سید ضیاء الدین نعیم کے نعتیہ اظہاری زاویے ۔ ڈاکٹر عزیز احسن

"نعت کائنات" سے
(سید ضیاء الدین نعیم کے نعتیہ اظہاری زوایے ،- ڈاکٹر عزیز احسن سے پلٹایا گیا)

This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Naat kainaat aziz ahsan 10.jpg

مضمون نگار : ڈاکٹر عزیزؔ احسن۔کراچی

مطبوعہ : نعت رنگ ۔ شمارہ نمبر 25


سید ضیاء الدین نعیمؔ کے نعتیہ اظہاری زوایے[ترمیم]

سید ضیاء الدین نعیمؔ کا نام میرے لیے نیا ہے۔لیکن صبیح رحمانی نے جب ان کی چند نعتیں مجھے مطالعے کی غرض سے فراہم کیں تو ان کی نعتیہ شاعری کے چندنمونے دیکھتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے انہوں نے اپنے قرینہء سخن گوئی کے ذریعے نعتیہ شاعری کو وہ آدرش دیدیا ہے جس کا میں متلاشی رہتا ہوں۔۔۔۔۔۔آدرش کی یکسانیت ،فکر کی مرکزیت اور احساس کی ہم رنگی کے باعث میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ فن کی زبان میں میرے ہم خیال اور ہم آواز شاعر ہیں۔

ہمارا عہد تہذیبی زوال اور اقداری انحطاط و اِدبار کا کھلا منظر پیش کررہا ہے۔ ایسی صورت میں وہ ادباء و شعراء جو ادب کو زندگی سے قریب اور زندگی کو اصلح اقدار کے تابع دیکھنے کے متمنی ہیں اصلاحی تخلیقات کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔ نعت گو شعراء بھی اس اصلاحی مہم میں بالواسطہ شریک ہیں۔کیوں کہ وہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی عملی زندگی کی روشن مثالوں سے شعری شبہیں (Images) بناتے ہیں۔ لیکن عام طور پر نعت اپنی عوامی اپیل کے باعث بیشترسستی جذباتیت اور بہت نچلی ادبی سطح کی تخلیقات کے ظہور کا سبب بنتی رہی ہے۔ظاہر ہے ایسی تخلیقات کی طرف ناقدین کی توجہ مبذول نہیں ہوسکتی۔جو شعراء عام شاعری کی طرف سے صرف ذائقہ بدلنے کی غرض سے یا کسی سماجی ضرورت کے تحت نعت کہتے ہیں وہ ادبی اسلوب تو برقرار رکھ پاتے ہیں لیکن زندگی آمیز اور زندگی آموز پیغام دینے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے ۔کیوں کہ ان کی توجہ شعری تکلفات کی طرف ہوتی ہے۔ سیرتِ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے عملی پہلوؤں کی طرف ان کا دھیان کم کم ہوتا ہے اور پیغامِ عمل کے ابلاغ کا کوئی ارادہ بھی نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ شعر بالقصد موزوں کیے ہوئے متن ہی کو کہتے ہیں اس لیے جب تک خیال کی ارادی تنظیم نہ ہو، کوئی با مقصد اور فکری سطح کا شعر تخلیق کیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔

حالیؔ کے مسدس میں نعتیہ اشعار کی بنیادی خوبی ہی یہ تھی کہ ان میں نبیء کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عملی اقدامات کی وہ جھلک دکھائی گئی تھی جس سے انسانوں کے باہمی روابط میں ایسی خوئے انس پیدا ہوئی کہ پورامعاشر ہ اعلیٰ اقدار کی خوشبو سے مہک اٹھا تھا۔ ہوتا یہ ہے کہ جب معاشرے ‘ معیار اور اقداری ضابطوں سے تہی ہوجاتے ہیں تو خلاق ذہن ماحول کو زندگی بخش رویوں سے آشنا کرنے کے لیے کچھ تخلیقی اصولوں کے تحت زندگی کے لیے نصب العین اور معیارات و اقدار کی تلا ش شروع کردیتے ہیں۔اردو ادب میں خلاق ذہنوں کا یہ عمل۱۸۵۷ ء کی سیاسی و عسکری پسپائی اور ذہنی انتشار کے بعد سے شروع ہوا جس نے ادب کی جملہ اقدار کو حقیقت آشنا بنانے کی کوشش کی۔ نعت بھی اسی معیار پر لکھی اور قبول کی گئی۔

میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ نعتیہ شاعری میں پیغامِ صداقت، بیان کی سادگی اورحقائق کی تخلیقی نہج پر جلوہ گری دیکھ سکوں !!!۔۔۔۔۔۔اور الحمدللہ ! نعیم صاحب کی شاعری میں یہ اوصاف بدرجہء اتم موجود پاکر میرا دل باغ باغ ہوگیا ۔میں اپنی بار بار دہرائی ہوئی بات کو پھر دہراتا ہوں ۔۔۔کہ ، عام شاعری میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیسے کہا گیا۔۔۔جبکہ نعتیہ شاعری میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ’’کیا کہا گیا؟‘‘۔۔۔اس شاعری میں کیسے کہا گیا کا سوال پہلے سوال کے استنادی حوالوں کے اثبات سے مشروط ہے۔ایسا قطعی نہیں ہے کہ نعتیہ شاعری میں کیسے کہا گیا والا سوال ہی زیرِ غور نہ آئے۔۔۔۔۔۔لیکن یہ سوال صرف ثانوی حیثیت میں اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی لچر بات بہت خوبصورت انداز میں کہی گئی ہو تو وہ عام شاعری میں قابلِ ستائش ہوسکتی ہے وہ بھی ان لوگوں کے لیے جو ادب کو صرف تفریحِ طبع کے لیے تخلیق کرتے اور اسے پڑھتے ہیں۔ادب برائے زندگی کے قائلین تو اس شعر کی طرف بھی زیادہ متوجہ نہیں ہوں گے جبکہ ان میں دین بیزار بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن نعتیہ شاعری کے سنجیدہ قارئین کسی شعری کاوش کو اس کی ادبی خوبیوں اوراس میں مضمر یا ظاہر دینی صداقتوں کے ساتھ ہی قبول کریں گے۔

اظہارِ صداقت ، جذبہء عمل جگانے کا داعیہ، سیرتِ سرکارِ عالمین صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کو اپنا نے کا مؤثر پیغام اور احساسات کا تموج ، سید ضیا ء الدین نعیم صاحب کی شاعری کو لائقِ تحسین اور قابلِ قدر چیز بناتا ہے۔

وہ جو ادب کی دو اقسام بار بار حوالے کے طور پر میری تحریروں میں آتی رہی ہیں کہ (۱)معلوماتی ادب ۔۔۔اور (۲) متأ ثِّر کن ادب (Literature of Knowledge and Literature of Power) تو ہم دیکھتے ہیں کہ عام شاعری کو صرف متأ ثِّر کن ادب کی سطح پر رکھ کر ہی تخلیق کیا جاتا ہے ، پڑھا جاتا ہے اور اس پر نگاہِ انتقاد ڈالی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔اس کے بر عکس نعتیہ ادب کو معلوماتی اور متأ ثِّر کُن ادب ‘ دونوں سطح کے معیارات کی روشنی میں تخلیق کیا جاتا ہے، پڑھا جاتا ہے اور اس پر تنقید کی جاتی ہے۔ نعتیہ شاعری میں خوبصورت اظہار کو خوبصورت اور مستند بات یا خیال کی راست سمتی کی روشنی ہی میں سراہا جاسکتا ہے نرے اظہاری حسن کو نہیں۔

