حسّان الہند علامہ سید میر غلام علی آزادؔ بلگرامی-ڈاکٹر مشاہد رضوی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ANL Mushahid Razvi.jpg

ڈاکٹر مشاہد رضوی ( مالیگاؤں )

مطبوعہ: دبستان نعت ۔ شمارہ نمبر 2


اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png


حسان الہند علامہ سیدمیر غلام علی آزادؔ بلگرامی[ترمیم]

کشورِ ہندوستان میں اسلام و ایمان، علم و فضل اور شعروادب کی ترویج و بقا میں صوبۂ اترپردیش بڑا ہی زرخیز واقع ہوا ہے۔ اس صوبے کی علمی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ یہاں سے علوم و فنون کی وہ ندیاں رواں دواں ہوئیں کہ گلشنِ معرفت و روحانیت آج تک سر سبز و شاداب ہے، اس خطے کو شیرازِ ہند بھی کہا جاتا ہے۔ ریاستِ اتر پردیش کے مختلف اضلاع اور شہروں میں بڑے بڑے علما و صلحا، فقہا و صوفیہ اور مشائخِ عطام نے اپنا مسکن بناکر تزکیۂ باطن اور اصلاح و تذکیر کے کارہاے نمایاں انجام دیے۔ جون پور، لکھنؤ، الٰہ آباد، چریاکوٹ، کاکوری، سندیلہ، موہان، خیرآباد، بریلی، مبارک پور، کچھوچھہ، لاہر پور، بلگرام وغیرہ نہ جانے ایسے کتنے شہر ہیں جہاں علوم و فنون میں یگانہ، درس و تدریس میں مشّاق، شعر و ادب میں ممتاز اور تصنیف و تالیف میں منفرد ہستیاں جلوہ گر ہوئیں اور ان کی علمی یادگاریں آج بھی اہلِ علم و دانش اور تشنگانِ علم و فن کو سیراب کررہی ہیں۔

بلگرام اسی ریاست کے ضلع ہردوئی کی بہ ظاہر ایک چھوٹی سی بستی کانام ہے۔ مگر اس کی شہرت اکنافِ عالم میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ بستی دینی و علمی، روحانی و عرفانی، شعری و ادبی اور جغرافیائی لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔بادشاہ شمس الدین التمش کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کے قدم اس سرزمین پر پہنچے اور یہاں اسلامی شان و شوکت اور تہذیب و تمدن کا چرچا ہوا۔ ساتویں صدی ہجری میں یہاں قدم رنجہ فرمانے والے مسلمانوں میں ساداتِ زیدیہ کا بھی ایک خاندان تھا۔ جس میں جید علما، اولیا، صوفیہ، شعرا، ادبا، حکما اور فقہا گذرے ہیں۔ جنھوں نے بلگرام شریف کی سرزمین کوایسا تقدس عطا کیا کہ یہ اسلامی علوم و فنون کا گنجینہ، تزکیۂ نفس وطہارتِ قلبی کا مرکز، شعر وادب اور علم و فن کا گہوارہ بن گئی۔

فاتح بلگرام حضرت سید محمد صغرا نور اللہ مرقدہٗ (م627ھ) نے اس شہر کو فتح کیا اور یہیں فروکش ہوگئے۔ بلگرام کی فتح، اس کے تاریخی پس منظر، جغرافیائی محل و قوع اور بلگرام کی وجہِ تسمیہ کو سمجھنے کے لیے اس مقام پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ مشہور ادیب و شاعر شرفِ ملت حضرت سیدمحمداشرف میاں قادری برکاتی (انکم ٹیکس کمشنر، دہلی) کی عبارتِ ذیل کو پیش کرنا غیر مناسب نہ ہوگا۔ موصوف اپنی کتاب ’’یادِ حسنؔ‘‘ میں رقم طراز ہیں :

’’بلگرام ہندوستان کے صوبۂ اودھ کا مشہور و معروف مردم خیز قصبہ ہے۔ آج کل ہردوئی کے توابع میں ہے۔ اس کا طول البلد ایک سو سولہ درجے اور پندرہ دقیقے اور عرض البلد چھبیس درجے پچپن دقیقے، سمتِ قبلہ پچپن دقیقے، مغرب سے شمال کی جانب مسافتِ بلگرام اور مکۂ مکرمہ کے درمیان پینتیس درجے ترپن دقیقے اور فرسخوں کے اعتبار سے فاصلۂ بلگرام اور بلدالحرام کے درمیان سات سو نواسی فرسخ ہے۔ اس کا نام پہلے وہاں کے راجا کے نام پر سری نگر تھا۔ حضرت شاہ حمزہ صاحب ’’فص الکلمات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اس وقت تک بھی یہ نام عوام اور ہندؤوں کی زبان پر جاری تھا۔ حضرت جدی صاحب البرکات قدس سرہٗ نے بھی اپنے ہندی دوہے میں فرمایا ہے۔ ؎


ہم باسے سری نگر کے، آئے بسے سب چھور

مارہرے سے نگر موں جہاں ساہ نہیں چور

ہم پورب کے پوربیا جات نہ بوجھے کوئے

جات پات سو بوجھئے جو دْھر پورب کا ہوئے

ہمارے حضرت جد اعلا سید محمد صغرا نے بعدِ فتح، بلگرام کو مرکزِ دائرۂ اسلام بنا کر اس کا نام سری نگر سے بدل کر بلگرام رکھ دیا(فص مآثر) اور پھر یہی مشہور ہو گیا، یہاں تک کہ اب کو ئی سر ی نگر نہیں کہتا۔ فقیر کہتا ہے شاید اس نام سے موسوم اس لیے کیا گیا ہے کہ بعد کے لوگوں کو یہ نام شوکت و قوتِ اسلام کی یاد دلاتا رہے کہ وہ مقام جو ’’بیل‘‘ ایسے دیوِ لعین کا ’’گرام‘‘ و جاے قیام تھا۔ آج بفضلہ تعالیٰ و بحولۂ و قوتہ جل جلالہ نزہت کدہ شعائرِ اسلام ہے۔ اس لیے کہ یہ نام مرکب ہے دو لفظوں سے ایک بیل، دوسرا گرام بہ معنی مقام و شہر و آبادی … اور بیل ایک دیو ملعون کانام تھا جسے اس زمانے کے جوگی اور ساحرجو بلگرام میں بہت رہتے تھے، کوہستانِ کشمیر سے پوجا پاٹ اور جادو سیکھنے کے ذریعے سے تسخیر کرکے اپنی مدد اور اعانت کے لیے یہاں لائے اور اسے یہاں رکھا تھا۔ یہ شیطان لعین ایسا زبردست تھا کہ دور دور تک اپنے مخالف کو نہ رہنے دیتا اور سواے اپنی پوجا کے کسی کی پوجا نہ ہونے دیتا۔ اگر کوئی اسے نہ پوجتا تو اسے آزار و اذیت پہنچاتا۔ حضرت خواجہ عماد الدین بلگرامی قدس سرہٗ نے حضرت سید محمد صغراکے بلگرام فتح کرنے سے چند سال پہلے اپنی قوتِ باطنی اور زورِ روحانی سے بحول و قوتِ الٰہی اس دیوِ لعین کو خاک کرڈالا۔ جب یہ خبر راجا بلگرام کو پہنچی، اس نے چاہا کہ حضرت خواجہ پر فوج کشی کرے۔ اس کے مشیروں نے سمجھایا کہ ہم نے اپنی پوتھیوں میں دیکھا ہے کہ ایک زمانہ میں اس سرزمین پر مسلمان چھا جائیں گے اور جو ان سے مقابلہ کرے گا وہ بجز ذلت و ناکامی اور کچھ نتیجہ نہ پائے گا۔ لہٰذا ان درویش سے تعرض نہ کرنا چاہیے جو ایسے زبردست ہیں کہ جس بیل دیو ملعون کے بل بوتے پر ہم کودتے تھے، اسے انھوں نے ایک دم میں نابود کرڈالا۔ تیری کیا طاقت ہے جو ان سے مقابلہ کرسکے گا۔ آخر راجا نے فوج کشی سے باز آکر ایک جوگی کو جو سحرِ ساحری میں طاق تھا، حضرت کے مقابلہ میں بھیجا۔ حضرت کے سامنے اس نے کچھ سحر کے شعبدے دکھائے جنہیں حضرت نے بحول و قوتِ الٰہی دفع کردیا۔ آخر وہ جوگی مشرف بہ اسلام ہوکر راجا کے پاس واپس گیا اور اپنے سحر کی بے اثری اور حضرت کے زورِ باطن اور دینِ اسلام کی بزرگی و قوت بیان کرکے راجا کو دعوتِ اسلام دی۔ اس سے راجا غصہ ہوکر بولا: تو پرانا رفیق ہے ورنہ میں تجھے مرواڈالتا۔ اس نے کہا تیری کیا طاقت ہے جو مجھے مروا ڈالے۔ میں نے ایسے برگزیدۂ حق کا ہاتھ پکڑا ہے کہ تیرے ایسے ہزاروں اس کے سامنے خس برابر ہیں۔ اور وہاں سے آکر حضرت خواجہ صاحب سے اس راجا مغرور کے تعصبِ کفر کا حال بیان کرکے اس کے قلع قمع کے لیے عرض کیا۔ حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا: اس بیل دیوِ لعین کو مارڈالنا تو فقیر کے ہاتھ سے مقدر تھا جو واقع ہوا اور اس کافر راجا کا استیصال بھی کچھ دشوار نہیں۔ مگر تقدیرِ الٰہی میں یوں جاری ہوچکا ہے کہ ولایت سے ایک سید مسلمانانِ اہلِ عرب کی فوج کے ساتھ آکرراہِ حق میں جہاد کرے گا اورا ن کافروں کو ان کے مقرِ اصلی جہنم پہنچائے گا۔ چناں چہ تھوڑے ہی عرصے کے بعدحضرت سید محمد صغرا نے آکر بلگرام فتح فرمایا اور اسلام آباد کردیا( نظم اللآ لی)۔

