سیدۃ النساء کا جائزہ

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Naat Kainaat Riaz Majeed.jpg


اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

تحریر : ڈاکٹر ریاض مجید

سیدۃالنساء[ترمیم]

گزشتہ صدی کے آخری ربع میں نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ کے ساتھ حمد ومنقبت نگاری کے حوالے سے بھی ایک دورِ نو کا آغاز ہُوا کوئی بھی صنفِ ادب صحیح معنوں میں اس وقت اپنے تشکیلی مرحلوں سے نکلتی ہے جب اس میں تخلیق کے ساتھ تحقیق اور تنقید کا سرمایہ بھی سامنے آئے ۱۹۷۵ء کے بعد جس انداز میں عقیدت نگاری (Devotional Poetry) کو بڑھاوا ملا وہ حیرت انگیز اور بہجت خیز تاثرات کا حامل ہے اس دَور میں مقدار اور معیاردو نو حوالوں سے جس طرح عقیدت ساماں شاعری نے ترقی کی اس کا اندازہ حمد، نعت اور ،مناقب پر چھپنے والی کتابوں کے روز افزوں گراف سے ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ عامہ اور جامعات میں سندی مقالات کے سبب بھی اس شاعری میں اضافہ ہوا۔جس سے اردو شاعری بھی بہ حیثیت مجموعی ثروت مند ہوئی۔


منقبت نگاری، عقیدت نگاری کی وہ صورت ہے جس میں اہل بیتؓ، صحابہ کرامؓ اور اولیائے عظّام کے حضور شاعری اپنے جذبات و محسوسات کا اظہار کرتے ہیں اردو شاعری کے ابتدائی نمونوں میں ہی حمد اور نعت کے ساتھ منقبت کاسراغ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کی ایک شکل ان نفوس قدسیہ سے ارادت کا اظہار ہے ’’نعت میں اہل بیت کی مدح اور تذکارِ مبارک‘‘ اور ’’نعت میں صحابہ کرام کی منقبت کے عناصر‘‘ باقاعدہ تحقیق طلب موضوعات ہیں جن پر تنقیدی کام سے تلاش و جستجو کے کئی نئے دَر کھل سکتے ہیںکہ ان منقبت پاروں میں محاسنِ شعری کے اعلیٰ نمونے بھی نظر آتے ہیں۔


زیرِ نظر مجموعہ مناقب’’السیّدہ النسا‘‘ عقیدت نگاری کے اسی مبارک سلسلے کی ایک قابل قدر کڑی ہے بکھرے ہوئے عقیدت پاروں کی جمع آوری ایک اہم فریضہ ہے اور اگر اس فریضے کو محبت و ارادت سے نبھایا جائے تو یہ جمع آوری اور بھی قابل قدر اور پُر تاثیر بن جاتی ہے یہ مجموعۂ مناقب خاتونِ جنّت،بنتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے ہے جسے جاوید عارف قادری صاحب نے بڑی محنت اور تلاش کے بعد مرتب کیا ہے منقبت نگاری کے ذیل میں یہ ایک اہم کام ہے اس کی اہمیت کئی حوالوں سے قابلِ تحسین ہے۔


۱۔ایک یہ کہ مرتب نے تفحص و تلاش سے حضرت فاطمہؓ پر دستیاب مناقب کو بڑی عمدگی اور قرینے سے جمع کیا انہوں نے مناقب کی تلاش میں مختلف کتابوں، رسالوں ، اخبارات اور عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ عامہ کی دوسرے ذریعوںسے بھی استفادہ کیا اس انتخاب میں انہوں نے ایک ذمہ دار جمع آور کی طرح ہر مکتب فکر اور ہر دَور کے شاعروں کے کلام سے رجوع کیامرتب کا واحد مقصد اپنے موضوع (جناب سیدہ النساؓ) پر عقیدت پاروں کو مرتب کرنا تھا انہوں نے یہ کام جس لگن اور دیانت سے کیا اسی کا ثمرہ ہے کہ یہ کتاب حضرت فاطمۃ الزہراؓ پر لکھے گئے مناقب کا (میری دانست میں) اب تک سب سے منفرد اور بڑا مجموعہ ہے علامہ محمد عارف جاوید نقشبندی کی محنت اور اپنے موضوع سے شیفتگی کا نتیجہ ہے کہ اس مجموعے میں مناقب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں


۱۔ قدیم و جدید سب شاعروں کا منتخب کلام شامل ہے۔

۲۔شاعری کی مختلف اصناف کے نمونے موجود ہیں۔

۳۔ خواتین اور مرد حضرات دونوں کے کلام سے استفادہ کیا گیا ہے۔

۴۔ مختلف مکاتیبِ فکر سے تعلق رکھنے والے معروف شاعروں کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

۵۔معروف اور نسبتاً کم معروف___ ہر طرح کے شاعروں کی اس موضوع پر لکھی گئی منقبتوں کو شامل کیا گیا ہے۔


عارف جاوید صاحب بلاشبہ اس کام پر ہمارے شکرینے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے عالم اسلام کی اس عظیم شخصیت پر منظومات و مناقب کی جمع آوری کی ہے جن کا اسوۂ پاک ہر زمانے کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لئے ایک طیّب و طاہر نمونہ اور مبارک و مقدس مثال ہے علامہ اقبال نے آپ کی ذات، شخصیت اور مقام و مرتبہ کا ذکر کن خوبصورت الفاظ میں کیا ہے اقبال فرماتے ہیں :

؎ مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز

از سہ نسبت حضرتِ زہراؓ عزیز


؎ نور چشمِ رحمۃ للعالمیں

آں امام اولین و آخریں

؎… بانوے آں تاجدار ھل اتیٰ

مرتضیٰ‘ مشکل کشا‘ شیرِ خدا

؎… مادر آں مرکز پرکار حق

مادر آں کارواں سالار حق


اس انتخاب کے آغاز میں علامہ محمد عارف جاوید نقش بندی کا ایک بھرپور مضمون سیّدہ زہراؓ کی شخصیت اور سیرتِ اطہر پر ہے یہ مضمون احادیث رسول اکرمؐ اور آپؐ کی سیرت کے حوالے سے کئی ایسے واقعات پر روشنی ڈالتا ہے جو آپؐ کی اپنی دخترِ نیک اختراور خاتون جنّت سے اراد ت و محبت کی عکاسی کرتے ہیں اور جن میں آپؐ نے سیّدۃ فاطمہ کے مناقب و فضائل کا ذکر کیا ہے یہ مضمون نظم و نثر کی کئی کتابوں کے حوالوں سے مزّین ہے اور مؤلف کی اپنے موضوع سے وابستگی اور محبّت کا ترجمان ہے انہوں نے اس انتخاب کے حوالے سے کیا خوب فرمایا ہے کہ


’’… اہلِ بیت اطہار سے تمام تر عقیدت مجھے میرے عقائد اور نسبت نے عطا کی ہے وہ عقیدہ جس کے ایک ہاتھ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا دامن ہے تو دوسرے ہاتھ میں اہل بیت نبوت کی غلامی ہے لہٰذا میں نے اس بات کی یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مجموعے میں کوئی ایسا کلام شامل نہ ہوجس میں سیّدہ پاک سلام اللہ علیہا کی عقیدت کی آڑ ے کر کائنات کی مقدّس ترین ہستیوں یعنی اصحاب رسول رضی اللہ عنہم پر تبّرا بازی کی گئی ہو‘‘


