بیاں کو نعمت خضری سے بھر دیا جائے ۔ حسنین اکبر

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Hasnain akbar.jpg

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

شاعر : حسنین اکبر

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

بیاں کو نعمتِ خضریٰ سے بھر دیا جائے

جو لکھ رہا ہوں اسے نعت کر دیا جائے


میں ایک سنگ ہوں اور بولنے کی حسرت ہے

مجھے بھی اُن ص کی ہتھیلی پہ دھر دیا جائے


سنا ہے آپ ص مصیبت کے وقت آتے ہیں

تو مشکلوں کو مری سمت کر دیا جائے


اِسی کا نام کریمی ہے مصطفیٰ ص کی قسم

کہ کوئی مانگے نہ مانگے مگر دیا جائے


مدینہ مجھ سے زیارت کی نذر مانگے اگر

تو میرا فیصلہ ہو گا کہ سر دیا جائے


رکھے وہ ہستی ءِ بے سایہ زیرِ سایہ مجھے

اِس ایک شرط پہ جنت میں گھر دیا جائے


خدا کے خوف سے پہلے نبی کا خوف رہے

گناہ گار کو رحمت کا ڈر دیا جائے


میں آزماؤں محمد ص کے اسمِ اعظم کو

مجھے سفینہ نہیں بس بھنور دیا جائے


کچھ اشک بھی ہیں جنہیں معجزوں کی حسرت ہے

فقط دعاؤں کو کیوں کر اثر دیا جائے


دل و دماغ کا یہ خطہءِ عرب ہے اجاڑ

نبی ص کے نور سے لطفِ سحر دیا جائے


سحر کو شمس تو شب کو قمر دیا جائے

یہ رات دن کا سفر ختم کر دیا جائے


لغت میں صدقہءٍ خیر البشر ص رہے موجود

میں چاہتا ہوں سخن معتبر دیا جائے


یہ شہرِ علم کی خواہش تھی کوئی مجھ میں رہے

تو کبریا سے کہا مجھ کو در دیا جائے


ہوں دو جہان پہ رحمت کی بارشیں اکبر

مجھے بھی بوند برابر وہ زر دیا جائے


مزید دیکھیے[ترمیم]

مئی 2018 میں زیادہ پڑھے جانے والے کلام