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

جہاں سے بڑے بڑے اکابر اولیا و علما و فضلا و کملا مثل حضرت سید شاہ بڈھ بلگرامی و حضرت سید میر عبدالواحد بلگرامی، صاحبِ سبع سنابل و حضرت طیب و حضرت سیدالعارفین شاہ لدھا بلگرامی و علامہ سید عبدالجلیل بلگرامی و حضرت حسان الہند مولانا غلام علی آزاد اور حضرت علامہ زماں سیدمرتضیٰ بلگرامی زبیدی یمنی، صاحبِ تاج العروس شرحِ قاموس وغیرہم اجلہ اکابر نام دار اٹھے، جنکے فضائل و کمالات علمی و عملی آج بھی چہاردانگِ عالم میں مشہور و معروف ہیں۔‘‘

بلگرام شریف کی عظمت و رفعت پر ہر دور کے علما و فضلا اور دانشوروں نے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ساداتِ مارہرہ مطہرہ کے مورثِ اعلا مشہور بزرگ حضرت سید میر عبدالجلیل بلگرامی قدس سرہٗ( م1725ء)’’ امواج الخیال‘‘ میں بلگرام کی تعریف میں یوں رطب اللسان ہیں۔ ؎


سبحان اللہ چہ بلگرامے

کوثر مَے آفتاب جامے

خاکش گلِ نوبہار عشق است

آبش مَے بے خمار عشق است

از عشق سرشت ایزدِ پاک

از روزِ ازل خمیرِ ایں خاک

حضرت میر عبدالجلیل بلگرامی قدس سرہٗ کے فرزندِ ارجمند حضرت میر سید محمد شاعرؔبلگرامی علیہ الرحمہ بلگرام کی مدحت میں یوں گویا ہیں۔ ؎


سیرِ باید کرد یاراں، نوبہارِ بلگرام

بر زمرد ناز دارد سبزہ زارِ بلگرام

ہر نفَس عطرِ گلستانِ یمن بْو می کند

خوش دماغاں از نسیمِ مشک بارِ بلگرام

اہلِ معنی کسبِ انوارِ سعادت می کنند

از سوادِ اعظمِ دولت مدارِ بلگرام

یادِ ہندوستاں کجا از خاطرِ طوطی رَوَد

می کند شاعرؔ بجا وصفِ دیارِ بلگرام

علاوہ ازیں مجدِ داعظم اعلاحضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ(م 340ھ/1921ء) بلگرام شریف کی مقدس خاک کے لیے یوں اپنا نذرنۂ خلوص و عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ؎


اللہ اللہ! عز و شان و احترامِ بلگرام عبدِ واحد کے سبب جنت ہے نامِ بلگرامروزِ عرس آوارگانِ دشتِ غربت کے لیے

"نعت کائنات"پر غیر مسلم شعراء کی شاعری کے لیے بھی صفحات تشکیل دیے گئے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں : غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی

من و سلویٰ ہیں مگر خْبز و اَدامِ بلگرام

آسماں عینک لگا کر مہر و مہ کی دیکھ لے

جلوۂ انوارِ حق ہے صبح و شامِ بلگرام

تھا ’’بما استحببت بلدہ‘‘ کا پاسخ بالکرام

مرکزِ دینِ مبیں ٹھہرا یہ نامِ بلگرام

یادگار اب تک ہیں اس گل کی بہارِ فیض کے

خندہ ہاے گل رْخاں و لالہ فامِ بلگرام

لائی ہے اس آفتابِ دیں کی تحویلِ جلیل

ساغرِ مارہرہ میں صہباے جامِ بلگرام

مغل بادشاہ اکبر کے عہد سے بلگرام شریف کی مذہبی و دینی اور علمی و ادبی خدمات کاپوری دنیا میں طوطی بول رہا ہے۔ یہاں کے علما و صلحا، فقہا و صوفیہ، حکماو کملا اور شعرا و ادبا کی خدماتِ جلیلہ کا ایک جہاں معترف ہے۔ انھیں بلند پایا شخصیات میں ایک قد آور اور مایۂ ناز نام حضرت حسان الہند علامہ سید میر غلام علی آزادؔچشتی واسطی بلگرامی قدس سرہٗ کا بھی ہے۔

نام و نسب اور والدین[ترمیم]

حضرت حسان الہند علامہ غلام علی آزادچشتی واسطی بلگرامی قدس سرہٗ نسباً حسینی، اصلاً واسطی، مذہباً حنفی، مشرباً چشتی اور مولداً و منشاً بلگرامی ہیں۔آپ اپنے زمانے کی مشہور علمی و رحانی شخصیت حضرت سید نوح حسینی بلگرامی کے جلیل القدر فرزند ہیں۔حسان الہندعلامہ آزادؔبلگرامی کے والدِ گرامی تقوا و پرہیزگاری اور استقامت فی الدین میں آپ اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔حسان الہندعلامہ آزادؔبلگرامی کی والدہ ماجدہ حضرت میر سید عبدالجلیل بلگرامی قدس سرہٗ بن سید احمد قدس سرہٗ کی دخترِ نیک اختر تھیں، آپ قائم اللیل اورصائم النہار خاتون تھیں۔ حسان الہندعلامہ آزادؔبلگرامی کا شجرۂ نسب اس طرح ہے۔

پدری شجرۂ نسب[ترمیم]

علامہ غلام علی آزادؔ بن سید نوح بن سید فیروز بن اللہ داد بن سید امان اللہبن محمود ثانی بن سیدحسین بن سید نوح بن سید محمود اول بن سید خداداد بن سید لطف اللہ بن سید سالار بن سید حسین بن سید نصیر بن سید حسین بن سید عمر بن سید محمد صاحب الدعوۃ الصغرا بن سید علی بن سید حسین بن سید ابولفرح ثانی بن سید ابولفراس بن سید ابوالفرح واسطی بن سید داود بن سید حسین بن سید یحییٰ بن سید زید بن سید علی بن سید حسن بن سید علی عراقی بن سید حسین بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ موتم الاشبال بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سیدنا امام حسین شہیدِ کربلا بن سیدنا علیِ مرتضیٰ زوجِ دخترِ رسول فاطمۃ الزہراء۔

مادری شجرۂ نسب[ترمیم]

علامہ غلام علی آزاد بن دخترِ علامہ میر عبدالجلیل بلگرامی بن سید احمد بن سید عبداللطیف بن سید محمود ثانی بن سید حسین بن سید نوح بن سید محمود اول بن سید خداداد بن سید لطف اللہ بن سیدسالار بن سید حسین بن سید نصیر بن سید حسین بن سید عمر بن سید محمد صاحب الدعوۃ الصغرا بن سید علی بن سید حسین بن سید ابولفرح ثانی بن سید ابولفراس بن سید ابوالفرح واسطی بن سید داود بن سیدحسین بن سید یحییٰ بن سید زید بن سید علی بن سید حسن بن سید علی عراقی بن سید حسین بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ موتم الاشبال بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سیدنا امام حسین شہیدِ کربلا بن سیدنا علیِ مرتضیٰ زوجِ دخترِ رسول فاطمۃ الزہراء۔

ولادتِ باسعادت[ترمیم]

حضرت حسان الہند میر سید غلام علی آزاد چشتی و اسطی بلگرامی کی ولادتِ باسعادت 25صفر المظفر 1116ھ /1704ء بروزاتوار کو بلگرام شریف میں فاتح بلگرام حضرت سید محمد صغرا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مقدس خانوادہ میں ہوئی۔حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی کی نشوونَما اسی مقد س دیار میں ہوئی۔ آپ نے روحانیت و عرفانیت سے مملو ایسے ماحول میں بچپن اور عنفوانِ شباب کی منزلیں طَے کیں جہاں علم و فضل اور زہد و تقوا کا چشمۂ جاری تھا۔ آپ دادیہال اور نانیہال دونوں ہی طرف سے فاتحِ بلگرام حضرت سید محمددعوۃ الصغرا نور اللہ مرقدہٗ کی نسبت سے صغروی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ جس خاندان میں بڑے بڑے شریعت و طریقت، حقیقت و معرفت اور علوم و فنون کی شخصیات نے جنم لیاتھا۔ ایسے دینی، اسلامی اور روحانی ماحول نے حسان الہند علامہ آزادؔبلگرامی کو بچپن ہی سے خوب نکھارا اور کندن بنادیا۔

