درود تاج کی فضیلت پر تریسٹھ اشعار - ادیب رائے پوری

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر[ترمیم]

ادیب رائے پوری

کلام[ترمیم]

ہر اِک جہاں کے لئے ہے جو سیّد السّادات

جہان جس پہ ہے قرباں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ دستگیر، مددگار اور مولانا

وہ بیکسوں کا نگہباں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ نام سُن کے جسے جاں نثار کرتے ہیں

وہ جاں نثاروں کا ارماں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ بانٹتے ہیں غلاموں کو تاجِ عزّ و شرف

اسی سبب سے یہ عنواں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ شان و شوکت دیکھتا کوئی اس شب

تھی رات صبح پہ خنداں، دُرودِ تاج میں ہے


نظر اُٹھائی جو مرکب نے جانبِ راکب

ہُوا ہے جتنا وہ نازاں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ روزِ حشر، وہ دستِ نبی لواء الحمد

کرم جو ہوگا پھر ارزاں، دُرودِ تاج میں ہے


بَلا کو پھر نہ مِلا ٹھہرنے کو کوئی مکاں

حضور کا یہ وہ احساں، دُرودِ تاج میں ہے


وبائے شہرِ مدینہ نے شہر چھوڑ دیا

گئی کدھر وہ پریشاں، دُرودِ تاج میں ہے


فلک پہ ابر رہا منتظر کہ حکم تو دیں

چلا وہ سُن کے خراماں، دُرودِ تاج میں ہے


لعابِ دہن سے اندھے بھی ہوگئے بینا

شفاء جو اس میں تھی پنہاں، دُرودِ تاج میں ہے


کہاں کا رنج و الم اُن کے نام لیواؤ

ہر ایک درد کا درماں، دُرودِ تاج میں ہے


ابو البشر نے اسے عرش پہ لکھا دیکھا

تھا اس قدر وہ نمایاں، دُرودِ تاج میں ہے


تلاشِ رتبہِ زاغ البصر میں چشمِ خیال

رہا نصیب میں حرماں، دُرودِ تاج میں ہے


شریک کلمہِ طیّب مقامِ اسمِ حبیب

یہ رفعتِ شہِ ذیشاں، دُرودِ تاج میں ہے


دیا ہے لوح کو اعزاز اور قلم کو شرف

وہ اسمِ صاحبِ قرآں، دُرودِ تاج میں ہے


عرب ہو یا کہ عجم ہے انہیں کی سرداری

یہ اوجِ شوکتِ ایماں، دُرودِ تاج میں ہے


بلند عرش ہے لیکن حضور مجھ میں ہیں

مدینہ اس پہ ہے نازاں، دُرودِ تاج میں ہے


مہک رہے ہیں سب القاب عطرِ گل بن کر

یہ ذکرِ جانِ بہاراں، دُرودِ تاج میں ہے


زمین جس کے قدم چوم کر بنی مسجد

وہ ذکرِ پاکیِ داماں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ نُور جس کا اجالا محیطِ کون و مکاں

حرم میں تھا وہ درخشاں، دُرودِ تاج میں ہے


رُخِ رسول وہ شمس الضحٰی و چشمہِ نُور

صحابہ دیکھ کے حیراں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ آئینہ جو دکھائے جمالِ روئے رسول

وہ مصحفِ رُخِ تاباں، دُرودِ تاج میں ہے


طیورِ فکر فضاہائے نیلگوں میں اُڑا

مگر مشاہدہ حیراں، دُرودِ تاج میں ہے


قبائے نُورِہدایت جو شب پہ ڈال گئے

یہ داستانِ مسلماں، دُرودِ تاج میں ہے


یہ تیرا سایہِ رحمت یہ تیری چتر پناہ

مِلا جنہیں وہ ہیں شاداں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ معصیت کے شبستاں میں نیکیوں کا چراغ

