تلمیح

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

تلمیح کے لغوی معنی رمز اور اشارہ کے ہیں

صنعت تلمیح[ترمیم]

شعری‬‫اصطلاح میں کسی تاریخی واقعہ ‪ ،‬مذہبی حکم ‪ ،‬لوک داستانوی ‬‫کردار وغیرہ کو اس انداز سے نظم کیا جائے کہ اس اس واقعے کے علم نہ ہونے کی صورت میں شعر کی تفہیم مکمل نہ ہو اور واقعہ کا علم ہونے شعر کا مضمون‬‫پُرلطف اور زوردار ہو جائے تو اسے تلمیح یا صنعت تلمیح کہتے ہیں .

مثالیں[ترمیم]

شکیل بدایوانی لکھتے ہیں


مئے کوثر پلاتے ہیں جناب مصطفی شاید

علی اصغر کے رونے کی صدا کم ہوتی جاتی ہے


اس شعر میں کربلا میں حضرت علی اصغر کی پیاس اور شہادت کا اشارہ ہے ۔


امام احمد رضا خان بریلوی رجعت شمس اور شق القمر کے واقعہ کو اس طرح تلمیح کرتے ہیں ۔


تیری مرضی پا گیا ، سورج پھرا الٹے قدم

تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا [1]

مزید دیکھئے[ترمیم]

صنعت تشبیہ

صنعت اقتباس

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حدائق بخشش
‘‘http://naatkainaat.org/index.php?title=تلمیح&oldid=3072’’ مستعادہ منجانب