حقیقت میں عقیدت و محبت کے اظہار میں یہی وہ مرکزی و محوری نکتہ ہے جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جس سے ہمارے کئی شاعر، خطیب اور ذاکر حضرت دانستہ یا نادانستہ طور پر غفلت برت رہے ہیں کسی بھی شخصیت سے بے پناہ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری اہم شخصیات کی تخفیف کی جائے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اہلِ قلم اور مقرّر اِس بدیہی حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں یوں عقیدت نگاری کی فضا میں خواہ مخواہ تعصب و بغض کا غبار اُڑایا جا رہا ہے مختلف مذاہب فکر اور مکتبہ ہائے خیال سے تعلق رکھنے والے شاعروں نے اپنے کلام میں ایک آدھ ایسا مصرع ، ترکیب یا شعر شامل کرنا اپنے ہر فرض کر لیا ہے جس سے صلح جو ’نیک نہاد‘ اور شریف النفس سامعین کی دل آزاری ہو___واضح رہے کہ عقیدت نگاری کی تمام شکلیں محبت وشیفتگی کے اظہار کے لئے ہیں ان میں فروعی اختلافی مسائل یا دروازکار کی تاویلات اور بے سرویاروایات کا ایسا حوالہ جو عقیدت کی فضا کو غبار آلود کر دے بالکل مناسب نہیں ___اس کے لئے دوسرے پلیٹ فارم اور حلقے موجود ہیں جہاں فقہی موشگافیوں اور مختلف شخصیات کے مراتب کی درجہ بندی کا شوق پورا کیا جا سکتا ہے عقیدت پر مشتمل شاعری میں ہی ایسے مسائل کا تذکار یا اِن کی شر آمیز نشاندہی کیوں ضروری ہے؟ بقول کسے

؎ ہم اہلِ نعت فروعات میں الجھتے نہیں

ہمیں تو اُنؐ کی محبت کو عام کرنا ہے

اہل بیت کی محبت کا ذکر ہو یا صحابہ کرام ؓ سے عقیدت کے اظہار کا مرحلہ__ ہمارے لئے سب کا احترام لازم ہے ان کی عقیدتوں کا مرکز حضور اکرمؐ کی ذات مبارک تھی اور انہی کی نسبت مبارک سے شیفتگی و ارادت کے یہ سارے سلسلے معتبر و معزز ہیں یہ سب عقیدتیں مائل بہ مرکز (Introjective) میں مرکز گریز (Prejective) نہیں علامہ اقبال کا شعر ہے


؎ محبت چوں تمام افتد رقابت از میاں خیزد

   	 بہ طوفِ شعلہٖ پروانہ با پروانہ می سازد


محبت کی تکمیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چاہنے والوں کے درمیان سے رقابت ختم ہو جاتی ہے سبھی پروانے مل کر ایک شعلہ کا طواف کرتے ہیں __وہ آپس میں لڑتے نہیں کہ اُن کی فدویت و جاں سپاری کا مرکز مشترک ہوتا ہے۔

محمد عارف جاوید نے اوپر دیئے گئے اقتباس کی چند سطروں میں ہمارے منقبت نگاروں کو سادہ سے الفاظ میں عقیدت نگاری کا ایک منشور دے دیا ہے ہمارے شاعروں کو اسے ملحوظ رکھنا چاہیے فی زمانہ اسے یاد رکھنے اور دہرانے کی بہت ضرورت ہے۔


(ان دنوں نعتیہ اور منقبتی مشاعروں میں کچھ غیر ذمہ دار شاعر، سہواً یا دانستہ طور پر بعض ایسے اشعار سناتے ہیں جن میں بعض مکاتیب فکر کے لئے واضح طور پر دل آزاری کے اشارے ہوتے ہیں اس موضوع پر’ نعت رنگ‘ کے آئندہ شمارے میں میرا ایک طویل مضمون آ رہا ہے)