وہ نُورِ پاکیِ داماں، دُرودِ تاج میں ہے


طلوعِ مہر تھی سیرت، سیاہیِ شب میں

گنہ کے گھر ہوئے ویراں، دُرودِ تاج میں ہے


تمام نبیوں کی اُمّت کے واسطے وہ شفیع

تمام نبیوں پہ احساں، دُرودِ تاج میں ہے


کرم کے اُن کی نہ حد ہے نہ انتہا کوئی

وہ جانِ رحمتِ رحمٰں، دُرودِ تاج میں ہے


نہ مِٹ سکا نہ مٹے گا کسی سے نقش تیرا

خدا ہے تیرا نگہباں، دُرودِ تاج میں ہے


جہاں تک ان کی رسائی رہے وہ خدمت میں

پھر آگے خود ہی وہ مہماں، دُرودِ تاج میں ہے


مِلا نہ تھا سے ایسا سوار پہلے کبھی

ہے اِس شرف پہ وہ نازاں، دُرودِ تاج میں ہے


بیانِ سورہِ والنجم و سورہِ اسرٰی

سفر کا ان کے یہ عنواں، دُرودِ تاج میں ہے


جو عشق ہوتا خرد کا شریکِ بینائی

نہ ہوتا سدرہ پہ حیراں، دُرودِ تاج میں ہے


یہ وعدہ گاہِ ملاقات، وادیِ حیرت

ہزار معنیِ پنہاں، دُرودِ تاج میں ہے


نہ کھل سکا نہ کھلے گا کسی پہ یہ مقصود

یہاں ملائکہ حیراں، دُرودِ تاج میں ہے


سمجھ سکے نہ فلسفی جسے زمانے کے

وہ رمزِ آیتِ قرآں، دُرودِ تاج میں ہے


لتومنن بہ اور وہ قالو اقررنا

مقامِ جملہ رسولاں، دُرودِ تاج میں ہے


بیانِ سورہِ احزاب کیا نہیں کافی

سُنا رہا ہے جو قرآں، دُرودِ تاج میں ہے


بہا کے اشک منالو شفیعِ محشر کو

ملیں جو دیدہِ گریاں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ بے وطن نہ رہا جو مدینے آپہنچا

حضور سب کے نگہباں، دُرودِ تاج میں ہے


بنے گا سایہِ رحمت اسی لقب کے طفیل

تمام حشر کا میداں، دُرودِ تاج میں ہے


جو ایک پل نہ دکھائی دیتے تو ہوجائیں

وہ لوگ چاک گریباں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ سامنے نہیں بینائی چھین لے یارب

یہ آنکھ والوں کا ارماں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ معرفت کے گلستاں میں چشمہِ خاور

وہ سوزِ آتشِ عرفاں، دُرودِ تاج میں ہے


انہیں تھا فقر پہ ناز اور خدا کو ان پر ناز

قفیر سارے ہیں نازاں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ اپنے چاہنے والوں کے طاقِ دل کے چراغ

یہ شانِ خاک نشیناں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ اہلِ فقر غریب الدیار اور مسکین

حضور جن کے ہیں درماں، دُرودِ تاج میں ہے


حضور سیّد و سردار خواجہِ عالم

ہیں جن و انس پہ یکساں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ بیتِ اقدس و کعبہ مدینہ، عرش و فلک

سب ان کی شان کے عنواں، دُرودِ تاج میں ہے


امامِ قبلہ کی مرضی پہ قبلہ چھوڑ دیا

سبب، حبیب ہو شاداں، دُرودِ تاج میں ہے


اگر وسیلہ کوئی ہے گناہگاروں کا

بس ان کا سایہِ داماں، دُرودِ تاج میں ہے


مقامِ قاب و قوسین میں کماں بن کر

وہ قربِ حضرتِ یزداں، دُرودِ تاج میں ہے


خدا کے ذکر میں شامل نبی ذکرِ جمیل

ہے شرق و غرب میں یکساں، دُرودِ تاج میں ہے


ہمیں بھی ان کی مَحبّت کا جام بھر کے ملے

حضور جن پہ ہیں نازاں، دُرودِ تاج میں ہے


یہ جن و انس بھی ان کی پناہ گاہ میں ہیں

انہیں کا خود ہے یہ فرماں، دُرودِ تاج میں ہے


سلام کنیتِ سرورِ دو عالَم پر

بنا ادب کا جو عنواں، دُرودِ تاج میں ہے


حضور کے اب و جد سب نجات یافتہ تھے

ہے مومنوں کا یہ ایماں، دُرودِ تاج میں ہے


ہر ایک راز سے پردہ اُٹھا رہے ہو ادیؔب

کوئی تو بات ہو پنہاں، دُرودِ تاج میں ہے


بدن پہ ڈالے ہر ایک لفظ جامہِ احرام

بہ پیشِ رحمتِ رحمٰں، دُرودِ تاج میں ہے


وہ جس نے خاک کے ذرّوں کو لمسِ پا دے کر

بنایا لعلِ بدخشاں، دُرودِ تاج میں ہے


ادیؔب سر پہ اُٹھائے پھرے گا محشر میں

کہ اس کا سارا ہی ساماں، دُرودِ تاج میں ہے

مزید دیکھیں[ترمیم]

ادیب رائے پوری کرامت علی شہید | احمد رضا خان بریویلوی | محسن کاکوروی | مولانا حسن رضا خان | امیر مینائی | حفیظ تائب | حفیظ تائب | مظفر وارثی

میر تقی میر | مرزا غالب | میر انیس | داغ دہلوی | جگر مراد آبادی | ساغر صدیقی

سید منظور الکونین | محمد علی ظہوری | عبدالستار نیازی | قاری زبید رسول | صدیق اسماعیل | سعید ہاشمی | ام حبیبہ

شراکتیں[ترمیم]

یہ صفحہ صارف: ابو المیزاب اویس نے تخلیق کیا