تبادلۂ خیال:شہزاد ناگی

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Shehzad Nagi.jpg

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
اس صفحے کے حقوق اشاعت بحق "نعت ورثہ" محفوظ ہیں ۔ بغیر حوالہ یہ مواد استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔

محمد شہزاد ناگی لاہور کے بہت معتبر اور سینئر نعت خواں ہیں جو آداب ِ نعت اور فن ِ نعت خوانی کا گہرا شعور رکھتے ہیں ۔ طبیعت کی بہت سادہ، ملنسار اور بے غرض انسان ہیں اور نعت سے بھی سچا عشق کرتے ہیں ۔ اسی عشق نے ان کے حلقہ احباب کو شہزاد ناگی نعت اکیڈمی، لاہور جیسے منظم ادارے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں نسل نو کی لیے نعت خوانی کی تربیت کا اعلٰی انتظام کیا گیا ہے ۔ شہزاد ناگی کے شاگردوں میں ہونہاروں کی لمبی فہرست ہے اور نعت خوانی کے مقابلوں میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا ہے ۔

شہزاد ناگی روحانی سلوک کے لیے سلسلہ چشتیہ قادریہ سے منسلک ہیں ۔

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

تعلیم و تربیت[ترمیم]

شہزاد ناگی ولد فضل دین ناگی 2 فروری 1951 بمطابق ۲۸ ربیعالثانی ۱۳۷۰ ہجری صدر لاہور کے ایک راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوے۔ میٹرک اور پی ٹی سی کے بعد اپنے والد کے آٹو موبائل بزنس سے منسلک ہو گئے اور آج تک اسی بزنس کا بڑی کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ آپ بچپن ہی سے بہت خوش الحان و خوش گلو تھے ۔ ذوق کا یہ معیار کہ سکول کے ایک پروگرام میں زندگی کی پہلی نعت نسیما جانب بطحا گذر کن پڑھی اور جب جامی سکول کے علاوہ پہلی نعت پڑھی تو جامع مسجد دہلی میں عبد الرحمن جامی کا فارسی کا کلام تنم فرسودہ جاں پارہ پڑھی ۔

سفر ِ نعت خوانی[ترمیم]

شہزاد ناگی بتاتے ہیں کہ سکول ہی ان کی اولین درسگاہ تھا ۔ زمانہءِ سکول میں ادبی پروگرامز کا حصہ رہے ۔ انہوں نے سکول میں فیض احمد فیض کے بہت سے کلام پڑھے ۔۔ سکول میں مشہور گلوکار پرویز مہدی ان کے کلاس فیلو تھے ۔ پرویز مہدی کی رفاقت اور سکول کے ماحول نے انہیں فن و سر سے قریب کردیا ۔ ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر کے ذوق ِ قوالی کی وجہ سے سکول میں نعت و صوفیانہ کلام کے محافل کا خصوصی انعقاد ہوتا ۔ نعت خوانی کے ساتھ ساتھ شاعری و نعت گوئی کا شوق بھی دل میں پنپتا رہا ۔ اسی لیے جب نذیر حسین نظامی جیسے نامور نعت خواں کے گھر ثناء اللہ بٹ سے ملاقات ہوئی تو ان کی علمی و فنی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر ان کی شاگردی اختیار کر لی ۔


"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

اعزازات[ترمیم]

  • ریڈیو اور ٹی وی پر "آوٹ سٹینڈنگ کیٹگری "
  • ایوان صدارت میں نعت خوانی کی سعادت
  • نہوں نے حفیظ تائب کا لکھا ہوا کلام " باد رحمت سنک سنک جائے " انہی کے سامنے پڑھتا تو حفیظ تائب نے فرمایا ۔" ناگی یہ نعت آپکی ہوئی یہ کلام بہت معروف قوالوں اور نعت خوانوں نے پڑھا مگر آپ نے حق ادا کر دی"
  • شہزاد ناگی نے لاہور سے باہر پہلی نعت پیر آف دیول شریف کے روبرو پڑھی ۔ اس وقت وہاں مدینہ شریف سے ایک مہمان آئے ہوئے تھے انہوں اپنی بہت بڑی تسبیح آپکو ہدیہ کر دی ۔ ایسے جیسے مدینہ منورہ سے عطا ہوئی ہو ۔ شہزاد ناگی اسے کبھی فراموش نہیں کر پائے اور اسے ایک اعزاز سمجھا ۔

پسندیدہ شخصیات[ترمیم]

شعراء : حفیظ تائب ، اعظم چشتی ، مظہر الدین مظہر، رشید محمود راجا

خدمات[ترمیم]