’سیدۃ النسائ‘ پر اردو شاعری کا یہ انتخاب جہاں محمد عارف جاوید نقش بندی کے لئے باعث فخر ہے وہاں اس سے اردو شاعری خصوصاً اردو منقبت نگاری کا وقار بھی بلند ہُوا ہے۔ اس مجموعے سے شائقین مناقب میں جمع آوری مناقب کے نئے دروَا ہوں گے شعری مجموعوں ، رسالوں اور اخباروں میں اہلِ بیتؓ اور صحابہ کے حوالے سے منظومات کا ایک بڑا سرمایہ موجود ہے اہل بیت اور صحابہ کرامؓ پر ’سیدۃ النسائ‘ کی طرز کے جداگانہ چھوٹے بڑے مجموعے مرتب کئے جا سکتے ہیں یوںا ردو منقبت نگاری کے ایک وقیع اثاثے کی جمع آوری سے تحقیق و تنقید کے کئی در کھلیں گے۔


اہل بیتؓ ہر الگ الگ اور صحابہ کرام پر جدا جدا منقبتی مجموعے موجود ہیں جن میں عبدالعزیز خالد کی طویل یک کتابی نظم ’ثانی اثنین اذھما فی الغار‘ سیّدنا ابو بکر صدیقؓ، نقش ہاشمی کی سیدنا عمر فاروقؓ اور بابائے منقبت برادرم انجم نیازی کی حضرت عائشہ اور عشرہ مبشرہ پر درجن سے زیادہ کتابیں موجود ہیں یہ کچھ کتابوں کی سرسری نشاندہی ہے اگر اہل بیت اور صحابہ کرام پر علاحدہ علاحدہ چھپنے والے مجموعوں کی فہرست مرتب کی جائے تو (چھوٹے بڑے کتابچوں اور منتختاب سمیت) یہ فہرست سینکڑوـں تک پہنچ سکتی ہے۔


’سیدۃ النسائ‘ میں کم وبیش اظہار کے معروف پیراؤں کے تمام نمونے موجود ہیں وصیفہ،بیانیہ، سیرتی، منقبتی، واقعاتی ___ مختلف عشروں میں مختلف ذہنوں نے طرح طرح کے اسالیب میں شاعری کی۔ اس منقبتی سرمائے کا زیادہ حصہ اگرچہ غزل کی صنف میں ہے لیکن اس کے ساتھ دوسری معروف صنفوں کی مثالیں بھی موجود ہیں مثنوی، نظم ، نظم آزاد،مسّدس، قطعہ بند، غزل مسلسل ، غیرمردّف شاعروں میںطرح طرح کی صنفیں اور ہئتیں استعمال کی ہیں۔سلام کے پیرائے میں بھی کئی منقبتیں ہیں اور تضمین کے اسلوب میںبھی سیدۃ النساء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ پوری کتاب کا موضوع ایک ہے مگر موضوعاتی یگانگت کے باوجود شاعروں نے جدت وندرت کے با کمال نمونے دکھائے ہیں فاطمۃ زہرا، سیّدہ، خاتون جنّت،اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مختلف ناموں کو ردیف بنا کر بیسوؤں ایسی نظمیں ملتی ہیں جن کا تقابلی مطالعہ اردو منقبت نگاری میں تحقیق و تنقیدکے کئی نئے راستے دکھا سکتا ہے۔ اس کتاب میں شامل شاعروں کا زمانہ لگ بھگ ڈیڑہ صدی پر محیط ہے مولینٰا شبلی نعمانی،مولینٰا امام احمد رضا خاں بریلوی، حفیظ جالندھری، سیماب اکبر آبادی، سے دتو رام کوثری تک نذرانہ ہائے عقیدت کے شمول نے اس انتخاب کو ثروت مند بنا دیا ہے۔


اس میں بحروں کی بوقلمونی بھی نظر آتی ہے بہ حیثیت مجموعی اس انتخاب میں اردو منقبت نگاری کے جملہ اسالیب اور شعری محاسن کی جھلک نظر آتی ہے محمد عارف جاوید نقشبندی نے جس شائستگی اور سلیقے سے اس مجموعہ مناقب کو مرتب کیا ہے وہ لائق تحسین ہے ___ حمد، نعت اور منقبت کے کسی بھی کام کو انسان کب مکمل کر سکا ہے ہر مرتب کی اپنی کوشش اور دستیاب شعری وسائل کے اعتبار سے ایسے کام ہوتے ہیں


