تبادلۂ خیال:محمد علی ظہوری

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

الٰہی حمد سے عاجز ہے یہ سارا جہاں تیرا جہاں والوں سے کیونکر ہو سکے ذکر و بیاں تیرا

زمین و آسماں کے ذرے ذرے میں ترے جلوے نگاہوں نے جدھردیکھا نظر آیا نشاں تیرا

ٹھکانہ ہر جگہ تیرا سمجھتے ہیں جہاں والے سمجھ میں آ نہیں سکتا ٹھکانا ہے کہاں تیرا

ترا محبوب پیغمبر تری عظمت سے واقف ہے کہ سب نبیوں میں تنہا ہے وہی اک رازداں تیرا

جہانِ رنگ و بُو کی وسعتوں کا رازداں تُو ہے نہ کوئی ہمسفر تیرا نہ کوئی کارواں تیرا

تری ذاتِ مُعلّیٰ آخری تعریف کے لائق چمن کا پتّہ پتّہ روز و شب ہے نغمہ خواں تیرا

اُردو نعتیں

فلک کے نظارو زمیں کی بہارو ، سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں اٹھو غم کے مارو چلو بے سہارو خبر یہ سناؤ حضور آ گئے ہیں

انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا وہ سارے رسولوں کا سلطان آیا ارے کج کلاہو ارے بادشاہو نگاہیں جھکاؤ حضور آ گئے ہیں

ہوا چار سو رحمتوں کا بسیرا اجالا اجالا سویرا سویرا حلیمہ کو پہنچی خبر آمنہ کی میرے گھر میں آؤ حضور آ گئے ہیں

ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے فضاؤں میں نغمات صل علیٰ کے درودوں کے کجرے سلاموں کے تحفے غلامو سجاؤ حضور آ گئے ہیں

کہاں میں ظہوری کہاں ان کی باتیں کرم ہی کرم ہے یہ دن اور راتیں جہاں پر بھی جاؤ دلوں کو جگاؤ یہی کہتے جاؤ حضور آ گئے ہیں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جب مسجد نبویﷺ کے مینار نظر آئے اللہ کی رحت کے آثار نظر آئے

منظر ہو بیاں کیسے ، الفاظ نہیں ملتے جس وقت محمدﷺ کا دربار نظر آئے

بس یاد رہا اتنا سینے سے لگی جالی پھر یاد نہیں کیا کیا انوار نظر آئے

دکھ درد کے ماروں کو غم یاد نہیں رہتے جب سامنے آنکھوں کے غم خوار نظر آئے

مکے کی فضاوں میں، طیبہ کی ہواوں میں ہم نے تو جدھر دیکھا سرکارﷺ نظر آئے

چھوڑ آیا ظہوری میں دل و جان مدینے میں اب جینا یہاں مجھ کو دشوار نظر آئے ٭٭٭٭٭٭٭٭

رحمت دوجہاں حامی بیکساں شاہِ کون ومکاں وہ کہاں میں کہاں سرور سروراں رہبر رہبراں تاجدارِ شہاں وہ کہاں میں کہاں

ان کی خوشبو سے مہکے چمن در چمن، تذکرے آپ کے انجمن انجمن چاند کی چاندنی، تاروں کی روشنی، ان کے رخ سے عیاں وہ کہاں میں کہاں

کس طرح سے کہاں سے کروں ابتدا، ان سے اوصاف کی ہے کہاں انتہا ان کا رتبہ ہے کیا خود ہی جانے خدا، کیا کروں میں بیاں وہ کہاں میں کہاں

وہ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا یہاں، ان کے ہونے سے ہے سب کا نام ونشان یہ زمیں آسماں یہ مکاں لا مکاں، سارے ان کے مکاں وہ کہاں میں کہاں

مہ لقا، دلکشا، خوش نوا، خوش ادا، رہنما، پیشوا، مجتبےٰ، مصطفیٰ جملہ بھوبیاں ان گنت خوبیاں، میری قاصر زباں وہ کہاں میں کہاں

