظر خدا ہی خدا

اُٹھا دے چہرۂ پُر نور سے اگر وہ نقاب

کشش کا حال یہ ہے اُس کے حُسنِ جاذب کی

معین اور مدد گار جس کی ذاتِ خدا

کہ دیکھتی ہے اُسے بار بار چشمِ پُر آب


ہے جس کاحامی و ناصر مسبّب الاسباب

معجزات[ترمیم]

وہ جس نے معجزہ شق القمر کا دکھلایا

قمر کے دو کیے پھر دو سے اُس کو ایک کیا

وہ جس کے حکم اور انگشت کے اشارے سے

جو دھوپ ہوتی تو سائے کے واسطے ہم راہ

وہ جس کی انگلیوں سے چشمے ہو گئے جاری

کہ جس کو دیکھ کے کافر تھے محوِاستعجاب

طواف کر کے قمر پھر گیا فلک پہ شتاب

غروب ہوکے پلٹ آیا مہرِ عالم تاب

غلام کی طرح چلتا تھا ساتھ اُس کے سحاب

پیاسے قافلے کو دم میں کر دیا سیراب

وہ جس نے خشک کنوئیں میں ذرا سا آبِ دہن

درختِ خشک سے جس نے لگا کے پشت اپنی

وہ تخمِ سوختہ جس نے کھجور کا بویا

کھلائے سب کو وہ پھل خوش بھی نوش فرمائے

غمِ فراق میں جس کے ستونِ حنّانہ

وہ جس نے آتے ہی دنیا میں یہ دعا مانگی

جو ڈالا ڈالتے ہیں ہوگیا کنواں پُر آب

بنا دیا اُسے دم بھر میں سبز اور شاداب

جو دم کے دم میں اُگا پھل لگے بڑے نایاب

ہر ایک معجزہ جس کاتھا معجز اور نایاب

بشر کی طرح سے رو رو کے ہوگیا بیتاب

الٰہی! آئے نہ اُمت پہ میری کوئی عذاب

خدا کے عشق میں دن رات جاگنے والا

خدا کی ساری خدائی ہے خوشہ چیں جس کی

وہ جس کی دید ہے دیدارِپاکِ ربِّ جمیل

فروغ یاب ہیں سب اُس کے چاہنے والے

وہ شمعِ انجمنِ عشق و حُسن و محبوبی

محمد ، احمد ، و محمود نام ہیں جس کے

ہے جس کی ذات صلواۃ سلام کے قابل

درود پڑھ کے جو میں نے قصیدہ ختم کیا

قصیدہ سنتے ہی بولے یہ حافظِ شیرازؔ

مری غزل کے بھی اس میں ملا دے چند اشعار

کہا ہے شان میں جس کی قصیدہ تونے ولیؔ !

وہ جس کی چشمِ مبارک ہوئی نہ مائلِ خواب

وہ جس کے حُسن پہ عاشق ہے خود خدا کی جناب

خدا نمائی سے جس کو نہیں ہے کچھ بھی حجاب

عدو ہمیشہ رہے اُس کے خوار وخستہ خراب

وہ غیرتِ قمر اور آفتابِ عالم تاب

وہ جس کی روحِ امیں تھامتے ہیں آکے رکاب

جو بعدِ حق ہے بزرگ اور لائقِ آداب

سلام بھیج کے فارغ ہوئے تمام احباب

ولیؔ ! قصیدہ ہے تیرا مبارک اور نایاب

بڑھے گی انسے قصیدے کی تیرے اور بھی آب

اُسی کے عشق میں کرتا ہوں عرض با آداب

ز باغِ وصل تو یا بدریاض رضواں آب

چو چشم ہمہ شب جوئبارِ باغ بہشت

یہ حسن عارض و قد تو بُردہ اند پناہ

بہارِ شرحِ جمال تو دادہ در ہرفصل

نہ تابِ ہجر تو دارد شرارِ دوزخ تاب

خیالِ نرگسِ مست تو بیند اندرخواب

بہشت طوبیٰ طوبی لھم وحسن مآب


بہشت ذکرِ جمیل تو کردہ در ہر باب

دُعا[ترمیم]

دلیؔ ! یہ وقتِ دُعا ہے دُعا کوہاتھ اُٹھا

الٰہی ! آج اُسی تیرے دل رُبا کے غلام

ترے حبیب کے خدام اور دل دادہ

الٰہی ! صدقہ اُسی اپنے پیارے دلبر کا

جفا و جور و ستم سہتے سہتے حال یہ ہے

جفائیں سہنے کا بھی اب تو دم نہیں باقی

تو ہی بتا کہ کریں کس سے جاکے ہم فریاد

تو ہی بتا ہمیں اے مالکِ زمین و زماں

الٰہی ! ہو گئے ہم اس قدر ذلیل اور خوار

ترے حبیب کے سب اُمتی مرے مولا

نگاہیں تیری طرف اب لگی ہوئی ہیں کہ ہے

الٰہی ! اب تو ہمیں رفعتِ حکومت دے

الٰہی ! اب تو ہمیں عزت اور نصرت دے

الٰہی ! کرلے ہماری دعائیں جلد قبول

الٰہی ! ایسی محبت کی لہر دوڑا دے

کُھلا ہوا ہے قبولیّت اور کرم کا باب

عدو کے جور سے بے انتہا ہیں خستہ خراب

دعائیں مانگتے ہیں تجھ سے یوں بچشمِ پُر آب

ہمارے سر سے ہٹا جلد ہر طرح کا عذاب

کہ دن کو چین نہیں اور نہ شب کو آنکھوں میں خواب

ستم اُٹھانے کی بالکل نہیں رہی اب تاب

تو ہی بتا کہ دکھائیں کسے یہ حالِ خراب

کہاں تلک سہیں ہم دشمنوں کا جور و عتاب

کہ سر اُٹھاتے بھی اب آرہاہے ہم کو حجاب

کھڑے ہوئے ہیں ترے سامنے بحالِ خراب

رحیم اور کریم اور غفور تیری جناب

الٰہی ! غیب سے فرما مدد ہماری شتاب

شگفتہ کر دے ہمارے دلوں کو مثلِ گلاب

کہ ذاتِ پاک ہے تیری مجیب اور توّاب

کہ آئے تارِنفس سے صدائے چنگ و رباب (۷)

مجموعے میں کئی سلام بنامِ خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی بہاروں پر ہیں۔ آخر میں آپ کا ایک ’’سلام‘‘پیش کرکے اپنے مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔

سلامِ تعظیم[ترمیم]

اے نورِ کردگار کی طلعت سلام لو

اللہ کے ظہور کی حُجّت سلام لو

اے مہرِ آسمانِ رسالت سلام لو

ماہِ منیر ، برجِ رسالت سلام لو

اے اخترِ کمالِ ولایت سلام لو

اے نجمِ لازوالِ امامت سلام لو

اے شمعِ بزمِ رحمت و راحت سلام لو

اے مشعلِ طریقِ ہدایت سلام لو

اے انبیا کے تاجِ نبوت سلام لو

اے اولیا کی مہرِ ولایت سلام لو

اے نورِ ذات اے یدِ قدرت سلام لو

بحرِ سخا و قاسمِ نعمت سلام لو

اے ابتدائے عالمِ وحدت سلام لو

اے انتہائے عالمِ کثرت سلام لو

اے بادشاہِ حسن و محبت سلام لو

ایمانِ عشق جانِ ملاحت سلام لو

حسن و جمال و عشق کی دولت سلام لو

اے حسن اور عشق کی نسبت سلام لو

اے عاشقوں کے دل کی مسرت سلام لو

اہلِ نظر کی چشمِ بصیرت سلام لو

اے مظہرِجمال و جلال و کمالِ ذات

اے ذاتِ کبریا کی وجاہت سلام لو

اے بادشاہِ سلطنتِ ملک ہست و بود

اے صاحبِ وقار و حکومت سلام لو

اے صاحبِ سخا و عطا مصدرِ کرم

دریائے جود و بحرِ سخاوت سلام لو

اے راز دار و رمز شناسِ جنابِ حق

کرسی کی اور عرش کی زینت سلام لو

اے دافعِ بلا و وبا و غم و الم

اے باعثِ مسرت و بحجت سلام لو

اے سالکِ مسالکِ عرفانِ کردگار

اے کاشفِ مجاز و حقیقت سلام لو

اے باعثِ ظہورِ کمالاتِ انبیا

اقطاب و اولیا کی کرامت سلام لو

اے احمد و محمد و محمود و مصطفی

دیدارِ حق کی دولت و نعمت سلام لو

اے انبیا کی خاص بشارت سلام لو

بے سایہ اور سایۂ رحمت سلام لو

اے پیشوائے اہلِ طریقت سلام لو

اے رہنمائے اہلِ شریعت سلام لو

آقا بچانے والے سقر کے عذاب سے

سلطانِ خلد مالک جنت سلام لو

بخشانے والے اُمتِ عصیاں شعار کے

اے سید و شفیعِ قیامت سلام لو

محبوبِ حق سرورِ دل و جانِ عاشقاں

رکھیے ولیؔ پہ چشمِ عنایت سلام لو(۸)


ٍقصیدہ دوم جو ’’قصیدہ نعتیہ‘‘کے عنوان سے ہے میرے نزدیک کئی مقامات پر حقائق اور جمہور کی رائے کے خلاف ہے۔اور کئی جگہ پرخصوصا شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے منافی ہے۔شاعر زور بیان اورزعمِ شاعری میں بے تکان ایسی باتیں کہتا چلاگیاہے جس کی تاویلات بھی امکان میں نہیں۔شعبۂ نعت سے تعلق رکھنے والے ایسے ناقدین جو سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں نقدونظر کے ماہر ہیں وہ مذکورہ قصیدے کاا انتقادی جائزہ ضرور تحریر فرمائیں۔

شاعرِ موصوف نے ’’فکرڈھونڈتا ہے‘‘’’فکرِ رسا بلند ہوا‘‘’’جس کا نظیر ناممکن‘‘اور’’آتا نہیں نظر کسی صورت کوئی شکن‘‘جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ممکن ہے ان کے دور میں انہیں اسی طرح استعمال کیاجاتاہو لیکن آج بہرحال ان کااستعمال اس طرح نہیں ہوتا۔ایک مقام پر آپ نے لکھا ہے ’’ پھل نوش کیے‘‘۔ جبکہ پھل تناول کیے جاتے ہیں۔پھل کا جوس نوش کیاجاتاہے۔ایک شعر یوں ہے کہ’’الٰہی! کس کی ہے آمد کہ آج تجھ کوبھی۔۔۔تمام خلق کی ہر بات آرہی ہے پسند‘‘بھی محلِ گفتگو ہے ۔اچھی اور بُری کی تخصیص کے بغیر خلق کی تمام باتیں اللہ کوپسند آنا کیسے ممکن ہے۔

شاعری کسی بھی موضوع پر کی جائے اور کیسی ہی کی جائے مسئلہ نہیں بنتی لیکن مذہبی شاعری میں بے محاباشاعری کاسحر پھونکتے ہوئے بھی اس بات کاخاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ بات طے شدہ حقائق کو مسخ نہ کررہی ہو۔

’’نسیم الغات ‘‘(نوترمیم ایڈیشن)مرتبین سیدمرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی،سیدقائم رضا نسیم امروہوی ،آغامحمدباقر(نبیرہٌ آزاد)شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلی شرز ،نے صفحہ۴۷۰پر ’’دماغ آسمان پر یا دماغ اور ہونا‘‘کا معنیٰ مغرورہونا ’’دماغ چوتھے آسمان پرہونا‘‘کامعنیٰ اِترانا،غرور ہونا، گھمنڈ ہونا ’’دماغ ساتویں فلک پر ہونا‘‘کامعنیٰ آسمان پردماغ ہونا مغرورہونا،،’’دماغ عرش پر‘‘کامعنیٰ غرور گھمنڈہونالکھاہے۔ ان معنیٰ کی روشنی میں شاعرِ موصوف کا درج ذیل شعر ملاحظہ کیجیے اور۔۔۔اور میں کیا کہوں۔۔۔فی امان اللہ۔

عرش پر تو عاشقانِ مصطفی کا ہے دماغ

اب سمجھ لیجیے کہاں ہوگا دماغِ مصطفی(۹)

حوالے[ترمیم]

۱۔۔۔کلامِ ولیؔ ،ولی الکلام/حضرت مولانا شاہ محمد ولی الرحمن چشتی جمالی نظامی نعمانی/ ۱۹۶۲ء/ بحسنِ اہتمام: خواجہ فضل الرحمن جمالی اولاد چہارقطب ہانسوی سرساوہ وخلیفہ سید سراج المصطفیٰ جمالی سجادہ نشین درگاہِ جمالیہ جے پور/ صفحات ابتدائی/ استفادہ مضمون مولانا سید محبوب الٰہی رضوی سہارن پوری۔

۲۔۔۔ایضاً/صفحہ ۳۸

۳۔۔۔ایضاً/صفحہ۲۲۷

۴۔۔۔ایضاً/صفحہ ۲۲۸

۵۔۔۔ایضاً/صفحہ ۱۷۸

۶۔۔۔ایضاً/صفحہ۲۶۰

۷۔۔۔ایضاً/صفحہ ۳۴۸

۸۔۔۔ایضاً/صفحہ۲۸۲

۹۔۔۔ایضاً/صفحہ۲۷۵