ریاض حسین زیدی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش


"Riaz Hussain Zaidi


فراغ رہووی 13 جولائی 2020 کو دار ِ فانی سے رخصت ہوگئے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

سید ریاض حسین زیدی کا شمار پاکستان کے معروف ترین نعت گو شعراء میں ہوتا ہے ۔ یوں تو غزل اور نظم پر بھی یکساں گرفت ہے لیکن نعت رسول مقبولﷺ آپ کی پسندیدہ صنفِ سخن ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ’’سیرت ایوارڈ‘‘مل چکا ہے۔ سید ریاض زیدی دل سوزی سے مالا مال شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے کئی نوجوان نسلوں کی بڑی محنت اور جاں فشانی کے ساتھ تربیت کی ہے۔ ’تین نعتیہ مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔وہ خاندان سادات گیسو دراز بندہ نواز سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے مورث اعلی سید بندہ نواز گیسو دراز ہیں ۔ آپ کا تعلق ملک کے معروف علمی و ادبی گھرانے سے ہے۔ آپ کے خاندان میں حضرت سید نفیس الحسینی ؒ، صاحب زادہ افتخارالحسن شاہ، سید منظورالکونین ،ڈاکٹر احسن زیدی اور خاور زیدی جیسی شخصیات شامل ہیں۔ [1]

وہ 11 اپریل 1940 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اس وقت ساہیوال میں رہائش پذیر ہیں ۔ ابتدائی تعلیم سکاچ مشن ہائی اسکول، سیالکوٹ سے میٹرک، جناح اسلامیہ کالج، سیالکوٹ سے بی۔اے پاس کیا۔پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔اے اردو کا امتحان اعلی اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔پھر بی۔ایڈ کی ڈگری گورنمنٹ ٹریننگ کالج، بہاولپور سے حاصل کی


درس و تدریس[ترمیم]

ریاض حسین زیدی ساری عمر درس و تدریس سے منسلک رہے ہیں ۔ آپ محکمۂ تعلیم میں استاد شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ گورنمنٹ کالج عارف والا میں کامیاب پرنسپلی کی۔گورنمنٹ ایمرسن ملتان میں ڈاکٹر عرش صدیقی، جابر علی سید، تاثیر وجدان اور اسلم انصاری جیسی شخصیات سے رفاقت رہی۔گورنمنٹ کالج ساہیوال سے پروفیسر آف اردو کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔

ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر سہیل احمد خان ، اکٹر طاہر تونسوی، غلام نبی اعوان، اصغر ندیم سید، محسن نقوی، ڈاکٹر اعجاز تبسم، ڈاکٹر منصور احمد قریشی، پروفیسر ڈاکٹر ندیم عباس اشرف، ڈاکٹر افتخار شفیع اور اس کے علاوہ ان گنت نامور ہستیاں کسی نہ کسی کلاس میں ان کی شاگرد رہیں ہیں۔

سفر ِ نعت گوئی[ترمیم]

ان کے خاندان کا ماحول نہایت مذہبی اور اعلی دینی اقدار کا حامل تھا۔شعروادب سے گہری وابستگی تھی۔ وہ بچپن سے ہی شریک از نصاب سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے تھے اور تحریرو تقریر کے مقابلوں میں حصہ دار بنتے۔کالج میگزین کی ادارت کا فریضہ انجام دیا۔ انہوں نے پہلی نعت 1958 میں سیالکوٹ میں منعقدہ ایک نعتیہ مشاعرے میں پڑھی جبکہ وہ اس وقت ایف۔اے کے طالبعلم تھے۔اس کا مطلع تھا

فکرو عمل کے حسن کا سامان کر دیا

عزت ماآب آپ نے انسان کر دیا۔

اہل بینش کے لیے ان کے پہلے ہی کلام سے ان کی پرواز کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہ تھا ۔سیالکوٹ میں استاد سید عشقی الہاشمی ، اصغر سودائی اور تاب اسلم کی رہنمائی ان کے فن کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور پھر باقاعدہ شعری عظمتوں کو قاضی حبیب الرحمان کی معییت میں نکھارا گیا


وہ پاکستان کے طول و عرض اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کئی مجالس میں شرکت کر چکے ہیں۔ان شہروں میں کراچی۔لاہور۔فیصل آباد۔سرگودھا۔جھنگ۔اوکاڑہ۔پاکپتن۔ملتان۔سیالکوٹ اور زیادہ تر ساہیوال میں ان گنت نعتیہ مشاعروں کی صدارت کر چکے ہیں۔ان کا پہلا نعتیہ مشاعرہ پی۔ٹی۔وی لاہور سے تھا


نعتیہ مجموعے[ترمیم]

اعزازت[ترمیم]

