خیال اُس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے ۔ ملک زادہ جاوید

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر: ملک زادہ جاوید

نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم[ترمیم]

خیال اُس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے

کہیں بھی جاؤں مدینہ نظر میں رہتا ہے


وہ ہو عروج کاموسم کہ ہو زوال کی رُت

ترےؐ حوالے سے پتّہ شجر میں رہتا ہے


سُلگی دُھوپ مرا امتحان کیا لے گی

وہ چھاؤں بن کے مری دوپہر میں رہتا ہے


کسی دُکھے ہوئے دل میں اُسے تلاش کرو

وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتا ہے


ندامتوں میں بھی روشن ہے اک اُمیدِ کرم

کوئی چراغ مری چشمِ تر میں رہتا ہے


اُسی کی دین ہے جاویدؔ ہرحسیں تخلیق

تصّور اُس کا ہی دستِ ہُنر میں رہتا ہے


رسائل و جرائد جن میں یہ کلام شائع ہوا[ترمیم]

نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25