اے کاش کہ ہو نعت ہی آئین تخیل ۔ عمر فاروق وڑائچ

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

اے کاش کہ ہو نعت ہی آئینِ تخیل

ہو آپ کے الطاف سے تسکینِ تخیل


لا کر انھیں ترتیب میں اک نعت کہی جائے

بکھرے جو ہیں ہر سمت مضامینِ تخیل


سوچیں نہ پہنچ پائیں تری راہ گذر تک

بے دم سا گرا پڑتا ہے شاہینِ تخیل


ان کو جو خیال آئے، بدل جائے قبلہ

اس طرح خدا کرتا ہے تحسینِ تخیل


ادراک میں آئیں نہ حکومت کی حدیں بھی

ہیں سجدہ کناں تھک کے سلاطینِ تخیل


خوشبوے عرق کی ہے حقیقت تو بہت دور

تشبیہ سے عاجز ہیں بساتینِ تخیل


اک چھینٹ ملی اس کو جو دریاے کرم سے

کس زور سے بہتا ہے اباسینِ تخیل


سجتا ہے فقط نعت سے تحریر کا چہرہ

پھبتے ہیں اسی طور مضامینِ تخیل


تخئیل میں اک نعت کی محفل ہے کہ جس میں

ہوں محو ثنا از لبِ شیرینِ تخیل


انشا پہ رہے نعت کا فیضان ہمیشہ

ہوتی ہی رہے نعت سے تزئینِ تخیل

مزید دیکھیے[ترمیم]

منتخب شاعری