عمر گزرے میری ذکرِ سرکار میں، جاوؔں ان کے ظہوری جو دربار میں آخری سانس لوں، نعت پڑھتا رہوں ختم ہوگی یہاں وہ کہاں میں کہاں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں یہ ہوا یہ فضا کہہ رہی ہے آقا تشریف لائے ہوئے ہیں

جن کی خاطر یہ عالم بنایا اپنے گھر جن کو رب نے بلایا اے حلیمہ یہ تیرا مقدر وہ ترے گھر میں آئے ہوئے ہیں

کیسے کہہ دوں وہ حاضر نہیں ہیں کیسے مانوں یہ ممکن نہیں ہے اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہو وہ تصور میں آئے ہوئے ہیں

آج پوری ہوئی دل کی حسرت کیوں نہ جی بھر کے کرلوں زیارت قبر میں اے فرشتو نہ آنا میرے سرکار آئے ہوئے ہیں

نام نبیوں کے بے شک بڑے ہیں عظمتوں کے نگینے جڑے ہیں مقتدی بن کے پیھچے کھڑے ہیں وہ جو پہلے سے آئے ہوئے ہیں

میں مدینے کی گلیوں کے قرباں جن سے گزرے ہیں شاہِ مدینہ اس طرح سے مہکتے ہیں رستے عطر جیسے لگائے ہوئے ہیں

چھوڑ کر در بدر کا ٹھکانا اے کمال ان کے در پہ ہے جانا ہم سے لاکھوں برُوں کو جو اپنا خاص مہماں بنائے ہوئے ہیں ٭٭٭٭٭٭٭ دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے جو دیکھے سبھی ان کے قدموں میں پڑے دیکھے

سردار دو عالم کی تعظیم کے کیا کہنے مرسل بھی سبھی جن کی راہوں میں کھڑے دیکھے

یاد ان کے مدینے کی جب دل میں اتر آئی پلکوں کے کناروں پہ موتی سے جڑے دیکھے

محبوب کی مدحت میں ہے تاب سخن کس کو سب اہل سخن میں نے حیرت میں گڑھے دیکھے

ان جیسا ظہوری اب آئے گا نہ دنیا میں دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ کیسا سماں ہوگا کیسی وہ گھڑی ہوگی جب پہلی نظر اُن کے روضے پہ پڑی ہوگی

یہ کوچہ جاناں ہے آہستہ قدم رکھنا ہرجا پہ ملائک کی بارات کھڑی ہوگی

کیا سامنے جا کے ہم حال اپنا سنائیں گے سرکار کا در ہوگا اشکوں کی جھڑی ہوگی

کچھ ہاتھ نہ آئے گا آقا سے جدا رہ کر سرکار کی نسبت سے تو قبر بڑی ہوگی

وہ شیشہ دل غم سے میلا نہ کبھی ہوگا تصویر مدینے کی جس دل میں جڑی ہوگی

ہوجائے جو وابستہ سرکار کے قدموں سے ہر چیز زمانے کی قدموں میں پڑی ہوگی

چارہ نہ کوئی کرنا ایک نعت سنا دینا ناچیز ظہوری کی جب سانس اڑی ہوگی ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پیکرِ دلربا بن کے آیا ، روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خدا بن آئے ، وہ حبیبِ خدا بن کے آیا

حضرتِ آمنہ کا دلارا ، وہ حلیمہ کی آنکھوں کا تارا وہ شکستہ دلوں کا سہارا ، بے کسوں کی دعا بن کے آیا

تاجداروں نے دی ہے سلامی ، بادشاہوں نے کی ہے غلامی بے مثال اس کا اسمِ گرامی ، مصطفی مجتبی بن کے آیا

دستِ قدرت نے ایسا سجایا ، حسنِ تخلیق کو رشک آیا جس کا پایہ کسی نے پایا ، وہ خدا کی رضا بن کے آیا

