بیکل اتساہی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Naat Kainaat Baikal Utasahi.jpg

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

بیکل اتساہی کا اصل نام محمد شفیع خان تھا۔ پہلے وہ بیکل وارثی بنے پھر بیکل اتساہی ہو گئے۔ بیکل اتساہی اترپردیش کے قصبے بلرام پور میںیکم جون 1928 میں پیدا ہوئے تھے۔

بیکل اتساہی بننے کا واقعہ[ترمیم]

ان کے بیکل اتساہی بننے کا واقعہ قدرے سیاسی ہے۔ انھوں نے انڈیا کے پہلے وزیر اعظم کے سامنے ایک نظم 'کسان بھارت کا' پڑھی اور اس قدر جوش کے ساتھ پڑھی کہ جواہر لال نہرو یہ کہہ اٹھے کہ 'یہ ہمارا اُتساہی (جوشیلا) شاعر ہے' اور اس کے بعد بیکل وارثی بیکل اتساہی بن گئے۔ [1]

نعت گوئی[ترمیم]

بیکل اتساہی نے اپنے شعری سفر کا آغاز 1944ء میں کیا تھا ۔جبکہ شاعرانہ زندگی کا آغاز بہرائچمیں سید سالار مسعود غازی کی درگاہ کے ایک نعتیہ مشاعرہ سے کیا تھا ۔اوائل ِ شاعری میں بیکل اتساہی عارف جلالی سے اصلاح لیا کرتے تھے ۔ گیت، دوہے، ہائیکو، غزل اور دیگر اصناف میں شاعری کی ۔بیکل اتساہی کا آخری مشاعرہ سرزمین اجمیر میں ہوا جمعتہ علماء ہند کے زیر انتظام ہونے والا عالمی نعتیہ مشاعرہ 2016ء تھا۔


محقق نعت ڈاکٹر مشاہد رضوی فرماتے ہیں

"بیکلؔ اتساہی کی نعتوں ، سلام ، مناقب ، قصائد، نظموں ، غزلوں اور گیتوں میں فطری مناظر سے والہانہ شیفتگی اور لگاؤ پایا جاتا ہے۔ بیکل ؔاتساہی عہدِ حاضر کے اُس مہان بھارتیہ شاعر کا نام ہے جن کے نطق سے بیک وقت خسروؔ ، جائسیؔ ، تلسیؔ ، کبیرؔ، سورؔ ، میراؔ اور رسکھانؔ کی سُر لہری سنائی دیتی ہے۔ بیکلؔ کا طرزِ بیان دیس کی مٹی سے عقیدت، دیش واسیوں سے محبت ، پاکیزہ انسانی جذبوں اور محسوسات کی مرقع آفرینی اور سماج میں پھیلی ناانصافی ، نابرابری اور ظلم و استحصال کے خلاف صداے حق بن کر رسیلے نغموں میں ڈھل جاتا ہے۔"

بیکل اتساہی اپنی شاعری میں روزمرہ کی زبان پسند کرتے تھے ایک بار فرمایا

’ میں غالب ؔ اور اقبال کو زمینی شاعر نہیں مانتا۔ ان کی شاعری آسمانی شاعری ہے۔ آپ عربی و فارسی کی بوجھل تراکیب ، گراں قدر الفاظ اپنی شاعری میں اگر استعمال کریں گے تو وہ اسّی فیصد جو آپ کو سننے آیا ہے ، وہ کیا لے کر جائیگا ؟ اس کو اسی زبان میں سُنائیے تاکہ وہ سمجھ سکے ‘‘۔ [2]

مجموعہ ہائے کلام[ترمیم]

| نغمۂ بیکل | حسنِ مجلّٰی | تحفۂ بطحا | سرورِ جاوداں | بیانِ رحمت | جامِ گل | توشۂ عقبیٰ | نورِ یزداں | والضحیٰ | والنجوم

مشہور کلام[ترمیم]

اعزازات و خدمات[ترمیم]

بیکل اتساہی کو 1976 میں ادب کا پدم شری ایوارڈ ملا تھا

وفات[ترمیم]

آپ 03 دسمبر 2016 کو برین ہیمرج کے سبب مالک کل کے پاس لوٹ گئے

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاخبار
  2. ماہنامہ کنزالایمان ، دہلی شمارہ فروری ۲۰۱۷؁ء صفحہ۲۹