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

تعلیم و تربیت[ترمیم]

علوم و فنون کے مرکزی شہر بلگرام سے تعلق رکھنے والے اس عظیم فرزند نے زیادہ تر اپنے خاندانی علمأ و اولیا کی آغوش میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اپنے عہد کے مشہور و معروف اور قابل استاذ، عالمِ جلیل حضرت علامہ سید طفیل محمد ابن شکر اللہ حسینی اترولوی ثم بلگرامی علیہم الرحمہ (م1151ھ) سے بھی علامہ آزادؔ بلگرامی نے درسیات کی جملہ منقولات و معقولات کی کتابیں پڑھیں۔ اور اپنے نانا حضرت علامہ سید عبدالجلیل ابن سید میر احمد حسینی واسطی بلگرامی علیہم الرحمہ سے لغت و سیرتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) احادیثِ طیبہ کی اسناد اور عربی و فارسی کے اشعار کا درس لیا۔ آپ سے حدیث’’المسلسل بالآ و لی‘‘اور حدیث ’’الآ سود ین التمر والماء ‘‘ سماعت کی، اس درس میں آپ کے خالہ زاد بھائی علامہ میر سید یوسف قدس سرہٗ ( ولادت 1116ھ ) بھی آپ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ چناں چہ اپنی کتاب ’’ماثرالکرام ‘‘ میں ناناحضور علامہ سید میرعبدالجلیل بلگرامی قدس سرہٗ کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ آزاد لکھتے ہیں کہ :

’’بندہ اور میر محمد یوسف کہ ہم دونوں حضور کے حقیقی نواسے ہیں، شرفِ تلمذ سے سعادت اندوز ہوئے اور دونوں نے سندِ حدیث بالاولیۃ اور حدیثِ الاسودین اور اکثر کتبِ احادیث کی اجازت حاصل کیں۔‘‘( 427)

طرح فنِّ شاعری کی باریکیاں، عروض و قوافی اور کچھ دیگر ادبی علوم و فنون اپنے ماموں محترم حضرت سید محمد ابن سید عبدالجلیل بلگرامی( ولادت1101ھ) سے حاصل کیے۔علاوہ ازیں جب حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی 1151ھ میں حجِ بیت اللہ اور زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔تب مدینہ طیبہ میں حضرت شیخ محمد حیات سندھی مدنی قدس سرہٗ سے (م1163ھ) سے بخاری شریف کا درس لیااور صحاحِ ستّہ کی اجازت لی۔ اور حضرت شیخ عبدالوہاب طنطا وی قدس سرہٗ(م1157ھ) کی فیض بخش صحبت بھی آپ کو میسر آئی۔ اِن سے علامہ آزادؔ بلگرامی نے فنِ حدیث اور اصولِ حدیث کی باریکیاں اور دقائق سے متعلق بھرپور استفادہ کیا۔اس ضمن میں علامہ آزادؔ نے ’’ماثرالکرام‘‘ میں خوداپنے یتذکرے میں رقم طراز ہیں۔

’’مدینہ منورہ علیہ التحیۃ والثناء میں شیخنا و استاذنا مولانا شیخ محمد حیات سندھی مدنی حنفی قدس سرہٗ کی خدمت میں بخاری کی قراء ت کی اور صحاحِ ستہ اور مولاناکی تمام مفردات کی اجازت بھی حاصل کی۔‘‘( ص 441)

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

اساتذہ کی عنایتیں[ترمیم]

حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی نے جن جن اساتذۂ کرام سے اکتسابِ فیض کیا انھوں نے آپ پر بے انتہا شفقت و مہربانی فرمائی۔ دراصل خود علامہ آزادؔ اپنے اساتذہ کا بے حد ادب و احترام سے کرتے تھے اور آپ کو علوم وفنون کی تحصیل میں جو لگن اور دلچسپی تھی اس کے سبب بھی آپ اپنے اساتذہ کے منظورِ نظر تھے۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت میر سید محمد طفیل بلگرامی قدس سرہٗ آپ سے بے پناہ محبت اور خاص عنایت فرماتے تھے۔ حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی اور آپ کے حقیقی خالہ زاد بھائی حضرت علامہ میر سیدمحمد یوسف قدس سرہم دونوں ہی ہم سبق تھے، ان دونوں خالہ زاد بھائیوں سے اساتذہ کی شفقتیں اور محبتیں نیز ان حضرات کا اپنے اساتذہ کے تئیں احترام و عقیدت کے جذبات فی زمانہ مفقود ہوتے جارہے ہیں۔

علامہ آزادؔ نے مکۂ معظمہ میں حضرت شیخ عبدالوہاب طنطا وی قدس سرہٗ(م1157ھ) سے بھی علمِ دین حاصل کیا جب آپ نے حضرت طنطاوی قدس سرہٗ کی بارگاہ میں اپنا تخلص ’’آزادؔ‘‘ پیش کیا تو حضرت نے اظہارِ مسرت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’یاسیدی ! اَنتَ مَن عتقاء اللہ تعالیٰ‘‘ یعنی اے میرے آقا! آپ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ خاص بندوں میں سے ہیں۔

(مآثرالکرام، ص:261)

استاذِ محترم کی اس عنایتِ خسروانہ پر علامہ آزادؔ نے یوں اظہارِ خیال کیا کہ :

’’ شیخ قدس سرہٗ کی اس مبارک عطا سے جو اِس گرفتار کے بارے میں زبانِ مبارک سے نکلی بہت امیدیں آخرت میںرکھتا ہے۔‘‘( مآثرالکرام، ص:261)

اسی طرح علامہ آزادؔ بلگرامی اپنے استاذ نانا حضور حضرت علامہ میر سید عبدالجلیل بن سید احمد قدس سرہم کی عنایتوں اور نوازشوں کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :

’’ راقم الحروف آں جناب کا حقیقی نواسا ہے اور اس آفتاب سے بھیک مانگنے والا ایک ذرّہ ہے۔ مجھ ناچیز کے حال پر بہت مہربان تھے۔ دارالخلافہ شاہ جہاں آباد کی ملازمت کے زمانے میںدوبار فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ تمہارے وجود کے لیے کوئی نشانی مجھ سے باقی رہے۔‘‘ (مآثر الکرام، ص393)

علامہ آزادؔ سے ان اساتذہ نے جو محبتیں کیں آپ نے اپنی اکثر تصانیف میں ان کا ذکرکیا ہے ساتھ ہی بعض اساتذہ کے لیے عربی میں شان دار مدحیہ قصائد بھی ارقام فرمائے ہیں۔ یہ قصائد شعر و ادب کا گنجینہ ہونے کے ساتھ اپنے ممدوحین سے سچی محبت و عقیدت کا اظہاریہ ہیں۔ نانا جان میر سید عبدالجلیل بن سید احمد بلگرامی کی شان میں لکھے گئے قصیدے کے بارے میں مولانا سید مصطفی سورتی فرماتے ہیں کہ: ’’ یہ قصیدہ حق رکھتا ہے کہ اس پر رشک کیا جائے۔‘‘(مآثر، ص:394)

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

بیعت و خلافت[ترمیم]

حسّان الہند علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی جس عالی نسب خاندان کے چشم و چراغ تھے اس کی میدانِ تصوف میں خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ آپ کو بچپن ہی سے تصوف و روحانیت اور معرفت و طریقت سے گہرا لگاو تھا۔ آپ کم عمری ہی سے ذکر وفکر اور تزکیہ و مجاہدہ میں مصروف رہا کرتے تھے۔ تصوف و معرفت کی اسی تشنگی کو بجھانے کے لیے آپ نے تصوف کے دو مشہور سلاسل چشتیہ و قادریہ کے حسین سنگم شیخِ کامل سید العارفین سندالکاملین حضرت علامہ شاہ سید لطیف اللہ شاہ عرف لدہا بلگرامی نور اللہ مرقدہٗ (م1143ھ) کے دست ِ حق پرست پر 1137ھ میں بیعت ہوکر سلسلہ چشتیہ و قادریہ میں داخل ہوئے۔ اور حضرت شیخ لدہا قدس سرہٗ کی جانب سے سلسلے کی اجازت و خلافت سے بھی سرفراز ہوئے۔ سیدالعارفین حضرت علامہ شاہ سید لطیف اللہ شاہ عرف لدہا بلگرامی کی شخصیت شریعت و طریقت کے رازوں کا سر چشمہ تھی۔ آپ کواپنے زمانے کے علما و مشائخ اور صوفیہ کے مرکزکی حیثیت حاصل تھی۔ بڑے بڑے فْضَلا آپ کی روحانی و عرفانی تربیت پر فخر کیا کرتے اور شرَ ف ِبیعت حاصل کیا کرتے تھے۔ چناں چہ حضرت شاہ فضل اللہ کالپوی قدس سرہٗ نے بھی آپ سے ایک مدت تک اکتسابِ فیض کیا اور خانقاہِ مارہرہ مطہرہ کی عظیم روحانی و علمی شخصیت حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی مارہروی قدس سرہٗ نے بھی حضرت سید العارفین قدس سرہٗ سے تربیت پائی اور اجازت حاصل کی۔

سیر وسیاحت[ترمیم]

ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی ( مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد ) کے مطابق علامہ آزادؔ بلگرامی کے بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ نے بلگرام میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے دہلی کا قصد کیا تھا۔ لیکن وہاں انھوں نے کیا پڑھا اور کس سے پڑھا س ضمن میں سوانح نگاروں کی زبانیں خاموش ہیں۔ بہ ہرحال! تعلیم سے مکمل فراغت کے بعد اپنے ماموں حضرت سید محمد بلگرامی کے بلانے پر آپ نے سندھ کا سفر اختیار فرمایا، جہاں علامہ آزادؔ کے ماموں ایک سرکاری منصب پر فائز تھے۔ آپ کے وہاںپہنچنے پر ان کے ماموں نے انھیں اپنا قائم مقام بناکر بلگرام واپس آگئے جہاں وہ چار سال تک مقیم رہے۔ اس دوران علامہ آزادؔ نے ان کی تمام تر ذمہ داریوں کو بہ حسن و خوبی نبھایا۔ سندھ سے جب علامہ آزادؔ نے واپسی اختیار فرمائی تو انھیں دہلی میں یہ اطلاع ملی کہ ان کا خاندان عارضی طور پر الٰہ آباد میں قیام پذیر ہے تو انھوں نے دہلی سے الٰہ آباد کا سفر کیا اور وہاں کچھ عرصہ مقیم بھی رہے۔

سفرِ حج و زیارتِ حرمین شریفین[ترمیم]

حسان الہند علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی ان خوش نصیب افراد میں سے ہیں جنھیں بچپن ہی میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت کا شرَف حاصل ہو چکا تھا۔ تب سے ہی علامہ آزادؔ مکۂ معظمہ اور روضہؔ رسولِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے بے تاب و بے قرار رہاکرتے تھے کہ کسی طرح پرِ پرواز مل جائے اور اْڑ کر یہ غلام و شیدامکۂ معظمہ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوجائے، اس سلسلے میں خود علامہ آزادؔ نے یوں روشنی ڈالی ہے:

’’اِس جلوہ احمدی کے شیدا اور فتراکِ محمدی کے شکار نے کم سنی ہی میں ایک خواب دیکھا کہ مکۂ معظمہ زادہااللہ تعظیماً میں حاضر ہوں اور جناب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی ایک محراب میں کھڑے ہیں۔ فقیر نے حضور میں حاضری دی، آپ نے خوب توجہ فرمائی اور مسکراتے لبوں سے چند باتیں ارشاد فرمائیں۔ اب تک وہ جمالِ جہاںآرا خاص طور پر تبسمِ مبارک کی چمک دمک میری نگاہوں میں ہے، اسی وقت سے جب بھی یہ خواب یاد آتا ہے تو شوق کی زنجیر ہِلا جاتا ہے۔ ‘‘ (مآثر الکرام، ص:434)

کون ومکاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تبسم کی یاد زیارتِ حرمین شریفین کے لیے شوق اور تڑپ کو بڑھاتی رہی۔جب حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی میں صبر و قرار کی تاب نہ رہی تو اِس عاشق و شیدا پر رحمتِ رب اور عنایتِ رسول ( جل و علا و صلی اللہ علیہ وسلم) ہوہی گئی اوررجب المرجب بروز پیر 1150ھ مطابق بہ عدد ’’ سفرِ خیر‘‘ پیدل اور تنہاآپ گھر سے کوچہ جاناں صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بغیر کچھ سامانِ سفر لیے چل پڑے۔ آپ نے اپنے اس عزم بالجزم کی کسی کو مطلق خبر بھی نہ ہونے دی اور دیوانگیِ شوق کے مارے سوے حرم نکل پڑے۔ لیکن آپ کا یہ جوش بے ہوش جوش نہیں تھا بل کہ یہ جوش باہوش تھا۔ آپ نے مشہور و معروف شاہراہوں کے بجاے غیر معروف راستوں صحراوں اور بیابانوں کا انتخاب کیا تاکہ کوئی ان کی راہِ محبت میں رکاوٹ نہ بن جائے اور ایسا ہی ہوگیا جب آپ کے گھر والوں کو اس بات کا علم ہوا کہ آزادؔ تنِ تنہا اور بے سروسامانی کے عالم میں عازمِ حج بیت اللہ ہوئے ہیں تو ان کے بھائی میر سید غلام حسین ان کی تلاش میں نکلے، لیکن وہ ان ہی راستوں پر چل رہے تھے جو حج کے مشہور راستے تھے کئی منزلوں تک ان کی تلاش جاری رہی، لیکن علامہ آزادؔ کو نہ ملنا تھا وہ نہ ملے۔ بالآخر میر سید غلام حسین درمیان ہی سے واپس آگئے۔ علامہ آزادؔ نے بے خودی اور بے تابی کے عالم میں جو یہ مبارک سفر اختیار فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خوب مدد کی۔ آپ نے خود اپنے اس سفر کی روداد لکھی ہے، سفر میں پیش آنے والے حالات و واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ یہ رودا د عربی و فارسی نثر و نظم دونوں میں ہے، آپ نے اپنے سفر نامے کو بڑے ہی مؤثر، دل پذیر، رقت انگیز اسلوب اور خوب صورت پیرایہؔ بیان میں رقم کیا ہے جو بہت خاصے کی چیز ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنی مشہور تصنیف ’’ سبحۃ المرجان فی تاریخِ ہندوستان‘‘میں جو اپنی خود نوشت سوانح تحریر کی ہے اس میں بھی سفرِ حرمین شریفین کا حصہ ہی غالب ہے۔ فارسی میں ’’طلسمِ اعظم‘‘ کے نام سے آپ کی ایک طویل مثنوی ہے جو خاص اس مبارک و مسعود سفر کے احوال و آثار پر مشتمل ہے۔ اور یہی عنوان اس سفر کا مادۂ تاریخ بھی ہے۔ عربی و فارسی کے متعدد قصائد میں بھی آپ نے اپنے اس جذب وشوق کا والہانہ اظہار کیا ہے۔

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

مالوہ میں آمد[ترمیم]

سفرِ حرمین کے لیے جب حسان الہند حضرت علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ وطن سے نکلے تو راستے کے مصائب و آلام اور تکالیف سے دوچار ہوتے ہوئے مالوہ پہنچے۔ آپ کے پیروں میں آبلے پڑ چکے تھے۔ چناں چہ اس کا ذکر اپنے فارسی قصیدے میں اس طرح نظم کیا ہے۔ ؎


می بریدم رہے بہ پائی

با رفیقے کہ بود تنہائی

جب آپ مالوہ پہنچے تو وہاں نواب آصف جاہ ایک اہم مہم کے سلسلے میں موجود تھا۔ ان کے ساتھ ان کا لشکر بھی تھا۔ آپ کو دیکھ کر ہی یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ایک طویل سفر طَے کرکے آرہے ہیں۔نواب آصف جاہ کے سپاہیوں نے آپ کی خوب مہمان نوازی کی۔ جب آپ کی نواب آصف جاہ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے باوجود بڑی شانِ استغنا کے نواب کی شان میں یہ رباعی کہی۔ ؎


اے حامیِ دیں محیطِ جود واحساں

حق داد ترا خطاب آصف جہاں

او تخت بدرگاہِ سلیماں آورد

تْو آلِ نبی را بہ در کعبہ رساں

یعنی: اے دین کے حامی بخشش اور احسان کا سمندر حق تعالیٰ نے آپ کو آصف جہاں کا لائق خطاب عطا فرمایا۔ وہ آصف سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں بلقیس کا تخت لایا تھا آپ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو کعبہ کے دروازے تک پہنچادو۔

چناں چہ نواب صاحب نے آپ کے لیے زادِ راہ اور رتھ نما سواری کا انتظام کیا۔ چناں چہ وہ رتھ بھی آپ کو بہت کام آیا جس کا ذکر قصیدے میں یوں کیا ہے۔ ؎


رُت لباسِ خوش الوان

راہ رفتے بسانِ تختِ رواں

علامہ آزادؔ نواب کی شان میں لکھی گئی رباعی کے بارے میں یوں راقم ہیں کہ : ’’ فقیر نے موزونیِ طبع کے باوجود اغنیا کی مدح میں پوری عمر کبھی زبان نہیں کھولی صرف یہ رباعی ہے جو سفرِ بیت اللہ کی استعانت کی خاطر سرزد ہوئی اور دو عربی شعر جو دفترِ ثانی میں نواب نظام الدولہ کے ترجمے میں مذکور ہوں گے۔‘‘ اس امر سے حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ کی شانِ استغنا ظاہر ہوتی ہے۔

مالوہ سے رخصت ہوکر حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ محرم الحرام1151ھ و جدہ پہنچ گئے۔ حسنِ اتفاق کہ سلسلہ چشت کہ ایک بزرگ حضرت سید محمد فاخرزائرؔ الٰہ آبادی علیہ الرحمہ (م1162ھ) پہلے سے وہاں موجود تھے۔ دونوں ہم عصر اور ہم مشرب بھی تھے اور ساتھ ساتھ پہلے سے باہم تعارف بھی۔ علامہ آزادؔ نے عمرہ ادا کیا اور کعبۃ اللہ سے مدینۂ طیبہ کی طرف چل پڑے۔ آپ لکھتے ہیں کہ : ’’ چوں کہ مدینۂ سکینہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ و التحیۃ کا شوق جلوہ ریز تھا۔ اس لیے اپنے ادنر صبر کی طاقت نہ پاکر 26محر م الحرام کو روز جمعہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد مدینۂ مقدسہ کاراستہ لیا۔ پچیسویں صفر کہ میں اسی تاریخ میں پردۂ عدم سے شہرستانِ ہستی میں ظاہر ہوا تھا۔ اور قدم چھتیسویں منزل میں رکھ چکا تھا۔ صبح کے وقت مدینۂ منورہ کے گرد و نواح کے نظارے کو آنکھوں کا سرمہ بنایا، آرزو مند آنکھوں کو روضۂ اقدس کے قبے پر مَلا۔‘‘

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

علامہ آزادؔ علیہ الرحمہ نے مدینۂ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں نہایت شان دار بہاریہ نعتیہ غزل قلم بند فرمائی، جس کا مطلع ہے۔ ؎


نمود جلوۂ اعجازِ شمعِ مطلبی

نہ ماند شوخیِ چشمِ شرارِ بولہبی

فارسی کے علاوہ عربی میں آپ نے ایک قصیدہ تحریر فرمایا۔ جو ’’ تسلیۃ فواد فی قصائد آزاد‘‘ میں درج ہے۔یہ قصیدہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں آپ کی بے پناہ اور والہانہ محبت و وارفتگی کا آئینہ دار ہے۔ بارگاہِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی بے تاب تمناؤں اور بے چین آرزوؤں کا اظہار کرتے ہوئے علامہ آزادؔ نے یوں عرض کیا ہے۔ ؎


قد جئت بابک خاشعا متضرعا

مالی وراک کاشف الضراء

احسن الیٰ ضیف بباک واقف

شان الکرام ضیافۃ الغرباء

بچپن ہی سے حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ کے دل میں اپنے جدِ اعلیٰ نبیِ مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس آستانے پر حاضری کے لیے بے چین اور بے قرار تھے، آج آپ کی دلی مراد بر آئی تھی دل تھا جو عشقِ رسو ل ﷺ میں ڈوبا جارہا تھا، آنکھیں تھیں جو دیارِ پاکِ رسول ﷺ میں اشک ریز تھیں۔ حضرت علامہ آزادؔ علیہ الرحمہ مکمل آٹھ مہینے تک بارگاہِ بے کس پناہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قیام کیا۔یہیں علامہ آزادؔ نے شیخ محمد حیات سندھی ثم مدنی سے درسِ حدیث لیا تھا اور تمام مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی مدینۂ منورہ میں اتنے طویل قیام کے بعد بھی آسودگی میسر نہ آئی اور جب حج کا موسم آیا تو 14شوال المکرم کو سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم سے ادائیگی حج کی اجازت لینے کے لیے مواجہہ شریف کے حضور آکر یوں عرض کیا۔ ؎


علیک سلام اللّٰہ یا اشرف الوریٰ

لقد سال دمعی فراقک فانیا

وما انا کنت کالذی جاء منھلا

فذاق ولٰکن عاد ظمآن باکیا

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

علاوہ ازیں عربی کی جن قصائد میں انھو ں نے اپنے جذب و شوق کو نظم فرمایاان میں سے چند اشعار نشانِ خاطر فرمائیں۔ ؎


ہاج البکاء الیٰ منازل رحمۃ

مسقیۃ بالدیمۃ الھطلاء

مالاح من نحو الابارق بارق

الا وازکی النار فی احشائی

وجلست فی کمدٍ علی بعد المدی

شتان بین الہند والزوراء

لو کنت اْخبر جیرتی و عشیرتی

لتزاحموا بینی و بین رجائی

لو لا اعانۃ جذبۃ نبویۃ

اصبحت فی یدھم من الاسراء

بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے اور 26 شوال المکرم کومکۂ مکرمہ پہنچے ارکانِ حج بجالائے۔ ’’ عملِ اعظم‘‘ اداے حج کی تاریخ ہے حج کے بعد مکۂ مکرمہ میں کئی ماہ قیام کیا اور تمام تاریخی مقدس مقامات کی زیارت کی۔ دنیا بھر سے تشریف لائے ہوئے علما و مشائخ سے ملاقات فرمائی۔ ان کی بابرکت صحبتوں سے اکتسابِ فیض کیا۔ خصوصاً حضرت شیخ عبدالوہاب طنطا وی قدس سرہٗ(م1157ھ) کے علم و فضل سے خاص حصہ پایا۔جس کا ذکر گذشتہ صفحات میں گذرا۔ایک مرتبہ دورانِ کلام علامہ آزادؔ بلگرامی نے حضرت شیخ طنطاوی قدس سرہٗ کو اپنا تخلص ’’آزاد ‘‘ بتایا۔ چوں کہ یہ اردو کا لفظ تھا اس لیے اس کا معنی بھی واضح کیا تو شیخ طنطاوی قدس سرہٗ نے برجستہ فرمایا: ’ ’ یاسیدی انت من عتقاء اللّٰہ ‘‘ یعنی جناب آپ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ شیخِ محترم کی زبانِ فیض ترجمان سے نکلے ہوئے اس جملے کو علامہ آزادؔ بلگرامی نے اپنے لیے خوش خبری اور نیک فال تصور کیا اور اپنے اس تخلص پر تاعمر ناز کرتے رہے۔ اس دوران علامہ آزادؔ علیہ الرحمہ نے طائف کا سفر بھی کیااور حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مزارِ مقدس کی زیارت سے شاد کام ہوئے، یہاں قیام کیا اور خوب خوب روحانی و عرفانی فیوض و سعادت سے بہر و ر ہوئے۔ علامہ آزادؔ نے اس مقام پر جو اشعار پیش فرمائے ان میں سے دو شعر نشانِ خاطر کریں۔ ؎


اے صبا رو بہ مزارِ پسرِ عمِ نبی

خاک آں روضہ کم از عنبر تر نشناسی

کردہ ام خوب تماشا چمنِ طائف را

نرسد ہیچ گلِ او بہ گلِ عباسی

ماہِ ربیع الآخر کے آخر میں تین بار طوافِ وداع فرمایا اور 3جمادی الاولیٰ 1152ھ کو جدہ سے ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔ 8روز بعد راستے میں ’’مخا‘‘ کی بندرگاہ آئی جہاں آپ کا جہاز لنگر انداز ہوا۔ آپ نے یہاں کی سیر فرمائی۔ یہیں سلسلۂ شاذلیہ کے بانی حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ (وفات : 656ھ) کا مزارِ پْرانوار ہے۔حسان الہند حضرت علامہ آزاد بلگرامی علیہ الرحمہ نے موقع غنیمت جانا اور وہاں حاضر ہوکر فاتحہ خوانی فرمائی۔ 29جمادی الاولیٰ 1152ھ کو جہاز سورت کی بندرگاہ پر پہنچا۔ اس طرح آپ کا یہ مقدس روحانی و عرفانی سفر مکمل ہوا۔’’سفر بخیر‘‘ سے آپ نے اس سفر کا تاریخی مادہ استخراج فرمایا۔

نئے صفحات

دکن میں قیام اور وصالِ پْر ملال[ترمیم]

علامہ آزادؔجدہ سے جمادی الاولیٰ 1152ھ میں سورت کے راستے ہندوستان واپس آئے۔ جہاں سے دکن کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ دکن تشریف لائے تو نظام آصف جاہ حیدرآبادی نے آپ کا شان دار استقبال کیا اور اپنے ہم راہ دیارِ دکن کے مختلف مقامات کی سیر کرائی۔ بالآخر 1169ھ میں آپ اورنگ آباد شہر آئے اور یہاں ’’روضہ‘‘ نامی علاقے میں قیام کیا جسے اب ’’خلدآباد‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے دنیا و مافیہا سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور تصنیف و تالیف میں مصروف ہوگئے۔ (روضہ )خلدآباد شریف میں آپ نے سلطان المشائخ محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیا قدس سرہٗ( م725ھ) کے خلیفہ صاحبِ فواد الفوادحضرت مولانا نجم الدین امیر حسن علا سنجرقدس سرہٗ ( 737ھ) کی مزارِ پاک کے احاطہ واقع ’’سولی بھنجن، خلدآباد شریف‘‘ میں مستقل سکونت اختیار کرلی، حتیٰ کہ آپ نے اپنی آخری آرام گاہ کے لیے یہیں پر ایک قطعۂ اراضی بھی خرید لی اور اس کا نام ’’عاقبت خانہ‘‘ رکھا۔ 24ذی قعدہ1200ھ /1785ء کوآپ اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔ ان للہ وانا الیہ راجعون۔

آپ کی تدفین اسی مذکورہ زمین میں ہوئی جسے آپ نے خرید کر اس کے گرد چہار دیواری اٹھوائی تھی۔

مزارِ پُر انوار

حسان الہند علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی کا مزارِ پْر انوار آج بھی سولی بھنجن، خلدآباد شریف، ضلع اورنگ آباد(مہاراشٹر) میں ایک نہایت پْر فضااور پْرسکون مقام پر مرجعِ خلائق ہے۔ لوگ بتاتے ہیں کہ علامہ آزادؔ بلگرامی نے یہاں پر ایک مسجد بھی تعمیر کروائی تھی جو آج بھی موجود ہے۔ آپ کا مزار جس احاطے میں ہے اس میں حضرت مولانا نجم الدین امیرحسن علا سنجر قدس سرہٗ مدفون ہیں آپ کے بازو میں آپ کی کتابیں دفن کی گئی ہیں۔ حضرت امیر حسن قدس سرہٗ کی مزار ِ اقدس کی چوکھٹ پر شکر رکھی جاتی ہے اور پھر اٹھا لی جاتی ہے اسے کند ذہن اور لکنت زدہ کو استعمال کرانے سے بے شمارفوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔

حضرت علامہ سید میر غلام علی آزادؔ بلگرامی قدس سرہٗ کے مزار شریف کے سرہانے یہ عبارت نقش ہے :

ہو الحی القیوم

حسان الہند غلام علی آزادٔ حسینی واسطی بلگرامی

’’آہ غلام علی آزادؔ‘‘

وفات : 24 ذی قعدہ1200ھ

عرسِ حسان الہند[ترمیم]

حضرت علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی قدس سرہٗ کی مزارِ پْرانوار سے متعلق بیش تر مورخین اور علما و مشائخ یہی کہا کرتے تھے کہ آپ کا مزار علاقۂ دکن میں کہیں واقع ہے، حتمی طور پر لوگ اس بات سے نابلد تھے کہ آپ کی آخری آرام گاہ ’’ سولی بھنجن، خلدآباد شریف‘‘ میں ہے۔ 1967ء میں شہزادۂ خاندانِ برکات حضور سید العلماء سیدآلِ مصطفی سیدؔ میاں مارہروی قدس سرہٗ مالیگاؤں تشریف لائے، یہاں سے آپ جالنہ اپنے تبلیغی و دعوتی دورے پر گئے۔ جالنہ سے واپسی پر اورنگ آباد اور خلدآباد زیارت کے لیے آئے، جب آپ نے علامہ آزادؔ بلگرامی قدس سرہٗ کے مزارِ پاک کی زیارت کی اور تربتِ خاکی پر لگی ہوئی تختی کو ملاحظہ کیا تو رونے لگے اور حاضرین کو بتایا کہ یہ ہمارے خاندان کی ایک جلیل القدر ہستی ’’حضور حسان الہند علامہ سید میر غلام علی آزادؔحسینی واسطی بلگرامی ‘‘ کا مزارِ پاک ہے۔ حضور سید العلماء نے جب اس بات کی تصدیق و توثیق کی تو اس موقع پر مجاہدِ سنیت حافظ تجمل حسین رضوی حشمتی علیہ الرحمہ ( م1984ء) بھی وہاں موجود تھے۔اس واقعہ کے بعد سے مالیگاؤں کے خوش عقیدہ مسلمان علامہ آزادؔ بلگرامی کے آستانے پر جاکر خصوصاًفیوض حاصل کیا کرتے ہیں۔ کیوں کہ آپ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ آپ مستجاب الدعوات تھے اور آپ کی مزار پر دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں، خود راقم کوبھی اس کا کئی مرتبہ تجربہ ہوچکا ہے۔

یوں تو ہر سال حضرت مولانا نجم الدین امیر حسن علا سنجر قدس سرہٗ کا عرس منعقد ہوتا ہی تھا، اور حضرت علامہ آزادؔ بلگرامی کی سالانہ فاتحہ وہاں کے حضرات کرلیا کرتے تھے۔لیکن حضرت حسان الہند قدس سرہٗ کے عرس کی علاحدہ سے کوئی محفل یا تقریب نہیں ہوتی تھی۔اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے باضابطہ آپ کے عرسِ مقدس کی تقریبات کا آغاز آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء شاخ مالیگاؤں کی سرپرستی میں مجلسِ برکاتِ رضا مالیگاؤں کے عقیدت مند اراکین نے 2001ء سے کیا۔ تب سے ہرسال شرعی اصولوں کی مکمل پاس داری کے ساتھ آپ کا عرس نہایت تزک و احتشام اور نظم و ضبط کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ عرس میں علماے اہل سنت کے نورانی و عرفانی خطابات، نعت خوانی، صلاۃ و سلام، شجرہ خوانی دعاا ور لنگر وغیرہ کا انتظام مالیگاؤں کے احباب ہی کیاکرتے ہیں۔ عرس میں شرکت کرنے والے زائرین بھی زیادہ تر مالیگاؤں کے ہی ہوتے ہیں ویسے اِدھر چند سالوں سے اورنگ آباد، بھیونڈی، ناسک، دھولیہ اور جل گاؤں وغیرہ شہروں سے بھی اہلِ عقیدت ومحبت کی ایک اچھی خاصی تعداد جمع ہوجاتی ہے۔ عرس کے تمام تر انتظامات آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء شاخ مالیگاؤں کی سرپرستی میں مجلسِ برکاتِ رضا کے اراکین کرتے ہیں۔

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

اولاد و امجاد

الہند علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ نے سنتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ پر عمل کرتے ہوئے نکاح فرمایا۔ علامہ آزاد کے صرف ایک فرزند حضرت سید نورالحسین علیہ الرحمہ تھے۔ اور ان کے بھی صرف ایک ہی بیٹے حضرت مفتی امیر حیدر علیہ الرحمہ ہوئے۔ مفتی صاحب کی تین اولادیں ہوئیں۔ ایک صاحب زادی جو حضرت ابو محمد بن ابوتراب کو منسوب ہوئیں اور دوسری دخترحضرت آلِ حسن بن دربان علی کو منسوب ہوئیں اور ایک صاحب زادے حضرت امیر حسن علیہ الرحمہ تھے جو لاولد وصال فرماگئے۔ اس طرح علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ کی نسلِ نرینہ پوتے پر جاکر ختم ہوگئی۔

درس و تدریس اور تلامذہ[ترمیم]

حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ نے اپنی پوری زندگی تعلیم و تدریس میں بسر فرمائی۔ آپ کے علم و فضل سے بے شمار لوگوں نے اکتسابِ فیض کیا۔ لیکن مواد کی عدم دستیابی سے حتمی طور پر آپ کے تلامذہ اور فیض یافتگان کے نام نہیں بتائے جاسکتے۔ البتہ آپ کے بعض سوانح نگاروں نے آپ کے جن شاگردوں کا ذکر کیا ہے اْن میں میر عبدالقادر مہربانؔ اورنگ آبادی، عبدالوہاب افتخارؔدولت آبادی، مصنف تذکرۂ بے نظیر، لچھمی نرائن شفیقؔ صاحب گلِ رعنا، اور ضیاء الدین پروانہؔ وغیرہ قابلِ ذکرہیں۔

اخلاق و عادات[ترمیم]

سیدالعارفین حضرت علامہ شاہ سید لطیف اللہ شاہ عرف لدہا بلگرامی جیسے عظیم المرتبت ولیِ کامل اور مرشدِ برحق کے فیضِ صحبت اثر اور نگاہِ کیمیا اثر نے حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی کی شخصیت کو خوب نکھارا اور سنوارا۔ خاندانِ نبوت سے تعلق رکھنے والے علامہ آزادؔ بلگرامی یوں تو بچپن ہی سے نیک سیرت اور اچھے اخلاق و عادات کا مجموعہ تھے۔ جید اساتذہ، علماو مشائخ، فقہا و صوفیہ اور بالخصوص پیر ومرشد کی تربیت سے آپ ہمیشہ بڑوں کا ادب و احترام کرتے، آپ کا کردار رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کاپرتَو تھا۔ آپ فقر و تصوف کے پوشیدہ رازوں سے واقف تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کا دل یادِ الٰہی کا گنجینہ بن گیا تھا۔ آپ کا کوئی لمحہ ذکرِ الٰہی سے غفلت میں نہ گذرتا۔ آپ عشقِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ اولیا ے کاملین اور صوفیاے عظام سے بھی محبت فرماتے تھے۔ آپ کے پیرومرشد حضرت سیدالعارفین کے حکم کے مطابق آپ نے تادمِ حیات تعلیم و تعلم، تصنیف و تالیف اور خدمت خلق میں اپنے آپ کو مصروف رکھا۔

شانِ استغنا[ترمیم]

حسان الہند علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی صرف چشتی نسبت نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنی عادات و اطوار اور اخلاق و کردار میں سرتاپا حقیقی چشتی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ وہ صوفیاے کے زہد و فقرکے اعلیٰ نمونہ تھے۔ دنیا اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ ان کے چاروں طرف بکھری ہوئی تھی لیکن انھوں نے کبھی بھی اس کی طرف نگاہِ التفات نہیں کی۔حسان الہند علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی کے تعلقات بڑے بڑے امراے سلطنت اور شاہانِ زمانہ سے رہے۔ لیکن خاندانِ سید محمد دعوۃ الصغرا کا یہ پروردہ فرزندِ جلیل کبھی بھی ان تعلقات اورمراسم کو دنیا طلبی اور حصولِ منصب و امارت کے لیے استعمال نہ فرمایا۔بے شمار ایسے مواقع آپ کی زندگی میں پیش آئے مگر آپ نے ہمیشہ مسلکِ صوفیہ پر عمل کرتے ہوئے دنیاوی جاہ و منصب کو ٹھکرادیا۔آپ کی شانِ استغنا سے متعلق بیش تر واقعات و حکایات کتبِ تواریخ میں ملتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک واقعہ خود علامہ آزادؔ کی زبانی پیش کرنا غیر مناسب نہ ہوگا :

’’ فقیرکو نواب نظام الدولہ ناصر جنگ شہید خلف نواب آصف جاہ سے عجیب تعلقِ خاطر پیدا ہوگیا تھا، اور اتنی دوستی آپس میں ہوگئی تھی کہ جس سے زیادہ کا تصور نہیں ہوسکتا۔ جب نواب نظام الدولہ باپ کی رحلت کے بعد مسندِتولیت پر رونق افروز ہوئے، تو بعض دوستوں نے بتایا کہ اب تو جورتبہ چاہو مل سکتا ہے، کوئی عہدہ لے لو اور وقت غنیمت مَیں نے کہا کہ : ’ مَیں آزاد ہوگیاہوں، مخلوق کا بندہ نہیں بنوں گا۔ دنیا نہرِ طالوت میں پڑی نظر آتی ہے اور اس میں سے صرف ایک چلو حلال ہے اس سے زیادہ حرام اور یہ شعر پڑھا۔ ؎


دریں دیار کہ شاہی بہر گدا بخشد

غنیمت است کہ مارا ہمیں بہ ما بخشد‘‘

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

حسان الہند علامہ غلام علی آزاد بلگرامی نے اربابِ اقتدار اور اصحابِ اختیار سے تعلقات و مراسم تو استوار رکھے لیکن تاحیات کبھی بھی اپنی ذاتی غرض ان سے پوری نہ کی بل کہ روابط کا فائدہ خلقِ خدا کی غم گساری اور دل جوئی میں استعمال کرتے رہے۔ ان کا یہ طرزِ عمل جو سلف صالحین کا نمونہ ہے دورِ حاضر کے علما و مشائخ اور فقرا و صوفیہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

علامہ آزادؔ بلگرامی کی عربی و فارسی میں بہت سی شعری و نثری کتابیں تصنیف فرمائیں۔ اردو کے بعض اعمال بھی آپ کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بات پایۂ ثبوت تک نہیں پہنچ سکی۔ لیکن یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ آپ نے اردو(ہندوی) میں کچھ لکھا ہو یا کہا ہو۔ کیوں کہ یہ آپ کی خاندانی روایت اور طبیعت دونوں سے ہم آہنگ ہے۔ آپ کی تصانیف میں درج ذیل شعری ونثری اثاثے اپنی اہمیت اور عظمت کے اعتبار سے بلندپایا ہیں۔ جن کے مطالعہ سے آپ کی گراں قدر علمی شخصیت کا کماحقہٗ عرفان کیا جاسکتا ہے۔

فارسی: حسان الہند علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی قدس سرہٗ کی فارسی کتب میں :

٭ مآثر الکرام تاریخِ بلگرام(ڈیڑھ سو سے زائد علما و مشائخِ بلگرام کا تذکرہ، اس میں چند غیر بلگرامی حضرات کا بھی ضمناً ذکر ہے)

٭ خزانۂ عامرہ( تقریباً 135 شعراے فارسی کا تذکرہ)

٭ سرو آزاد ( فارسی و ہندوی شعرا کا تذکرہ)

٭ روضۃ الاولیاء ( خلدآباد شریف، اورنگ آباد، دکن میں آرام فرما اولیاے کرام کا تذکرہ) وغیرہ مطبوعات ہیں۔ اور :

٭ سند العادات فی حسن خاتمۃ السادات( سیرت و مناقب)

٭ غزلان الہند (سبحۃ المرجان کے آکری دو ابواب کا فارسی ترجمہ)

٭ یدِ بیضا ( فارسی شعرا کی سوانح عمریاں )

٭ شجرۂ طیبہ (بلگرام شریف کے سادات و شیوخ کو شجرۂ مبارک) ٭ انیس المحققین ( علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحم کے شیخ اور دوسرے تین صوفیہ کی سیرت )

٭ تذکرۂ صوبہ دارانِ اودھ، وغیرہ مخطوطات ہیں۔

اسی طرح فارسی شاعری میں:

٭ دیوانِ آزادؔ ٭ بیاضِ آزادؔ ( ترتیب)

٭ قصائدِ آزادؔ ٭ مثنوی تتمۂ امواجِ خیال

٭ مثنوی سراپاے عشق، وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

"نعت کائنات"پر غیر مسلم شعراء کی شاعری کے لیے بھی صفحات تشکیل دیے گئے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں : غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی
عربی[ترمیم]

٭ سبحۃ المرجان فی آثارِ ہندوستان:یہ حسان الہند علامہ آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ کی بہت ہی مشہور تصنیف ہے۔ علامہ آزادؔ کی حیات ہی میں اس کتاب کو شہرت مل چکی تھی۔ یہ کتاب چار فصلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل میں تفسیر و حدیث میں وارد ہندوستان کے تذکرے کا بیان ہے۔ علامہ آزادؔ بلگرامی نے اس موضوع پر پہلے ایک مختصر رسالہ قلم بند فرمایا تھا، جسے بعد میں مزید اضافے کے ساتھ اس کتاب میں ضم کردیا۔ دوسری فصل میں ہندوستان کے چند علما کا تذکرہ ہے۔ تیسری فصل محسناتِ کلام کے عنوان پر ہے۔ جب کہ چوتھی فصل عشاق و معشوقات اور ان کے انواع و اقسام پر مشتمل ہے، یہ اپنی نوعیت کا بالکل منفرد اور اچھوتا موضوع ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ممبئی سے 1303ھ /1885ء میں شائع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن ادارۂ علومِ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے 1967ء میں ڈاکٹر فضل الرحمن سیوانی ندوی کی تحقیق کے ساتھ طبع ہوا۔

٭ ضوء الداری شرح صحیح البخاری: اصح کتب بعد کتاب اللہ بخاری شریف کی کتاب الزکآ تک کی شرح ہے۔ جسے حضرت امام قسطلانی علیہ الرحمہ کی شرحِ بخاری ’’ ارساد الساری‘‘ سے تلخیص کی ہے۔اور بہت سے علمی نکات و فوائد کااضافہ بھی فرمایا۔ اس اہم کتاب کا قلمی نسخہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے کتب خانے ’’ندوہ لائبریری‘‘ (مجموعہ نورالحسن، نمبر : 364) میں موجود ہے۔

٭ تسلیۃ فواد فی قصائدِ آزاد : یہ حسان الہند علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی قدس سرہٗ کی عربی شاعری میں بعض قصائد و مراثی کا مجموعہ ہے اور ساتھ ہی جن شخصیات کے لیے یہ قصائد اور مراثی نظم کیے گئے ہیں اْن کے سوانحی خاکے بھی کتاب میں شامل ہیں۔ اس کتاب کا قلمی نسخہ مسلم یونی ورسٹی میں ’’آزاد لائبریری‘‘ کے شعبۂ مخطوطات (جواہر میوزیم 70 اوراق) اور مکتبۂ عارف بک مدینۂ منورہ میں موجود ہے۔

حسان الہند لقب[ترمیم]

جیسا کہ گذشتہ صفحات میںذکر کیا گیا کہ علامہ آزادؔ بلگرامی قدس سرہٗ نے خلدآباد میں جب مستقل سکونت اختیار کرلی تو تصنیف و تالیف کے کاموں میں مسلسل جٹے رہے۔ دراصل آپ کو تحقیق و تفحص، تصنیف و تالیف اور شعر وادب سے بے انتہا لگاو تھا۔ آپ کو عربی و فارسی نظم و نثر پر عالمانہ و فاضلانہ دست رَس حاصل تھی۔نظم نگاری پر تو آپ کوایسا ملکۂ کامل حاصل تھا کہ ایک دن بل کہ دن کے ایک حصے میں پورا پورا قصیدہ ارقام فرمادیتے تھے۔ آپ نہ صرف فارسی بلکہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی زبان یعنی عربی میں بھی بہت عمدہ اشعار لکھا کرتے تھے۔ آپ کی زود گوئی اور زود نویسی سے آپ کے معاصر علما و حکما اور شعرا و ادبا متحیر رہا کرتے تھے۔ آپ کے نعتیہ قصائد میں جذبات و خیالات کی سچائی وصداقت کے جوہر پنہاں ہیں، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بے پناہ وارفتگی و شیفتگی کو دیکھتے ہوئے ایک جہان نے آپ کو ’’حسان الہند‘‘ جیسے عظیم المرتبت لقب سے نوازاہے۔ بہ قول ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی (مولانا آزاد نیشنل یونی ورسٹی، حیدرآباد) :’’ فارسی شاعر خاقانی متوفی595ھ/1198ء کو اہلِ ایران نے اس کی نعتیہ شاعری کے سبب حسان العجم کا لقب دیا، اور آزادؔ کو اہلِ ہند نے حسان الہند سے ملقب کیا، اور بلاشبہ خاقانی کے مقابلے میں وہ اس لقب کے زیادہ حق دار ہیں کیوں کہ خاقانی کے برخلاف انھوں نے حضرت حسان(رضی اللہ عنہ) کی زبان بھی استعمال کی۔‘‘

الہندعلامہ آزاد بلگرامی علیہ الرحمہ ایک عبقری اور فطری فن کار شاعر تھے۔ نازک خیالی، احساسِ جمال، عشق و محبت کے جذبات میں والہانہ سچائی آپ کی شاعری کے خصوصی عناصر ہیں۔ بلیغ استعارات اور نادر تشبیہات کے استعمال پر آپ کو ملکہ حاصل تھا۔ شعر ی و ادبی محاسن، اورعلمِ بیان و بدیع میں آپ کو مہارتِ تامہ حاصل ہے۔اْس میں ہندوستان کا کوئی بھی عربی شاعر بلکہ یہاں کی کسی دوسری زبان کاکوئی بھی نعت گو شاعر آپ کے ہم پلہ نہیں ہوسکتا۔ وہ پہلے شاعر ہیں جنھوں نے اپنی نظموں میں ہندوستانیت کا گہرا رچاؤ کیا۔ ہندی عناصر کو اچھوتے اور البیلے انداز میں اپنے شعروں میں جگہ دی۔ عربی شاعری میں ہیئت، صنف اور اچھوتی بحروں کا استعمال کرتے ہوئے جدت و ندرت پیدا کی۔ اپنی عربی شاعر ی میں آپ نے عجمی موضوعات اور صنائع کو خوب صورت اسلوب میں پرو کر ایک نیا انداز جنم دیا۔ باوجود ان نت نئے تجربات اور ندرت و جدت کے آپ نے قدیم شعرا کی اتباع کو ہاتھ سے جانے بھی نہ دیا۔ عرب شعرا کی طرح آپ نے بھی محبوب کی منزل اور اس کے آثار و کھنڈرات کے ذکر کے ساتھ اپنے قصائد کا آغاز کیا۔ بلکہ اْن شعرا سے ایک قدم آگے بڑھ کر وہ اس موضوع کو مستقل صنف بنادیتے ہیں۔ چنانچہ ’’القصیدۃ الطللیۃ‘‘ کے نام سے ان کا ایک قصیدہ ہے جو ابتدا تا انتہا منزلِ محبوب کے آثار کے ذکر پر مشتمل ہے۔

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

علامہ آزادؔ بلگرامی نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی فرمائی لیکن نعت اور غزل ان کا بنیادی میدان ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی غزلیں بھی نعتیہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ جسے دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی شاعری صرف نعتیہ شاعری سے عبارت ہے۔ اور یہی اْن کا اختصاصی وصف ہے جس کی رو سے بھی وہ خاقانی کے مقابلے میں’’حسان الہند‘ ‘ جیسے مہتم بالشان لقب کے زیادہ مستحق قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناخوانی کی غیرت نے کبھی یہ گوارانہیں کیا کہ کسی دنیا دار کی مدح سرائی کریں۔ ان کی نظر میں نعت گوئی ہی اصل وظیفہ ہے اور نبیِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح نگاری کے بعد کسی کی مدح ایسا عیب ہے جو میری شاعری کو بھی عیب دار بنادیتا ہے۔ ؎


حصلت بالمدح الکریم سعادہً

ہٰذا اخص عبادۃ الشعراء

توصیف غیرک بعد مدحک مشبہ

بیتا تضمن و صمۃ الاقواء

آپ نے اپنی نعتیہ شاعری میں حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کی پیروی اختیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور انھیں اپنا استاذِ معنوی بھی قرار دیاہے۔ ؎


نسبحتْ کابن زہیر بردمدحتہ

لقد غدا قلم الاستاذ منوالی

نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضۂ مقدس کا ذکرِ جمیل اور تعریف و توصیف دنیا کی تمام زبانوں میں کی جانے والی نعتیہ شاعری کا مشترک اسلوب ہے۔ خصوصاً عربی، فارسی اور ارد و کا شاید ہی کوئی ایسا نعت گو شاعر ہو جس نے سبز گنبد اور سنہری جالیوں کو اپنی شاعری کا موضوع نہ بنایا ہو۔ علامہ آزادؔ بلگرامی نے بھی روضۂ اطہر کی تعریف و توصیف کی اور جو پیرایۂ اظہار اپنایا اْس میں ایک خاص انفرادیت کا رنگ پایا جاتا ہے۔ ؎


روحی الفداء لروضۃ قدسیۃ

مملؤۃ بلطافۃ و صفاء

بلغ المغارب و لمشارق ضوئھا

ترنو الیہا الشمس کالھہرباء

ما احسن القبر الذی فی حجرہ

خیر البریہ سید البطحاء

طوبی لطیبۃ حیث ضم ضریحھا

جسما تنسم فوق سبع سماء

ولہا شبابیک باحسن صنعۃ

صادت قلوبا من اھیل ولاء

حسان الہند علامہ غلا م علی آزادؔ جیسے عاشقِ مدینۃ الرسول ﷺ کے موئے قلم سے نکلی ہوئی مدینۂ طیبہ کا یہ محبت آمیز اور عقیدت افروز وصف بھی نشانِ خاطر کریں۔ ؎


سوح المدینۃ ما اجل ترابھا

تجد البصائر فیہ فعل الاثمد

وغبارھا المحسوس فوق ہوائھا

کحل الیقین لمقلۃ المتردد

نصب لمن ضل الطریق بسوحھا

علم الہدیٰ من اضبع المتشہد

اشجارہا قامت علیٰ ساق الہدیٰ

وطلالہا ماویٰ الرجال السجد

املاک اطباق السمآء طیورہا

وصفیرھا ذکرالالہ السرمد

علاوہ ازیں نبیِ کونین کائنات کے مرکزِ عقیدت بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت و بزرگی اور رفعت و بلندی کی کس قدر خوب صورت تصویر کشی کی ہے۔ ؎


سکن الملائک فی حوائط بیتہ

مثل الحمائم فی کوی الجدران

وقفوا کما تقف المشموع بسوحہ

ودموعھم فی غایۃ الھملان

جلسوا علیٰ بسط الوقار تادبا

نسی الجناح طریقۃ الطیران

بہ قول ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی :درج بالا اشعار میںشاعر( حسان الہندعلامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی قدس سرہٗ)نے ملائکہ کی تین خیالی تصویریں بنائی ہیں : پہلی کبوتروں کی تصویر ہے جو نہایت سکون کی حالت میں دیوار کے روشن دانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں، دوسری شمعوں کی تصویر ہے، جن سے حرارت کے سبب شفاف سائل موتیوں کی شکل میں لگاتار گررہا ہے۔اور تیسری تصویر میں فرشتوں کی جماعت ہے جو حالتِ خشوع و خضوع میں ایسی خموشی اور خود فراموشی کے ساتھ بیٹھی ہے، گویا ان کے پر طریقۂ پرواز بھول گئے ہوں۔

عرب دنیا کے مشہور ادیب ڈاکٹر شلقامی عربی رسالے الازہر میں علامہ آزادؔ کی شعر ی بصیرت و بصارت اور آپ کے فنّی علو کو اس طرح خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس نے بھی بوصیری وغیرہ کے روضۂ انور کے وصف کو پڑھ رکھاہے وہ پائے گا کہ آزادؔ کا روضہ زیادہ متحرک، زندگی سے زیادہ بھرپور، زیادہ معنویت کا حامل اور اپنے روحانی پس منظر کے اعتبار سے زیادہ غنی ہے۔

حسان الہندعلامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ نے اپنے نعتیہ قصائد میں سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ گوشوں کابڑی کامیابی کے ساتھ احاطہ کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت وبعثت سے وصال تک کے احوال و واقعات کو دل نشین پیرایے میں نظم کیا ہے۔ نعت کے شعری و فنی محاسن اور خوبیوں کا بھر پور لحاظ رکھتے ہوئے معجزات کا ذکر بھی کیا ہے۔ علامہ آزادؔ نے نعت کو عقیدے و عقیدت کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ شعریت اور ادبیت کے حْسن کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ آپ کا شاعرانہ تخیل اور فکری پرواز اس بلندی تک پہنچاہوا دکھائی دیتا ہے کہ جہاں کسی شاعر یا نثر نگار کے طائرِ فکر و سخن کا گزر نہیں۔

علامہ غلام علی آزادؔ بلگرامی علیہ الرحمہ کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر اس مضمون میں اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ورنہ حضرت کی متنوع صفات ذاتِ والا مرتبت کے کارہاے نمایاں پر کئی ضخیم کتب بھی ناکافی ثابت ہوں گی۔اللہ کریم جل شانہٗ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس کاوش کو شرفِ قبول بخشے۔اور ہمیں علامہ آزادؔ کے فیوض سے مالامال فرمائے۔(آمین)

مزید دیکھیے[ترمیم]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نعت کائنات پر نئی شخصیات
گذشتہ ماہ زیادہ پڑھے جانے والے موضوعات