وہ نبی رحمتِ عالمیں ہیں جو بھی ہے اس کے زیرِ نگیں ہے ایسا مختار دیکھا نہیں ہے ، جیسا خیر الوری بن کے آیا

مسندِ ناز عرشِ بریں ہے ، بوریا کس کا فرشِ زمیں ہے در کا دربان روح الامیں ہے ، سرورِ انبیاء بن کے آیا

کیا ظہوری لکھے شان اس کی ، مدح کرتا ہے قرآن اس کی نعت پڑھتا ہے حسان اس کی ، جو میرا رہنما بن کے آیا ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو پڑھ کر نبی کی نعت لحد میں اتار دو

دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمال یار اے موت مجھ کو تھوڑی سی مہلت ادھار دو

سنتے ہیں جانکنی کا ہے لمحہ بہت کٹھن لے کر نبی کا نام یہ لمحہ گزار دو

گر جیتنا ہے عشق میں لازم یہ شرط ہے کھیلو اگر یہ بازی تو ہر چیز ہار دو۔

یہ جان بھی ظہوری نبی کے طفیل ہے اس جان کو حضور کا صدقہ اتاردو

٭٭٭٭٭٭٭

محمدﷺ کا حسن وجمال اللہ اللہ وہ اِک پیکر بے مثال اللہ اللہ

نہ ان سا کوئی خوبرو دو جہاں میں نہ ان سا کوئی خوش خصال اللہ اللہ

خدا کا ہوا اور مہمان نہ کوئی یہ عظمت یہ رتبہ کمال اللہ اللہ

ہے زیرنگیں سطوت ہر دو عالم محمد کا رُعب وجلال اللہ اللہ

بُتانِ عرب ہوا طاری لرزہ اذاں دے رہے ہیں بلالؓ اللہ اللہ

ثنأ خوانی مصطفےٰ کی بدولت ظہور ہے شیریں مقال اللہ اللہ

٭٭٭٭٭٭٭

یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے رحمتِ دو جہاں اک تری ذات ہے اے حبیبِ خدا تیری کیا بات ہے

روحِ کون ومکاں پہ نکھار آ گیا روحِ انسانیت کو قرار آگیا مرحبا مرحبا ہر کسی نے کہا، آمدِ مصطفےٰ تیری کیا بات ہے

حضرت آمنہ کے دُلارے نبی، غمزدہ اُمتّوں کے سہارے نبی روزِ محشر کہے گی یہ خلقِ خدا، سب کے مشکل کشا تیری کیا بات ہے

چار سوُ رحمتوں کی گھٹا چھاگئی، باغِ عالم میں فصلِ بہار آگئی دل کا غنچہ کِھلا اسمِ اعظم ملا، ذکرِ صلِ علیٰ تیری کیا بات ہے

رحمتِ دو جہاں کا خرنینہ ملےِ، جب گلے سے ہوائے مدینہ ملےِ عرشیوں کی ندا فرشیوں کی صدا، اے درِ مصطفےٰ تیری کیا بات ہے

آرزو بھی جو دل کی وہ پوری ہوئی، روضہِ مصطفےٰ کی حضوری ہوئی ہر جگہ پہ ظہوری ظہوری ہوئی، اے نبی کے گدا تیری کیا بات ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ہم بھی ان کے دیار جائیں گے جائیں گے بار بار جائیں گے

ان کے در پہ نثار کرنے کو لے کے اشکوں کے ہار جائیں گے

خاکِ طیبہ کی خاک ہونے کو ہم بھی مستانہ وار جائیں گے

جِس پہ دورِ خزاں نہیں آتا دیکھنے وہ بہار جائیں گے

آئے گا ایک دن کہ سُوئے حرم ہوکے مثلِ غبار جائیں گے

وہ ظہوری عجب سماں ہوگا جب سرِ کوئے یار جائیں گے ٭٭٭٭٭٭

جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی اس کی قسمت پہ فدا ساری خدائی ہوگی

سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی یہ ہَوا کوچہ سرکار سے آئی ہوگی