نعیم صاحب کی شاعر ی میں نعتیہ لہجہ سادہ ہونے کے باوجود دل میں اترجانے والاہے۔ اس لیے کہ ان کی شاعری میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کا اسوہء حسنہ ‘شعری بنت میں جلوہ آراء ہوکر الفاظ و معانی کے دریچوں کو روشنی کی سمت کھول رہا ہے۔ان کی نعتوں میں صرف جذبہ نہیں بلکہ جذبے کے ساتھ احساسِ پیروی بھی ہے اور پیروی کے لیے جس نقشِ قدم کی ضرورت ہے وہ بھی نعتیہ اشعار میں سورج بن کر چمک رہا ہے۔

نعیم صاحب کے کلام میں سہلِ ممتنع( یعنی ایسا کلام جس کی تقلید کرنا سہل معلوم ہو لیکن ویسا تخلیق کرنا نہایت مشکل ہوجائے) کی فراوانی اور فصاحت و بلاغت لائقِ تحسین ہے۔مثلاً:

محبت ہی محبت تھی ‘ حکیمانہ رویَّہ تھا

وہ جس نے ایک عالم کو نبیؐ کی سمت کھینچا تھا

یا

پہلے آئے تھے نہ ویسے کبھی آئے شب و روز

عہدِ پیغمبرِ آخر نے جو پائے شب و روز

’’تو کیا کفار کی خاطر تم اپنی جاں گھلا لوگے‘‘

یہ کہہ کر رب نے ان کو اتنا غم کرنے سے روکا تھا

سہلِ ممتنع کی خوبی کے ساتھ ساتھ بات کہنے کا ایسا قرینہ کہ نہ تو کلام میں تعقید ہے نہ تنافر، اس تخلیقی اظہار کی وقعت میں اضافے کا باعث ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم نے خود اپنے عہد کو ’’خیرالقرونِ قرنی‘‘ فرمایا ہے۔شاعر نے اسی لیے اس عہد کے بعد آنے والے رات دن کو ان سے کم تر ظاہر کیا ہے۔پھردین کا پیغام نہ ماننے والوں کے لیے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی دلی کڑھن کے قرآنی اظہار کا شعری عکس جس میں رب تعالیٰ کی آ پ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلمسے انتہائی درجہ محبت کا قرینہ ہو ، یقیناًنعتیہ شاعری کی اچھی مثال ہے۔ تلمیح میں سورہء کہف کی آیت ۶ اور سورہء شعراء کی آیت ۳ (تو شاید اے نبیؐ! ہلاک کردینا چاہتے ہو تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ،اگر نہ ایمان لائیں وہ اس قرآن پر۔۔۔اے نبیؐ شاید تم کھو دوگے اپنی جان اس [غم]میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے) کا پورا مفہوم بڑی سادگی سے جزءِ شعر بنا ہے ۔

نعیم صاحب کی شاعری پڑھتے ہوئے مجھے اقبال یاد آگئے جو کہہ گئے ہیں:

ما ز تخلیقِ مقاصد زندہ ایم

از شعاعِ آرزو تابندہ ایم

(اعلیٰ مقاصد کی تخلیق ہی کی بدولت ہم زندہ ہیں اور [خیر،دیکھنے، خیر پر عمل کرنے اور خیر پھیلانے کی]اسی آرزو کے طفیل ہمیں زندگی کی چمک دمک نصیب ہے) اور بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ نعیم صاحب کی نعتیہ شاعری میں مقاصد کی ضو ریزی نے جہانِ معانی کو درخشاں کردیا ہے۔

نعت رنگ کے اگلے صفحات میں نعیم صاحب کی چند نعتیہ تخلیقات پیش کی جارہی ہیں۔ ابھی چوں کہ یہ شعری اندوختہ کچھ کم ہے جس میں مستقبل قریب میں مزید اضافے کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس لیے فی الحال یہ مختصر تعارفی اظہاریہ ہی ان کی شعری قدر کی سمت نمائی کے لیے کافی ہے۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

زبان و بیان آداب ِ نعت
نعت خواں اور نعت خوانی نعت گو شعراء اور نعت گوئی
شخصیات اور انٹرویوز معروف شعراء