حضرت تاج الشریعہ کی عربی شاعری

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Tufail Ahmed.jpg


از: طفیل احمد مصباحی


شفیق اور علم دوست شخصیت پروفیسر انوار احمد زئی 31 مئی ، 2020 بروز اتوار رضائے الہی سے انتقال فرماگئے۔

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png


حضرت تاج الشریعہ کی عربی شاعری[ترمیم]

ہندوستان کی علمی و ادبی تاریخ پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ یہاں کے علماء و مشائخ نے مختلف علوم و فنون میں قابلِ رشک خدمات انجام دینے کے علاوہ عربی زبان و ادب میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔اردو ، فارسی اور عربی تینون زبانوں میں ان کی گراں قدر نگارشات اور تحقیقی کتب و رسائل ہمارے درمیان موجود ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے یہ علماء و مشائخ اردو اور فارسی کے علاوہ عربی زبان کے بھی رمز شناس تھے۔ہندوستان کے وہ علماء و فقہاء اور ادباء و شعراء جنھوں نے عربی نظم و نثر میں اپنی بیش قیمت نگارشات یاد گار چھوڑی ہیں، ان میں سے بعض کے اسمائے گرامی یہ ہیں:


ملّا قاضی محبّ اللہ بہاری، قاضی شہاب الدین دولت آبادی، ملاّ احمد جیون امیٹھوی، شیخ امان اللہ بنارسی،شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی، شیخ علی متّقی، میر عبد الواحد بلگرامی، شیخ مرتضیٰ زبیدی بلگرامی، شیخ عبد الحلیم فرنگی محلی، شاہ ولیّ اللہ محدّث دہلوی، شاہ عبد العزیز محدّث بریلوی، علامہ فضلِ حق خیر آبادی، علامہ عبد الحی فرنگی محلی، امام احمد رضا محدّث بریلوی،شیخ احسن اللہ عبّاسی بھاگل پوری، علامہ ظہیر احسن شوق نیموی، ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری،شاہ سلیمان قادری پھلواروی ،صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی وغیرہم۔

اسی سلسلۃ الذہب کی ایک مضبوط اور خوب صورت کڑی کا نام مرشدِ گرامی تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی الشاہ محمد اختر رضا خاں قادری ازہری علیہ الرحمۃ والرضوان ہے ،جو ایک درجن سے زائد علوم و فنون پر مجتہدانہ بصیرت رکھنے کے علاوہ عربی زبان و ادب میں غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔اپنی مادری زبان کی طرح عربی بولتے تھے اور لکھتے تھے۔آپ کی عربی دانی کا اعتراف جامع ازہر، مصر کے علماء و اساتذہ نے بھی کیا ہے۔زمانہء طالب علمی میں جب آپ اپنے مصری اساتذہ سے عربی زبان میں گفتگو فرماتے تو وہ لوگ حیران رہ جاتے اور کہتے کہ ایک ہندوستانی عجمی طالب علم ایسی فصیح عربی بولتا ہے۔


عربی زبان و ادب میں حضرت تاج الشریعہ کا مقامِ امتیاز ایک مسلّمہ حقیقت ہے، عرب و عجم کے اہلِ علم و قلم نے آپ کی عربی دانی کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے اور آپ کو " سلطان الادباء" کا خطاب دیا ہے۔ آپ کا گراں قدر عربی " حاشیہء بخاری" قصیدہ بردہ شریف کی عربی شرح " الفردہ " اور عربی نعتیہ مجموعہ " روح الفؤاد بذکری خیر العباد " معروف بہ "نغماتِ اختر" آپ کے باکمال عربی ادیب و شاعر ہونے پر دال ہیں۔


آپ کے قادر الکلام عربی ادیب ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آج سے چار سال قبل جب راقم الحروف بریلی شریف گیا تھا اور آپ کے خادمِ خاص جناب مولانا عاشق حسین کشمیری مصباحی کے ساتھ حضرت کی ایک علمی نشست میں حاضری کا شرف حاصل ہوا تھا، اس وقت " فتاویٰ رضویہ " کی تعریب کا کام چل رہا تھا۔

راقم نے اس نشست میں دیکھا کہ مولانا عاشق صاحب اِدھر اردو عبارت پڑھتے، اُدھر حضرت تاج الشریعہ بڑی سلاست و روانی کے ساتھ برجستہ اور فی البدیہہ اس کی عربی بناتے جاتے ۔ایسا معلوم ہوتا کہ عربی، حضرت کی مادری زبان ہے۔راقم نے اپنی زندگی میں ایسا قادر الکلام اور زود گو عربی شاعر اور نثر نگار حضرت تاج الشریعہ کے علاوہ کسی دوسرے ہندوستانی عالم کو نہیں دیکھا۔

ماہرِ رضویات پروفیسر مسعود احمد مجدّدی، تاج الشریعہ کی عربی شاعری کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حضرت علامہ اختر رضا خان قادری ازہری بڑے متّقی اور باعمل عالمِ دین ہیں ۔1983ء میں پاکستان تشریف لائے ۔از راہِ کرم غریب خانے پر ٹھٹّھہ بھی تشریف لائے ۔میں نے ایک عربی نعت کی فرمائش کی، آپ نے اسی وقت قلم برداشتہ ایک عربی نعت لکھ ڈالی۔


( اُجالا، ص: 3 ،ادارہ مسعودیہ، کراچی)


عربی شاعری ،عربی ادب کی سب سے پہلی شکل ہے۔ عربی شاعری کا سب سے پہلا نمونہ چھٹی صدی ہجری میں ملتا ہے مگر زبانی شاعری اس سے بھی قدیم ہے۔ عربی شاعری، اس کی صحیح تعریف اور اس کے اجزاء میں محققینِ ادب کا اختلاف ہے۔ ابن منظور کے بقول:

شعر وہ منظوم کلام ہے جو وزن اور قافیہ میں مقیّد ہو، وہ آگے لکھتے ہیں کہ: شعر منظوم اور موزوں کلام کا نام ہے، جس کی ترکیب مضبوط ہو اور اس میں شعر کہنے کا قصد بھی پایا جاتا ہو۔ اگر اس میں ایک بھی شرط مفقود ہو تو یہ شعر نہیں کہلائے گا اور اس کے کہنے والے کو شاعر نہیں کہا جائے گا۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں جو موزوں کلام، مثلاََ: انا اعطیناک الکوثر

یا

انا النبی لا کذب !!!

انا ابن عبد المطلب

ملتا ہے، وہ قصد و ارادہ کے فقدان کی وجہ سے شعر نہیں کہلاتا۔ ابن منظور اس کی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شعر میں شعری احساس کا ہونا ضروری ہے اور یہ احساس بالارادہ اور دانستہ ہی ہوسکتا ہے ۔

شعر کے چار ارکان ہیں: معنی، وزن، قافیہ اور قصد۔

علامہ سیّد شریف جرجانی علیہ الرحمہ کے مطابق :

شعر، عرب کا ایک علم ہے جو فطرت، روایت اور احساس پر مشتمل ہوتا ہے۔سیّد شریف جرجانی نے شعر کی حقیقت و ماہیت یوں بیان فرمائی ہے :

لغوی اعتبار سے شعر ایک علم ہے اور اصطلاحاً شعر اس موزوں اور مقفّٰی کلام کو کہتے ہیں جسے شاعر نے قصد و ارادے سے نظم کیا ہو۔چنانچہ اس آخری شرط کی بنا پر قرآن کی یہ آیت، شعر نہیں ہے: "الذي انقض ظهرك، ورفعنا لك ذكرك"۔

یہ موزوں اور مقفّٰی کلام تو ہے مگر شعر نہیں ہے کیونکہ اس کلام کو شعر کے ارادے سے نہیں کہا گیا ہے ۔عربی کی قدیم شاعری میں وزن اور قافیہ لازمی اجزا تصور کیے جاتے ہیں۔ قافیہ، بیت کا آخری حرف یا کلمہ ہوتا ہے۔ لیکن جدید شاعری کو قافیہ کی پابندی سے آزد کر دیا گیا ہے ۔ عربی شاعری کی دو اقسام ہیں: موزوں اور غیر موزوں۔ غیر موزوں شاعری خال خال ہی نظر آتی ہے۔ موزوں شاعری ، فراہیدی کے متعارف کردہ پندرہ بحور (طویل، مدید، بسیط، وافر، کامل، ہزج، رجز، رمل، سریع، منسرح، خفیف، مضارع، مقتضب، مجتث، متقارب، متدارک اور خَبب) میں محدود ہوتی ہے۔ خلیل بن احمد فراہیدی، علم عروض کے امام مانے جاتے ہیں اور یہ عروضی بحریں انہیں کی ایجاد کردہ ہیں۔ ایک بحر کئی اکائیوں پر مشتمل ہوتی ہے، اس کو" تفعلہ" کہا جاتا ہے۔ ہر بحر میں کچھ تفعلے ہوتے ہیں جن کا ہر بیت میں خیال رکھنا ضروری ہے۔ محققین نے عربی شاعری کو دو حصوں میں منقسم کیا ہے، کلاسیکی شاعری اور جدید شاعری۔


حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی عربی شاعری میں کلاسیکی شاعری اور جدید شاعری دونوں کے نمونے پائے جاتے ہیں۔آپ کی عربی شاعری، نعتیہ شاعری پر مشتمل ہے، جس میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چاشنی سطر سطر سے مترشّح ہوتی ہے اور قارئین کے دامانِ دل کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔

خواہ وہ کسی بھی زبان کی شاعری ہو،وہ حِسّیاتی صداقتوں کا لفظی اظہار اور قلبی میلانات کا معنوی بیان ہوا کرتی ہے۔اگر اس اظہار میں حُبِّ صادق، عشق و وارفتگی اور جذبہء عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عنصر شامل ہوجائے تو یہی قلبی اظہار " نعت" بن جایا کرتا ہے۔حضرت تاج الشریعہ کی عربی شاعری سر تا پا " نعتیہ شاعری " ہے، جس میں لفظی اور معنوی لحاظ سے " نعت گوئی" کے جملہ اوصاف بدرجہء کمال موجود ہیں ۔


عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز یہ اشعار ملاحظہ کریں :


رسول اللہ یا کنز الامانی

علیٰ اعتابکم وقف المُعانی


بھٰذا الباب یعتزّ الذلیل!!

بھٰذا الباب یاتی کل عانِ


رسول اللہ فامنعنی وکن لی

معینا خیر عون فی الزمانِ 




رسول اللہ یا بدر التّمامِ

الیک افرُّ من شرّ الظلامِ


یُقصّر عند غمرک کُلُّ بحرِِ

ویَقصر عن سماک ید الغامِ


سماء کم علیٰ الاقطار دامت

وبحرکم یُفیض علیٰ الدّوامِ


( نغماتِ اختر، ص: 5/6)


مندرجہ بالا اشعار میں جہاں سلاست و روانی اور صفائی و برجستگی ہے، وہیں عشقِ رسول کی چاشنی و سرمتی بھی ہے۔شاعر نے اپنے ممدوح جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے مالک و مختار ہونے، ان کے جود و سخا، عطا و کرم اور آپ کے دربارِ گہر بار کی فیض بخشیوں کا جس والہانہ انداز میں تذکرہ کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

خصوصیت کے ساتھ پانچواں شعر : یُقصّر عند غمرک.......... تعبیر کی عمدگی کی بہترین مثال ہے۔


حضرت تاج الشریعہ کی عربی شاعری میں ایک عربی النسل ناظم اور عرب نژاد شاعر کی ادبی خصوصیات نظر آتی ہیں اور کسی بھی جہت سے اس میں عجمیت کی جھلک دکھائی نہیں دیتی ۔آپ ایک قادر الکلام، زود گو اور پُر گو شاعر ہیں ۔آپ کی عربی شاعری میں فصاحت و بلاغت، سلاست و مہارت، معنیٰ آفرینی، بلند خیالی، صنائع و بدائع، جذبات کی شدّت، افکار کی نُدرت، خوب صورت الفاظ، دلکش تراکیب، حُسنِ بیان اور عشقِ رسول کے جلوے جا بجا نظر آتے ہیں۔


ذیل کے اشعار دیکھیں کہ شاعر نے اپنی جودتِ طبع کے سہارے فصاحت و بلاغت کے موتی لُٹاتے ہوئے کس طرح کے شعری گُل بوٹے کھِلائے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ صورت و سیرت اور ان کے علم و کرم کے تفوّق و برتری کا اظہار کرتے ہوئے دین و شریعت کی ایک اہم اور معرکۃ الآراء بحث

" مسئلہء امتناع النظیر " کو کتنی خوب صورتی کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔


یا مطلع الانوار فی کلِّ ازمانِ

من سِرّہ سارِِ فی کلِّ اکوانِِ !!


فاق النّبیین فی خَلقِِ وفی خُلُقِِ

ولیس لہ فی علم و لا کرم ثانِِ


انت الذی مثلہ فی الکون ممتنع

صلّیٰ علیک اللہ یا خیر انسانِِ !!


( نغماتِ اختر؛ ص: 28 )


حضرت تاج الشریعہ کے پر دادا امام احمد رضا محدّث بریلوی کی سیرت و سوانح سے متعلق کتابوں میں لکھا ہے کہ جب آپ نے اپنا عربی کلام جس کا مطلع ہے :


الحمد للمتوحدِ

بجلالہ المتفردِ


علمائے عرب کے سامنے پیش کیا تو وہ لوگ ایک ہندی عالم کے عربی کلام کو سن کر پھڑک اٹھے۔

راقم الحروف کا وجدان کہتا ہے کہ علمائے عرب اگر حضرت تاج الشریعہ کا مندرجہ ذیل عربی کلام بغور سماعت کرلیں تو عربی زبان و ادب میں شاعر کے مرتبہء کمال پر فائز ہونے کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔


اشعار ملاحظہ کریں:


الحمد للجوادِ ..... الواھب المرادِ


منّان یا عمادی...... شکرا علیٰ الرشادِ


وعلیٰ ذہِ الایادی ..... فینا علیٰ التمادی


ثم الصلوٰۃ علیٰ...... خیر الوریٰ الھادی


والآل معتمدی..... والصحب اسیادی


صلیّٰ علیہ ربی..... ماجادت الجوادی


( نغماتِ اختر، ص: 14 )


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت بلا شبہہ گلشنِ ہستی کے لیے فصلِ نَو بَہار کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی آمد آمد سے انسانیت کی مردہ رگوں میں فرحت و مسرّت کا تازہ خون دوڑنے لگا اور کائنات کا چپّہ چپّہ نورِ محمدی صلّٰی اللہ علیہ وسلم سے جگمگانے لگا۔آپ کی ولادت طیّبہ کے وقت کے احوال کی منظر کشی کرتے ہوئے حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا خامہء فکر سلاست و فصاحت اور عشقِ رسالت کا یوں گوہرِ آب دار لٹاتا ہے:

حال العناء وحلّتِ السّرّاء

وُلد الضیاء فالکون وضّاء


صدح الھزار وغرّدت ورقاء

ولد الھُدیٰ فالکائنات ضیاء


المصطفیٰ تزھو بہ العّلیا !!!

وعلیٰ السماء تسمو بہ الغبراء


یا حبّذا مولد المختار من بشر

ما قدّرت للمصطفیٰ النّظراء !!


یا اوّل الکون انت ربیعہ

روض الدُّنیٰ بربیعھا زھراء


( نغماتِ اختر، ص: 12 )


عشقِ و محبّت کی زبان میں لکھا گیا یہ عربی سلام بھی عربی زبان و ادب میں حضرت تاج الشریعہ کے مقامِ امتیاز کو اجاگر کرتا ہے:


ھادی السبل یا منار سلام

عدد البر و البحار سلام


یا سراج المنیر من ربی

من بہ العالمُ استنارَ سلام


یا معینا لکل ملھوف !!!!!

خیر جار لذی استجار سلام


یا صبا بلغی الیٰ حِبّی !!!

من بعید عن الدیار سلام


( نغماتِ اختر، ص: 16 )


حاصل کلام یہ کہ حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ صرف اردو ہی نہیں بلکہ عربی زبان کے بھی ایک عظیم شاعر و ادیب تھے ۔ان کی عربی نثر نگاری اور عربی شاعری ایک مستقل عنوان ہے، جس پہ بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور اسے ایم فل یا پی ایچ ڈی کا موضوع بنایا جا سکتا ہے ۔اللہ کرے کوئی اسکالر اس جانب پیش قدمی کرے اور کمال شرح و بسط کے ساتھ ان سادہ خاکوں میں رنگ بھر کے دنیائے علم و ادب کے پیش کرے اور اس طرح زبان و ادب کی ایک عظیم خدمت انجام پا سکے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

شفیق اور علم دوست شخصیت پروفیسر انوار احمد زئی 31 مئی ، 2020 بروز اتوار رضائے الہی سے انتقال فرماگئے۔

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

مضامین میں تازہ اضافہ
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات