حسین امجد کی "رہ گذر" میں نعت نگاری از عروس فاروقی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Uroos Farooqi.jpg

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

مضمون نگار : عروس فاروقی

کتاب  : رہ گذر

شاعر : حسین امجد


رہگذرمیں نعت نگاری[ترمیم]

ثناخوانوں میں اُن کے نام آیا

حسین امجد مقدّر کا دھنی ہے


’’رہگذر‘‘شہراٹک کے ایک مشہور و معروف شاعر جناب حسین امجد کا شعری مجموعہ ہے۔ حسین امجد بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ رواں بحروں میں شعر کہتے ہیں جس سے ان کی طبیعت کی روانی کا اندازہ ہوتا ہے۔ غزل کے کچھ اشعار دیکھیں:


سندر سندر خواب دکھائے آنکھوں نے

کیسے کیسے روگ لگائے آنکھوں نے


بنجر بانجھ زمیں کو بھی سیراب کیا

صحرا صحرا پھول کھلائے آنکھوں نے


کربل دھرتی جل تھل جل تھل ہوجائے

اب تک اتنے اشک بہائے آنکھوں نے


ایک دوسری غزل کے کچھ شعر دیکھیں۔ یہ غزل چھوٹی بحر میں ہےاور روانی اس میں بھی بلا کی ہے۔


اندھیرا خاک سے لپٹا ہوا ہے

دیا افلاک سے لپٹا ہوا ہے


مرے ہاتھوں کو حیرت سے نہ دیکھو

ہنر ادراک سے لپٹا ہوا ہے


مری بخشش کا واحد راستہ بھی

شہِ لولاک سے لپٹا ہوا ہے


اول الذکر غزل کا آخری شعر جناب حسین امجد کی محبتِ اہلِ بیت کا مظہر ہے ۔ اسی طرح ثانی الذکر غزل کے آخری شعر سے شاعرِ موصوف کی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حسین امجد کے بنیادی طور پر غزل گو ہونے کے باجود ’’رہگذر‘‘ مجموعہ غزلیات نہیں ۔ بلکہ شعری مجموعہ ہے۔ حسین امجد جس روانی کے ساتھ غزل کہتے ہیں اسی روانی سے نعت و منقبت بھی لکھتے ہیں۔ ’’رہگذر‘‘ میں غزلیات کے علاوہ ایک حمد ، نو نعوت اور نذر ِحسین کے نام سے ایک منقبت بھی شامل ہے۔

.........................................................


جناب حسین امجد کے شعری مجموعہ ’’رہگذر‘‘اور میرے نعتیہ مجموعہ ’’الغیاث‘‘کی جلدبندی ایک جلد ساز کے پاس ایک ہی وقت میں ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ ’’رہگذر‘‘کی بعض کاپیوں پہ ’’الغیاث‘‘کی جلد چڑھ گئی۔ چونکہ’’رہگذر‘‘ کے ایسے نسخے کم یاب ہیں لہذا نایاب ہیں۔ جس وقت جناب شاکرالقادری چشتی نظامی صاحب {رہگذو و الغیاث کے ناشراور [[اکادمی فروغ نعت، اٹک | ادارہ فروغِ نعت پاکستان کے بانی و سرپرست}نے ’’الغیاث‘‘طبع ہونے کے بعد کارٹنوں میں پیک کرکے میرے پاس بھیجی تو مجھے مذکورہ صورتِ حال سے آگاہ کردیا تھا۔ لہذا ایسے نسخے میں نے تلاش کرکے علیحدہ کردیے ۔


انھی دنوںگجرات کے ایک معروف ثناخوانِ رسول عارف شاہد گوندل تشریف لائے ۔ میں اس وقت گھر پر نہیں تھا ۔ جب میں گھر آیا تو میں نےگوندل صاحب کو بتایا کہ میرا نعتیہ مجموعہ ’’الغیاث‘‘کے نام سے چھپ گیا ہے۔ کہنے لگے میں نے دیکھ لیا ہے اور ایک کلام بھی منتخب کرلیا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی ۔ انھوں نے اس کلام کی خوب داد دی اور کہا کہ آپ بہت اچھی نعت کہتے ہیں ۔ میں نے کہا کون سا کلام منتخب ہوا ہے ؟ کہنے لگے :


یہ مجھ غریب پہ احسان ہو نہیں سکتا؟

حضور آپ کا مہمان ہونہیں سکتا؟


حضور آپ مری مشکلوں کو جانتے ہیں

سفر حیات کا آسان ہو نہیں سکتا؟


میں نے کہا گوندل صاحب کلام واقعی اچھاہے بلکہ بہت اچھا ہے ، ضرور پڑھا جانا چاہیے مگر یہ میرا کلام نہیں ۔ کہنے لگےدیکھیں آپ کے نعتیہ مجموعہ’’الغیاث‘‘میں شامل ہے، دیکھ لیں میں وہیں سے پڑھ رہا ہوں۔ میں نےکہا یہ کلام جناب حسین امجد کا ہے جن کا تعلق اٹک سے ہے اور یہ ان کی کتاب ہے’’رہگذر‘‘۔ البتہ اس پہ جو جلد چڑھی ہوئی ہے وہ ’’الغیاث‘‘کی ہے۔


تو قارئین آپ نے اندازہ لگایا کہ حسین امجد کی نعتیہ شاعری کیسی ہے کہ ایک معروف نعت خوان کے سامنے ان کی نعت آئی تو اُس نےمحفلِ نعت میں پڑھنے کے لیے فوراً اس کا انتخاب کرلیا۔

.........................................................


جناب حسین امجد کو اللہ تعالیٰ نے وافر مقدار میں سوزِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت سے نواز اہے۔ ان کے نعتیہ اشعار درد سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خصوصاً شاعرِ موصوف جہاں لفظ ’’حضور‘‘لاتے ہیں وہاں جو لجاجت پیدا ہوتی ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتااور ایسے اشعار کو جس انداز سے نعتیہ مشاعروں میں حسین امجد خود پڑھتے ہیں شاید کوئی دوسرا نہ پڑھ سکے۔ کہتے ہیں:


فراق و ہجر کی حد سے گذر بھی سکتا ہوں

حضور آپ کی چاہت میں مر بھی سکتا ہوں


حضور آپ مجھے تھام لیں خدا کے لیے

میں ریزہ ریزہ ہوا میں بکھر بھی سکتا ہوں


حضور آپ کے ابرو کی ایک جنبش سے

میں بابِ خلدِ بریں سے گذر بھی سکتا ہوں


اللہ اللہ ۔ کیا عاجزی ہے، کیا لجاجت ہے، کیا حسرت ہے اور کیا انداز ہے۔


جس وقت حسین امجد یہ اشعار یا ان جیسے دیگر اشعار سرِ بزم سناتے ہیں تو سامعین کی آنکھیں آنسووں سے بھر جاتی ہیں ، پوری محفل پر رقت چھا جاتی ہے اور عجیب سماں بندھ جاتا ہے۔

.........................................................


ایسے غزل گومسلمان شاعر بھی پائے گئے ہیں کہ جنھوں نےعمر بھر میں صرف ایک نعت کہی تاکہ حصولِ برکت کے لیے اپنے دیوان میں شامل کرلیں اور ایسے شاعر بھی ہوئے ہیں جنھوں نے غزلیں تو سینکڑوں کے حساب سے کہیں مگر ساری زندگی نعت کہنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی ۔ حسین امجد اس حوالے سے خوش قسمت شاعر ہیں کہ وہ نعت بھی کہتے ہیں ۔ وہ اپنے مقدر بھی ناز کرتے ہیں اور بجا ناز کرتے ہیں :


زہے نصیب مجھے آپ سے محبت ہے

خدا کا شکر کہ حصّے میں میرے مدحت ہے

........................................................


زندگی غموں سے عبارت ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی کو زندگی ملے اور غم نہ ملیں ۔ مرزا غالب نے کتنی سچی بات کہی تھی:


قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں


جناب حسین امجد نےبھی زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں ۔ ان دکھوں میں کچھ بڑے دکھ یہ بھی ہیں کہ ان کی رفیقہ حیات اور دو بچے محمد سرمد اور محمد حنظلہ انھیں چھوڑ کر دوسرے جہان چلے گئے ۔ نعت کے صدقے اللہ تعالیٰ نے انھیں صبر و قرار عطا فرمایا۔ بقولِ حسین امجد:


رسولِ پاک کی مدحت، شعار ہو جس کا

غموں کے دشت میں رہ کر ملول ہوتا نہیں


کرم ہے آپ کا مجھ بے بساط بندے پر

کہ خارزار میں رہ کر ببول ہوتا نہیں


ایسی پر سوز ثناخوانی کرنے کے باوجود جناب حسین امجد کا خیال ہے کہ ابھی تک حقِ مدحت ادا نہیں ہوا۔ جو کہنا چاہیے تھا نہیں کہا۔ ابھی وہ نعت نہیں لکھی جس کے باعث روزِ محشر سرخروئی حاصل ہو ۔ کہتے ہیں:


امجد گناہ گار کی اتنی ہے آرزو

لکھوں میں نعت ایسی کہ ہوجائوں سرخرو

.........................................................


رہگذر کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک مصرع موزوں ہوا:


اے حسین امجد تمھاری رہگذر

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک نظم کی شکل اختیار کرلی ۔ آخر میں وہ نظم بھی پیشِ خدمت ہے:


رہگذر


خوبصورت اور نیاری رہگذر

واہ وا کتنی ہے پیاری رہگذر


شوق سے پڑھتا ہے قاری رہگذر

کیوں کہ دیتی ہے خماری رہگذر


ہے لکھاری نے بُہاری رہگذر

اِس لیے ہے بے غباری رہگذر


سوز میں ڈوبا ہوا ہے لفظ لفظ

درد ہے ساری کی ساری رہگذر


رفتہ رفتہ آئے تسکین و قرار

جب بڑھائے بیقراری رہگذر


شاعرِ جذبات نے صفحات پر

کتنے جذبوں سے اتاری رہگذر


ہے طفیلِ حضرتِ مولاعلی

حیدری و ذوالفقاری رہگذر


بہتریں تصنیف ہے نزدِ عروسؔ

اے حسین امجد تمھاری رہگذر

مزید دیکھیے[ترمیم]

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نئے صفحات
کتابوں پر تبصرے
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659