فروغِ نعت کے حوالے سے ان کی خدمات بیش قیمت ہیں ۔ 1980 میں ناگی نعت اکیڈمی کی بنیاد رکھی اور بعد میں اسکا نام تبدیل کر کے امیر ملت نعت اکیڈمی رکھ دیا ،لیکن یہ آج بھی "شہزاد ناگی نعت اکیڈمی کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔ اس اکیڈمی میں الفاط کے آداب ِ نعت خوانی، ، درست تلفظ، ، اصول غنائیت اور نعت پڑھنے کے انداز پر نئی نسل ک تربیت کے لیے پچھلے 37 سال سے کام ہو رہا ہے ۔ اور آج کے بے شمار مشہور نعت خواں اس اکیڈمی کی تربیت کا ثمر ہے ۔اس اکیڈمی کے بے شمار شاگرد ملک بھر کے انعامی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ۔

سال بہ سال[ترمیم]

1960 ۔ میں جامع مسجد دہلی روڈ میں پہلا فارسی کلام پڑحا " تنم فرسودہ جاہ پاراں کہ ہجراں یا رسول اللہ۔

1962 ۔ پیر آف دیول شریف کے روبرو نعت پڑھی

1967 ۔ اسلامیہ ہائی سکول صدر کینٹ سے میٹرک

1968 ۔ ثناء اللہ بٹ کی باقاعدہ شاگردی

1971 ۔ ریڈیو پروگرام " نوائے شوق " کے لیے نعت ریکارڈ کرائی

1974 ۔ بورڈ آف انٹر میڈیٹ سے پی ٹی سی کا امتحان پاس کیا

1980 ۔ میں پی ٹی وی پر نعت خوانی کا آغاز

1980 ۔ شہزاد ناگی نعت اکیڈمی کی بنیاد

1981 ۔ ایوانِ صدر نعت پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا

1985 ۔ لاہور میں شادی ہوئی ۔ ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں

2003 ۔ میں پاکستان سے باہر پہلا سفر کیا ۔ یہ پہلا سفر چندی گڑھ انڈیا کا تھا جہاں انہوں نے عارفانہ پیش کیا ۔

2004 ۔ میں ناروے انڈیا اور یورپ کا دورہ کیا اور مدحتِ مُصطفی سے یورپ کی سرزمین کا گل و گلزار بنایا۔اور پھر مسلسل کئی سال یورپ جاتے رہے ۔

2007 ۔ میں خطہ عرب کے مہمان ہوئے ۔ پہلا سفر قطر کی طرف تھا ۔ اور اس کے بعد اگلے متحدہ عرب امارات

نئے صفحات

پہچان نعتیں[ترمیم]


نعت خوانی ان کی نظر میں[ترمیم]

وہ نعت خوانی کو زندگی کا مشن اور آخرت لیے بخشش کا ذریعہ سمجھتے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ نعت خوانی کی تربیت کے لیے اعلی معیار کی یونیورسٹی کے قیام کے خواہشمند ہیں جہاں نعت خوانی کے اعلی رموز و اقدار کی تربیت و ترویج ممکن ہو ۔ وہ موجودہ دور کی اکثریتی نعت خوانی کو ذریعہ معاش اور ایک پروفیشن سمجھتے ہیں جہان اخلاص اور اقدار کو محلوظِ خاطر نہیں رکھا جا رہا


تحقیق و تدوین[ترمیم]

صابر نائب

مواد جو ترتیب دینا ہے[ترمیم]

1968 میں ریڈیو پاکستان میں ایڈیش دیا اور مختلف پروگرام میں عارفنہ کلام پڑھا،آپ نے اس ادارہ کے لیے بے شمار نعتیں ریکارڈ کروائیں جنکے اعتراف میں اس ادارہ نے آپکو اعلی کیٹگری سے نوازا 1975 میں نوائے شوق میں پہلی نعت پڑھی اور ڈبل اے کیٹگری حاصل کی۔ 1971 میں پی ٹی وی پر ایڈیشن دیا اور نعت کیٹگری میں منتخب ہوئے۔ 1980 میں پی ٹی وی میں پہلی نعت پڑھنے کا اعزاز حاصل کیا اور بعد ازاں اس ادارہ کے لیے بے شمار نعتیں ریکارڈ کروائیں آپکی ان خدمات کے عوض اس ادارہ نے آپکو ڈبل اے کیٹگری سے نوازا

آپ آج تک پی ٹی وی کی شپیشل ٹرانسمیشن رمضان ربیع الول کی محافل میں شرکت کر ہے ہیں۔ 2007 میں ڈی ایم چینل پر پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا

یہ کلام آپکی پہچان بنے جناب اعظم چشتی ،ثناء اللہ بٹ ،نذیر حُسین نظامی آپ کے انتخاب ِ کلام الفاظ کی ادائگی سُر لیہ کی مہارت پر آپکی بہت حوصلہ افزائی کرتے۔


نعتیہ خدمات میں مصروف ادارے