  • سیرت ایوارڈ برائے ریاض مدحت 2002 ء - اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف نے دیا۔
  • صوبائی سیرت ایوارڈ ، ذکر شہ ِ والا، 2012 - وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف
  • حفیظ تائب ایوارڈ گوجرہ
  • جناح لائبریری ساہیوال - بہترین شاعری کا ایوارڈ ۔
  • ایم فل کا مقالہ - پروفیسر نوید عاجز نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری لی
  • ملتان میں قیام کے دوران اردو اکیڈمی کے پہلے سیکرٹری منتخب ہوئے۔

خدمات[ترمیم]

وہ خدمت نعت کا ایک ادارہ ادب سرائے کے بانی بھی ہیں ۔ ادب سرائے ساہیوال میں 1994 سے تا حال متواتر ماہانہ نعتیہ نشستوں کا انعقاد ذاتی خرچے پر ممکن بنا رہا ہے ۔اب تک اس کا 306 ماہانہ نعتیہ مشاعروں کا انعقاد ہو چکا ہے

احباب کی آراء[ترمیم]

وزیر علی آغا

" ریاض مدحت پیش کر کے سید ریاض حسین زیدی نے حمدونعت کے حوالے سے ایک اہم خدمت انجام دی ہے۔سید ریاض حسین زیدی قابل مبادک باد ہیں کہ وہ ریاض مدحت لکھ کر ایک ایسی خوشبو اوڑھنے میں کامیاب ہوئے جو ہر کسی کو عطا نہیں ہوتی۔"

سعود عثمانی

"انہیں خالق سخن نے اس توفیق خاص سے نوازا ہے جو کسی نعت گو کو مسلسل اور ہموار طور پر مدح پیمبر کی صورت میں عطا ہوتی ہے۔زیدی صاحب کی یہ پر سوز نعتیں ایسے صاحب دل کی عکاس ہیں جو فنی پختگی سے بھی مالا مال ہے اور نعت کی عظیم روایات سے بھی اچھی طرح آشنا ہے۔"

ڈاکٹر خورشید رضوی

"سید ریاض حسین زیدی کی عمر دشت ادب کی سیاحی میں گزری اور بلآخر ان کا سہارا سلیقہ ادب نعت کے فن شریف میں صرف ہوا۔ان کی نظر میں عقیدت کے بغیر لفظ مفہوم سے عاری رہتے ہیں ۔ "

ڈاکٹر ریاض مجید

"اردو نعت کے حالیہ منظر نامے میں وہ ایک اہم شخصیت کے مالک ہیں۔ان کی نعت کا بڑا اثاثہ معاصر نعتیہ شاعروں کی طرح غزل ہی کی صنف میں ہے۔غزل کے علائم و رموز اور زبا ن و بیان کی کلاسیکی شائستگی نعت کے موضوع کے اظہار میں بھی اپنا اثر دکھاتی ہے اور ریاض حسین زیدی کی نعت گوئی میں اخلاص اور تاثیر کے عناصر کو ابھارتی ہے۔

پروفیسر سلیم اختر

" میرا پروفیسر سید ریاض حسین زیدی سے تب کا یارانہ ہے جب ہم۔دونوں گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان میں نو گرفتار پرندوں جیسے پروفیسر تھے۔چالیس سال قبل قبلہ زیدی صاحب سے خلوص اور یگانگت کا جو رشتہ استوار ہوا۔ہنوز برقرار ہے۔بحثیت نعت گو سید ریاض زیدی صاحب کا یہ وصف خاص ہے کہ۔وہ عشق رسول کی وسعت کے احساس کے ساتھ اس کی حدود کا ادراک بھی رکھتے ہیں ۔"

دیگر معلومات[ترمیم]

معروف شاگرد : ندیم عباس اشرف، خالق آرزو، عقیل رحمانی، فاروق اظہر

دیگر شعراء کے پسندیدہ کلام :


پسندیدہ نعت گو شعراء  : علامہ اقبال۔ حفیظ تائب، حافظ مظہرالدین، مظفر وارثی

پسندیدہ نوجوان نعت گو شعراء : کنور راجہ

ان کے شہر کا مشہور نعت گو شعراء : علی رضا۔ پروفیسر ڈاکٹر ندیم عباس اشرف اورمرتضی ساجد

نعت ان کی نظر میں[ترمیم]

نعت گوئی کے بارے ان کا نظریہ

نعت گوئی مشکل کام ہے یہ تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے اس میں نہایت محتاط ہو کر اوصاف دسول بیان کرنے چاہییں۔ہرگز ہرگز ایسے اشعاد نہ کہے جائیں جو توحید بادی تعالی کے مماثل ہو جائیں

نعت خوانی کے بارے ان کا نظریہ

نعت خوانی کے لئے عشق رسول لازمی ہے اور فلمی طرز کے معروف گانوں کے انداز میں نہیں پڑھنا چاہییئے۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

فراغ رہووی 13 جولائی 2020 کو دار ِ فانی سے رخصت ہوگئے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نئے صفحات
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نعت کائنات پر نئی شخصیات

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. پنجند-کام