روزِ محشر نہ کوئی اور سہارا ہوگا سب کے ہونٹوں پہ محمد کی دُہائی ہوگی

چاند قدموں پہ گرِا ان کا اشارا جو ہوا وقت کیسا تھا وہ جب انگلی اٹھائی ہوگی

دل تڑپ جائے گا اے زائرِ بطحا تیرا تیری جس وقت مدینے سے جُدائی ہوگی

تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوری کچھ بھی قبر میں نعتِ نبی تونے سنائی ہوگی

٭٭٭٭٭٭٭

کہیں نہ دیکھا زمانے بھر میں جو کچھ مدینے میں آکے دیکھا تجلیوں کا لگا ہے میلہ جِدھر نگاہیں اٹھا کر دیکھا

وہ دیکھو دیکھو سنہری جالی، اِدھر سوالی اُدھر سوالی قریب سے جو بھی ان کے گذرا حضور نے مسکُرا کر دیکھا

عجیب لذّت ہے بیخودی کی، عجب کشش ہے درِ نبی کی سُرور کیسا ہے کچھ نہ پوچھو لپٹ کے سینے لگا کے دیکھا

طواف روضے کا کر رہی ہیں یہاں وہاں اشکبارِ آنکھیں ہے گونج صلِ علیٰ کی ہر سوُ جہاں، جہاں پہ بھی جاکے دیکھا

جہاں گئے ان کا ذکر چھیڑا جہاں رہے ان کی یاد آئی نہ غم زمانے کے پاس آئے نبی کی نعتیں سُنا کے دیکھا

ظہوری جاگے نصیب تیرے بس اِک نگاہِ کرم کے صدقے کہ بار بار اپنے در پہ تجھ کو تیرے نبی نے بُلا کے دیکھا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نگاہِ رحمت اٹھی ہوئی ہے وہ سب کی بگڑی بنا رہے ہیں کھلا ہوا ہے کریم کا در، بھرے خزانے لٹا رہے ہیں

فلک کا سینہ دمک رہا ہے زمیں کا گلشن مہک رہا ہے چھڑے ہیں صلِ علیٰ کے نغمے حضور تشریف لارہے ہیں

نہ ان سا کوئی عظیم دیکھا، نہ ایسا درِ یتیم دیکھا زمانہ ٹھکرا رہا ہے جن کو، انھیں وہ سینے لگا رہے ہیں

کرے گا یہ حشر بھی نظارا بنیں گے مشکل میں وہ سہارا کریں گے سب انتظار ان کا، وہ آرہے ہیں وہ آرہے ہیں

بروزِ محشر بوقت پرسش مجھے جو دیکھا فرشتے بولے اِدھر پریشان کیوں کھڑے ہو تمہیں تو آقا بُلا رہے ہیں

نبی کی توصیف اللہ اللہ کہ داد جبریل دے رہا ہے ظہوری کیا خوش نصیب ہیں جو نبیﷺکی نعتیں سنا رہے ہیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مختصر سی مری کہانی ہے جو بھی ہے ان کی مہربانی ہے

جتنی سانسوں نے ان کا نام لیا بس وہی میری زندگانی ہے

کیف طاری ہو اشکباری ہو یہ ہی ماحول نعت خوانی ہے

چشمِ تر سے سنائیں حال اپنا خوش بیانی تو آنی جانی ہے

٭٭٭٭٭٭


لمحہ لمحہ شمار کرتے ہیں آپ کا انتظار کرتے ہیں

ان پہ راضی خدا کی ذات ہوئی مصطفیٰ سے جو پیار کرتے ہیں

ان کی الفت میں خوش نصیب ہیں وہ جان و دل جو نثار کرتے ہیں

ان کے در کا فقیر ہوں، جن کی چاکری تاجدار کرتے ہیں

میں خطا بار بار کرتا ہوں وہ کرم بار بار کرتے ہیں

مدحتِ مصطفیٰ ہے سرمایہ ہم یہی کاروبار کرتے ہیں

بات ان کی سدا کریں گے ہم لوگ باتیں ہزار کرتے ہیں

ان کے غم میں ظہوری چین ملے چارہ گر بے قرار کرتے ہیں


٭٭٭٭٭٭


ہر روز شبِ تنہائی میں فرقت کا جنوں تڑپاتا ہے دل مجبوری پر روتا ہے جب یاد مدینہ آتا ہے