ان دنوں عقیدت و محبت سے جمع کئے گئے جو مجموعہ ہائے مناقب سامنے آئے ہیں ان میں سیّد النساء مقدار اور معیار دونوں حوالوں سے منفرد ہے۔ ’مقدار‘ اس لحاظ سے کہ یہ ایک کتابچہ یا مختصر گلدستہ مناقب نہیں ایک بھرپور کتاب ہے جس میں مختلف طرزوں اور اسلوبوں کے نمونے وافر صورت میں موجود ہیں اور ’معیار‘ اس اعتبار سے کہ مرتب نے بڑی محنت اور جستجو سے اردو کے کم و بیش تمام اہم شاعروں کے مجموعہ ہائے کلام اور دوسرے ذرائع سے ان مناقب کو جمع کیا ہے میر تقی میر کا شعر ہے

کو ہکن کیا پہاڑ کاٹے گا

عشق نے زور آزمائی کی


ایسا کام انہماک اور محنت کے بغیر نہیں ہوتا عارف جاوید نے خاتون جنت سیدہ زہرا ؓ کے مناقب جمع کرتے ہیں جس لگن سے کام کیاہے وہ قابل ستائش ہے ۔


اہل بیتؓ اور اصحابِ رسولؓ سے فدویت اور جاں سپاری کا تقاضا ہے کہ ان عظیم شخصیات پر لکھے گئے مناقب کو جداگانہ کتابوں میں جمع کیا جائے اس سے نہ صرف اردو میں منقبت نگاری کے مطالعے کو ایک باقاعدہ جہت ملے گی بلکہ اس پر تحقیقی و تنقیدی کام کے کئی نئے گوشے بھی سامنے آئیں گے اکیسویں صدی اردو شاعری میں حمد، نعت اور منقبت کے دَور نو کی صدی ہے عقیدت نگاری کا بہ اظہار جہاں اہل قلم کی مذہبی قدروں سے وابستگی کا مظہر ہو گا وہاں بہ حیثیت مجموعی اردو شاعری کو بھی جذبات و محسوسات اور خیالات و مشاہدات کے مطلوب اور مقصود زاویوں کی طرف گامزن کرے گا جو امت مسلمہ کے اہلِ قلم شاعروں کے لئے اصل کا درجہ رکھتے ہیں واضح رہے کہ اردوئے قدیم کے شعری نمونوں سے معاصرہماری شاعری میںمذہبی اقدار و شخصیات کی جھلک نمایاں رہی ہے بابائے اردو کی اہم نصف ’اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا حصہ‘ میں عقیدت نگاری کی وہ جھلک بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہے جو آج حمد و نعت اور مناقب کی تشکیلات میں پورے فنّی محاسن کے ساتھ جلوہ گرہے اور


جس کی ایک اہم مثال سیدۃا لنساء کے مناقب ہے جسے عارف جاوید قادری صاحب نے نہایت احترام کے ساتھ مرتب کیا ہے۔

مجھے امید ہے عارف صاحب کی یہ جمع آوری اہل وِلا میں مقبول اور دربار رسالت مآبؐ میں قبول ہو گی جو ان کی قرۃ العینؓ خاتون جنت ،سیدہ فاطمۃ الزہرا کے تذکارکے 

احوال و مناقب پر مشتمل ہے میں اپنے تاثرات اس رباعی پر ختم کرتا ہوں۔


تحسینِ جگر گوشۂ و دل بندِ رسولؐ

یہ مدح‘ یہ تذکار‘ یہ توصیف بتولؓ

دربارِ اہلِ بیتِ حضرتؐ میں

جاوید کی جمع آوری ہو مقبول


(آمین)


مزید دیکھیے[ترمیم]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

اس سال کی کچھ اہم کتابیں

اس سیکشن میں اپنے کتابیں متعارف کروانے کے لیے "نعت کائنات" کو دو کاپیاں بھیجیں

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات