سلمان رسول، لطیف جذبوں سے سرشار شاعر ۔ سجاد بخاری

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

از سجاد بخاری

سلمان رسول لطیف جذبوں سے سرشار شاعر[ترمیم]

محبت ایک لطیف جذبہ ہے ۔اس کا اظہاریہ بھی لطیف پیرائے میں ہوتا ہے ۔یہ جذبہ مجاز میں در آئے تو گل و شبنم کے ترانے سے رقصِ سرو و چمن کی کیفیات تک غزال لہجوں میں اتر کر فضائے دشت و صحرا مسحور کرتا رہتا ہے۔ حقیقت کا رنگ چڑھ جائے تو (صِبْغَةَ اللّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ صِبْغَةً [1] کسی اور رنگ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ [2] کے فرمان کے تحت قل إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ [3] کا مطالعہ کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اللہ نے زمین پر ایک ایسی ذات بھیجی ہے جس کے ہر عمل سے عشق کیا جا سکتا ہے ۔ اس ذات سے مراد محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس ہے ۔ جن کے بارے اللہ نے فرمایا لقد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [4]۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو حسن کا شاہکار قرار دے کر عشق کی تشنگی کو دوام بخش دیا گیا۔روز اول سے عشق حسن کی تعریف پر مامور ہے۔حسن جس منزل پر ہو گا عشق بھی اسی درجہ کی طلب و تڑپ سے مزین ہو گا۔

نبی دوعالم ﷺ سے محبت کی اساس آپ کی سنت (قول ۔فعل۔) اپناتے ہوئے آپ کی ذات سے غیر مشروط عقیدت و ارادت رکھنا ہے۔

تعریف کا جذبہ اظہاریہ چاہتا ہے اور ممدوح کے مقام و مرتبہ اور اس کی منشاء جانے بغیر یہ اظہار تکمیل کے مراحل طے نہیں کر سکتا۔

سلمان رسول کی بات چلی ہے تو یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ آپ رفعت و عظمتِ مصطفوی سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور سنتِ مصطفوی کے جانکار بھی ہیں۔ کیونکہ آپ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ علومِ شریعہ پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔

سلمان رسول کی حمدیہ و نعتیہ شاعری (اگرچہ مکمل نظر سے نہیں گزری ) حسن کے شہکار سے بے پناہ عقیدت و محبت سے لبریز ہے ۔ نعت میں ذرا سا غلو در آئے یا مقام و مرتبہ کے بیانہ میں ذرا سی چوک ہو جائے تو یہ عمر بھر کی ریاضت کو ملیا میٹ کر سکتی ہے۔سلمان رسول اس ڈگر پر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔

ذات مصطفوی سے محبت کا اظہار دیکھیے۔

ہے یہ تمثیلِ گیسوئے احمد

سو شبِ تار سے محبت ہے

اس محبت کو اپنے ایمان کی کسوٹی بناتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔

یہ جو شہکار سے محبت ہے

گویا فنکار سے محبت ہے


تیرے پیغام سے ہے پیار مجھے

تیرے افکار سے محبت ہے

اور پھر غیر مشروط اظہاریہ پیش کرتے ہیں ۔


اپنے آقا کے کیا بتاٶں تمھیں

سارے اطوار سے محبت ہے


جذبہء عشق بدرجہء اتم عاشق سے اپنی ذات کی نفی اور تمام کمالات و اوصاف کا منبع حسن کا صدقہ قرار دینے کا اقرار چاہتا ہے ۔یہی بات سلمان رسول کے ہاں کچھ یوں ہے


مہر و مہ و انجم کی، تنویر کا وہ باعث

انساں کی زمانے میں، توقیر کا وہ باعث


تخلیق بشر کا بھی، کارن ہیں مرے آقا

ہیں خانہ ہستی کی، تعمیر کا وہ باعث


آلائش عصیاں سے، فتنوں سے جہالت سے

ہیں باطنِ عالَم کی، تظہیر کا وہ باعث


دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض

نور حق کی تابش سے، روشن آپ کے عارض


سلمان رسول عشق حقیقی کی اقدار کو سمجھتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ یہ راہ رقیب کی کامیابی کی ضمانت بنے بغیر آسان نہیں ہوتی۔آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہی ایک راہ ہے جو سب کے لیے ضروری ہی نہیں بلکہ زندگی کا مقصد ہے۔مجاز کی طرح رقیب نہیں بلکہ ہمسفر کو حبیب کا درجہ دیتے ہیں۔

آپ دعوت عشق مصطفوی دیتے ہوئے اس کے حاصل کا بیان یوں کرتے ہیں۔

جہاں میں جو عز و جاہ چاہے

حضور کو بے پناہ چاہے


جبیں کو قدموں میں ان کے رکھ دے

جو سر پہ اپنے کلاہ چاہے

رہے ہمیشہ غلام ان کا

اگر کوئی مہر و ماہ چاہے


جو ان کے در کا ہوا گدا، وہ

نہ پھر کوئی بارگاہ چاہے

سلمان رسول کے ہاں عام نعتیہ اسلوب بھی موجود ہے ۔اور استغاثہ بھی پیش کرتے ہوئے اپنے درد کے درماں کے لیے بارگاہ مصطفوی سے ملتمس رہتے ہیں۔


شعر دیکھیے۔

اے حبیبِ خدا عنایت ہو

کچھ تو رحمت مجھے خزینے سے


آپ محشر کے دن لگا لینا

میرے آقا مجھے بھی سینے سے


عشق کی حقیقت کے جانکار ہونے کی وجہ ہی سے ایسے شعر ہوتے ہیں۔


عشق کا مزا جب ہے، آنکھ کو دکھائی دیں

شرقاً آپ کے عارض، غرباً آپ کے عارض


سلمان رسول سے شناسائی فیسبک کا انعام ہے ۔آپ حلیم الطبع ہیں شاعر ہونے کے علاوہ انسان بھی بہت اچھے ہیں ۔آپ بزمِ یاراں میں شمع کی مانند ہیں۔اللہ کرے کبھی آپ کی مجلس کی روشنی ہم تک بھی پہنچے ۔

آخر میں آپ کے علم و عمل میں برکت اور رزق کے میں اضافے کے لیے دعا گو ہوں۔

سجاد بخاری۔۔۔۔۔ سعودی عرب

00966580043712

مزید دیکھیے[ترمیم]

سلمان رسول | سجاد بخاری

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. ۔البقرہ :١٣٨
  2. البقرہ۔١٦٥
  3. آل عمران ۔٣١
  4. الاحزاب ۔٢١