سجدوں کی کمائی ایک طرف طیبہ کی گدائی ایک طرف ہر چیز اسے مل جاتی ہے جو در پہ نبی کے جاتا ہے

اک ہو ک اٹھی مرے سینے سے آئے پیغام مدینے سے چل اٹھ سرکارﷺ بُلاتے ہیں خوش بخت بلایا جاتا ہے

مرا ظرف کہاں تری ذات کہاں، مری فکر کہاں تری بات کہاں ادنیٰ سا ایک ثنا خواں ہوں یہی نسبت ہے یہی ناتا ہے

ہو خیر ترے میخانے کی ہر میکش ہر پیمانے کی ساقی تری مست نگاہوں سے ہر پیمانہ بھر جاتا ہے

تری مدحت کام ظہوری کا ترے نام سے نام ظہوری کا قریہ قریہ، بستی بستی جو تیری نعت سناتا ہے


پنجابی نعتیں : ایہہ کون آیا جدِھے آیاں بہاراں مسکرا پیّاں کھِڑے نیں پُھل تے کلیاں ہزاراں مُسکرا پیّاں

بڑی خوش بخت سی ڈاچی سواری کملیﷺ والے دی حلیمہؓ ہتھ جَد پھڑیاں مُہاراں مُسکرا پیّاں

ہمیشہ جیہڑیاں محروم سن قُربت دی لذّت توں قدم رکھیا نبیﷺ سوہنے تے غاراں مُسکرا پیّاں

کھڑے سن منتظر سارے نبیؐ اقصےٰ دی مسجد وِچ امام انبیا آئے قطاراں مُسکرا پیّاں

پچھاں جبریل سِدرہ تے کھڑا حیران ہوندا سی اگانہہ لنگھیا نبیؐ تے رہگذراں مُسکرا پیّاں

ظہوری بیکساں نے شُکر دے سجدے ادا کیتے ازل توں غمزدہ سوچاں وچاراں مُسکرا پیّاں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کیڈا سوہنا نام محمدؐ دا اِس ناں دیاں ریساں کون کرے دو جگ تے سایہ رحمت دا ایہدی چھاں دیاں ریساں کون کرے

دھن بھاگ حلیمہؓ دائی دا مِلیا محبُوب خدائی دا جدی گود اچ والی دو جگ دا اس ماں دیاں ریساں کون کرے

جو سوہنے نے فرمایا اے، اونہاں سن کے سیس نوایا اے ہمیثل محمدؐ عربی دے سجناں دیاں ریساں کون کرے

جو ہجر نبیؐ وچہ ردندیاں نیں بدیاں دے دفتر دھوندیاں نیں اوہناں کرماں والیاں اکھیاں دے ہنجواں دیاں ریساں کون کرے

ہر ذرہ نور خِزینہ ایں شہراں چوں شہر مدینہ اے جِتھے روضہ کملی والے دا اس تھاں دیاں ریساں کون کرے

لکھ غزل قصیدے پڑھدار ہوگیتاں دیاں پَوڑیاں چڑھدار ہو پریار ظہوری سوہنے دیاں نعتاں دیاں ریساں کون کرے ٭٭٭٭٭ جس کی دربار محمد میں رسائی ہوگی اس کی قسمت پہ فدا ساری خُدائی ہوگی

سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی یہ ہوا کوچہ سرکار سے آئی ہو گی

روز محشر نہ کوئی سہارا ہوگا سب کے ہونٹوں پہ محمد کی دہائی ہوگی

چاند قدموں میں گرا ان کا اشارہ جو ہوا وہ بھی کیا وقت تھا انگلی اٹھائی ہوگی

دل ٹرپ جائے گا اے زائر بطحا تیرا تیری جس وقت مدینے سے جدائی ہوگی

تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوری کچھ بھی قبر میں نعت نبی تو نے سنائی ہو گی


٭٭٭٭٭٭٭٭ نوری مکھڑا نالے زُلفاں کالیاں صدقے واری جاون ویکھن والیاں ٭٭٭٭٭ دنیا تے آیا کوئی تیری نہ مثال لَبھ کے لیاواں کِتھوں سوہنا ترے نال دا

سوہنیا درود بھیجے رَب تیری ذات نوں مُکھ تیرا نُور رونڈے ساری کائنات نوں

شیدا اے زمانہ تیرے حُسن وجمال دا مکّے رہن والیا مدینے آون والیا

ٹھیڈے کھان والیاں نوں سینے لاون والیا تیرے بنا ڈوگیاں نوں کوئی نہ سنبھال دا

تیریاں تے صفتاں دا کوئی وی حساب نیئں توں تے کتھے تیریاں غلاماں دا جواب نیئں

حُوراں تائیں روپ ونڈیں حبشی بلالؓ دا ہوکا پیادیوے تیرے سچّیاں پیاراں دا

جیوندا اے ظہوری ناں لے کے تیرے یاراں دا گولا اے تیرا تیرے در تیری آل دا ٭٭٭٭٭ سلام یا رسول اللہ تیرے در کی فضاوؔں کو سلام گنبدِ خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاوؔں کو سلام

والہانہ جو طواف روضئہ اقدس کرے مست وخود وجد میں آتی اُن ہواوؔں کو سلام

جو مدینے کی گلی کوچوں میں دیتے ہیں صدا تا قیامت اُن فقیروں اور گاوؔں کو سلام

مانگتے ہیں جو وہاں شاہ وگدا بے امتیاز دل کی ہر دھڑکن میں شامل اُن دعاوؔں کو سلام

اے ظہوری خوش نصیبی لے گئی جن کو حجاز ان کے اشکوں اور ان کی التجاوؔں کو سلام

در پہ رہنے والے خاصوں اور عاموں کو سلام یا نبی تیرے غلاموں کے غلاموں کو سلام

کعبہ کعبہ کے خوش منظر نظاروں پر درود مسجدِ نبوی کی صبحوں اور شاموں کو سلام

جو پڑھا کرتے ہیں روز وشب تیرے دربار میں پیش کرتا ہے ظہوری ان سلاموں کو سلام

ماھیے عربی سلطان آیا ، نیویاں اُچیاں دے سب فرق مٹان آیا اہدا رُتبہ نہ کوئی تولے، کہڑا اُہدی ریس کرے جدھے مُنہ وِچوں رب بولے آپکے وصال کے بعد جناب پروفیسر راو ارتظی حسین اشرفی صدر شعبہ علوم اسلامیہ ایف سی کالج لاہورنے آپکے لیے ایک منقبت نذرانہ عقیدت میں لکھی

سرکار کا بے مثل ثناء خوان ظہوری ہے نعت کے اس دور کا حسّان ظہوری

مہکے گا تیری خوشبو سے یہ نعت کا گلشن تا ابد رہے گا تیرا فیضان ظہوری توصیفِ نبی پاک کے آداب سیکھائے اس قوم پہ ہے یہ تیرا احسان ظہوری

