زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو۔ امام احمد رضا خان بریلوی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر : امام احمد رضا خان بریلوی

کتاب : حدائق بخشش

نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو

الٰہی طاقتِ پرواز دے پر ہائے بلبل کو


بہاریں آئیں جوبن پر گھرا ہے ابر رحمت کا

لبِ مشتاق بھیگیں دے اجازت ساقیا مل کو


ملے لب سے وہ مشکیں مہر والی دم میں دم آئے

ٹپک سن کر قمِ عیسیٰ کہوں مستی میں قلقل کو


مچل جاؤں سوالِ مدعا پر تھام کر دامن

بہکنے کا بہانہ پاؤں قصدِ بے تامل کو


دعا کر بختِ خفتہ جاگ ہنگامِ اجابت ہے

ہٹایا صبحِ رخ سے شانے نے شبہائے کاکل کو


زبانِ فلسفی سے اَمن خرق و التیام اَسرا

پناہِ دورِ رحمت ہائے یک ساعت تسلسل کو


دو شنبہ مصطفٰے کا جمعہِ آدم سے بہتر ہے

سکھانا کیا لحاظِ حیثیت خوئے تأمُل کو


وفورِ شانِ رحمت کے سبب جرات ہے اے پیارے

نہ رکھ بہرِ خدا شرمندہ عرضِ بے تامل کو


پریشانی میں نام ان کا دلِ صد چاک سے نکلا

اجابت شانہ کرنے آئی گیسوئے توسل کو


رضؔا نہ سبزہ گردوں میں کوتل جس کے موکب کے

کوئی کیا لکھ سکے اسکی سواری کے تجمل کو


مزید دیکھیے[ترمیم]

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو | زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو | یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو

امام احمد رضا خان بریلوی | حدائق بخشش