ہر دل میں شمع عشق رسالت کی جلاو تا عمر یہ کرتا رہا اعلان ظہوری

لاو بھی ظہوری کو ہمیں نعت سنائے جاری ہوا تیرے لیے فرمان ظہوری

لے جایا گیا بارگاہ مصطفوی میں کس شان سے ہے تو بنا محمان ظہوری

رحلت سے قبل خواب میں سرکار کا آنا بخشش کا تیری یوں ہوا سامان ظہوری

روتا ہے اور روئے گا زمانہ جسے برسوں تھا ایک عظیم ایسا ہی انسان ظہوری

مل جائے تیرے سوز کی خیرات ہمیں بھی ہے اشرفی کے دل میں یہ ارمان ظہوری کلام جو کلیات میں شائع نہیں ہوا: چلے جس ویلے پورے دی ہوا مدینہ سانوں یاد آؤندا رب کرے نہ مدینہ توں جدا مدینہ سانوں یاد آؤندا یاداں سوہنے دیاں آن کے جگؤندیاں جگاؤندیاں لوکی سوندے ساہنوں نیندراں نیں آؤندیاں نیں آؤندیاں لَوّے سوہنا سوہنے روضے تے بلا مدینہ ساہنوں یاد آوندیاں سوہنے شہر نوں سواریاں نے چلیاں چلیاں میں وی دیواں پیا دل نوں تسلیاں تسلیاں اللہ کرے ساڈی واری جاوے آ مدینہ ساہنوں یاد آوندیاں اج ساریاں نیں خوشیاں منایاں نیں منایاں نیں جدوں چھٹیاں بلاوے دیاں آیاں نیں آیاں نیں اولے بہہ کے لواں اتھرو وگا مدینہ ساہنوں یاد آوندیاں ایس دنیا تے لکھاں ای بہاراں نیں بہاراں نیں ایس دنیا دے شوق ای ہزاراں نیں ہزاراں نیں سدا رہندا روضہ دیکھنے دا چا۔ مدینہ ساہنوں یاد آوندیاں اے تے گل اوہدے کرم تے کمال دی کمال دی کوئی گل منیوں زور تے مال دی مال دی جنھوں مرضی اوہدی او لیندے نیں بلا مدینہ ساہنوں یاد آوندیاں اُنج ویکھیا جہان پھر سارا اے سارا اے روضے پاک دا وکھرا نظارا اے نظارا اے اجے لتھیا نیں اکھیاں دا چا مدینہ ساہنوں یاد آوندیاں نی ہوائے تینوں کاہدی مجبوری اے مجبوری اے اکھیں روندا دن رات ظہوری اے ظہوری اے حال ساریاں دا دیویں جا سنا مدینہ ساہنوں یاد آوندیاں

٭٭٭٭٭

تیری جالیوں کے ہر سو تیری رحمتوں کے سائے جسے دیکھنی ہو جنت وہ مدینہ دیکھ آئے نہ یہ بات شان سے ہے نہ یہ بات مال وزر سے وہی جاتا ہے مدینے آقا جسے بلائے طیبہ کے جانے والے تجھے دیتا ہوں دعائیں تو درِ نبی پہ جائے تو جہاں کو بھول جائے روضے کے سامنے میں یہ دعائیں مانگتا تھا میری جاں نکل تو جائے یہ سماں بدل نہ پائے لو چلا ہوں میں لحد میں میرے مصطفیٰ سے کہہ دو کہ ہوا تیری گلی کی مجھے چھوڑنے کو آئے وہ ظہوری یار میرا وہی غم گسار میرا جو میری قبر پہ آ کے نعت نبی سنائے

٭٭٭٭٭ غمزدوں کے لیے رحمت مصطفیٰ وہ سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں حشر کے دن بھی وہ سب کے کام آئیں گے کون ہے جس نے ان کو پکارا نہیں شاہد جس پہ ہوا ہے کلامِ خدا مصطفیٰ کی رضا ہے خدا کی رضا اپنے محبوب سے حق نے فرما دیا جو تمہارا نہیں وہ ہمارا نہیں بے بس وبے اماں، بے کس وناتواں، خستہ تن، بے وطن، تشنہ لب، نیم جاں دامنِ مصطفیٰ سب کی جائے پناہ دوسرا اور کوئی سہارا نہیں کیا گھڑی ہوگی محشر میں سب انبیاء امتوں کو نہ دیں گے کوئی آسرا ہوگی سب کی زباں پہ یہی اک صدا مصطفیٰ کے سوا کوئی چارہ نہیں منتظر چشمِ رحمت کے شاہ وگدا، بے بہا ان کے فیضان جودو سخا آئے در پہ سوالی نہ جھولی بھرے میرے سرکار کو یہ گوارا نہیں ہو کے وارفتہ جو بھی مدینے گیا سبز گنبد کو بس دیکھتا رہ گیا ساری دنیا میں ایسا حسیں دلربا دوسرا اور کوئی نظارہ نہیں نعت سرکار کی دل سے نکلے صدا، سننے والے بھی ہوں جان ودل سے فدا سارا منظر ظہوری ہو مہکا ہوا اس سے بڑھ کے سماں کوئی پیارا نہیں

٭٭٭٭٭٭

جان دواں نہ جان دیاں سوہنیاں پھیرا پا تے سہی پلکاں میٹھ لکالاں گا اک واری توں آ تے سہی تیری وی مولا سن لے گا سوہنے نوں حال سنا تے سہی ساری دنیا بھل جائیں گا تو شہر مدینے جا تے سہی جام نظر دا پیواں گا مویا ہویا میں جی واں گا سامنے سج کے ہو تے سہی اپنی نظر ملا تے سہی رحمت دا دامان ملے بخشش دا سامان ملے روضے دے نیڑے ہو تے سہی جالی سینے لا تے سہی مک گئی ساری دوری اے حاضر در تے ظہوری اے اپنے اس دیوانے نوں مار کے واز بلا تے سہی

٭٭٭٭٭

جھڑیاں او رحمتاں دیاں لائیاں حضور نیں تھاواں جو اجڑیاں سی وسائیاں حضور نیں رنگناں سی آپ جا کے حلیمہ دی گود نوں سب موڑ دتیاں بوہے توں دائیاں حضور نیں ایہہ معجزہ وی آپ دا اک بے مثال سی سڑیاں کھجوراں مڑ کے اگائیاں حضور نیں کیہ کیہ یہ اختیار دتا رب نے آپ نوں مٹھی چہ کنکراں وی بلائیاں حضور نیں تھاں تھاں تے نعتاں پڑھیاں نیں رب دے قرآن نیں شاناں خدا دے دلوں ایہہ پائیاں حضور نیں میں کیہہ مثال دیواں اہدے خلق عظیم دی دشمن دے ہیٹھ چدراں وچھائیاں حضور نیں میں کیہہ ظہوری دعوٰی کراں اکھیاں نوں لاؤن دا لایاں تے نالے آپ ای نبھائیاں حضور نیں

٭٭٭٭٭٭

رحمت نے مجھ کو درد و الم سے بچا لیا میں نے بھی اپنا سویا مقدر جگا لیا اب اس سے بڑھ کر کون سی نعمت طلب کروں آقا نے مجھ کو روضے کے اندر بلا لیا حدِ ادب میں دل بھی دھڑکنے سے ڈر گیا اشکوں نے خود کو پلکوں کے اندر چھپا لیا کیا کچھ دیا نہ آپ نے سائل کے ہاتھ میں جو جس کا تھا نصیب وہی اس نے پا لیا یہ تھا ظہوری روزِ شفاعت میرے لیے اس حاضری نے مجھ کو وہیں بخشوا لیا



٭٭٭٭٭ شبیر شہادت دا عنوان بڑا سوہنا کربل دے شہیداں دا سلطان بڑا سوہنا پھل گلشن زہرادے پئے سرخیاں ونڈے نیں سجیا اے شہیداں دا میدان بڑا سوہنا شبیر پیا کھیڈے سرکار دے موہڈے تے زہرا دے دلارے دا ایہہ شان بڑا سوہنا ینزے تے نہ چڑھیا اے انج کسے وی نہ پڑھیا اے قاری نے سنایا اے قرآن بڑا سوہنا تصویر رسالت دی سرخی اے شہادت دی سطراں تطہیر دیاں دیوان بڑا سوہنا منگتا اے ظہوری وی سوہنے دے گھرانے دا سرکار نے کیتا اے احسان بڑا سوہنا